تعبیرخواب

اندامہا (جسم کے حصے )

حضرت ابن سیرین رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص خواب میں دیکھے کہ قوم کے جسمی اعضاء زیادہ ہو گئے ہیں تو دلیل ہے کہ اس کے اپنے اور اہل خانہ زیادہ ہوں گے اور اگر دیکھے کہ دیکھے کہ اس کے اعضاء کٹ گئے ہیں یا جسم سے گر پڑے ہیں تودلیل ہے کہ سفر کرے گا۔ اس کے اپنے پر اگندہ ہوں گے اور اگر دیکھے کہ اگر دیکھے کہ اس نے اپناجسم کاٹا ہے یاپر اگندہ ہوا ہے تو دلیل ہے کہ اپنے اہل بیت اور خویشوں کو شہروں میں پر اگندہ کرے گا۔
حضرت کرمانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی دیکھے کہ اس کے جسم سے گوشت کا ٹکڑاکٹ گیا ہے تو دلیل ہے کہ اس کو خیر اور نفع پہنچے گا۔اور اگر دیکھے کہ اس کاعضو جسم سے جدا ہو گیا ہے تو دلیل ہے کہ اس کے مال سے کوئی آدمی زور سے کچھ لے گا اور اگر دیکھے کہ اپنے جسم میں سے گوشت کاٹ کر کسی مرغ کے آگے ڈالتا ہے تو دلیل ہے کہ اپنے مال میں سے کسی کو کچھ نخشے گا۔
حضرت جابر مغرنی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص دیکھے کہ اس کے جسم کا کوئی حصہ اس سے باتیں کرتا ہے تو دلیل ہے کہ خلقت میں رسوا ہو گا۔ فرمان حق تعالیٰ ہے : قالوانطقنا الذی انطق کل شئی( وہ کہیں گے کہ ہمیں اسی نے گویائی دی ہے جس نے ہر ایک چیر کو گویائی عنایت کی ہے ۔)
اور اگر دیکھے کہ اس کے جسم کا کوئی حصہ کسی رستے پر جا رہا ہے تو دلیل ہے کہ ایسا کام کرے گا کہ جس پر بھر وسہ کرے گا۔ اور اگردیکھے کہ اس کے جسم میں سے کچھ جدا ہو گیا ہے تو دلیل ہے کہ اس کے خویشوں میں سے کوئی شخص سفر کو جائے گا اور ادیکھے کہ اس کے اعضاء درد کرتے ہیں تو دلیل ہے کہ بیمار ہو گا اور اگر دیکھے کہ پر ندہ اس کے جسم سے گوشت کا ٹکڑا لے گیا ہے تو دلیل ہے کہ اس کامال زور سے لیں گے اوراگر دیکھے کہ اپنے گوشت کا ٹکڑا پرندے کے آگے ڈالا ہے تو دلیل ہے کہ اپنے مال میں سے کچھ کسی کو دے گا۔
حضرت جابر مغربی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص خواب میں دیکھے کہ اس کے اعضاء میں سے کوئی عضو تباہ ہو گیا ہے تو اس سے دلیل یہ ہے کہ وہ راہ راستی پر نہیں رہا ہے ۔
حضرت فضیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کیا یا رسول اللہ !میں نے ایک بہت برا خو اب دیکھا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ کیا دیکھا ہے ؟میں نے عرض کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ لو گو ں نے آپ کے جسم سے ایک ٹکڑا کاٹا اور میر ی گود میں رکھ دیا ہے ۔ آپ نے فرمایا ۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہو گا جو تمہاری گود میں بڑھے گا۔پھر نچہ پیدا ہوا ۔ یعنی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔اور حضرت فضیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پر ورش میں بڑے ہوئے ۔