تعبیرخواب

جامہ(کپڑا،لباس)

حضرت دا نیال علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ خواب میں کپڑا کسب اور مد کا کام ہے ۔ اگر اپنے کپڑے اچھے دیکھے تو دلیل ہے کہ اس کا کسب اور کام بد ہو گا ۔
اور اگر بادشاہ خواب میں اپنے کپڑے سیاہ دیکھے تو اس کی نیک حال کی دلیل ہے ۔ اور اگر رعیت اپنے کپڑے سیاہ دیکھے تو غم و اندوہ کی دلیل ہے ۔ اور زرد کپڑا میں بیماری ہے اور سرخ کپڑا خواب میں خوشی ہے اور توفیق طاعت ہے ۔ دلیل یہ ہے کہ سبز کپڑا بہشتیوں کا ہے ۔ وہ بھی اچھا ہے ۔ فرمان حق تعالیٰ ہے ۔ عالیھم ثیاب سند س خضر واستبرق (ان کے اوپر سبز ریشم کے جامے ہیں)
اور سفید کپڑا میں دھویا ہوا دیکھنا آدمء کے کام کے بنے کی دلیل ہے اور نیلا کپڑا نقصان کی دلیل ہے اور جلا ہوا کپڑا عورتوں کی دلیل ہے جو بادشاہ کے باعث سے ہے اور پھٹا ہواکپڑا راز کے ظاہر ہونے کی دلیل ہے اور پشمینے اور نمدے اور ٹاٹ کا کپڑا مال اور مراد کے حاصل ہونے کی دلیل ہے اور چیتھڑے لگا ہو ا کپڑا درویشی اور تگد سگی کی دلیل ہے ۔ اور میلا کپڑا خواہ کسی قسم کا ہو ، اندوہ اور غم کی دلیل ہے اور کاغذی کپڑا ملامت اور بدی کی دلیل ہے اور چوپاؤں کی پوست کا جامہ خیر اور منفعت کی دلیل ہے ۔ اور بت درز کپڑا کفن کی شکل پر شکل پر دلیل ہے کہ اس کے کا م پورے ہو گئے ہیں۔لیکن اس کی عمر بھی آخر کو پہنچ گئی ہے ۔ اور اگر دیکھے کہ گدھے کا چمڑا پہنے ہوئے ہے تو دلیل ہے کہ عزت اور مرتبہ پائے گا ۔
حضرت ابن سیرین رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی دیکھے کہ سرداری کے کپڑے پہنے ہوئے ہیہں اگر وہ اس کپڑے کا اہل ہے تو دلیل ہے کہ اس کا کام قوی ہو گا ۔ اور اگر دیکھے کہ وزارت کا لباس پہنے ہوئے ہے تو دلیل ہے کہ مال بہت پائے گا ۔ لیکن لوگوں سے ملامت دیکھے گا ۔ اور اگر دیکھے کہ دربانی کا لباس پہنے ہوئے ہے تو دلیل ہے کہ بزرگوں کی عطاء سے محروم رہے گا ۔ اور اگر دیکھے کہ شاہی مدد گار لباس پہنے ہوئے ہے تو دلیل ہے کہ کوئی اس کو عطا پہنچانے میں مدد گار ہو گا ۔ اور اگر جل د کی پوشاک پہنے ہوئے ہے تو دلیل ہے کہ با امانت اور زباں آور ہو گا اور لوگوں کے ضروری کاموں میں مشغول ہو گا ۔ اور اگر دیکھے کہ صوفیوں کا لباس پہنے ہوئے ہے تو دلیل ہے کہ اس کا دین زیادہ ہو گا ۔ اور اگر دیکھے کہ زاہدوں کا لباس پہنے ہوئے ہے تو دلیل ہے کہ با امانت ہو گا اور اگر دیکھے کہ سودا گروں کا لباس پہنے ہوئے ہے تو دلیل ہے کہ اس کا دنیا کا کاروبار نیک ہو گا ۔ اور اگر دیکھے کہ اہل صلاح کا لباس پہنے ہوئے ہے تو دلیل ہے کہ اس کا دین صلاح پر ہو گا ۔ اور اگر د یکھے کہ اہل فساد کا لباس پہنے ہوئے ہے تو اندوہ اور غم کی دلیل ہے ۔اور اگر دیکھے کہ مزدوروں کا رکن لباس پہنے ہو ئے ہے ۔ تو دلیل ہے کہ فکر مند اور رنجور ہو گا ۔
اور اگر دیکھے کہ طبیب کا لباس پہنے ہوئے ہے تو دلیل ہے کہ اس کا کام نیک ہو گا اور لوگوں میں مشہور ہو گا ۔
اور اگر کوئی شخص دیکھے کہ یہودیو ں کا لباس پہنا ہے تو دلیل ہے کہ کسی کو مکرو حیلہ سے ہلاک کر ے گا اور اس کا سر انجام بد ہو گا ۔
اور اگر دیکھے کہ عیسائیوں کا لباس پہنے ہوئے ہے تو اس سے دلیل ہے کہ ایسا کام کرے گا کہ جس کے باعث دوست سے امن میں نہ ہوگا ۔
اور اگر دیکھے کہ پادریو ں کا لباس پہنے ہوئے ہے تو اس سے دلیل ہے کہ وہ بدعتی ہو گا اور اس کی رغبت کفرا ور گمراہی کی طرف ہو گی ۔
اور اگر دیکھے کہ اس کے پاس آتش پر ستوں کا لباس ہے تو دلیل ہے کہ اس کی ر غبت بد دینوں اور جاہلوں کی طرف ہو گی ۔ اور اگر دیکھے کی سپاہیوں کا لباس پہنے ہوئے ہے تو اس سے دلیل ہے کہ اس کی کسی کے سا تھ عداوت ہو گی ۔
اور اگر کوئی شخص دیکھے کہ اس کے پاس کسی مرتد کا لباس ہے تو دلیل ہے کہ اس کو کوئی شخص چیز دے کہ پھر واپس لے گا ۔
اور اگر دیکھے کہ اس کے پاس بت پرست کا لباس ہے تو دلیل ہے کہ کسی بادشاہ یا امیر کی خدمت میں مشغول رہے گا اور اگر دیکھے کہ عورت کا لباس پہنے ہوئے ہے تو دلیل ہے کہ اپنے بزگوں سے دور ہو گا ۔ اور اگر دیکھے کہ جیل والوں کے کپڑے پہنے ہوئے ہے تو دلیل ہے کہ کسے کام کے لئے غمگین اور حاجت مند ہو گا ۔
اور اگر دیکھے کہ قلی کا لباس پہنے ہوئے ہے تو دلیل ہے کہ امانت دا ر ہو گا اور نگشت نما ہو گا ۔ اور اگر دیکھے کہ گورکن کا لباس پہنے ہوئے ہے تو دلیل ہے کہ کسی کمینے اور کم ہمت کی خدمت میں مشغول ہو گا
اور اگر دیکھے کہ نا خدا کا لباس پہنے ہوئے ہے تو دلیل ہے کہ اس کو کسی مصلحت سے حلال کی روزی پہنچے گی اور اگر دیکھے کہ قصابی کا لباس اس کے پاس ہے تو دلیل ہے کہ اس کو نقصان اور اندوہ پہنچے گا ۔
اور اگر دیکھے کہ اس نے شکوہ لباس پہنا ہے تو دلیل ہے کہ عورت کے ساتھ راستی سے صحبت نہ رکھے گا ۔
حضرت ابراہیم کرمانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی دیکھے کہ اس کے پاس کوئی نیا کپڑا ہے اور دھوبی کا دھلا ہوا نہیں ہے تو نیکی کی دلیل ہے اور تنگ اور کمینہ کپڑا دیکھنا اور کورا کپڑا دھوبی کے دھلے سے بہتر ہے اور زربفتکا جامہ عقلمند عورت اور دانا کنیز ہے ۔
اور چادرکا کپڑا دھاری دار خیر و منفعت ہے ۔ اور نا معلوم رسی کا کپڑا کوڑے کا زخم یا سخت غم ہے جو اس کو پہنچے گا اور مقرر کپڑا طلب کیا ہوا مال ہے ۔
حضرت جابر مغربی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ جامہ دیکھنے کی تاویل دو طرح پر ہے ۔ ایک کا تعلق دین سے ہے اور دوسرے کا تعلق دنیا سے ہے ۔اور سفید کپڑا دین ہے اور کپڑا نیا دستار کا دنیا ہے ۔ اگر کوئی دیکھے کہ اس کے پاس نیا سفید کپڑا ہے تو یہ دنیا اور دین دونوں کے لئے بہتر ہے اور اگر لباس موٹا اور تلگ دیکھے تو یہ دین اور دنیا دونو ں کے واسطے برا ہو وے اور اگر کپڑے کو میلا اورپھٹا ہوا دیکھے تو یہ بھی فساد دین کی دلیل ہے ۔ اور سرخ کپڑا عورتوں کی دنیا کے لئے نیک ہے اور مردوں کے لئے بھی نیک ہے ۔اور پیراہن اور زالہ اور ریشمی چادر اور قبال اور دستار یہ سب چیزیں مردوں کے لئے غم و اندوہ ہے یا جنگ اور خصومت اور جھگڑا ہے اور زرد کپڑا مردوں کے لئے بیماری ہے ۔
اور بعض اہل تعبیر کے فرمان کے مطابق اگر عورت دیکھے کہ اس نے زرد لباس پہنا ہے تو دلیل ہے کہ وہ شوہر کرے گی اور اگر شوہردار ہے تو بتمار ہو گی اور جامہ سبز عورتوں اور مردوں کے لئے د ین ہے اور اگر زندے پر دیکھے تو دین کی صلاح ہے اور اگر مردے پر دیکھے تو آخرت کی نجات کی دلیل ہے ۔ اور سیاہ کپڑا اس کے لئے جو ہمیشہ سیاہ پہنتا ہے نیک ہے ۔ لیکن سفید پہنے والے کے لئے سیاہ نیک نہیں ہے ۔ نے دین میں نہ دنیا میں اچھا ہے ۔
اور بعض اہل تعبیر کے نزدیک سیاہ کپڑا خطیب اور قاضی اور بادشاہ کے لئے اچھا ہے اور رعایا کے لئے غم و اندوہ ہے اور نیلا کپڑا بہتان اور غم اور مصیبت ہے ۔
اور اگر کوئی دیکھے کہ اس کے پاس رنگ دار کپڑا ہے ۔ سبز اور سرخ اور زرد ہے تو دلیل ہے کہ بادشاہ سے یا اس ولایت کے حاکم سے ایسی بات سنے گا جو اسے بھلی نہ معلوم ہو گی ۔
حضرت اسمائیل اشعث رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی خواب میں دیکھے کہ اس کے پاس کپڑا دونو ں طرف سے دور نگا ہے ۔ تو دلیل ہے کہ اہل دنیا اور اہل دین کے ساتھ ذلت سے زندگی بسر کرے گا ۔ اور اگر دیکھے کہ اپنا کپڑا کھاتا ہے ۔ تو دلیل ہے کہ اپنے مال میں سے بہت خرچ کرے گا ۔ اور اگر دیکھا کہ پھٹا ہوا کپڑا پہنا ہے تو دلیل ہے کہ سفر میں رہے گا ۔ یا کسی کام کے لئے اس کو قید خانہ میں لے جائیں گے ۔ اور اگر دیکھے کہ اس کا جامہ ضائع ہوا یا اس سے کسی نے لیا اور وہ خود برہنہ رہا ہے ۔ تو دلیل ہے کہ اس کی عزت اور مرتبہ کم ہوگا ۔ اور ذلیل اور خوار ہو گا ۔ اور اگر دیکھے کہ اپنا کپڑا پھاڑا ہے تو دلیل ہے کہ وہ گم ناک ہو گا اور اپنی عورت سے جھگڑے کرے گا ۔
اور اگر دیکھے کہ اس کا کپڑا پھٹا ہوا ہے تو دلیل ہے کہ عورت سے جدا ہو گا ۔ اور اگر دیکھے کہ اپنے کپڑے کو یا اپنے اہل خانہ کے کپڑے کو مومی کرتا ہے ۔ تو دلیل ہے کہ اس کاپنے خویش سے جھگڑا پڑے گا ۔ اور اگر دیکھے کہ اس کا کپڑا کسی نے چھینا ہے اور وہ ننگا رہ گیا ہے تو دلیل ہے کہ عزت اور مرتبے سے گرے گا ۔ اور اگر دیکھے کہ لگے ہوئے کپڑے کھولا ہے کپڑے کھولا ہے تو دلیل ہے کہ سفر کو جائے گا ۔ اور اگر دیکھے کہ کھلے کپڑے لپیٹتا ہے کہ اس کا غائب شخص سفر سے واپس آئے گا ۔
اگر دیکھے کہ عورتوں کا لباس پہنے ہوئے ہے تو دلیل ہے کہ اس کا مال زیادہ ہو گا ۔ لیکن اس کو بہت خوف لاحق ہو گا اور ایک قول کے مطابق اس کو غم و اندوہ اور بے حرمت ہو گا ۔ اور اگر دیکھے کہ مردوں کا لباس ر کھتا ہے تو دلیل ہے کہ اس کو خیرو نعمت حاصل ہو گی ۔ اور خواب میں لباس کا پانا سفر کی دلیل ہے اور جامہ کے طول وعرض کے مطابق سفر کی مدت ہو گی ۔ اور اگر دیکھے کہ جامے کو تمام کر دیا ہے تو دلیل ہے کہ غم سے نجات پائے گا ۔
حضرت اصہفانی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ خواب میں سب جاموں سے بہتر سوتی جامہ ہے ۔ جس میں ر یشم اور ابریشم نہ ہو ۔ اور سوتی عنابی لباس یا ریشم کا لباس دونوں مال حرام اور فساد دین کی دلیل ہے۔
اور جامہ حریر اور ابریشم کا مردوں کے لئے برا ہے اور عورتوں کے لئے اچھا ہے اور پرانا کپڑا بادشاہ کی طرف سے غم و اندوہ ہے ۔ اور اگر کوئی خواب میں پرانا کپڑا بیجے تو نیک ہے ۔ اور اگر پرانا کپڑا خریدے تو بد ہے اور پرانا لباس پہننا برا ہے اور پرانا کپڑا جسم پر سے اتارنا اچھا ہے ۔
حضرت جابر مغربی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی خواب میں دھلا ہوا کپڑا پہنے تو بخار کی دلیل ہے اور اگر میلا کپڑا دیکھے تو درو یش ہو گا ۔ اور اگر خواب میں دیکھے کہ اس نے رنگین کپڑا پہنا ہے تو عورت اور سپاہی کے لئے نیک تاویل ہے اور اگر دیکھے کہ عجیب رنگ کا لباس رکھتا ہے تو دلیل ہے کہ کوئی مکروہ بات اس کے آگے آئے گی۔
حضرت جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ نیا کپڑا خواب میں دیکھنا چار وجہ پر ہے ۔ اول ، عورت ۔ دوم ، بادشاہ ۔ سوم ، مال ۔ چہارم، خیرو منفعت ۔ اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر خواب میں کوئی شخص دیکھے کہ وہ اپنا کپڑا مقراض سے کترا تا ہے تو دلیل ہے کہ اس کو کوئی چیز پہنچے گی ۔ اور اگر دیکھے کہ چوروں نے اس کے کپڑے نکالے ہیں تو دلیل ہے کہ اس کی عورتوں کے درمیان فساد برپا ہو گا