مکمل راستہ
برج
جوزا
نشان ۔۔۔۔۔۔ جڑواں بچے تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 22؍ مئی تا 21 ؍ جون حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ عطارد عنصر ۔۔۔۔۔۔ ہوا موافق دن ۔۔۔۔۔۔ سوموار، بدھ موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ عقیق، زمرد موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ سبز، بنفشی موافق دھات ۔۔۔۔۔۔ تانبہ پیتل
برج جوزا سے تعلق رکھنے والے مردوں کی خصوصیات
بے رحمی
تفصیل
ان میں سے اکثر لوگ نہایت رحم دل اور ہمدرد ہوتے ہیں لیکن ان ہی میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو بے رحمی کے جذبات بھی اپنے اندر رکھتے ہیں۔ عام حالات میں یہ افراد بے رحم نظر آتے ہیں لیکن چونکہ زندگی میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے، اسی طرح یہ لوگ بھی نشیب و فراز سے گزرتے ہیں، جب انہیں کوئی دھوکا دے دے یا ان کے ساتھ بے رحمی کا سلوک کرے تو یہ لوگ مشتعل ہو جاتے ہیں اور اپنے مخالف سے بدلہ لینے کی ٹھان لیتے ہیں۔ بدلے کے معاملے میں یہ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ یہ زیادہ سے زیادہ بے رحمانہ انداز میں لیا جا سکتا ہے ایسے میں ان کے وحشی بن جانے کا امکان بھی ہوتا ہے۔ جب یہ لوگ مشتعل ہوں اور کسی سے لڑائی کر رہے ہوں تو ایسے میں یہ مخالف کو ختم کر دینے کے جذبات رکھتے ہیں۔ ایسے میں دوسروں کو چاہئے کہ ان لوگوں کو ان کے اردوں سے روکیں۔ ان لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ: * اپنے غصہ پر قابو پائیں۔ * اگر غصہ آ جائے تو یہ بات یاد رکھیں کہ اگر انہوں نے کوئی خطرناک کام کر دیا تو اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ * غصے کی حالت میں اپنی ان ذمہ داریوں او رفرائض کے بارے میں سوچیں جو ان پر عائد ہیں، اس طرح ان کے غصے میں کمی آ سکتی ہے۔
متعلقہ صفحات
30 صفحاتمحنتی
یہ افراد فطری طور پر محنت و مشقت کے قائل ہوتے ہیں۔ یہ پہلے کسی مقصد کے لئے خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر تیار کرتے ہیں، اس کے بعد اس کی تکمیل کے لئے محنت شروع کر دیتے ہیں۔ اس دوران یہ دن رات کی تمیز نہیں کرتے، بس ان کی نگاہیں اپنے ٹارگٹ پر ہوتی ہیں اور یہ اس کی جانب بڑھے چلے جا رہے ہوتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ زیادہ محنت سے ان کا جسم تھکن کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے میں کچھ آرام کرنا پسند کرتے ہیں لیکن ایسے اوقات میں بھی ان کا ذہن آرام نہیں کر رہا ہوتا۔ یہ اپنے کام کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں۔ زیادہ محنت اور مشقت سے یہ اکثر بیمار ہو جاتے ہیں لیکن اگر کسی مقصد کے حصول میں مصروف ہیں تو یہ اپنی بیماری کو بھی زیادہ خاطر میں نہیں لاتے، یہ خود ہی بیماری کا علاج کرنے لگتے ہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر یہ ڈاکٹر کے پاس جائیں گے تو وہ نہ صرف انہیں ڈھیر ساری دوائیں دے سکتا ہے بلکہ انہیں آرام کا مشورہ بھی دے گا اور آرام انہیں کسی صورت قبول نہیں ہوتا۔ ان کی زندگی میں فارغ اوقات کم ہی آتے ہیں کیونکہ جب یہ ایک کام سے فارغ ہو جاتے ہیں تو دوسرے کام میں خود کو مصروف کر لیتے ہیں۔
مستحکم زندگی
یہ اپنی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ وقت کو یہ بہت اہمیت دیتے ہیں اور اس سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، وقت ضائع کرنے کا ان کے یہاں کوئی تصور نہیں ہوتا۔ یہ اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ مستحکم بنانا چاہتے ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ دولت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اس لئے یہ دولت کمانے کے لئے انتھک محنت کرتے ہیں، یوں یہ عام طور پر مالی لحاظ سے مستحکم رہتے ہیں لیکن انہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صرف دولت ہی سب کچھ نہیں ہے؟ صحت بھی بڑی اہم ہے لہٰذا یہ پورے طور پر اپنی صحت کا خیال رکھتے ہیں، اس سلسلے میں نہ صرف یہ مناسب غذائیں لیتے ہیں بلکہ ورزش اور کھیلوں کی طرف بھی راغب رہتے ہیں۔ سماجی تعلقات، رشتے اور دوستی وغیرہ کو بھی یہ لوگ بہت اہم سمجھتے ہیں اس لئے ان تمام معاملات پر بھی ان کی گہری نظر ہوتی ہے۔ یہ اپنے تمام رشتوں کے ساتھ ایسا رویہ رکھتے ہیں کہ کوئی ناراض نہ ہو۔ ان کے دوست ان سے ہمیشہ خوش رہتے ہیں کیونکہ یہ ان کے ساتھ بہت مخلص ہوتے ہیں، ان کے ہر دکھ سکھ میں ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ یہ پائیدار اور پر خلوص دوستی کے قائل ہوتے ہیں دوستوں کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ اسی طرح معاشرے کے دیگر لوگوں کے ساتھ بھی یہ اچھا رویہ رکھتے ہیں اس کے پس پردہ ان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ یہ خود کو ہر لحاظ سے مستحکم رکھیں۔
گہرا مشاہدہ
زندگی کے تمام معاملات کا گہرا مشاہدہ کرنا ان لوگوں کی فطرت ہے۔ یہ ہر معاملے میں بڑی گہرائی سے سوچتے ہیں۔ یہ ہر بات کی تہہ میں اتر جانے کے خواہش مندہوتے ہیں، یہ کسی بات کو نظر اندازنہیں کرتے، انہیں تمام باتوں اور جزئیات کی تفصیل معلوم کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ اگر کبھی یہ باغ میں چلے جائیں تو وہاں یہ صرف خوشگوار ماحول سے لطف اندوز نہیں ہوں گے بلکہ ان کی نظر اگر کسی پھول پر پڑ جائے گی تو یہ اس کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں گے کہ: * اس کی پتیاں اتنی خوبصورت کیوں ہیں؟ * اس کی رنگت گلابی ہی کیوں ہے نیلی کیوں نہیں ہے؟ * اس میں سے کوئی اور خوشبو کیوں نہیں آتی؟ * اس پھول کی کتنی زندگی ہے؟ اس طرح کے بے شمار سوالات ان کے ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں اور یہ ان کا جواب تلاش کرتے ہیں۔ ان کی یہ عادت انہیں بظاہر دوسروں سے لاتعلقی تو ظاہر کرتی ہے لیکن جب یہ کسی معاملے پر بات کرتے ہیں تو دوسرے یہ جان کر حیران رہ جاتے ہیں کہ انہیں کتنی زیادہ معلومات ہیں۔ گہرے مشاہدے کی وجہ سے ان کی باتوں میں بڑی پختگی اور اعتماد ہوتا ہے۔ یہ مدلل گفتگو کرتے ہیں۔
باتیں کرنے کے شوقین
انہیں باتیں کرنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ ویسے تو یہ اپنی من پسند محفلوں میں بیٹھنا پسند نہیں کرتے ہیں لیکن اگر وہ میسر نہ ہوں، کوئی اور محفل ہو جہاں ان کے من پسند لوگ نہ ہوں وہاں بھی خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ یہ پہلے ایک فرد سے بات شروع کریں گے، چونکہ ان کے پاس معلومات کا خزانہ ہوتا ہے اس لئے کسی کو بھی اپنی جانب متوجہ کر لینا ان کے لئے مشکل نہیں ہوتا۔ اس ایک فرد کے بات چیت کے دوران یہ دوسرے، تیسرے اور پھر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنی گفتگو میں شریک کر لیتے ہیں۔ چونکہ ان لوگوں کا مشاہدہ گہرا ہوتا ہے اور یہ ویسے بھی معلومات حاصل کرتے رہتے ہیں اس لئے کسی بھی موضوع پر بات کرنا ان کے لئے مشکل نہیں ہوتا۔ اگر کوئی پائلٹ ان سے ملے تو یہ ہوا بازی کے بارے میں بات چیت شروع کر دیتے ہیں اور اگر کوئی کارپینٹر مل جائے تو یہ اس کے شعبے کے حوالے سے بات چیت کرنے لگتے ہیں۔ زیادہ باتیں کرنے کی عادت انہیں باتونی کہلاتی ہے لیکن اس وجہ سے یہ ہر دلعزیز بھی ہوتے ہیں اور انہیں ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ اچھے مقرر بھی بن جاتے ہیں اور اگر کوئی مضمون یا کالم وغیرہ لکھیں تو وہ بھی بڑا جاندار ہوتا ہے۔
ہنسی مذاق
یہ لوگ زیادہ سنجیدہ رہنا پسند نہیں کرتے اس لئے اکثر ہنسی مذاق کرتے رہتے ہیں یہ لوگ جس محفل میں بیٹھیں وہاں لوگوں کو اپنی دلچسپ باتوں سے خوب محظوظ کرتے ہیں۔ جب یہ اپنے دفتر یا کام پر ہوں تو اپنے ساتھیوں سے ان کی خوش گوار گفتگو جاری رہتی ہے۔ یہ دوسروں کا کوئی نہ کوئی مزاحیہ نام رکھ دیتے ہیں، اس کے بدلے میں ان کا نام بھی رکھا جاتا ہے لیکن یہ اس سے مشتعل نہیں ہوتے بلکہ خوش ہوتے ہیں۔ انہیں بے شمار لطیفے یاد ہوتے ہیں جو یہ وقتاً فوقتاً سناتے رہتے ہیں۔ اگر ان کے دفتر میں کوئی اہم میٹنگ ہو رہی ہو جس میں نہایت سنجیدہ گفتگو چل رہی ہو، ان کے افسران بھی وہاں موجود ہوں تو یہ اس دوران بھی کوئی ایسی بات کر دیتے ہیں جو دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہے۔ کھیل کے دوران اگر میچ نہایت اہم مرحلے پر ہے اور یہ بھی بطور کھلاڑی اس میں شامل ہیں تو ایسے وقت میں بھی ماحول کی سنجیدگی انہیں اپنی لپیٹ میں نہیں لے سکتی، یہ کوئی ایسا جملہ با آواز بلند کہہ سکتے ہیں جو تمام کھلاڑیوں کو ہنسنے پر مجبور کر دے۔ یہ زیادہ سے زیادہ لطائف اور مزاحیہ باتیں یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ انہیں بعد میں استعمال کر سکیں۔
دہری شخصیت
ان لوگوں کے بارے میں یہ مشہور ہوتا ہے کہ یہ دہری شخصیت کے مالک ہیں۔ اکثر لوگ ان سے اس لئے حسد اور نفرت کرتے ہیں کہ وہ ان میں دو رویے پاتے ہیں۔ لیکن یہ جوزا افراد کی فطرت کا حصہ ہے۔ یہ خود کو وقت اور حالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ اگر یہ ابھی کسی ایک بات کے حق میں دلائل دے رہے ہوتے ہیں تو جونہی انہیں ماحول اور حالات بدلتے محسوس ہوں گے۔ دوسری بات کے حق میں دلائل دینے لگیں گے۔ یہ ان کی دہری شخصیت کہلاتی ہے لیکن اس طرح یہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ اس طرح کے رویے سے ان کا مقصد صرف اور صرف محفل میں دلچسپی قائم رکھنا ہوتا ہے۔ ان میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ یہ کوئی بھی کام بڑی تیزی سے کر سکتے ہیں، یہ بات دوسروں کے لئے حیران کن تو ہوتی ہے لیکن بہت سے لوگ ان کی اسی صلاحیت کی وجہ سے ان کے حسد میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ان پر مختلف الزامات عائد کرتے ہیں جن میں ایک الزام دوغلے پن کا بھی ہوتا ہے۔ ان کے دہرے پن کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کے اندر ایک ہی وقت میں کسی بھی معاملے پر مثبت اور منفی خیالات جنم لیتے رہتے ہیں اور جب یہ ان خیالات کی زد میں آتے ہیں تو ان کی رائے بدلتی رہتی ہے۔ ویسے یہ ان کی خامی ہے، اس سے انہیں بڑا نقصان ہو سکتا ہے اس لئے ان کے لئے ضروری ہے کہ اپنی اس خامی پر قابو پائیں۔
فیصلوں میں ترمیم
جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ ان لوگوں کے اندر ایک ہی وقت میں کسی معالے پر مثبت اور منفی خیالات جنم لیتے رہتے ہیں اور یہ ان خیالات کی زد میں بھی آ جاتے ہیں، اسی وجہ سے ایک مسئلہ یہ بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ یہ کوئی بھی فیصلہ بڑی مشکل سے کر پاتے ہیں۔ انہیں یہ شک ہوتا ہے کہ انہوں نے جو فیصلہ کیا ہے وہ درست نہیں ہے لہٰذا یہ اسے تبدیل کرتے ہیں یا اس میں ترمیم کرتے ہیں۔ ایسے فیصلوں کا تعلق اگر صرف ان کی ذات سے ہو تو اس کے اثرات ان ہی تک رہتے ہیں لیکن اگر فیصلوں کا تعلق دوسروں سے بھی ہوت تو متعلقہ لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ یہ لوگ اگر آج ایک مکان خریدنے کی ہامی بھر لیں اور اس کے لئے معاملات کو بہت آگے تک لے جائیں، یعنی یوں محسوس ہو رہا ہو کہ اب صرف رقم دینی ہے اور کاغذات اپنے نام کروانے ہیں تو عین وقت پر یہ کوئی بہانہ کر کے تھوڑا سا وقت لے لیں گے، اس کی وجہ یہ ہوئی کہ یہ اس سودے سے مطؤن نہیں ہوں گے اور پھر یہ ممکن ہے کہ یہ کس طرح اس سودے کو ختم کرائیں۔ اس طرح یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اکثر معاملات میں یہ لوگ قابل بھروسہ نہیں ہوتے۔ جو لوگ ان کے قریب ہوتے ہیں وہ ان کی اس عادت سے واقف ہوتے ہیں اور ان سے محتاط رہتے ہیں
دوسروں سے طاقتور
ان لوگوں میں حیرت انگیز طور پر اکثر اوقات عام انسانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقت معلوم ہوتی ہے اور ایسا ہے بھی، ان کے اندر واقعی بہت طاقت ہوتی ہے۔ عام حالات میں تو یہ طاقت ظاہر نہیں ہوتی لیکن جب یہ اسے ظاہر کرنے کا ارادہ کر لیں تو اس سے لوگوں کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہوتی ہے کہ جب یہ اس طاقت کو استعمال کرنا چاہیں تب ہی اس کا اظہار ہوتا ہے۔ اگر یہ لوگ ریسلنگ کی طرف راغب ہوں تو ان سے یہ حیرت ناک کارنامہ سر زد ہو سکتا ہے کہ یہ اپنے سے چار گنا بڑے ریسلر کو زیر کر دیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ انہیں تنہا دیکھ کر اپنے قابو میں کرنا چاہتے ہیں یا اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ذرا ہی دیر بعد ان پہ یہ واضح ہو جاتا ہے کہ انہوں نے غلطی کی تھی کیونکہ جوزا فرد اپنی پوشیدہ طاقت کا استعمال کرتا ہے، یہ کسی کی ناک پھوڑ سکتا ہے اور اس کی لات کسی کے پیٹ میں لگ کر اسے زمین چاٹنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اپنی اس طاقت کی وجہ سے یہ لوگ کھیلوں میں بھی فائدہ اٹھاتے ہیں، اس کے علاوہ عام زندگی میں بھی اس سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ ان کے قریبی لوگ ان کی اس صلاحیت سے واقف ہوتے ہیں اس لئے ان سے لڑنے جھگڑنے سے گریز کرتے ہیں۔
تخلیقی ذہن
یہ بڑے تخلیقی ذہن کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کے دماغ میں ہر وقت نئے نئے خیالات جنم لیتے ہیں اور ان کی رفتار بھی بڑی تیز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے عمل کی بھی رفتار بہت تیز ہوتی ہے اور ان کے فیصلوں کے بار بار تبدیل ہونے کی وجہ بھی یہی ہے۔ جب یہ لوگ کسی کام کو کرنے کا رادہ کر لیتے ہیں تو اسی جانب توجہ مرکوز کر لیتے ہیں، یوں ان کے ذہن میں تخلیق کا جو عمل ہوتا ہے اسے ایک خاص رخ مل جاتا ہے۔ اور پھر تمام خیالات اس کام کے حوالے سے جنم لیتے ہیں۔ چونکہ یہ لوگ بہت محنتی بھی ہوتے ہیں اس لئے بڑے بڑے کاموں سے نہیں گھبراتے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب یہ کسی کو بتاتے ہیں کہ یہ فلاں کام شروع کرنے والے ہیں تو وہ حیرت زدہ ہوتا ہے کیونکہ اس کے خیال میں یہ کام ان لوگوں کی بساط سے بڑا ہوتا ہے، اکثر لوگ انہیں اس طرح کے کاموں سے باز رہنے کی تلقین کرتے ہیں لیکن یہ لوگ کسی کی نہیں سنتے اور اس کام کی تکمیل میں لگ جاتے ہیں اور پھر جب یہ اسے مکمل کر لیتے ہیں تو ان لوگوں کے لئے یہ تکمیل مزید حیرت ناک ہوتی ہے جو یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ اس کام کو نہیں کر پائیں گے۔ اپنی اسی صلاحیت کی وجہ سے یہ لوگ مصوری، موسیقی، مجسمہ سازی اور دیگر آرٹس میں بڑے بڑے کارنامے سر انجام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر معاملات میں بھی یہ لوگ اپنی اس صلاحیت سے استفادہ کرتے ہیں
جدت پسند
یہ لوگ جدت پسند ہوتے ہیں۔ نئی نئی چیزوں میں دلچسپی لیتے ہیں، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ پرانی چیزوں سے متنفر ہوتے ہیں، ان چیزوں کی اہمیت کو بھی یہ تسلیم کرتے ہیں لیکن ان پر اکتفا نہیں کر سکتے، یہ چاہتے ہیں کہ اس وقت جو چیز جس حالت میں موجود رہے، اس میں تبدیلی ہونی چاہئے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ سڑک پر کوئی عجیب ہی موٹر سائیکل چلی جارہی ہے، جس کا اگلا حصہ تو عام موٹر سائیکل جیسا ہے لیکن پچھلا حصہ دو پہیوں پر مشمل ہے اور وہاں بیٹھنے یا سامان رکھنے کے لئے گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ ایسی کسی بھی تخلیق کی توقع کسی جوزافرد سے کی جا سکتی ہے۔ ان افراد کے ذہن میں مندرجہ ذیل سوالات گرد ش کرتے ہیں: * یہ چیز ایسی کیوں ہے؟ * اگر اس میں یہ تبدیلی کر دی جائے تو کیا ہو گا؟ * کیوں نہ اس کا رنگ بدل دیا جائے۔ * اس کی کارکردگی کو کس طرح بڑھایا جا سکتا ہے؟ * کیا اس کا سائز بڑا کیا جا سکتا ہے؟ اس طرح کے کئی سوالات اور خیالات ان کے ذہن میں آتے جاتے رہتے ہیں، یہ لوگ چاہیں تو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے بڑا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اپنے آپ میں مگن
یہ لوگ اکثر اپنے آپ میں مگن رہتے ہیں۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اس طرح یہ اپنے خیالات سے محفوظ ہوتے ہیں کیونکہ اگر ایسا ہو تو ان کے چہرے مطۂن اور ہشاش بشاش رہیں جبکہ اکثر ایسی کیفیت میں ان کے چہرے بجھے بجھے سے ہوتے ہیں کیونکہ یہ متفکر ہوتے ہیں۔ یہ عام طور پر اس حد تک اپنے خیالوں میں غرق ہو جاتے ہیں کہ انہیں آس پاس کا خیال ہی نہیں رہتا۔ اگر یہ کہیں بیٹھتے ہیں تو کسی کی اچانک آمد یا آواز انہیں چونکا دیتی ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی اس خامی کو سمجھ جاتے ہیں اور اس پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ باوجود کوشش کے یہ پورے طور پر اس پر قابو نہیں پا سکتے کیونکہ یہ ان کی فطرت کا حصہ ہے اور فطرت کو تبدیل کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کی یہ عادت اکثر انہیں شرمندہ بھی کروا دیتی ہے۔جب یہ دوسرے سے باتیں کرتے کرتے اپنے خیالوں میں چلے جاتے ہیں اور اس کے کسی سوال پر درست جواب نہ دے کر یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ یہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھے یا پھر یہ کہ یہ اپنے آفس میں بیٹھے بیٹھے خیالوں میں اتنی دور چلے جاتے ہیں کہ اپنے افسر کی آواز پر چونکتے ہیں۔ ان لوگوں کو چاہئے کہ اپنی اس عادت پر زیادہ سے زیادہ قابو پانے کی کوشش کریں۔
تخلیق کی پرواز
گزشتہ صفحات میں ہم نے یہ درج کیا ہے کہ یہ لوگ بہت گہرا مشاہدہ کرتے ہیں اور بڑے گہرے انداز میں سوچتے ہیں، اس وجہ سے ان کے تخیل کی پرواز بڑی بلند ہوتی ہے۔ ان میں سے بہت کم ایسے افراد ہوتے ہیں جو یہ طے کر لیں کہ انہیں اپنی اس صلاحیت سے کوئی فائدہ اٹھانا ہے۔ اکثر افراد سوچوْں کے دھارے میں بہتے رہتے ہیں۔ اگر یہ شاعری کی جانب آئیں تو ایسے ایسے نکتے سامنے لاتے ہیں کہ لوگ حیران رہ جاتے ہیں، ان کی شاعری دوسروں سے منفرد اور بامقصد ہوتی ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اپنے ذہن میں موجود سوچوں اور خیالوں کے ہجوم کی وجہ سے ان لوگوں کے لئے ایک جگہ ٹھہرنا مشکل ہوتا ہے اس لئے اگر کوئی انہیں شاعری کی طرف راغب کرے اور اس میں ان کی دلچسپی پیدا کرے تو تب ہی اس جانب آ سکتے ہیں۔ یہی حال آرٹ کے دیگر شعبوں کا بھی ہے، یہ خود بھی اس طرف آتے ہیں اور اگر آ جائیں تو یقیناً کسی کے راغب کرنے سے ہی آتے ہیں۔ ان لوگوں کو چاہئے کہ اپنی اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لئے کسی ایک شعبے کا انتخاب کر لیں اور پوری دلچسپی کے ساتھ اس طرف توجہ دیں، کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ اس شعبے میں کامیابی حاصل نہ کریں۔ یہ ایسے کسی بھی شعبے میں بڑا نام پیدا کر سکتے ہیں۔
روحانیت کی طرف مائل
ان میں سے اکثر افراد روحانیت کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور روحانی دنیا کے اندازنہ صرف جھانکنے بلکہ چہل قدمی کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ روحانی دنیا کے بارے میں سوچنا تو بہت آسان کام ہے لیکن اس میں داخل ہونا بہت مشکل ہے۔ یہ دنیا کتنی وسیع ہے، شاید یہ ہی کوئی عام انسان اس کا جواب دے سکے۔ جب جوزا افراد اس جانب مائل ہوتے ہیں تو ان کے ذہن اپنے خاص انداز میں سوچ رہے ہوتے ہیں یعنی یہ کہ ان کے ذہن میں کیا، کیوں، کب ، کیسے جیسے سوالات گردش کر رہے ہوتے ہیں۔ روحانی دنیا چونکہ مادی دنیا سے یکسر مختلف ہے اور ا س کے اپنے اصول اور قواعد و ضوابط ہیں، اس لئے اس جانب مائل ہونے والے افراد کو شروع میں بڑی پریشانی ہوتی ہے کیونکہ ان کے سامنے مکمل تاریکی ہوتی ہے، ایسے میں بہت سے سمجھدار لوگ کسی راہنما کو تلاش کرتے ہیں، خوش قسمتی سے اگر انہیں کوئی رہنما مل جائے تو یہ اس دنیا میں قدم رکھ دیتے ہیں اور یہاں بھی آگے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
دوسروں کی اہمیت
ان لوگوں کے نزدیک دوسروں کی اہمیت بہت زیادہ نہیں ہوتی۔ یہ خود کو دنیا کو سب سے زیادہ ذہین فرد تصور کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جو فیصلہ کر لیا ہے یا جو سوچ لیا ہے وہی ٹھیک ہے۔ اس طرح ان لوگوں کو یہ فائدہ تو ہوتا ہے کہ یہ دوسروں کے فضول مشورے سننے سے بچ جاتے ہیں لیکن یہ نقصان بھی ہوتا ہے کہ یہ دوسروں کے اچھے مشوروں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ان افراد کے لئے ضروری ہے کہ یہ دوسروں کو کچھ نہ کچھ اہمیت ضرور دیں۔ ان کے لئے یہ فیصلہ کرنا تو زیادہ مشکل نہیں ہے کہ کون شخص انہیں اچھے مشورے دے سکتا ہے یا کون غلط، اس لئے اگر یہ وقت بچانا چاہتے ہیں تو ایسے افراد سے دور رہیں اور ان کی بات نہ سنیں جو انہیں ناقص اور غلط مشورے دے سکتے ہیں لیکن ان افراد کی بات انہیں ضرور سن لینی چاہئے جو ان کے لئے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ: * خود کو دنیا کا سب سے ذہین فرد تصور نہ کریں۔ * ذہین لوگوں کی ذہانت کو تسلیم کریں۔ * یہ جان لیں کہ انہوں نے جو فیصلہ کیا ہے، ضروری نہیں کہ وہ درست ہو۔ممکن ہے اگر وہ کسی سے مشورہ کریں تو وہ انہیں کوئی بہتر مشورہ دے دے۔
ہاتھ پیروں کی حرکت
جس طرح دیگر لوگوں کی کوئی نہ کوئی مخصوص عادت ہوتی ہے اسی طرح برج جوزا سے تعلق رکھنے والے بھی اپنی ایک مخصوص عادت رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب یہ باتیں کرتے ہیں تو ان کی گردن اور ہاتھ پیر ہل رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ دور سے کسی ایسے فرد کو دیکھیں جو بات چیت کرتے ہوئے اپنے ہاتھ پیر اور گردن ہلا رہا ہے تو فوراً سمجھ جائیں کہ اس کا تعلق برج جوزا سے ہے۔ ویسے تو دیگر برجوں سے تعلق رکھنے والے اکثر لوگ اپنی کوئی مخصوص عادت رکھتے ہیں مثلاً کوئی دوران گفتگو باربار آنکھیں بڑی کرے گا اور کوئی صرف گردن ہلائے گا لیکن جوزا سے تعلق رکھنے والے افراد گردن اور ہاتھ پیر ہلاتے ہیں۔ اگریہ توازن سے ہو توجاذب نظر آتے ہیں لیکن کبھی کبھی یہ اس تیزی سے گردن اور ہاتھ پیر ہلانے لگتے ہیں کہ دیکھنے والوں کو برا لگتا ہے اور ان کی شاندار شخصیت مضحکہ خیز ہو جاتی ہے۔ ان افراد کو چاہئے کہ اپنی اس عادت پر قابو پائیں تا کہ لوگوں کے طنز و مزاح سے محفوظ رہ سکیں۔
بہترین منصوبہ ساز
دیگر کچھ برجوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی طرح برج جوزا سے متعلق افراد میں بھی بہترین منصوبہ سازی کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ لوگ جب کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو اس کی تکمیل کے لئے ایک پورا منصوبہ بناتے ہیں۔ یہ اپنے اس منصوبے کو کئی حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں اور مرحلہ وار اس پر عمل کرتے ہیں۔ یہ کوئی بھی کام بے ترتیبی سے کرنے کے عادی نہیں ہوتے اور یہی ان کی کامیابی کاراز ہوتا ہے۔ یہ زندگی کے تمام معاملات کے بارے میں منصوبے ترتیب دیتے ہیں۔ مثلاً اگر انہیں اپنی تعلیم مکم کرنی ہے تو یہ طے کریں گے کہ اسکول یا کالج کے وقت کے بعد کب انہیں پڑھنا ہے، کب کھیلنا ہے اور کب دوسری مصروفیات کے لئے وقت نکالنا ہے۔ اس طرح اگر انہیں کوئی کاروبار شروع کرنا ہے تو اس کے متعلق یہ مختلف مراحل طے کرلیں گے اور پھر اس حساب سے عمل کریں گے۔ اگر کبھی کسی وجہ سے ان کی زندگی میں بے ترتیبی آ جائے تو یہ بہت زیادہ الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہیں بے چینی ہونے لگتی ہے اور یہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے جب تک پھر سے اپنے لئے کوئی شیڈول طے نہ کر لیں۔
ہر دلعزیز
ان میں سے اکثر ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ہر دلعزیز ہوتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے دلچسپ گفتگو کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ا س کے علاوہ یہ ہمدرد اور مخلص بھی ہوتے ہیں۔ ان کے چاہنے والوں میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے جن سے یہ ہمدردی کر چکے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان لوگوں میں ماحول کو دلچسپ اور خوش گوار بنانے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔ یہ جہاں موجود ہوتے ہیں وہاں کے لوگوں کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ جان لیتے ہیں کہ وہ کس مزاج کے ہیں۔ پھر یہ ان سے ان کے مزاج کے مطابق بات چیت شروع کر دیتے ہیں۔ یہ ایک عام سی بات ہے کہ جب کسی سے کوئی اس کی دلچسپی کی بات کرے گا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہو گا، یعنی یہ دوسروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی صلاحیت سے مالامال ہوتے ہیں۔ انہیں بہت سے لطائف اور مزاحیہ باتیں یاد ہوتی ہیں۔ اگر یہ سفر میں ہیں تو اپنے ہم سفروں کو وہ لطائف اور باتیں سنانا شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح یہ محفل کو زعفران زار بنا دیتے ہیں۔ اپنی اسی صلاحیت کی وجہ سے یہ لوگ اچھے اداکار، مقرر یا وکیل، سوشل ورکر اور سیاست دان ثابت ہوتے ہیں۔
طاقت ور
یہ بہت طاقت ور ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جن کے بازو بہت توانا ہوتے ہیں اور ان میں یہ صلاحیت بھی ہوتی ہے کہ یہ اپنے بازؤوں سے بہت تیزی سے کام لے سکتے ہیں۔ عام طور پر دوسرے لوگ کوئی کام کر کے جتنی دیر میں تھک جاتے ہیں، اتنی دیر میں جوزا افراد نہیں تھکتے، ا ن میں بغیر تھکے بہت زیادہ کام کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ دوسرے لوگ ان افراد سے ایسے کام لیتے ہیں جن میں طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً اگر کسی گھر میں ایک بھاری الماری رکھی ہے اور اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے تو فوراً لوگوں کے ذہن میں کسی جوزا فرد کا خیال آتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ فرد با آسانی یہ کام کر لے گا کیونکہ اس سے قبل بھی وہ ایسے کام کر چکا ہوتا ہے۔ ان افراد کو خود بھی ایسے کاموں سے دلچسپی ہوتی ہے جس میں طاقت کا استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً اگر کہیں کوئی بس خراب ہوئی ہے تو سب سے پہلے اسے دھکا لگانے کے لئے جوزا فرد ہی تجویز دے گا اور ساتھ ہی دوسروں کو بھی یہ کام کرنے کے لئے کہے گا۔ ان افراد کے لئے ضروری ہے کہ اپنی اس طاقت کا غلط استعمال کرنے سے گریز کریں کیونکہ یہ کسی عام فرد کا بازو آسانی سے توڑ سکتے ہیں۔
خوش باش
یہ لوگ ہر حال میں خوش رہتے ہیں در اصل یہ جانتے ہیں کہ تاسف، مایوسی اور غم کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انہیں ناکامیوں سے نفرت ہوتی ہے لیکن یہ ان سے خوف نہیں کھاتے اور نہ ہی کسی ناکامی پر دل برداشتہ ہوتے ہیں۔ اگر یہ کوئی کاروبار شروع کریں اور اس میں انہیں کوئی خسارہ ہو جائے حتیٰ کہ ان کا کاروبار بند ہو جائے تو یہ افسردہ اور غم زدہ نہیں ہوں گے بلکہ یہ کہیں گے کہ کاروبار مکمل طور پر ایک رسکی کام ہے جس میں نفع اور نقصان کے برابر برابر امکانات ہوتے ہیں۔ اس لئے اگر انہیں نقصان ہو گیا تو کوئی انہونی بات نہیں ہوتی ہے۔ کھیل کے میدان میں عام طور پر جب لوگ ہارتے ہیں تو ان کے چہروں پر ناکامی اور مایوسی کے تاثرات ہوتے ہیں لیکن جوزا افراد ایسے موقع پر بھی خوش نظر آتے ہیں بلکہ یہ جیتنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ان کے اچھے کھیل کی تعریف کرتے ہیں۔ یہ اپنے کمزور کھیل اور ناقص کارکردگی کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں۔
فیاض
یہ افراد بہت محنت سے پیسہ کماتے ہیں اور دولت کی قدر سے واقف ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ فیاض ہوتے ہیں اور رقم خرچ کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیتے ہیں۔ ان کے دوستوں وغیرہ کو ان کی طرف سے ادھار مانگ کے کبھی شرمندگی کا سامنا نہیں ہوتا کیونکہ انہیں ان کی توقع کے مطابق رقم مل جاتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے وہ لوگ مقررہ وقت پر رقم واپس نہ کر سکیں یا واپس کرنا بھول جائیں تو یہ لوگ کبھی رقم کا تقاضا نہیں کرتے اور اگر پھر انہیں مزید رقم کی ضرورت پڑے تو انہیں دے دیتے ہیں۔ یہ لوگ فضول خرچی سے گریز کرتے ہیں لیکن جہاں رقم خرچ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے وہاں ضرور خرچ کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی نظر میں بیشتر مستحق لوگ ہوتے ہیں جن کی یہ مالی مدد کرتے رہتے ہیں، یہ مدد ظاہری طور پر نہیں ہوتی۔ کوئی سوالی ان کے پاس سے خالی ہاتھ نہیں جا سکتا۔ اپنی تقریبات وغیرہ میں یہ ضرورت سے کچھ زیادہ کھانا منگوا لینا پسند کرتے ہیں کیونکہ انہیں یہ خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں کھانا کم نہ پڑ جائے اور ان کی بے عزتی ہو جائے۔
تبدیلی کے خواہش مند
ہم یہ لکھ چکے ہیں کہ ان لوگوں کی فطرت میں بے چینی موجود ہے۔ یہ زندگی کے بیشتر معاملات میں یکسانیت کو پسند نہیں کرتے، ان کی بے چینی انہیں ہر دم تبدیلی کی جانب راغب کرتی ہے۔ اپنی اسی عادت کی وجہ سے یہ گھر میں روز بروز نئی نئی تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں۔ اگر انہوں نے آج ایک جگہ صوفہ سیٹ رکھ دیا ہے تو کل خود ہی کہیں گے کہ یہ یہاں اچھا نہیں لگ رہا اور پھر اسے نئی جگہ رکھ دیں گے۔ اس طرح یہ اپنے دفتر میں بھی چیزوں کی تبدیلی کرتے رہتے ہیں۔ اگر یہ صاحب حیثیت ہیں اور ان کے پاس گاڑی ہے تو ان کی نظریں دوسری گاڑیوں کی تلاش میں رہتی ہیں اور جیسے ہی انہیں کوئی گاڑی پسند آتی ہے یہ فوراً اپنی گاڑی فروخت کر کے وہ گاڑی لے لیتے ہیں اور اس کے بعد پھر نئی گاڑی کی تلاش میں ان کی نگاہیں دوڑنے لگتی ہیں۔ ان کی یہ عادت جہاں ان کے وقت کا ضیاع کرتی ہے وہیں انہیں فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں، ان کے پاس نئی سے نئی چیزیں رہتی ہیں۔ یہ عادت ان کی اپنی حد تک ہو تو صرف یہی اس سے متاثر ہوتے ہیں لیکن اکثر یہ ایسے کام کرتے ہیں جس سے دوسرے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں۔
متحرک
یہ لوگ آرام سے بیٹھنا پسند نہیں کرتے، یہ خود کو ہر وقت متحرک رکھنا چاہتے ہیں اس سے انہیں بڑی تسکین ہوتی ہے، فارغ اوقات ان کے لئے بڑے کٹھن ہوتے ہیں اور ایسے اوقات میں بھی یہ کوئی نہ کوئی مصروفیت ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ یہ افراد ایسے ہیں کہ ابھی اگر یہ ایک کام سے فارغ ہوئے ہیں تو بجائے آرام کرنے کے ان کی نظریں ادھر اُدھر دوڑنے لگتی ہیں، یہ کسی اور کام کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ مثلاً ابھی انہوں نے اپنی موٹر سائیکل درست کرنے کے بعد ایک جانب کھڑی کر دی ہے اور اس میں کوئی کام باقی نہیں رہا ہے یعنی اب یہ اس کی طرف سے بے فکر ہیں تو یہ آس پاس موجود چیزوں پر نظر دوڑائیں گے اور پھر انہیں یاد آ جائے گا کہ پانی کی موٹر میں بھی کچھ گڑ بڑ ہے، یہ اوزار لے کر فوراً وہاں پہنچ جائیں گے اور اسے ٹھیک کرنا شروع کر دیں گے اور جیسے ہی اس کام سے فارغ ہوں گے تو انہیں یاد آ جائے گا کہ باغیچے میں کچھ بے ترتیبی نظر آئی تھی، یہ وہاں پہنچ جائیں گے اور قینچی اٹھا کر پودوں کی تراش خراش میں لگ جائیں گے۔ یوں یہ ایک کے بعد ایک مصروفیت، تلاش کرتے رہتے ہیں۔
ڈپریشن
چونکہ یہ لوگ خود کو بہت زیادہ مصروف رکھتے ہیں اس لئے اکثر جسمانی طور پر تھکن کے علاوہ ڈپریشن کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ: * خود کو بہت زیادہ مصروف نہ رکھیں۔ * ایک کام کے بعد دوسرا کام شروع نہ کریں بلکہ ان کاموں کے درمیان کچھ وقفہ ضرور رکھیں۔ * ان کے لئے فارغ رہنا بہت مشکل ہے لیکن خود کو کاموں کے دوران ذرا دیر فارغ رکھنے کی عادت ڈالیں، اس وقت یہ کوئی شغل کر سکتے ہیں، موسیقی سے دل بہلا سکتے ہیں یا کسی اچھے دوست سے خوش گپیاں کر سکتے ہیں۔ * یہ جان لیں کہ زیادہ مصروفیت آپ کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان دے گی۔ ایک تو آپ بیمار ہو جائیں گے، ڈپریشن کا شکار ہوں گے اور جو وقت آپ نے صرف کیا تھا وہ اس طرح ضائع ہو جائے گا۔ * ان لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ پر فضا مقامات پر بھی جاتے رہیں، سیر و تفریح اور شکار بھی مناسب ہے
ارادوں کے پکے
یہ لوگ اپنے ارادوں کے پکے ہوتے ہیں۔ یہ ہر ارادہ ارو فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں اور پھر اس سے ہٹتے نہیں ہیں۔ یہ تو حقیقت ہے کہ ان کے اندر ہر وقت تبدیلی کی خواہش ہوتی ہے، یہ اپنے ان اردوں میں بھی تبدیلی کرتے رہتے ہیں لیکن مکم طور پر ان سے دستبردار نہیں ہوتے۔ یہ اگر کسی معاملے میں کوئی مؤقف اختیار کر لیں تو اس پر ڈٹے رہتے ہیں، اپنے مؤقف کے حق میں یہ بڑی بڑی دلیلیں دیتے ہیں اور جب کوئی ان کے سامنے دلیل لانے کی کوشش کرتے تو اسے اس زیادہ مضبوط دلائل دے کر مسترد کر دیتے ہیں۔ جو لوگ ان سے بحث کرتے ہیں انہیں جان لینا چاہئے کہ اگر انہوں نے بجٹ کی مکمل تیاری نہیں کی ہے تو اس مقابلے سے بچیں ورنہ انہیں شکست کھانے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ بطور وکیل یہ لوگ نہایت چالاکی اور حاضر دماغی سے ملزم کو گھیرتے ہیں اور جب ان کا مخالف وکیل انہیں گھیرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے بھی اکثر منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ کیونکہ یہ ذہنی طور پر خود کو اس بحث کے لئے پہلے ہی تیار کر لیتے ہیں۔
حاضر جواب
یہ ان کی ذہانت کا بڑا ثبوت ہے کہ یہ لوگ حاضر جواب ہوتے ہیں، جب کوئی ان پر طنزیہ جملہ کستا ہے تو یہ ذہنی طور پر خود کو اس مقابلے کے لئے تیار کر لیتے ہیں اور دماغ تیزی سے چلنے لگتا ہے اور پھر سامنے والے کو اس طرح جملوں میں گھیر لیتے ہیں کہ اس کے لئے بچ کر نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کی یہ عادت اور خوبی زندگی کے مختلف مواقع پر ان کے لئے بڑی فائدہ مند ہوتی ہے۔ مثلاً اگر یہ کہیں تقریر کر رہے ہی اور پبلک میں سے کسی نے ان پر جملہ کس دیا تو اس سے بالکل نروس نہیں ہوتے بلکہ نہایت اطمینان کے ساتھ اپنی تقریر جاری رکھ کر اس جملے کے اثر کو زائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اگر باربار ان پر جملہ بازی کی جائے تو ایسا جواب دیتے ہیں کہ جملہ کسنے والا بغلیں جھانکنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور اس میں مزید جملے بازی کی ہمت نہیں رہتی۔ اسی طرح جب امتحانات میں جب زبانی سوالات ہو رہے ہوتے ہیں تو ان کی یہ صلاحیت اس وقت بھی بڑی کام آتی ہے۔ یہ بغیر گھبرائے اور پریشان ہوئے اطمینان کے ساتھ تمام سوالوں کے جوابات دیتے ہیں۔ زندگی کے عام معاملات میں بھی ان کی حاضر جوابی قائم رہتی ہے اور لوگ ان کی اس صلاحیت کے معترف رہتے ہیں۔
جھوٹی انا
عام طور پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ جھوٹی انا کا شکار رہتے ہیں، ذرا ذرا سی بات کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں، یہ در اصل ان کی چھوٹی ذہنیت کا ثبوت ہوتا ہے لیکن جوزا افراد کے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا یہ جانتے ہیں کہ اس طرح کی باتیں بہت فضول ہوتی ہیں اور ان میں وقت کا ضیاع ہی ہوتا ہے۔ اگر کبھی ان کی زندگی میں ایسا کوئی مسئلہ سامنے آ جائے تو یہ ہنس کر ٹال دیتے ہیں۔ ان کے اس رویے پر بعض لوگوں کو حیرت ہوتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ کیا تمہیں غصہ نہیں آیا؟ یہ انہیں بھی ہنس کر جواب دیتے ہیں کہ اس طرح کی باتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہ خود ساختہ باتیں ہیں اور چھوٹی ذہنیت کا عکاس ہیں، یہ کہتے ہیں کہ دراصل بے عزتی ان کی نہیں ہوتی ہے بلکہ اس شخص کی ہوتی ہے جس نے یہ گھٹیا باتیں کی ہیں، کیونکہ اگر وہ اعلیٰ خیالات کا مالک ہوتا تو اس کے ذہن میں ایسی گھٹیا باتیں کبھی نہ آتیں اور اگر آ بھی جاتیں تو اگر وہ اعلیٰ ظرف ہو گا تو ایسی باتوں کا استعمال کبھی بھی نہ کرتا۔ ایسی ہی باتوں کی وجہ سے لوگ انہیں ٹھندے مزاج کا اور اکثر بزدل بھی کہہ دیتے ہیں لیکن در حقیقت یہ بزدل نہیں سمجھدار ہوتے ہیں، یہ اصولی باتوں پر ڈٹ بھی جاتے ہیں۔
خدمت خلق
یہ لوگ خدمت خلق کے لئے بہت زیادہ دلی مسرت محسوس کرتے ہیں۔ اس کے عوض یہ کچھ نہیں چاہتے بلکہ یہ اسے اپنی روحانی تسکین کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اگر کہیں کوئی حادثہ ہو جائے تو متاثرین کی مدد کرنے میں یہ لوگ پیش پیش ہوں گے۔ دیگر کچھ برجوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی یہ وصف رکھتے ہیں۔ کسی کو دکھی دیکھ کر پریشان ہو جانا ان لوگوں کی فطرت کا حصہ ہے۔ یہ اس کی بھرپور مدد کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی اس عادت کی وجہ سے اکثر چالاک لوگ فائدے حاصل کر لیتے ہیں۔ جب ان کی چالاکی ان لوگوں کے علم میں آتی ہے تو یہ ہنس کر ٹال دیتے ہیں کہ ہر انسان اپنے ظرف کے مطابق کام کرتا ہے۔ اگر یہ لوگ صاحب حیثیت ہوں تو بہت سے مستحقین کی مستقل مدد کرتے رہتے ہیں، یتیم خانوں کو چندہ دیتے ہیں اور مذہبی حوالے سے تعمیرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، خیرات کرنا ان کی عادت ہوتی ہے۔ یہ اکثر ایسے اداروں کی بنیاد بھی رکھ دیتے ہیں جن کا مقصد خدمت خلق ہوتا ہے، اس طرح ان لوگوں کو یہ الزام تو سہنا پڑتا ہے کہ یہ امداد میں ملنے والی رقم خورد برد کر دیتے ہیں لیکن ان لوگوں کو اس الزام کی پروا نہیں ہوتی۔
آزاد طبع
یہ پیدائشی طور پر آزاد طبع ہوتے ہیں۔ بچپن سے ہی یہ دوسروں کے بلا جواز احکام ماننے میں پس و پیش کرتے ہیں جب شعور کی منزل کو پہنچتے ہیں تو ان کی یہ عادت واضح ہو جاتی ہے۔ یہ ایسے لوگوں کو سختی سے جھڑک دیتے ہیں جو انہیں مشورہ دینے کی کوشش کرتے ہیں یا ان پر حکم چلانا چاہتے ہیں۔ البتہ یہ بڑوں کا احترام کرتے ہیں، ان کی طرف سے آنے والے کسی حکم یا مشورے کو خاموشی سے سن لیتے ہیں، مناسب سمجھیں تو اس پر عمل بھی کر لیتے ہیں۔ اکثر ان کا رجحان کاروبار کی طر ف ہوتا ہے۔ کیونکہ اس طرح انہیں کسی کا حکم نہیں ماننا پڑتا۔ اگر یہ ملازمت کریں تو تب بھی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی کارکردگی سے افسران مطأن رہیں، اس کے باوجود اگر کوئی انہیں ماتحت سمجھ کر بلا جواز حکم چلانے کی کوشش کرے تو یہ اس سے واضح طور پر کہہ دیتے ہیں کہ وہ ایسی باتوں سے گریز کرے ورنہ یہ اپنی نوکری کی پروا کئے بغیر اس کی بے عزتی کر دیں گے۔ سمجھدار لوگوں کے لئے ان کی ایسی باتیں ہی کافی ہوتی ہیں اور جو باز نہ آئے یہ ان سے سختی سے نمٹتے ہیں۔ اکثر انہیں نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے لیکن یہ اس نقصان کو برداشت کرنے کے لئے پہلے سے ہی ذہن بنا چکے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ ذرا احتیاط سے کام لیں، مصلحتاً کسی کی بات مان کر یہ بہت سے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔
نئے آئیڈیے
چونکہ یہ لوگ ذہانت سے بھرپور ہوتے ہیں اور گہرے مشاہدے کے عادی بھی، ساتھ ہی جدت پسندی کی عادت رکھتے ہیں، ایسے میں ان کی پرواز تخیل انہیں نئے آئیڈیے جنم دینے پر مجبور کرتی ہے۔ اگر انہیں مناسب مواقع میسر آ جائیں تو یہ ایک اچھے سائنٹسٹ بن سکتے ہیں۔ فلکیات، روحانیات اور اس طرح کے دیگر شعبوں کی طرف ان کا خاصا رجحان ہوتا ہے اور یہ جس شعبے میں بھی ہوں نئے نئے آئیڈیے لاتے رہتے ہیں، مختلف تجربات کرتے رہتے ہیں۔ نئے آئیڈیے لانے کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ عام طور پر موجود چیزوں اور حالات سے مطأن نہیں ہوتے، یہ سوچتے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا کیا ہوتا اور اگر ویسا ہوتا تو کیا ہوتا۔ انہیں آثار قدیمہ سے بڑی دلچسپی ہوتی ہے۔ یہ پرانے نوادرات جمع کرتے رہتے ہیں۔ یہ ان معاملات میں بھی نئے نئے آئیڈیے لانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اگر یہ اداکار، موسیقار، مصور یا دیگر فنون سے تعلق رکھتے ہوں تو اپنے شعبوں میں جدت پیدا کرتے ہیں، ساتھ ہی یہ پرانی چیزوں سے مکمل طور پر منہ بھی نہیں موڑتے ہیں
بہترین سے بہترین
یہ لوگ خود کو بہترین سے بہترین بنانے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ یہ جب کسی ایک خاص مقام تک پہنچ جاتے ہیں، جہاں تک انہوں نے پہنچنے کے لئے بہت تگ و دو کی ہوتی ہے تو پھر کسی نئے اور اس سے اعلیٰ مقام کی جانب سفر شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے افراد کو اکثر دوسرے کامیاب لوگ نظر آتے ہیں اور یہ لوگ حسرت کرتے ہیں کہ کس طرح ان کے برابر پہنچ جائیں، یہ ان تک پہنچنے کے لئے بڑی اچھی منصوبہ بندی کے ساتھ محنت شروع کر دیتے ہیں، جب تک یہ اس مقام کیلئے محنت کر رہے ہوتے ہیں، کسی اور طرف توجہ نہیں دیتے، پس ان کے ذہن میں یہ بات سما جاتی ہے کہ جو ٹارگٹ انہوں نے رکھا ہے وہی سب سے بہترین ہے اور اس بہترین تک انہوں نے پہنچنا ہے اور پھر یہ لوگ انتھک محنت اور جدوجہد کے بعد اپنے ٹارگٹ تک پہنچ جاتے ہیں اور ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہتی لیکن یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی کیونکہ اس مقام تک پہنچنے کے بعد انہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ابھی تو اس بھی آگے کوئی اور منزل ہے جہاں انہیں ضرور پہنچنا چاہئے لہٰذا ان کی بے چینی انہیں پھر نظریں دوڑانے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ ادھر ادھر دیکھتے ہیں اور پھر انہیں کوئی نہ کوئی ایسا فرد دکھائی دے جاتا ہے جو ان سے آگے اور مزید بہترین مقام پر ہوتا ہے اب یہ اس کی تقلید میں لگ جاتے ہیں
یہ صفحات اسی زمرے میں ہیں
متعلقہ مضامین
6 مضامینحوت
حوت حساس، تخیل میں ڈوبا ہوا اور دوسروں کے لیے شفقت لاتا ہے۔
دلو
دلو مستقبل کو دیکھتا ہے، نئے آئیڈیاز اور انسانیت کی خدمت کے لیے سرگرم رہتا ہے۔
جدی
جدی ذمہ داری قبول کرتا ہے، عرصہ دراز کی منصوبہ بندی اور احتساب میں یقین رکھتا ہے۔
قوس
قوس سچائی کا متلاشی، سفر اور نئی دفتروں کے دروازے کھولتا ہے۔
عقرب
عقرب گہری سوچ رکھنے والا، راز اور دوبارہ پیدا ہونے کا کردار ادا کرتا ہے۔
میزان
میزان توازن کا ماہر، حسین منظر اور تعلقات میں ہم آہنگی پسند کرتا ہے۔
یہ مضامین آپ کی دلچسپی کے ہو سکتے ہیں