تعبیرخواب

تازیانہ (کوڑا)

حضرت دانیال علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میں چھیلا ہوا کوڑا دیکھنا دلیل ہے کہ اس کا کام مراد اور انتظام سے ہو گا ۔ اور اگر دیکھے کہ اس کا کوڑا چھیلا ہوا نہیں ہے تواس کوڑے کے اند ازے پر شرف اور بزرگی کی دلیل ہے۔
اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں کوڑے کا دیکھنا تھوڑے مال کی دلیل ہے ۔ جس قدر کہ صاحب خواب کا قدر ہے اور اگر دیکھے کہ اس کے کو ڑے کا چمڑا ٹوٹ گیا ہے تو دلیل ہے کہ اس سے کوئی بزرگ اورمال جدا ہو گا۔
حضرت ابن سیرین رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص دیکھے کہ اس نے میں کسی کو کو ڑا مارا ہے ۔ تو دلیل ہے کہ کسی کام میں مشغول ہوگا اوراس سے فائدہ پہنچے گا۔ اوراگر دیکھے کہ کو ڑا ہاتھ سے گرا ہے تو دلیل ہے کہ جو کام کرتا ہے اس کونہ کرے گا ۔ اور اگر دیکھے کہ جب اس کے کوڑا مارا ہے ۔ اس کے جسم سے خون جاری ہو گیا ہے تو دلیل ہے کہ رنج کی باتیں سنے گا۔ اوراگر دیکھے کہ اس سے خون نہیں نکلا ہے تو دلیل ہے کہ ہر ایک کو ڑے کی ضرب پر ایک ایک درم پائے گا۔
حضرت ابراہیم کرمانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی خواب میں دیکھے کہ اس کے کوڑے لگے ہیں ۔ تو دلیل ہے کہ مارنے والے سے مال حرام پائے گا۔ اوراگر دیکھے کہ کوڑے کے زخم سے خون جاری ہوگیا ہے تو دلیل ہے کہ مال پائے گا اوراگر دیکھے کہ کوڑے کا زخم اس کے جسم پر رہا ہے تودلیل ہے کہ رنج کی باتیں سنے گا۔ اوراگردیکھے کہ اس کے کوڑے لگے ہیں اورمارنے والے کا پتہ نہیں ہے تو دلیل ہے کہ اچانک مال پائے گا۔
حضرت جابر مغربی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایاہے کہ اگر کوئی میں دیکھے کہ اس کے ہاتھ میں بہت اچھا کوڑا ہے ۔ یا اس کی رسی ریشم کی ہے تو دلیل ہے کہ اسکے ہاں لڑکا پیدا ہوگا۔ اور اگر دیکھے کوڑا لکڑی کا ہے تو یہ اس کے قوی حال ہونے کی دلیل ہے اوراگر دیکھے کہ اس کا کوڑا چمرے کا ہے ے اتسمہ چمڑے کا رکھتا ہے تو دلیل ہے کہ خیر و منفعت (خیر و منفعت :بھلائی اور فائدہ)پائے گا۔
اور اگر کوئی شخص میں دیکھے کہ کو ڑا اس کے ہا تھ میں ٹوٹ گیا ہے تو دلیل ہے کہ اس کا فرزند مرے گا، یا اپنے کام سے معزول (معزول : جدا، بیکار)ہوگا۔
اوراگر کوئی میں دیکھے کہ گھو ڑے پر بیٹھا ہے اور اس کو کوڑا مارتا ہے تو دلیل ہے کہ کسی کی جگہ کام کرے گا اور اس کا اس پر احسان دھر ے گا۔
اوراگر کوئی دیکھے کہ کسی کی پشت پر کورے مارتا ہے تو دلیل ہے کہ وہ آدمی مال حرام پائے گا۔ یا مارنے والا اسکو تہمت گنا ہ لگا ئے گا۔ اور اگر اپنی پشت پر تازیانہ کا زخم دیکھا ہے اور مارنے والے کاپتہ نہیں ہے تو دلیل ہے کہ اس کا دین کا مشغل تمام ہو گا۔
اور اگر دیکھے کہ کسی پر کوڑے مارے ہیں اور کوڑا پارہ پارہ (پارہ پارہ :ٹکڑے ٹکڑے ) ہوگیا ہے تو دلیل ہے کہ اس کے اہل خانہ متفرق (متفرق :جدا )ہوں گے اور کسی پر کے بے اندازہ (بے اندازہ:بے شمار)کوڑے مارے تو دلیل ہے کہ اس کو غم اندوہ پہنچے گا۔
حضرت اسماعیل اثعث رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے گھر میں میں دیکھے کہ اس کے ہاتھ میں چھوٹا کوڑا تھا اور پھر وہ لمبا ہو گیا ہے ۔ تو دلیل ہے کہ اس کی زبان دشمن پر دراز ہوگی ۔ اوراگردیکھے کہ کوڑا دراز تھا اور پھر کوتاہ (کوتاہ:چھوٹا)ہوگیا ہے تو دلیل ہے کہ دشمن اس پر غلبہ کرے گا۔
حضرت جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میں کوڑے کا دیکھنا پانچ وجہ پر ہے ۔ اول ، شورو خروش ۔ دوم ، جھگڑا۔سوم، مشکل کام کا آسان ہونا ۔ چہارم، سفر اور جدائی ۔ پنجم، بز رگی اور مال ۔