تعبیرخواب

رستخیز(قیامت)

حضرت ابن سیرین رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے۔ اگر دیکھے کہ قیامت یقین اور صداقت کے ساتھ قائم ہے ۔ دلیل ہے کہ حق تعالیٰ اس ملک والوں پر رحمت کرے گا ۔ اور اگر اس ملک کا بادشاہ ظالم ہے ۔ دلیل ہے کہ ان پر بلا اور آفت آئے گا ۔ اور اگر مظلوم ہے ،تو ان کو ظالموں پر فتح ہو گی ۔ اور اگر دیکھے کہ اہل ملک حق تعالیٰ کے آگے کھڑے ہیں ۔ دلیل ہے کہ ان پر حق تعالیٰ کا قہر وغصہ ہو گا ۔
حضرت ابراہیم کرمانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے۔ اگر دیکھے کہ قیامت قائم ہے ۔دلیل ہے کہ مظلوم ظالم پر قابو پائے گا اور اگر غم ومحنت اور اندوہ میں ہے ۔ دلیل ہے کہ خلاصی پائے گا ۔ اور اگر دیکھے کہ کوئی علامت قیامت کی علامتوں میں سے ظاہر ہوئی ہے جیسا کہ آفتاب مغرب سے نکلا ہے ۔ یا دجال ملعون یا یاجوج ما جوج ظاہر ہوئے ہیں ۔ اس کی تاویل یہ ہے کہ توبہ کرے اور حق تعالیٰ کی طرف رجوع کرے ۔ اور اگر دیکھے کہ شمار کی جگہ ہے تو غفلت کا نشان ہے ۔ فرمان حق تعالیٰ ہے ۔ اقتراب للناس حسا بھم و ھم فی غفلتہ معرضون (لوگوں کا حساب نزدیک آگیا ہے اور وہ غفلت میں منہ پھیر رہے ہیں )
اور اگر دیکھے کہ اس کا حساب ہو رہا ہے ۔ دلیل ہے کہ اس کو نقصان پہنچے گا ۔ فرمان حق تعالیٰ ہے ۔ فحا سبناہ حسا نا شدیدا و عذبناہ عذا با نکرا(ہم اس کا سخت حساب لیں گے اور اس کو برا عذاب دین گے)
اور اگر دیکھے کہ اس کے اعمال وزن کرتے ہیں اور اس کی نیکیاں زیادہ ہیں ۔ دلیل ہے کہ اس کا انجام نیک ہو گا ۔ فرمان حق تعالیٰ ہے فمن نقلت مو ازینہ فاولک ھم المفلحون(جنکو نیکیوں کا پلڑا بھاری ہے وہی لا گ نجات پانے والے ہیں)
اور اگر دیکھے کہ اس کی بدی نیکی سے ز یادہ ہے دلیل ہے کہ اس کی جگہ دوزخ ہے ۔ فرمان حق تعالیٰ ہے ۔ فا ولک الذین خسرو انفسھم بما کا نو یعملون(و ہی لوگ ہیں جہنوں نے اپنے عملوں سے اپنی جانوں کو خسارے میں رکھا)
اوراگر دیکھے کہ اس کا نامہ اعمال ملا ہے اور دائیں ہاتھ میں ہے ۔ دلیل ہے کہ دائیں ہاتھ جائے گا۔ اور امید ہے کہ ان کا راہ دین راست ہے ۔ فرمان حق تعالیٰ ہے وا نذلنا معھم الکتاب والمیزان(اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو اتارا )
اور اگر دیکھے کہ اس کو نامہ اعمال دیا ہے اور پڑھنے کو کہا ہے ۔ اور اگر اہل صلاح سے ہے تو اس کا کام نیک ہے اور اگر اہل فساد سے ہے تو اس کا کام خطرے میں ہے ۔ فرمان حق تعالیٰ ہے ۔ اقرا کتاب کفی بنفسک الیوم علیک حسیباً(اپنی کتاب پڑھ آج تیری جان حساب کے لیے کا فی ہے )
اور اگر اپنے آپ کو پل صراط پر دیکھے ۔ دلیل ہے کہ راہ راست پرہے ۔اور اگر دیکھے کہ پل صراط سے گزر نہیں سکتا ہے دلیل ہے کہ راہ خطا پر ہے ۔ تو بہ کرنی چائیے تا کہ ر ضائے خدا ہو ۔