مکمل راستہ
برج
حمل
حمل وہ لوگ ہیں جو جوش اور بہادری سے آگے بڑھتے ہیں، مقصد کے لیے ثابت قدم اور کردار میں پیمائش رکھتے ہیں۔
برج حمل کے موافق پتھروں کے خواص
نیلم
تفصیل
اس معروف نیلم ۔ فارسی نیلم۔ عربی ۔ یا قعت کبود ۔ ہندی : نیلمن۔ ماہیت : مشہور پتھر ہے معدنی اعلیٰ قسم کا جس کے نگینے وغیرہ بنائے جاتے ہیں۔ طبیعت پہلے درجے میں گرم اور تیسرے میں خشک ہے۔ رنگ و بو نیلا صاف شفاف چمکدار ۔ ذائقہ پھیکا کوئی غالب نہیں ۔ مضر : گرم مزاجوں کو مضر ہے ۔ مصلح : یا قوت سفید اور اشیا ئے سرد ۔ بدل : یا قوت سرخ یا زرد ۔ نسبت سیارہ : منسوب ہے زحل سے۔ نفع خاص : مفرح و مقوی دل و دماغ ۔ کامل : ساڑھے تین رتی تک۔ نا قص : رتی سے دور تی تک۔ افعال و خواص : مفرح ہے اور دل و دماغ کو قوت اور ایک ورم حل کر کے پلانا صرع اور وسواس اس ، خفقان ، طاعون ، نزف الدم ، دفع زہر ۔ تغیرہوائے بائی میں مفید ،خون کو صاف کرتا ہ۔حرارت غریزی اور قو ائے حیوانی کا محافظ ہے اس کا منہ میں رکھنا منہ کی بد بو کا دافع تشنگی کا مسکن ۔ مقوی دل و مفرح ہے ، سرمہ اس کا مقوی بصر اور محافظ چشم ہے۔نیلم جسے سنسکرت میں نیلا ، انگریزی میں سیفائر اور فارسی عربی میں یا قوت ارزق کہتے ہیں نہایت ہی وعمدہ نیلگوں جواہر ہے ۔ اس کی چمک دمک اور آسمانی نیلی رنگت دل کو بہت بھاتی ہے۔ یہ جواہر زمانہ قدیم سے مشہور چلا آرہا ہے اور اہل ہنو د اور اہل اسلام کی پرانی کتابوں میں اس کا ذکر آیا ہے ۔ اس جواہر کے برابر کسی ایک معبود کا نام کی نظر کرتے تھے۔ جواہر اپنی خوش رنگت اور چمک چمک کے باعث زیبائش بدنی کے لئے بہت مروج ہے۔ متقد مین چونکہ ایسے جواہر کو کاٹنا بڑا مشکل سمجھتے تھے اس لئے یہ زیورات میں کم مستعمل تھا ۔ نیلم کے پانچ اقسام بیان کئے جاتے ہیں اور اس کے پہننے کے مختلف فوائد لکھے ہیں۔ (۱) گوڈ تو ، جو مقدار میں چھوٹا اور تول میں بھاری ہو اس کے پہننے سے دل کی مرادیں بر آتی ہیں۔ (۲)سنگرت جو ہمیشہ چمکتار ہے اس کی پہننے سے دولت اور محبت بڑھتی ہے۔ (۳) ور ناڑی جسے سورج کے سامنے رکھنے سے نیلے رنگ کی کرنیں نکلیں اس کے پہننے سے مال اور اجناس حاصل ہوتے ہیں۔ (۴)پارشورت ، جس سے سنہری روپہری اور بلوی چمکیں نکلیں اس کے پہننے سے نا موری ہوتی ہے۔ (۵) رنج کیتو ، جس کو برتن میں رکھنے سے اس کی چمک کے باعث برتن نیلا دکھلائی دے، اس کے پہننے سے اولاد کو ترقی ہوتی ہے۔ ایک مہانیل نامی نیلم ہوتا ہے۔ جسے اگر اس سے سو حصہ زیادہ دودھ میں ڈال دیں تو اس کی چمک سے دودھ نیلے رنگ کا دکھلائی دیتا ہے۔ ایک اندر نیل نامی نیلم ہوتا ہے ۔ ان کے علاوہ ضرر اور نقصان متصور ہوتے ہیں وہ چھ ہیں ۔ (۱) ابرق جس کے اوپر کے حصہ میں بادل کی سی چمک ہو اس سے عمر و دولت برباد ہوتی ہے۔ (۲)تراش جس میں ٹوٹے پن کا نشان ہو ۔ اس سے ریچھ وغیرہ جانوروں سے ضرور پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ (۳)چترک جو مندرجہ بالا رنگوں سے کسی مختلف رنگ کی ہو اس کے پہننے سے قوم کے بر بادی متصور ہے۔ (۴) مرت گر یہہ جس کا مٹیلا سا رنگ ہو اس سے کئی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ (۵) اشم گر یہہ جس میں پتھر کا سا ٹکڑا معلوم ہو۔ اس کے پہننے سے موت کا ڈر ہوتا ہے۔ (۶) روکہی جس میں پتھر چینی کی طرح داغ ہوں اس کے پہننے سے جلا وطنی کا ڈر ہے۔ آج کل کے جواہر نیلم کی دو قسمیں بیان کرتے ہیں۔ اول پرانا ، دوم نیا ہر ایک تین نوعیں بتلاتے ہیں۔ (۱) سبز ین نیلا یا نیلا مائل سبزی ۔ (۲)لال پن نیلا ، (۳) خوب نیلا یعنی گہرا نیلگوں ، اہل فارس نیلم کو قوت کی ایک قسم بیان کرتے ہیں اور اس لئے یا قوت ارزق کہتے ہیں لیکن فی الحقیقت یہ یا قوت سے ایک علیحدہ جواہر ہے
ذیلی زمرے
متعلقہ صفحات
3 صفحاتپکھراج
پکھراج جیسے فارسی میں قوت ارزق اور ہندی میں پو شپ راگ کہتے ہیں ۔ ایک عمدہ زردرنگ قدیمی جواہر ہے۔ زبان عبرانی میں اسے پت دوہ کہتے ہیں ۔ جس کا مصدرسنسکرت لفظ پیت (معنی زرد) معلوم ہوتا ہے۔یونانی زبان میں اسے ٹوپاسٹیوں (Topasitun)کہتے ہیں ۔جس کا مآخذ لفظ ٹپ دوہ ہے۔جو پت دوہ کا بگڑا ہوا ہے ۔ اس کا انگریزی نام ٹوپاز ایک جزیرہ کے نام پر پڑا ہے جہاں سے پہلے یہ نکلتا تھا۔یہ جزیرہ بحیرہ قلزم میں ہے اور چونکہ اس کے گرد ہمیشہ دھند و غبار رہتا ہے۔ اس لئے اس کا نام ٹوپاز پڑا۔معنی تلاش کرنا پڑا اور اسی سے لفظ ٹوباز نکلا ہے۔کئی دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جواہر زمانہ قدیم میں مروج تھا۔چناچہ بوتش لکھتا ہے کہ یہ جواہر سبزی مائل زرد رنگ کا ہے۔اور اس کے کئی ایک خواص سحری یمن و برکات مانے جاتے تھے۔یونانی حکماء لکھتے ہیں کہ ’’ پکھراج غم غصہ کو دور کرتا ہے۔بازو پر باندھنے سے جادو کا اثر نہیں ہوتا ہے۔عیاشی سے بچاؤ ہوتا ہے۔‘‘ ماہرین اس کی دو قسمیں بیان کرتے ہیں۔ایک مشرقی دوم مغربی ۔ جس پکھراج میں صرف الیو مینا مرکب ہوتا ہے وہ مشرقی اور جن اقسام میں ۵۷ حصہ الیو مینار اور باقی سلیکا اور فلورائن مرکب ہوں ا نہیں مغربی کہتے ہیں۔کتب سنکسرت میں اس کی چار ذاتیں بیان کی گئی ہیں۔سفید پکھراج ، برہمن ، سرضی مائل کھتری ، زرد رنگ ، ویش اور سیاہی مائل شودر ، متقد مین اسے چرائسو لیٹ کہتے تھے۔پکھراج کی ایک قسم پس نائیٹ نامی ہے جو الٹن برگ سے ملتی ہے۔ ایک اور قسم ہے جیسے فالیولائٹ یا پرائی فائسو لائیٹ کہتے ہیں ۔ یہ تاریک ہوتی ہے ۔ اور گر می سے سوج جاتی ہیں
الماس ہیرا
اسم معروف : ہیرا ۔فارسی : ماسی ۔ عربی:الماس ، ہندی : ہیرا ماہیت : سب پتھروں میں سخت پتھر اور بہت نفیس ہے۔ طبیعت: چوتھے درجے میں سردوخشک اور بعض کے نزدیک گرم ہے۔ رنگ وبو: سفید و زرد دو سیاہ سرخ ذائقہ : پھیکا سخت ہوتا ہے۔ مضر : زہر قاتل اور مضر ہے۔ مصلح: قے کرانا تازہ دودھ پلانا بدل: اس کی دوسری قسمیں نسبت ستارہ: منسوب ہے زہرہ سے۔ نفع خاص : تعلق اس کی مقوی قلب ۔ کامل : زہر قاتل ہے مستعمل نہیں۔ ناقص: زہر قاتل ہے ماکول نہیں۔ افعال و خواص : اس کا لٹکا نا دل کی قوت دینا اور خوف و ڈر کا مانع اور سرعت ولادت کو مفید اور شش پھل صرع کو مفید اور منجن اس کا دانتوں کا مجلی لیکن اس سے پرہیز بہتر ہے۔ قادرمطلق نے الماس کو کیا عجیب شے بنایا۔اس کی چمک دمک آب و تاب دل کو بھاتی ہے۔ کہ ہر ایک شخص دل و جان سے اس کا شائق ہے ۔ قدرت نے اسے ایسا نادر اور بے بہا شے بنا دیا ہے۔ کہ ہر بشر کے نصیب میں نہیں ہو سکتا۔ گویا اس کے زیادہ عزیز ہونے کا ایک باعث ہے۔ زمانہ قدیم سے یہ جواہر مشہور چلا آرہا ہے۔ ٓآج کل کے جوہری اس کی قسمیں بیان کرتے ہیں۔(۱) گلابی (گلاب جیسا سرخ) (۲) بناسپتی (سبز رنگ) ، (۳) نیل بحبر نیلگوں ، (۴)بسنت (زرد رنگ) ، (۵) گڑچ (نہایت کڑا جس پر داغ ہوں چنن چال یا ابرق کہتے ہیں۔ (۶) کٹھی (سفید) ، (۷) بھورا (خاکی رنگ) ، (۸) پیلا (زرد) ، (۹) کالا ( سیاہ رنگ)، (۱۰)کف ، پنجابی جوہری الماس کی صرف چار قسمیں بتا تے ہیں ۔ (۱) شر بتی ( ہلکا سرخ) ، (۲) نیلا ،(۳) سفید ، (۴) سیاہ ۔ ہندو عیب دار اور سیاہ ہیرا کو پہننا زبون اور نحسن سمجھتے ہیں۔ عرب اور فارس کے حکما ء اس کی قسمیں بیان کرتے ہیں۔ (۱)نو شادری ۔ نو شادر کی طرح رنگدار ، (۲) کیر اسے ، نقری رنگ ، (۳) کدونی سفید (۴) حدیدی ، آ ہنی رنگ ، یونانی حکیم الماس کو دوائی بھی استعمال کرتے ہیں۔ اور اس کے اقسام ذیل بیان کرتے ہیں ۔ (۱) شفاف ، فر عونی ،(۲) زرد تبنے ،(۳) بلوی ، آسمانی ، (۴) سبزی ، زبر جدی ، اہل یورپ کم قدر الماس کی تین قسمیں بیان کرتے ہیں۔بورٹ ۔ کاربونیڈ وار بورن ان تینوں کا بیان آگے لکھا جائے گا
یا قوت
اس معروف : یا قوت ، دارسی : یا قوت ، عربی : یا قوتے ۔ ہندی ، مانک ماہیت : معدنی چیز ہے کہ اپنے معدن میں گندھک اور خالص پارے سے بنتا ہے۔ طبیعت : حرارت اور بر ددت میں معتدل اور دوم میں خشک ہے۔ رنگ وبو: نہایت سرخ شفاف چمکدار ۔ ذائقہ : پھیکا کوئی ذائقہ غالب نہیں۔ مضر : بہت مضر نہیں ہے۔ مصلح : عنبر اور سونا وغیرہ۔ بدل : اس کی دوسری قسمیں مثل سفید کے نسبت سیارہ: منسوب ہے مریخ سے۔ نفع خاص : مفرح مقوی دل و حرارت غریزی ۔ کامل : تین رتی تک مستعمل ہے۔ناقص: ایک یا دو رتی۔ افعال و خواص : مفرح ہے اور دماغ کو قوت دیتا ہے ایک درہم پلانامر گی وسواس خفقان اور طاعون کو مفید اور خون منجمند کو محلل اور نزف الدم کا مانع اور زہروں کا داغ ہوائے وبائی کے تغیر کو سو مند خون کو صاف کرتا اور حرارت غر یزی کا محافظ ہے اور اس کی انگوٹھی پہننا طاعون کو مفید اور منہ میں رکھنا پیاس کا مسکن دل کا تقوی و مفرح اور سرمہ اس کا مقوی بصر محافظ چشم ہے۔ یا قوت جسے انگریزی میں روبی اور ہندی میں مانک کہتے ہیں۔بڑا بیش قیمت جواہر ہے۔ یہ ندرت رنگت اور خوش و ضعی کے باعث سب جواہرات سے افضل گنا جاتا ہے اور نہایت ہی قبول نظر ہے۔ یہ جواہر اپنی ندرت اور خوش رنگی کے باعث نہایت ہے بے بہا ہے۔ زمانہ قدیم سے یہ عجیب جواہر نامزد عالم چلا آرہا ہے ۔کئی عالموں نے اس کی بابت طرح طرح کے بیان لکھے ہیں۔شاعر لوگ اسے استعارتاٌ اپنے شعروں میں استعمال کرتے ہیں اور خاص کر لب معشوق کو اس سے تشبہیہ دیتے ہیں۔چنانچہ ایک شاعر لکھتا ہے۔ لب لعل تو یا قوت است یا قوت است مرجان را خم زلف تو بادام است یا دام است انسان را بعض لوگ اس کی نسبت خیال کرتے ہیں کہ رات کہ بھی دن سا خشاں ہے اور اس لئے اس شب چراغ کہتے ہیں۔زمانہ قدیم میں آج کل سے بھی اس کی زیادہ قدر ہے
یہ صفحات اسی زمرے میں ہیں
متعلقہ مضامین
6 مضامینحوت
حوت حساس، تخیل میں ڈوبا ہوا اور دوسروں کے لیے شفقت لاتا ہے۔
دلو
دلو مستقبل کو دیکھتا ہے، نئے آئیڈیاز اور انسانیت کی خدمت کے لیے سرگرم رہتا ہے۔
جدی
جدی ذمہ داری قبول کرتا ہے، عرصہ دراز کی منصوبہ بندی اور احتساب میں یقین رکھتا ہے۔
قوس
قوس سچائی کا متلاشی، سفر اور نئی دفتروں کے دروازے کھولتا ہے۔
عقرب
عقرب گہری سوچ رکھنے والا، راز اور دوبارہ پیدا ہونے کا کردار ادا کرتا ہے۔
میزان
میزان توازن کا ماہر، حسین منظر اور تعلقات میں ہم آہنگی پسند کرتا ہے۔
یہ مضامین آپ کی دلچسپی کے ہو سکتے ہیں