لذیذہ کھانے اور پکوان

ْقدیمی شامی کباب

اس نام کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شامی کباب قدیمی ہیں تو کسی اور ترکیب ست تیار کئے گئے شامی کباب جدید شامی کباب ہوں گے۔بات صرف اتنی ہے کہ یہ جس ترکیب سے تیار کئے جاتے ہیں وہ عرب ایران اور ہندوستان کے مسلمان بادشاہوں کے مطنجوں میں شاہی باورچی استعمال کرتے تھے اور یہی شامی کباب تیار کرنے کی بہترین ترکیب تسلیم کی گئی ہے۔
سامان
قیمہ آدھا سیر اگر اس کی زیادہ مقدار درکار ہو تو باقی اشیاء کی مقدار میں بھی اسی نسبت سے اضافہ کیا جاسکتا ہے گھی یا تلنے کا تیل ایک پاؤ ہری مرچیں پانچ عدد ہرا دھنیہ ایک گڈی۔پودینہ ایک گڈی ادرک ایک چھوٹی ڈلی پیاز ایک گنٹھی۔لہسن بارہ جوے دہی آدھ پاؤ۔آلو آدھ پاؤ انڈے دو عدد سرخ مرچ اور نمک حسب ذائقہ۔
ترکیب
قیمے کو پانی میں گلا لیجئے پتیلی میں اس کے ساتھ پیاز لہسن چنے کی دال آلو ادرک کی آدھی ڈلی۔سارا گرم مسالہ لال مرچ اور نمک بھی ڈال دیجئے۔پانی صرف اتنا ڈالیے جتنا قیمے کو گلانے کے لئے کافی ہو جب یہ پانی خشک ہو جائے تو قیمہ اور مسالے پتیلی سے نکال کر سل پر باریک سے باریک پیس لیجئے یاد رہے ان سب کو زیادہ سے زیادہ باریک پیسنا بے حد ضروری ہے ورنہ کبابوں کی بناوٹ میں نفاست نہیں آئے گی اس مرکب میں ہری مرچیں ۔ہرا دھنیہ پودینہ کتر کر ملا دیجئے اس مرحلے پر کبابوں کے مرکب کو چکھ کر یہ دیکھ لینا چاہئے کہ نمک مرچ ضرورت سے کم یا ضرورت سے زیادہ تو نہیں ہو گئے ہیں۔دونوں میں سے جوبھی خرابی ہو اسے دور کر دیجئے اور اگر نمک مرچ ٹھیک ہیں تو چلنے دیجئے پھر اس مرکب میں دہی ڈالیے اور اس کے کباب بنا کر ایک ٹرے یا طباق یا کسی بڑی پلیٹ میں رکھ لیجئے۔
اب ایک پیالے میں انڈوں کی زردی اور سفیدی نکال کر اسے پھینٹ لیجئے اور کبابوں کو انڈے کا ہاتھ لگا لگا کر تیل یا گھی میں تل لیجے۔تیل یا گھی کڑاہی یا فرائی پان میں سارے کا سارا ڈال دیجئے اور جب تک یہ خوب اچھی طرح کڑ کڑانے نی لگے اس وقت اس میں کباب تلنے کا عمل شروع نہ کیجئے اس میں یہ نگتہ ہے کہ یہ کباب پکائے نہیں جاتے بلکہ تلے جاتے ہیں ۔ اس طرح ان پر ایک خستہ کور آجاتا ہے۔یہ ہرے دھنیے مرچوں پیاز اور لال مرچ کی ان کبابوں کی چٹنی بھی ہو سکتی ہے اورآم یا کسی اور پھل کی چٹنی بھی۔