مکمل راستہ
برج
ثور
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 21؍ اپریل تا 21 ؍ مئی نشان ۔۔۔۔۔۔ بیل حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ زہرہ عنصر ۔۔۔۔۔۔ مٹی موافق دن ۔۔۔۔۔۔ جمعہ اور ہفتہ موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ عقیق، مرجان ، فیروزہ موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ نیلا، اورنج اور گلابی موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 4 موافق دھات ۔۔۔۔۔۔ پیتل اور تانبہ
برج ثور کے موافق پتھروں کے خواص
فیروزہ
تفصیل
اس معروف: فیروزہ ۔ فارسی: پیروزہ۔ عربی : فیروزج۔ ہندی : فروزہ ماہیت: یہ سبز پتھر ہے مائل نیلاہٹ کی نیشا پور اور شیراز اور بھوٹان اور کرمان سے آتا ہے سب سے عمدہ نیشا پوری ہے۔ طبیعت: پہلے درجے میں سرد اور تیسرے میں خشک اور یہ عمدہ قدرے گندھک اور پارے سے معدن میں تیار ہوتا ہے۔ رنگ وبو: رنگ فیروزی نہایت مشہور ہے۔ ذائقہ : پھیکا مثل اور پتھروں کے ہوتا ہے۔ مضر: گردے کے امراض کے لئے مضر ہے۔ مصلح: کتیر اور اشیائے لعا بد اور تر۔ بدل: اکثر افعال میں زمرد ا س کا بدل ہے۔ نسبت سیارہ: منسوب ہے ستارۂ نپ چون سے ازروئے مزاج۔ نفع خاص: مقو قلب و دماغ و بصر ومفرح و دافع زہر ہے۔ کامل: دو ماشے تک یہ کم وبیش بقدر ضرورت۔ ناقص: ایک ماشے تک یہ قدرے زیادہ۔ افعال و خواص: مفرح ہے قوت تریاقیہ کے ساتھ سرمہ اس کا آنکھ کی رطوبت کا جاذب اور آنسو بہنے اور جالے کا دافع بینائی کو قوت دیتا اور توندھی کو دور کرتا اور آنکھ کے طبقوں کے اکثر امراض کو نافع ہے اور شہد کے ساتھ مرگی اور ورم طحال کو مففید اور سنگ گردہ مثانہ کا مخرج اور مناسب دواؤن یا معجون کے ساتھ دل و معدے کا مقوی خفقان اور دوستوں اور آنتوں کے زخموں اور تمام اندرونی زخموں کے لئے مفید ہے۔ نصف ورم تمام زہروں کا تریاق ہے اور ایک ورم سخت زہرون کے اثر کا دافع اور ایک ماشہ بچھوں کے زہر کے اثر کو دور کرتا ہے اور مجرب ہے اور لٹکانا اس کا مقوی قلب دافع خوف دشمن ہے اور نرم دھاتوں کو سخت کرتا ہے۔ انگریزی میں اس کو ٹرکوائس اس واسطے کہتے ہیں کہ یہ ملک ٹرکس (Truks) یعنی روم سے آتا ہے۔ اسے کیلٹ (Kalait) ، اگیفٹ (Afaphite )، اور جو نائیٹ (Johnite) بھی کہتے ہیں۔ فیروزہ کی دو حسب ذیل قسمیں ہیں۔ (1) مشرقی فیروزہ:۔ اس کا رنگ ہمیشہ قائم رہتا ہے اور پرانی چٹانوں سے نکلتا ہے۔ تیزاب فاسفورس 9ء30، الیومینا 5ء44، آکسیڈ تانبہ 75ء3 آکسیڈ آہن، 8ء1 پانی، 19 حصہ مرکب ہے۔ (2) مغربی فیروزہ:۔ اسے بون (یعنی استخوان) بھی کہتے ہیں۔ اس کا رنگ خراب ہو کر سبز ہو جاتا ہے اور نئے چٹانوں کی پیدائش سمجھا جاتا ہے۔ اس میں ایک جزو اعظم استخوان یعنی فاسفیٹ چونا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس میں یہ فاسفیٹ چونا 80 حصہ کاربونیٹ آف لائم 8حصہ فاسفیٹ آہن اور فاسفیٹ میگنیشیا 2، الیومینا 5ء 1 اور پانی 1-6 حصہ مرکب ہیں۔ یہ قسم سالیمور (Simore) متصل اور لینگوڈک (Languedoc Lower)( فراس کا ایک صوبہ 43 شمالاً شرقاً پر ہے) پائی جاتی ہے۔ حکماء ایران اس کی یہ اقسام بیان کرتے ہیں۔ (1) فتحی ۔ (2) اظہاری۔ (3) سلیمانی۔ (4) درلدی۔ (5) آسمان گوں۔ (6) عبدالحمیدی۔ (7) آندیشی۔ (8) گنجوینا۔ پہلی پانچ قسمیں خاکی رنگ کی ہوتی ہیں۔ باقی تین کوہستان و نیوت میں ملتے ہیں۔ جو عدد کرمان اور شیرز میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سفید رنگ ملا ہوتا ہے۔ اور انہیں سابانگی اور سربوم کہتے ہیں۔ جن میں نیلے رنگ کی دھاری ہوتی ہے ان کو نیلبوم کہتے ہیں۔
ذیلی زمرے
متعلقہ صفحات
2 صفحاتعقیق
اسم معروف: عقیق۔ فارسی ، عقیق۔ عربی: عقیق ماہیت: مشہور پتھر ہے عمدہ یمنی ہوتا ہے۔ طبیعت: سردو خشک ہے دوسرے درجے میں۔ رنگ و بو: سرخ و زرد و سفید و سیاہ و شجری۔ ذائقہ: پھیکا کوئی مزہ نہیں۔ مضر: گردے کے لئے مضر ہے۔ مصلح: کتیرا اور اشیائے تر۔ بدل: بسد احمر یعنی مونگے کی جڑ اور کہربا۔ نسبت ستارہ: منسوب ہے پلوٹو سے۔ نفع خاص: مقوی دل و بصر و دندان رافع خفقان۔ کامل: پونے دو ماشے تک۔ ناقص: چار رتی یا چھ رتی تک۔ افعال و خواص: باریک حل کیا ہوا قریب چھ رتی کے پینا دل کو قوت دیتا ہے۔ خفقان کا دافع اور حابس خون ہے۔ خصوصاً خون حیض کا جو کسی طرح بن نہ ہوتا ہو اور ادویہ مفتحہ کے ساتھ جگر اور طحال کے سدوں کا دافع اور ادویہ مفتتہ کے ساتھ مفت حصاۃ ہے سرمہ اس کا مقوی بصر اور منجن دانتوں کا مقوی ہے اور خون بہنے کا مانع اور گلے میں لٹکانا غصے اور غضب کا دافع اور خفقان کو سود مند۔ عقیق ایک خوش شکل او ر مشہور جواہر ہے۔ بعض علماء کی رائے ہے کہ عقیق فی الحقیقت از قسم معدنیات نہیں کیونکہ لفظ معدنیات حرف انہیں کافی اشیاء پر عائد ہو سکتا ہے کہ جن کی اجزاء کو اگر از روئے علم کیمیا تحلیل کیا جائے تو ہر ایک حصہ کی ہوی ماہیت ہو جو اس دھات کی ہے۔ جس کا وہ جزو ہے۔ عقیق میں یہ بات نہیں۔ یہ جواہر سیلیکا اور کوارٹرز قسم کی چند معدنیات کا مجموعہ ہے۔ جو کہ رنگ ڈھنگ اور بناوٹ میں ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ جب ان معدنیات میں دو یا زیادہ مل کر ڈلی بن جاتی ہیں اور ان پر داغ اور طبقہ پڑ جاتے ہیں تو یہ عقیق کہلاتے ہیں۔ یہ معدنیا ت از خود از قسم جواہر ہیں اور ان کیانام یہ ہیں۔ کالسڈونی، رودراکھ، سنگ سلیمانی، سنگ یشم، اوپل، امیتھسٹ سنگ ستارہ، حجر الدم، سنگ موچا اور بھیکہم۔ عقیق کو انگریزی میں اگیٹ کہتے ہیں۔ مختلف رنگ و ڈھنگ کے لحاظ پر عقیق کی کئی ایک قسمیں ہیں۔ (1) رابینڈا گیٹ (Riband Agate) (یعنی ریشمی فیتہ سا عقیق) جس میں مختلف رنگ کے طبقے ہوں اور یہ طبقے ایک دوسرے کو قطع کریں۔ (2) آنگس اگیٹ (Ongas Agate) (یعنی سنگ سلیمانی عقیق) جس میں طبقوں کے رنگ شوخ ہوں اور طبقہ سطح کے متوازی ہوں۔ (3) بینڈا گیٹ (Banda Agate) (یعنی زردی دار عقیق) جس پر طرح طرح کی دھاریاں ہوں۔ (4) جس میں یہ دھاریاں ہوں اسے سرکلر اگیٹ (cercular Agate)یعنی گول عقیق کہتے ہیں۔ (5) اور اگر دھاریوں کے مرکز میں اور رنگ کے نقطہ ہوں تو اسے آئی گیٹ (Eye Agate) یعنی عقیق مانند چشم کہیں گے۔ (6) قوس قزاحی عقیق جس کی دھاریاں مل کر قوس کی شکل بن جائیں اور آفتاب کے مقابل کرنے سے رنگ منشوری ظاہر ہوں۔ جس قدر پتھر زیادہ پتلا ہو اسی قدر یہ وصف زیادہ ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ کئی اور علماء ان کی یہ قسمیں بتاتے ہی۔ (1) رابن اگیٹ (Ribbon Agate) یعنی ریشمی لچھے سا عقیق، اس میں سنگ یشم اور کارلسڈونی کے طبقہ متوزی قطاروں میں ہوتے ہیں۔ یہ سائبیریا اور سسلی سے آتا ہے۔ (2) بریشنٹیڈ اگیٹ یہ اصل میں اسیتھسٹ ہوتا ہے اور اس میں رابن اگیٹ کے ٹکڑے بھی مرکب ہوتے ہیں یہ سکسنی سے آتا ہے۔ (3) فارٹی فیکیشن اگیٹ (Fartification Agate) یہ کئی شکل کا پایا جاتا ہے۔ اس کو کاٹنے کے وقت اس کے متوازی سطریں عمارت کی صورت دکھلائی دیتی ہیں۔ اس میں بھیکہم اور میتھسٹ کے ٹکڑے دکھائی دیتے ہیں۔ (4) ماس اگیٹ (Moss Agate) یعنی نباتاتی عقیق یہ اس میں کالسڈونی ہے اور سرخ سنگ یشم کی دھاریاں ہوتی ہیں۔ اس کی شکل ایسی دکھلائی دیتی ہے کہ گویا اس کا نباتاتی اصل ہے۔ اس میں آکسیڈ آہن مرکب ہے۔ اور بعض میں نفت بھی ہوتی ہے۔ اس کی سطح کو پتھر پر رگڑ کر نرم لکڑی سے جلا دیتے ہیں۔ اس کا رنگ بھورا، زرد، ماہ آکسیڈ میگنشیا واہن کے باعث ہوتا ہے۔ (5) سارو آنکس (6) پلاسما (Plasma) یہ سبز گیا ہی رنگ کا نیم شفاف، زرد اور سفید داغ۔ اس کا رنگ مادہ کلورائیٹ کے باعث ہوتا ہے۔ (7) علاوہ بریں عقیق کی تقسیم ایک اور طرح بھی ہے۔ یعنی تمام براق اور عمدہ قسم کے عدد مشرقی از کم درجہ مغربی عقیق کہلاتے ہیں۔ کتب فارسی میں عقیق کے مندرجہ ذیل اقسام درج ہیں۔ 1۔ سرخ و جگری جن کا ندرونی رنگ بیرونی کی نسبت زیادہ سرخ ہو۔ 2۔ صاف شفاف ہوں اور آئینہ کی طرح طاقت انعکاس رکھتے ہوں۔ 3۔ صقاق جو چنداں شفاف نہ ہو اور آئینہ سی طاقت انعکاس نہ رکھتا ہو۔ 4۔ ابلقی جو کچھ سفید اور کچھ سیاہ ہو۔ 5۔ ذوبلقاتی یا جوزا جس کے ابرق کی طرح پرت ہوں۔ 6۔ شجری جو شکل میں درخت یا پہاڑی کے مشابہ ہو۔ 7۔ بابا گری یا سلیمانی جس میں گول نشان ہوں۔ مصر میں سبز رنگ عقیق کو انٹاس، سیاہ رنگ کو سلیمانی اور خاکی رنگ کو گوری کہتے ہیں۔ عقیق چونکہ یمن میں بکثرت ملتا ہے اس لئے عمدہ رنگوں کو عقیق یمنی کہتے ہیں۔
مرجان
اسم معروف:۔ مونگا، فارسی، مرجان، عربی،مرجان، ہندی، مونگا ماہیت:۔ ایک جسم حجری ہے مثل درخت کے پانی کے اندر۔ طبیعت:۔ دوسرے درجے میں سرد خشک اور سیاہ خراب۔ رنگ و بو:۔ سرخ اور سفید اور سیاہ خراب۔ ذائقہ:۔ پھیکا اور کرکرا ہوتا ہے۔ مضر:۔ گردے کو اور مورث تہوج۔ مصلح:۔ کتیر اور اشیائے رطب، مریخ بدل:۔ بسد یعنی مونگے کی جڑ ہموزن۔ نسبت سیارہ:۔ منسوب ہے زحل سے۔ نفع خاص:۔ قابض و مجفف اور ادز ہر سموم ہے۔ کامل:۔ ساڑھے چار ماشے تک۔ ناقص:۔ ایک ماشے سے دو ماشے تک افعال و خواص:۔ اس کا پلانا قابض اور مجفف اور حابس ہے اور ایک ورم فاد زہر ہے تمام زہروں کا اور معدے پر اس کا لٹکانا معدے کی تمام بیماریوں کو نافع ہے اور لڑکوں کے خواب میں ڈرنے اور چوکنے کے لئے سود مند۔ اور سفوف اس کا حابس خون اور کشتہ اس کا کہ سفید رنگ ہو کھانسی اور دمے کو نہایت نافع اور جریان منی کو مفید اور مجفف رطوبات معدہ اور مقوی اشتہا ہے بلکہ بعض امزجہ میں ممسک بھی ہے۔ مرجان جسے ہندی میں ودرم یا پروال اور پنجابی میں مونگا کہتے ہیں۔ ایک سمندری جانور کی پیدائش ہے۔ خوش رنگت اور عمدہ چمک کے باعث زمرہ جواہرات میں درج کیا جاتا ہے۔ متقدمین کو یقین تھا کہ مرجان از قسم نباتات ہے لیکن خورد بین کے ذریعہ اس میں وہ کرم دیکھے گئے ہیں جو اس کے موجد ہیں۔ یہ کیڑے پولی پائی (POLYPI) قسم کے کیڑوں میں سے ہیں اور اگرچہ اس قسم میں کئی اور طرح کے کیڑے بھی شامل ہیں لیکن ہمیں یہاں اس قسم کا ذکر لکھنا مطلوب ہے۔ جو اس جواہر کی پیدائش کا باعث ہے اور جسے انگریزی میں اسس نوبلس (Isis Nobiles) (یعنی مرجان) کہتے ہیں۔ پول پامی کیڑوں کی یہ پیدائش بے مرگ شاخوں والے درخت کی صورت کی ہوتی ہے اور اس کا تنا انسان کے جسم کے برابر موٹا بھی ہوتا ہے۔ لیکن عموماً ایک فٹ بلند اور ایک انچ موٹا ہوتا ہے۔ اس کا عمدہ سرخ رنگ ہوتا ہے اور اس پر عمدہ جلا آ سکتی ہے۔ اس میں بطور شہد کے چھتہ کے تہہ خانہ بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ جن میں کیڑے رہتے ہیں۔ تنے کے اوپر ایک ملائم پوست ہوتا ہے اور اس کے اوپر جالی کے طور پر جھلی سی ہوتی ہے جسے یہ کیڑے بناتے ہیں۔ ان کیڑوں کا جسم ایک سریش جیسی شے کا بنا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ جب یہ ان خانوں میں با آرام بیٹھتے ہیں تو خورد بین کے ذریعہ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک کے منہ کے گرد 8 سہ گوشہ مونچھیں ہوتی ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنی خوراک پکڑ کر سوراخ میں لے جاتا ہے۔ اگر ایک مونچھ کو ہاتھ سے چھوئیں تو ان تمام کیڑوں کو خبر ہو جاتی ہے۔ بعض محققین کی یہ رائے ہے کہ ان کیڑوں میں طاقت حس ایسی مشترکہ ہوتی ہے کہ کیڑے اور تنا ایک ہی جسم معلوم ہوتے ہیں۔ جب ذرا سا کیڑے یا تنے کو مس کرو تو سارے کیڑوں کو خبر ہو جاتی ہے۔ اگرچہ ان کیڑوں میں بظاہر اس قدر ہوش و حواس معلوم ہوتے ہیں لیکن فی الحقیقت ان میں کوئی پٹھہ یا حواس خمسہ نہیں۔ خوراک ان کے معدہ کے ایک سوراخ میں چلی جاتی ہے۔ اور وہاں پانی میں مل کر ادھر ادھر چھوٹی رگوں میں گھومتی ہوئی تمام کیڑوں کے جسموں جو ایک دوسرے سے ملحق ہوتی ہوئی چلی جاتی ہیں۔ ان کی خوراک چھوٹے سمندری کیڑے یا پودوں کے ذرات ہیں۔ یہ روشنی یا پانی میں ہل جل سے بہت ڈر جاتے ہیں۔ یہ کیڑے چھ سات سو فٹ سمندر کے نیچے چٹانوں پر سرخ درخت کی شکل کا ڈھانچہ بناتے ہیں۔ جو کہ شہد کی مکھیوں کے چھتہ کی طرح سوراخ دار ہوتا ہے۔ جیسا کہ پیچھے بیان کیا گیا ہے اور ان خانوں میں یہ کیڑے رہتے ہیں گویا یہ کیڑے مرجان کو اپنی رہائش کے واسطے بناتے ہیں علم کیمیا کے رو سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں 1 فیصدی میگنشیا اور 07ء 38 کا ربونیٹ آف میگنشیا ہوتا ہے۔ مرجان کا رنگ کلورائین مادہ کے باعث نہیں ہوتا۔ یہ القلی اور دیگر تیزاب گندھک کے باعث ہوتا ہے۔ مسٹر ایم واگل (M.Vogel) کی رائے ہے کہ مرجان کے رنگ دینے والے مادہ میں آکسڈ آہن، کاربونک ایسڈ اور چونا تھوڑا تھوڑا ضرور ہوتا ہے۔ شعاع آفتاب کا پہنچنا اس کی پیدائش کے لئے ضروری ہے۔ اہل فارس مرجان کی پیدائش اس طور پر بیان کرتے ہیں کہ ’’ یہ سمندر کے قصر میں زمین سے چمٹا ہوا پایا جاتا ہے اور ہوا پانی اور ان آبی اشیاء سے پرورش پاتا ہے جو آفتاب و ماہتاب کی کشش کے زور سے اس سے چمٹ جاتے ہیں۔ اس کی اونچائی او ر مقدار کشش فلکی پر منحصر ہیں۔‘‘
یہ صفحات اسی زمرے میں ہیں
متعلقہ مضامین
6 مضامینحوت
حوت حساس، تخیل میں ڈوبا ہوا اور دوسروں کے لیے شفقت لاتا ہے۔
دلو
دلو مستقبل کو دیکھتا ہے، نئے آئیڈیاز اور انسانیت کی خدمت کے لیے سرگرم رہتا ہے۔
جدی
جدی ذمہ داری قبول کرتا ہے، عرصہ دراز کی منصوبہ بندی اور احتساب میں یقین رکھتا ہے۔
قوس
قوس سچائی کا متلاشی، سفر اور نئی دفتروں کے دروازے کھولتا ہے۔
عقرب
عقرب گہری سوچ رکھنے والا، راز اور دوبارہ پیدا ہونے کا کردار ادا کرتا ہے۔
میزان
میزان توازن کا ماہر، حسین منظر اور تعلقات میں ہم آہنگی پسند کرتا ہے۔
یہ مضامین آپ کی دلچسپی کے ہو سکتے ہیں