تعبیرخواب

آب یعنی پانی

تمام چیزوں کی زندگی پانی سے ہے ۔ فرمان حق تعالیٰ ہے :۔ و جعلنا من الماء کل شئی حیی ( ہم نے ہر ایک چیز کو پانی سے زندہ کیاہے ۔ )
حضرت ابن سرین رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے ۔ اگر کوئی خواب دیکھے کہ وہ سطح آب پر پانی کی طرح چلتا ہےجیسے دریا اور نہر کا پانی ۔ یہ اس کے پاک اعتقاد اور قوت ایمانی کی دلیل ہے ۔ اور اگرصاف اور خوشگوار پاننی بہت پیا ہے تو یہ دلیل ہے کہ اس کی عمر دراز اور خوش عیش ہو گا اور اگر بے مزہ یا شور پانی پیا ہے تو اس کی تعبیر پہلے کے خلاف ہے ۔ اور اگر دیکھے کہ دریا سے صاف اور اچھا پانی پیتا ہے تو دلیل ہے کہ تمام جہان کا بادشاہ ہو گا اور بعض کہتے ہی کہ اس آب دریا کے پینے کے قدر پر بزدگی اور مال و نعمت حاصل کرے گا۔ اگر پانی مصفا اور صاف ہے اور اگر گندلا ہے تو اس کو رنج اور سختی اورخوف اور دہشت پہنچے گی۔
حضرت ابراہیم کرمانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر دیکھے کہ پانی گرم پیتا ہے تو بیماری اور رنج کی دلیل ہے اور دیکھے کہ اس پر پانی گرم گرایا گیا ہے اور اس کو خبر نہیں ہے تو دلیل ہے کہ بیمار ہو گا یا اس کو سخت غم پہنچے گا اور اگردیکھے کہ پانی میں گرا ہے تو دلیل ہے کہ رنج اور غم میں گرفتار ہو گا اور اگر پانی پیالے میں اٹھائے تو دلیل ہے کہ مال اور زندگی پر فریفتہ ہو گا اور اگر کانچ کے پیالے میں اپنی عورت کو پانی دیا (اور دانا لوگ کانچ کے پیالے کو عورتوں کے جوہر کے ساتھ نسبت دیتے ہیں اور پانی جو کانچ کے پیالے میں ہے اس کو فرزند کے ساتھ نسبت دیتے ہیں جو ماں کے پیٹ میں ہے اگر پیالہ ٹوٹا ہوا ہے تو بیوی مرے گی اور بچہ رہے گا۔ اگر پانی گرا اور پیالہ خالی رہا تو دلیل ہے کہ بچہ مرگا اور عورت بچ رہے گی ۔ اور اگر دیکھا کہ بغیر قیمت کے لوگوں کو پانی دیتا ہے تو دلیل ہے کہ دنیا اور آخرت میں لوگوں کو اس سے فاہدہ پہنچے گا اور ویران جگہ کو آباد کرے گا ۔
اور اگر خواب میں دیکھے کہ جس گھر میں پانی گرایا ہوا تھا اس کے اندر داخل ہوا ہے تو دلیل ہے کہ غمگین اور متفکر (متفکر : فکر مند ) ہو گا اور اگر دیکھے کہ پیالے کے صاف پانی کو کتے کی طرح پیا ہے تو دلیل ہے کہ عیش (عیش و عشرت سے گزارے گی: مزے سے گزارے گی) اور عشرت سے زندگی گزرے گا ۔ لیکن ایسا کام کرے گاکہ بلا اور فتنہ میں پڑے گا اور مال کو تھوڑا تھوڑا کرکے لوگوں کو بخشے گا اور خیرات میں خرچ کرے گا۔
حضرت جابر مغربی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر پانی کو وقت پر زیادہ ہوتے دیکھے تو دلیل ہے کہ اس سال میں نعمت کی فراخی ہوگی اور اگر پانی دیکھے اور زمین میں جذب ہو جائے تو دلیل ہے کہ عام لوگوں کو سلامتی کی عافیت (عا فیت: آارم)حاصل ہوگی ۔ فرمان حق تعالیٰ ہے :۔و قیل یا ارض ابلعی ماء کہ و یاسماء اقلعی و غیض الماء( اور کہا گیا کہ اے زمین ! اپنے پانی کو نکل جا اور اے آسمان ! بس کر اور پانی گہرائی میں گیا ) اور اگر دیکھے کہ پانی لوگوں کے سروں پر چڑھ جاتا ہے ۔ تو دلیل ہے کہ اس سال ملک میں نعمت اور فراخی ہوگی ۔ فرمان حق تعالیٰ ہے :۔ انا صینا الماء صبا (ہم نے پانی کو خواب اچھی طرح گرایا)
اگر دیکھے کہ اس کے گھر میں صاف پانی ہے تو دلیل ہے کہ نعمت اور خوش عیشی پائے گا اور اگر دیکھے کہ گھر میں گدلے پانی پر کھڑا ہے تو پھر اس کی تاویل پہلے کے خلاف ہے ۔
حضرت دانیال علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ باغ اور زراعت کو دریاؤں اور نہروں سے پانی دینا غم اور اندوہ سے خلاصی اور مال کی دلیل ہے اور لوگوں کو پانی دینا دین اور دیانت اور نیک کاموں کی دلیل ہے اور اگر دیکھے کہ پانی میں جاتا ہے اور اس وقت اس کا حجم مضبوط ہے تو دلیل ہے کہ حاکم کی طرف سے کسی سخت کام می مشغول ہو گا اور اس قول اس کام میں اور دوسرے کاموں میں مقبول ہو گا۔ اور اگر صاف پانی میں جائے اور اس کا جسم چھپ جائے تو قوت دین اور تو کل بر خدا اور استقامت ( استقامت :ثابت قدمی ) کی دلیل ہے اور اگر دیکھے کہ پانی باغ میں جاتا ہے ، عورت یا کنیز ملنے کی دلیل ہے اور اگر اپنے اوپر صاف پانی کو گرتا دیکھے تو دلیل ہے کہ اس سے خیرو منفعت پہنچے گی اور اگر دیکھے اس پر گدلا پانی گرایا ہے تو اس سے نقصان پانے کی دلیل ہے ۔
حضرت جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ خواب کے اندر پانی میں جانے کی تعبیر پانچ وجہ پر بتاتے ہیں ۔ اول یقین ۔دوم قوت ۔ سوم مشکل کام ، چہارم مصاحبت ( مصاحبت: دوستی ، محبت ، پیار ) پنجم ریئس شہر کی طرف سے کوئی کام ۔
یا درکھو کہ تعبیر باراں حرف ب میں بیان کریں گے اور آب چشمہ ۔ آپ چاہ اور آب جوئے حرف ج میں بیان کریں گے اور آب دریا حرف د میں اور آب رود حرف ر میں اور آپ کا ریز حرف ک میں ۔ اسی ترتیب پر دوسرے خوابوں کو ہر ایک چیز کی ترتیب پر اس کی جگہ پر ذکر کریں گے۔