مکمل راستہ

1

برج

2

جوزا

نشان ۔۔۔۔۔۔ جڑواں بچے تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 22؍ مئی تا 21 ؍ جون حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ عطارد عنصر ۔۔۔۔۔۔ ہوا موافق دن ۔۔۔۔۔۔ سوموار، بدھ موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ عقیق، زمرد موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ سبز، بنفشی موافق دھات ۔۔۔۔۔۔ تانبہ پیتل

3

برج جوزا کے موافق پتھروں کے خواص

4

عقیق

اسم معروف: عقیق۔ فارسی ، عقیق۔ عربی: عقیق ماہیت: مشہور پتھر ہے عمدہ یمنی ہوتا ہے۔ طبیعت: سردو خشک ہے دوسرے درجے میں۔ رنگ و بو: سرخ و زرد و سفید و سیاہ و شجری۔ ذائقہ: پھیکا کوئی مزہ نہیں۔ مضر: گردے کے لئے مضر ہے۔ مصلح: کتیرا اور اشیائے تر۔ بدل: بسد احمر یعنی مونگے کی جڑ اور کہربا۔ نسبت ستارہ: منسوب ہے پلوٹو سے۔ نفع خاص: مقوی دل و بصر و دندان رافع خفقان۔ کامل: پونے دو ماشے تک۔ ناقص: چار رتی یا چھ رتی تک۔ افعال و خواص: باریک حل کیا ہوا قریب چھ رتی کے پینا دل کو قوت دیتا ہے۔ خفقان کا دافع اور حابس خون ہے۔ خصوصاً خون حیض کا جو کسی طرح بن نہ ہوتا ہو اور ادویہ مفتحہ کے ساتھ جگر اور طحال کے سدوں کا دافع اور ادویہ مفتتہ کے ساتھ مفت حصاۃ ہے سرمہ اس کا مقوی بصر اور منجن دانتوں کا مقوی ہے اور خون بہنے کا مانع اور گلے میں لٹکانا غصے اور غضب کا دافع اور خفقان کو سود مند۔ عقیق ایک خوش شکل او ر مشہور جواہر ہے۔ بعض علماء کی رائے ہے کہ عقیق فی الحقیقت از قسم معدنیات نہیں کیونکہ لفظ معدنیات حرف انہیں کافی اشیاء پر عائد ہو سکتا ہے کہ جن کی اجزاء کو اگر از روئے علم کیمیا تحلیل کیا جائے تو ہر ایک حصہ کی ہوی ماہیت ہو جو اس دھات کی ہے۔ جس کا وہ جزو ہے۔ عقیق میں یہ بات نہیں۔ یہ جواہر سیلیکا اور کوارٹرز قسم کی چند معدنیات کا مجموعہ ہے۔ جو کہ رنگ ڈھنگ اور بناوٹ میں ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ جب ان معدنیات میں دو یا زیادہ مل کر ڈلی بن جاتی ہیں اور ان پر داغ اور طبقہ پڑ جاتے ہیں تو یہ عقیق کہلاتے ہیں۔ یہ معدنیا ت از خود از قسم جواہر ہیں اور ان کیانام یہ ہیں۔ کالسڈونی، رودراکھ، سنگ سلیمانی، سنگ یشم، اوپل، امیتھسٹ سنگ ستارہ، حجر الدم، سنگ موچا اور بھیکہم۔ عقیق کو انگریزی میں اگیٹ کہتے ہیں۔ مختلف رنگ و ڈھنگ کے لحاظ پر عقیق کی کئی ایک قسمیں ہیں۔ (1) رابینڈا گیٹ (Riband Agate) (یعنی ریشمی فیتہ سا عقیق) جس میں مختلف رنگ کے طبقے ہوں اور یہ طبقے ایک دوسرے کو قطع کریں۔ (2) آنگس اگیٹ (Ongas Agate) (یعنی سنگ سلیمانی عقیق) جس میں طبقوں کے رنگ شوخ ہوں اور طبقہ سطح کے متوازی ہوں۔ (3) بینڈا گیٹ (Banda Agate) (یعنی زردی دار عقیق) جس پر طرح طرح کی دھاریاں ہوں۔ (4) جس میں یہ دھاریاں ہوں اسے سرکلر اگیٹ (cercular Agate)یعنی گول عقیق کہتے ہیں۔ (5) اور اگر دھاریوں کے مرکز میں اور رنگ کے نقطہ ہوں تو اسے آئی گیٹ (Eye Agate) یعنی عقیق مانند چشم کہیں گے۔ (6) قوس قزاحی عقیق جس کی دھاریاں مل کر قوس کی شکل بن جائیں اور آفتاب کے مقابل کرنے سے رنگ منشوری ظاہر ہوں۔ جس قدر پتھر زیادہ پتلا ہو اسی قدر یہ وصف زیادہ ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ کئی اور علماء ان کی یہ قسمیں بتاتے ہی۔ (1) رابن اگیٹ (Ribbon Agate) یعنی ریشمی لچھے سا عقیق، اس میں سنگ یشم اور کارلسڈونی کے طبقہ متوزی قطاروں میں ہوتے ہیں۔ یہ سائبیریا اور سسلی سے آتا ہے۔ (2) بریشنٹیڈ اگیٹ یہ اصل میں اسیتھسٹ ہوتا ہے اور اس میں رابن اگیٹ کے ٹکڑے بھی مرکب ہوتے ہیں یہ سکسنی سے آتا ہے۔ (3) فارٹی فیکیشن اگیٹ (Fartification Agate) یہ کئی شکل کا پایا جاتا ہے۔ اس کو کاٹنے کے وقت اس کے متوازی سطریں عمارت کی صورت دکھلائی دیتی ہیں۔ اس میں بھیکہم اور میتھسٹ کے ٹکڑے دکھائی دیتے ہیں۔ (4) ماس اگیٹ (Moss Agate) یعنی نباتاتی عقیق یہ اس میں کالسڈونی ہے اور سرخ سنگ یشم کی دھاریاں ہوتی ہیں۔ اس کی شکل ایسی دکھلائی دیتی ہے کہ گویا اس کا نباتاتی اصل ہے۔ اس میں آکسیڈ آہن مرکب ہے۔ اور بعض میں نفت بھی ہوتی ہے۔ اس کی سطح کو پتھر پر رگڑ کر نرم لکڑی سے جلا دیتے ہیں۔ اس کا رنگ بھورا، زرد، ماہ آکسیڈ میگنشیا واہن کے باعث ہوتا ہے۔ (5) سارو آنکس (6) پلاسما (Plasma) یہ سبز گیا ہی رنگ کا نیم شفاف، زرد اور سفید داغ۔ اس کا رنگ مادہ کلورائیٹ کے باعث ہوتا ہے۔ (7) علاوہ بریں عقیق کی تقسیم ایک اور طرح بھی ہے۔ یعنی تمام براق اور عمدہ قسم کے عدد مشرقی از کم درجہ مغربی عقیق کہلاتے ہیں۔ کتب فارسی میں عقیق کے مندرجہ ذیل اقسام درج ہیں۔ 1۔ سرخ و جگری جن کا ندرونی رنگ بیرونی کی نسبت زیادہ سرخ ہو۔ 2۔ صاف شفاف ہوں اور آئینہ کی طرح طاقت انعکاس رکھتے ہوں۔ 3۔ صقاق جو چنداں شفاف نہ ہو اور آئینہ سی طاقت انعکاس نہ رکھتا ہو۔ 4۔ ابلقی جو کچھ سفید اور کچھ سیاہ ہو۔ 5۔ ذوبلقاتی یا جوزا جس کے ابرق کی طرح پرت ہوں۔ 6۔ شجری جو شکل میں درخت یا پہاڑی کے مشابہ ہو۔ 7۔ بابا گری یا سلیمانی جس میں گول نشان ہوں۔ مصر میں سبز رنگ عقیق کو انٹاس، سیاہ رنگ کو سلیمانی اور خاکی رنگ کو گوری کہتے ہیں۔ عقیق چونکہ یمن میں بکثرت ملتا ہے اس لئے عمدہ رنگوں کو عقیق یمنی کہتے ہیں۔

آپ یہاں ہیں

خواص و ماہیت

تفصیل

زمرد کی شکل نہ تراشیدہ حالت میں عموماً مسدس شش پہلو منارے کی طرح ہوتی ہے۔ (بعض ماہرین کا خیا ل ہے کہ وزن کی نسبت زمرد کا حجم بہت زیادہ ہوتا ہے چنانچہ اگر زمرد اور نیلم یکساں وزن کے ہوں تو زمر د کا حجم نیلم سے دو چند ہو گا) جس میں قدرتی شگاف چاروں طرف ہوتا ہے۔ کاٹنے کے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ جو شگاف آخری یا سرے کی سطح کے متوازی ہوتا ہے وہ ہی درست ہوتا ہے باقی نا درست ہوتے ہیں۔ زمرد کو اکثر مثلث شکل اور بریلینٹ قط کا کاٹ کرتے ہیں۔ (2) اس میں سختی 5ء7 درجہ سے 8 تک ہوتی ہے اس لئے بھیکہم کو کاٹ سکتا ہے۔ (3) چمک اس کی بلورین ہے۔ زمانہ قدیم میں اس کی چمک کا بڑا شہرہ تھا۔ چنانچہ پلائینی لکھتا ہے ’’ کہ جزیرہ سانیپرس میں شاہ ہر سیاس کی قبر پر ایک سنگ مرمر کا شیر بنا ہوا ہے۔ جس کی آنکھوں میں زمرد جڑے ہوئے ہیں۔ ان کی چمک متصلہ بحیرہ پر ایسی دمک ہے کہ مچھلیاں ڈر کے مارے نزدیک نہ آتی تھیں۔ ماہی گیروں نے اس نقصان کو دیکھ کر زمرد آنکھوں سے نکال لئے اور ان کی بجائے عام پتھر لگا دئیے۔‘‘ تھیو فرسیٹس لکھتا ہے کہ ’’ زمرد ایسا چمکیلا ہے کہ پانی میں ڈالنے سے یہ پانی کا رنگ اپنے جیسا بنا لیتا ہے۔ ‘‘ (4) زمرد کا رنگ گیاہی سبز سے سبزی مائل سفید ہوتا ہے۔ (5) اس کا وزن مخصوص 678ء2 تک ہے۔ (6) اس میں طاقت انعکاس دو چند ہے لیکن کم درجہ (7) رگڑنے سے طاقت برقی پیدا ہو سکتی ہے۔ (8) یہ عمدہ شفاف ہے۔ (9) زمرد کے مرکبات کیمیائی یہ ہیں۔ سلیکا 5ء68 درجہ، الیومینا 75ء15، گلوسینا 5ء12 آکسیڈ آہن، آکسڈ کروم 3ء سوڈا امیگنشیا 6ء12 اور چونا 25 حصہ اس کے بارے میں بحث ہوئی ہے کہ زمرد کا رنگ کسی مادہ کی ترکیب کے باعث ہوتا ہے۔ بعض محققین کی رائے ہے کہ یہ خوش رنگت مادہ کروم کے باعث ہے۔ لیوی (Livy) نے نیو گرینیڈا کی کان موزو کے زمرد کو کیمیائی طور پر تحلیل کرنے سے معلوم کیا کہ اس میں کاربونیٹ آف ہائیڈروجن (Corboneto of Hydrogen) (ہائیڈروجن اور کارن کا کیمیائی اتحاد) مرکب ہے۔ اور اس کے رنگ کی گہرائی اس کے باعث ہے۔ بلم (Blam) نے زمرد کو چار گھنٹہ سخت گرمی پہنچا کر پانی میں ڈالنے سے معلوم کیا کہ زمرد ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ بعض ٹکڑے سیاہ رنگ بعض سبز رنگ دکھلائی دینے لگے۔ اب تک اس نقطہ پر بحث ہو رہی ہے لیکن عموماً یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ زمرد کا رنگ سبز آکسیڈ کروم کے باعث ہے۔ (10) زمرد پھکنی کی ذریعہ آگ دی جانے یا سوہاگہ کے ساتھ کھٹائی میں ڈالنے سے زرد ہو کر پگھل جاتا ہے

متعلقہ صفحات

1 صفحات

ماہیت

(1) عقیق کی شکل کافی مسدس یا متوازی الاضلاع ہوتی ہے۔ عقیق کی شکل ڈھلی بندی ہوئی نہیں ہوتی۔ اکثر اس کی شکل گول سنگریزوں کی طرح ہوتی ہے۔ (2) چمک بلورین (3) رنگ بھورا، زرد، سفید، سرخ اور سیاہ ہوتا ہے۔ عقیق کے رنگوں کی دھاریاں یا تو متوازی ایک دوسرے کی ہوتی ہیں یا سب ہم مرکز گول ہوتی ہیں۔ یا اس کے رنگ داغ اور دھبوں کی طرح ہوتے ہیں۔ (4) سختی 7 درجہ کی۔ (5) عمدہ شفاف تہیں براق ہے۔ (6) وزن مخصوص 65ء2۔ (7) طاقت انعکاس دو چند۔ (8) گھسنے سے طاقت برقی پیدا ہوتی ہے۔ (9) اس کے مرکبات کیمیائی کے بارے میں مختلف محققوں کی مختلف رائے ہیں۔ اس میں جز اعظم سیلیکا تقریباً 99 حصہ ہے اور ایک حصہ سرخ آکسیڈ آہن اور اسی آکسیڈ آہن کے باعث اس کا رنگ ہوتا ہے۔ بعض کی رائے ہے کہ ا س میں آکسیڈ میگنشیاکی بھی قدرے مقدار ہے۔ زمرد اسم معروف: پنا۔ فارسی: زمرد۔ عربی : زمرد ماہیت: عمدہ پتھروں میں سے ہے اور سونے کی کان میں ملتا ہے اس کی کئی قسمیں ہیں۔ طبیعت: دوسرے درجے میں سرد اور تیسرے میں خشک اور قوت اس کی مدت کثیر تک باقی رہتی ہے۔ رنگ و بو: سبز آبدار صاف شفاف خوشنما۔ ذائقہ: پھیکا بے مزہ، مثل بلور وغیرہ کے۔ مضر: مثانے کے لئے مضر ہے اور سرد مزاجوں کو مصلح: مشک و گلاب و عرق کیوڑہ وغیرہ۔ بدل: دماغ سموم میں زبر جد اور اسہال میں مرجان نسبت سیارہ: منسوب ہے مشتری۔ نفع خاص: روح و دل و دماغ اور حرارت غریزی کا مقوی ہے۔ کامل : رفع سم میں ایک دانگ او نزف الدم میں ایک قیراط۔ ناقص: رفع سموم میں نصف دانگ اور نزف الدم میں نصف قیراط۔ افعال و خواص: مفرح ہے اور حرارت غریزی اور دل و دماغ و کبد معدے کا مقوی اور غم و ہم خزن و ملال اور خفقان و صرع کا رافع اور ذات الجنب و ذات الریہ و نزف الدم و اسہال دموی کو نافع اور سموم قتال اور زہر ہوام اور ساتسقاء و یرقان اور حسب البول اور اخراج سنگ گردہ و مثانہ اور جذام کے لئے مفید اور اگر کسی نے زہر کھایا ہو اور قبل ظاہر ہونے اس کے اثر کے بوزن آٹھ جو کے باریک کر کے پی لے تو زہر کا ر گر نہ ہو گا اور سرمساس کا بینائی کا مقوی اور سبل کا دافع اور زیادہ دیکھنا زمرد کا آنکھ کی ماندگی کا دافع اور اس کی انگوٹھی پہننا صرع کو مفید سانپ اس کے دیکھنے سے اندھا ہوتا ہے مگر یہ امر صحیح نہیں ہے اور جو کچھ اس کی مبارکی مشہور ہے وہ بھی صحیح نہیں ہے۔ (مخزن) زمر دجیسا عمدہ سبز رنگ اور کوئی جواہر نہیں۔ یہ ان متذکرہ بالا اقسام جواہر سے جن کا اصل (الیومینا یا کاربن) تھا۔ ایک مختلف قسم کا جواہر ہے جس کا اصل سیلیکا (Silica )ہے۔ اس جواہر کا گہرا سبز رنگ آنکھوں کو بہت بھاتا ہے۔ شہر اولڈروم، مصر، پومپائی ( یہ ایک پرانے شہر کے کھنڈرات ہیں جو کوہ ویسویس واقعہ (اٹلی) کے دامن میں تھا اور 79 میں برباد ہوا) ہر کونسیم کے کھنڈرات سے زمرد کے زیورات پائے جانے سے معلوم ہوتا ہے کہ متقدمین زید کو استعمال کرتے تھے۔ چنانچہ پلائینی ایک کتاب میں لکھتا ہے کہ ’’ متقدمین زمرد کو اچھی طرح جانتے تھے اور اس کی قدر کرتے تھے۔ صاحب مذکور اس جوہر کو سمار گدس (Simargdus) کے نام سے لکھتے ہیں اور اس کی بابت کئی طرح کے عجیب و غریب بیان درج کرتے ہیں کئی اور شہادتوں سے بھی صاف ظاہر ہے کہ زمانہ سلف میں لوگ زمرد کو اچھی طرح جانتے تھے۔ چنانچہ 240ء میں سیویلی (Seuille) (ہسپانیہ کا ایک بڑا شہر جو دریائے گوایڈل کور پر واقعہ ہے) کاپادری اسے دودس نامی بیان کرتا ہے کہ ’’ تمام سبز رنگ پتھروں میں زمرد افضل ہے اس کا رنگ ان اشخاص کی آنکھوں کے لئے جو اس کے کاٹنے اور جلا کرنے میں مشغول ہوتے ہیں نہایت مفید ہے۔‘‘ گیارھویں صدر میں پسیلس (Pesellos) زمرد کے بابت لکھتا ہے کہ ’’ یہ جواہر عمدہ سبز رنگ ہے اور اس کے کئی ایک عدد سنہری نیلے رنگ کے بھی ہوتے ہیں۔ اگر اس میں پانی ملائیں تو یہ صرع اور کئی ایک اور بیماریوں کو شفا دے سکتا ہے۔ پلائینی زمرد کی چمک وغیرہ خواص کی بابت کئی ایک کا بیان لکھتا ہے۔ بعض محققین زمرد کی دو اقسام بیان کرتے ہیں۔ ایک زمر دوسرا زبرد لیکن فی الحقیقت زبر جد زمرد سے کئی لحاظ میں مختلف ہے۔ اس لئے ا س کا بیان جواہرات درجہ دوم میں کیا جاتا ہے۔ عرب و فارس کے حکماء زمرد کے مفصلہ ذیل انواع بیان کرتے ہیں۔ (1) زہابی جن کا سنہری رنگ ہو۔ بعض ماہرین کی رائے ہے کہ جس جگہ زمرد کی یہ قسم رکھی جائے وہاں مکھیاں نہیں آ سکتیں۔ (2) سعیدی یہ سعید مصر سے آتا ہے۔ اگر اس پر نگاہ ڈالیں تو انسان کا عکس دکھلائی دیتا ہے او ر آنکھیں بند معلوم ہوتی ہیں۔ (3) ریحانی گل ریحان کی طرح سبز رنگ (4) فستقی ( عربی لفظ بمعنی پستہ، زردی مائل، سبز رنگ جو مغز پستہ کی طرح ہوتا ہے) سیاہی مائل سبز رنگ اس کو پرانا زمر دبھی کہتے ہیں۔ (5) سلقی ( عربی لفظ معنی چقندریہ یہ ایک ترکاری ہوتی ہے جو شلغم کی مانند ہوتی ہے) جن کا رنگ فارس کے چقندر کی طرح ہو۔ (6) زنجاری یا رتگاری جن کا رنگ مرچ سا ہو۔ (7) کیراثی ( ایک قسم کا پودا جسے گنڈنا کہتے ہیں) جن کا رنگ کیراث کی طرح ہو۔ (8) صابونی جن کا رنگ سفید اور سبز کی ملاوٹ سے ہو۔ ان میں سے عمدہ دو قسم گنا جاتا ہے جو سخت،صاف، سبز رنگ، بے عیب ہو۔ آج کل کے ہندوستانی جو ہری زمرد کے مفصلہ ذیل اقسام بیان کرتے ہیں۔ 1۔ پرانا 2۔ مرگجا 3۔ توڑیکا 4۔ پیالیکا 5۔ نیا 6۔ جہاجی اور ہر ایک کی دو نوع بتلاتے ہیں۔ کاہی اور دہانی نوع۔ کاہی ان کو کہتے ہیں جن میں سیاہی مائل سبز رنگ ہو اور دہانی جن کا زردی مائل سبز رنگ ہو۔

مزید پڑھیں

یہ صفحات اسی زمرے میں ہیں