مکمل راستہ
برج
سرطان
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 22؍ جون سے 23 ؍ جولائی حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ قمر نشان ۔۔۔۔۔۔ کیکڑا عنصر ۔۔۔۔۔۔ پانی موافق دن ۔۔۔۔۔۔ جمعرات اور سوموار موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 2 اور 7 موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ عقیق، زمرد موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ نارنجی، پیلا، سبز موافق دھات ۔۔۔۔۔۔ الماس، زمرد اور عقیق
برج سرطان سے تعلق رکھنے والے افراد کی خصوصیات
پر کشش
تفصیل
یہ افراد بہت پر کشش اور مردانہ وجاہت سے لبریز ہوتے ہیں۔ خواتین ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوتی ہیں اور جلد ہی ان کے دام محبت میں پھنس جاتی ہیں لیکن یہ لوگ ہر لڑکی کو لفٹ نہیں کرواتے۔ ان کے تخیل میں ایک حسینہ ڈیرہ ڈالے بیٹھی ہوتی ہے جس کے بولنے، چلنے اور دیگر حرکتوں کا ایک خاص انداز ہوتا ہے جو لڑکی اس تخیلاتی لڑکی سے ملتی جلتی ہے، یہ لوگ اس کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔
متعلقہ صفحات
58 صفحاتہمدرد
یہ افراد ہمدرد طبیعت رکھتے ہیں۔ کسی کو دکھی دیکھ کر خود بھی دکھی اور بے چین ہو جاتے ہیں۔ یہ دوسروں کی مدد کرنے کے قائل ہوتے ہیں۔ اپنے حلقہ احباب میں ہمدردانہ رویے کی وجہ سے خاصے مقبول ہوتے ہیں۔ اکثر لوگ ان پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ بناوٹی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں لیکن درحقیقت یہ ہمدرد ہی ہوتے ہیں۔ اپنی اس فطرت کی وجہ سے یہ ایسے شعبوں کا انتخاب کرتے ہیں جو خدمت خلق سے تعلق رکھتے ہیں مثلاً ڈاکٹر، سوشل ورکر، وکیل وغیرہ، ان کی ایک خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ اپنے دشمنوں کو بھی تکلیف میں دیکھ لیں تو ساری دشمنی بھول جاتے ہیں اور ان کی مدد کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ خدمت اور ہمدردی کا جذبہ صرف انسانوں تک ہی محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ جانوروں اور دیگر جانداروں سے بھی ہمدردانہ رویہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شکار وغیرہ میں یہ زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ اگر کوئی حادثہ ہو جائے تو یہ افراد دوسروں کی طرح جائے وقوعہ سے بھاگنے یا سوچنے میں وقت ضائع نہیں کرتے بلکہ یہ دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ یہ زخمیوں کا جلد از جلد اسپتال پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں اکثر پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے مثلاً پولیس کی کاروائی میں ان سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔ یا اس طرح کے دیگر معاملات میں یہ پریشان تو ہوتے ہیں لیکن یہ ایسی باتوں کی پروا نہیں کرتے۔ زخمیوں وغیرہ کی مدد کر کے انہیں دلی تسکین ہوتی ہے۔ ان کی ہمدردی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اکثر یہ مستحق لوگوں کی مدد کرتے رہتے ہیں۔ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ان کے دوستوں وغیرہ میں کون غریب اور مستحق ہے۔ یہ وقتاً فوقتاً ان کی مدد کرتے رہتے ہیں۔ ان کے اس رویے میں دکھاوے کا کوئی پہلو نہیں ہوتا اس لئے یہ ان کی اس انداز میں مدد کرتے ہیں کہ ان کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ کسی کو اس مدد کا پتہ چلنے دیتے ہیں۔
فراخ دل
ہمدرد طبیعت رکھنے کے ساتھ ساتھ خاصے فراخ دل بھی ہوتے ہیں۔ یہ دولت کمانے کی خواہش بھی رکھتے ہیں اور کماتے بھی ہیں لیکن دوسرے کئی کنجوس لوگوں کی طرح یہ کنجوسی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ یہ بڑے کھلے دل اور کھلے ہاتھ کے ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو روپے پیسے کی ضرورت پڑ جائے تو وہ ان سے بلا تکلف اور بلا جھجک کہہ دیتا ہے اور اگر ان کے پاس رقم ہو تو یہ ضرور اسے دیتے ہیں اور لوگ اس یقین کے ساتھ ان سے رقم بھی مانگتے ہیں۔ یہ اپنے اور دوسروں کے اوپر رقم خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔ اکثر ان کی فراخ دلی فضول خرچی کی حدود میں داخل ہو جاتی ہے اور اس کا انہیں خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے اس کے باوجود یہ اپنی اس عادت کو ترک نہیں کرتے۔
پر عزم
عزم و ہمت کی ان لوگوں میں کمی نہیں ہوتی ہے۔ یہ لوگ جب کام کرنے کی ٹھان لیں تو اسے ہر حال میں پورا کرنا چاہتے ہیں۔ راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو یہ دور کر دیتے ہیں۔ اگر یہ کوئی فیصلہ کر لیں تواس فیصلے سے انہیں باز رکھنا تقریباً نا ممکن ہوتا ہے۔ یہ خطرناک ترین کاموں میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں۔ یہ افسران کے سامنے بڑی ہمت سے بات کرتے ہیں۔ اپنی اس خاصیت کی وجہ سے یہ اچھے مقرر اچھے لیڈر اور اچھے سوشل ورکر بن جاتے ہیں۔ یہ ایسے کاموں کو ہنسی خوشی کرتے ہیں جن سے دوسرے لوگ گھبرا جاتے ہیں۔ پولیس، فوج اور اس طرح کے دیگر شعبوں میں یہ اپنی اس خصوصیت کی وجہ سے بہت کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اگر یہ محاذ جنگ پر ہوں یا کسی مجرم کی سرکوبی کر رہے ہوں تو ان کا انداز بڑا جارحانہ اور ظالمانہ ہوتا ہے۔ اس وقت اگر انہیں دیکھا جائے تو ان پر بڑی حیرت ہو گی کہ ان کا ہمدردانہ رویہ کہاں گیا۔ در اصل یہ بہت فرض شناس اور جرائم سے نفرت کرنے والے ہوتے ہیں اس لئے ایسے مواقع پر یہ دشمنوں اور مجرموں سے کسی قسم کی روایت نہیں کرتے، انہیں کیفر کردار تک پہنچا کر انہیں بڑی خوشی ہوتی ہے۔
تخلیقی صلاحیتیں
ان لوگوں میں بڑی تخلیقی صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ یہ ایسے کاموں میں بہت دلچسپی لیتے ہیں جو تخلیق سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً یہ اچھے مصور، گلوکار، اداکار اور فنکار ہوتے ہیں۔ اگر یہ شاعری کی طرف آئیں تو بہت گہری اور دلکش شاعری کرتے ہیں، موسیقار ہونے کی صورت میں ان کی دھنیں دوسرے موسیقاروں سے منفرد اور دلکش ہوتی ہیں۔ ان کے اندر بے چینی ہوتی ہے جو انہیں کسی ایک جگہ رکنے نہیں دیتی۔ ان کی یہ بے چینی ان کے کسی بھی تخلیقی عمل کے دوران بھی موجود رہتی ہے اور یہ اپنے کام سے مطأن نہیں ہوتے، یہ اسے خوب سے خوب تر بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ مثلاً اگر یہ کوئی تصویر بنانے لگیں تو اس کی اتنی گہرائی میں اتر جاتے ہیں کہ ایک عظیم الشان شاہکار تخلیق پاتا ہے۔ یہ اس تصویر کو بنانے کے دوران غیر مطئن رہتے ہیں۔ یہ اگر تصویر کی آنکھیں بنانے لگیں تو اس کی باریکیوں میں الجھ جاتے ہیں اور جب تک یہ پوری طرح مطئن نہ ہو جائیں یہ تصویر کے دوسرے حصوں کی طرف توجہ نہیں دیتے، یوں یہ تصویر کے تمام حصوں پر خوب توجہ سے کام کرتے ہیں اور ناقابل فراموش شاہکار بناتے ہیں۔یہ اگر کمرشل آرٹسٹ ہیں تو یہ اپنے فن پارے کے بنانے کے دوران اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ان کا کتنا وقت ضائع ہو رہا ہے اور اتنے وقت میں تو یہ دو فن پارے بنا سکتے ہیں۔ اگر گلوکاری یا اداکاری کے شعبے میں ہوں تو اسی طرح اس کی باریکیوں میں بھی الجھے رہتے ہیں اور ان کی یہی دلچسپی انہیں ایک عظیم تخلیق کار بناتی ہے۔ تخلیق کے تمام شعبوں میں ان کا یہی رویہ ہوتا ہے۔
صبرو شکر
یہ لوگ بہت زیادہ محنت پر یقین رکھتے ہیں۔ انہیں ناکامیاں پسند نہیں ہوتیں اور کامیابیوں کے لئے یہ سرگرداں رہتے ہیں۔ ا نسان کی زندگی میں اکثر ایسے لمحات آ جاتے ہیں جب اس کی کوششیں بار آور ثابت نہیں ہوتیں۔ ایسے میں بہت سے لوگ مایوس ہو جاتے ہیں اور دل برداشتہ ہو کر نہ جانے کیا کیا فیصلے کر لیتے ہیں لیکن اگر ایسے لمحات سرطان افراد کی زندگی میں آئیں تو مایوسی انہیں زیادہ گھیرے نہیں رہ سکتی، یہ دل برداشتہ توہوتے ہیں لیکن زیادہ وقت کے لئے نہیں بلکہ یہ صبر اورشکر کرتے ہیں، یوں ان کے اندر مایوسی ختم ہو جاتی ہے اور ان کے اندر نیا عزم اور حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔
تصوراتی
یہ لوگ تصورات کی دنیا میں رہ کر بہت مطۂن رہتے ہیں۔ حقیقت کی دنیا میں یہ پوری مستعدی اور دلجمعی سے کام کرتے ہیں لیکن بہر حال اس دنیا میں ان کے خیالوں کو پورے طور پر عملی جامہ پہنانے کا موقع نہیں ملتا اس لئے یہ اکثر اپنے تصورات میں اپنے خوابوں کی تکمیل کرتے ہیں۔ ان پر کاہل ہونے کا الزام بھی لگتا رہتا ہے اور یہ غلط بھی نہیں ہوتا کیونکہ یہ اکثر کاہلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ سونا بھی پسند کرتے ہیں، اگر موقع مل جائے تو یہ بے فکری سے سو جاتے ہیں
غیر مطئن
یہ اکثر اپنے آپ کو غیر مطئن پاتے ہیں اور انجانے خوف ان کے دلوں میں جنم لیتے رہتے ہیں۔ انہیں کبھی اپنے مستقبل کاخوف ستانے لگتا ہے اور کبھی یہ کسی ایسے حادثے سے ڈرنے لگتے ہیں جو نہ تو رونما ہوا ہوتا ہے اور نہ ہی ایسے حالات ہوتے ہیں کہ اس کے رونما ہونے کا امکان ہو لیکن یہ ان کے اندری کی بے چینی اور انجانا خوف ہوتا ہے جو انہیں اس طرح کی باتیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ اپنے دل کو مطؤن رکھنے کی بہت کوشش کرتے ہیں لیکن یہ خوف انسان کی فطرت کا حصہ ہوتا ہے اس لئے اس سے بچنا ان کے لئے نا ممکن ہوتا ہے۔ بہرحال یہ اپنی کوشش سے کسی نہ کسی حد تک اس معاملے کو قابو کر لیتے ہیں لیکن پورے طور پر نہیں
لوگوں میں مقبول
ان لوگوں میں بولنے اور دوسروں کو گرویدہ کر لینے کی بڑی صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ یہ جب بولتے ہیں تو ان کا انداز بڑا متاثر کن ہوتا ہے۔ سننے والے یقینی طور پر ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان کی فطرت ہوتی ہے کہ یہ لوگوں کی فلاح و بہبود کی باتیں کرتے ہیں، ان میں ہمدردی کا پہلو نمایاں ہوتا ہے، بولنے کے ساتھ ساتھ ان کا رویہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے جو لوگوں میں ان کو مقبول بنا دیتا ہے۔ اگر یہ اپنے علاقے سے کوئی الیکشن لڑیں تو اس میں ان کی کامیابی کے بہت زیادہ امکانات ہوتے ہیں بلکہ اکثر لوگ انہیں خود الیکشن لڑنے پر مجبور کرتے ہیں۔
عملی
یہ افراد کافی حد تک عملی ہوتے ہیں، اس کے باوجود کبھی کبھار ان کا رویہ غیر عملی ہو جا تا ہے۔ جب یہ غیر عملی ہونے کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ان سے کوئی کام لینا آسان نہیں ہوتا، اس وقت چاہے جتنا زور لگا لیا جائے، یہ وہ کام کر کے نہیں دیتے اور اگر کسی مجبوری کے تحت کریں تو ناکامی ان کے قدم چومتی ہے لیکن جب یہ با عمل ہونے کا مظاہرہ کریں تو یہ بڑے بڑے اور حیرت انگیز کام کر ڈالتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ یہ اس کام میں دلچسپی لیں۔
ہضم کرنے کی صلاحیت
ویسے تو ان کے جسم میں اور بھی بہت سی صلاحیتیں ہوتی ہیں لیکن ان سب میں قابل ذکر ان کے ہضم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ان کا معاہدہ خاصا طاقتور ہوتا ہے اور کافی سخت چیزیں ہضم کر لیتے ہیں۔ یہ ایک طبعی اصول ہے کہ جس کا معدہ اچھا کام کرے گا، اسے خوراک اچھی طرح ہضم ہو گی اور جسے خوراک اچھی طرح ہضم ہوتی ہے اس کی صحت بہت اچھی ہوتی ہے، اس لئے سرطان افراد کی صحت بڑی قابل رشک ہوتی ہے۔ یہ لوگ اپنی اس صلاحیت سے خوب فائدہ بھی اٹھاتے ہیں اور اکثر کھاتے پیتے ہی نظر آتے ہیں۔ یہ اگر کنٹرول نہ کریں تو موٹاپے کا شکار ہو جاتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ یہ اس معاملے میں احتیاط کریں۔
اچھے دوست
یہ افراد اچھے دوست ثابت ہوتے ہیں۔ یہ ہر کسی کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ دوست بنانے میں یہ بہت احتیاط سے کام لیتے ہیں۔ جو کوئی ان کے معیار پر پورا اترتا ہے، اسے ہی یہ دوست بناتے ہیں۔ ویسے اکثر لوگوں کو یہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ یہ ان کے دوست ہیں کیونکہ ان کا رویہ ان سے بہت اچھ ہوتا ہے لیکن در حقیقت ایسا نہیں ہوتا، ان کا رویہ تو ان کے ساتھ بہت اچھا ہوتا ہے لیکن یہ انہیں اپنا ایسا دوست نہیں سمجھتے جس پر یہ بھروسہ کر سکیں اور اپنا راز دل اسے بتا سکیں۔ یہ اپنے دوستوں کے لئے بہت زیادہ مخلص ہوتے ہیں۔ ان کے دوستوں کو ان سے فائدے ہی فائدے ہوتے ہیں،۔ یہ اپنے دوستوں کے لئے ترقی کی راہیں ہموار کرتے ہیں۔ ان کی ہر طرح سے مدد کرتے ہیں اور ہر کڑے وقت میں ان کے کام آتے ہیں۔ اکثر لوگ ان کے دوست بن کے ان سے فائدے اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ایک مرتبہ تو انہیں دھوکا دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن جب یہ ایسے لوگوں کو پہچان جاتے ہیں تو ان سے ترک تعلقات کر لیتے ہیں۔ وہ لوگ اگر دوبارہ ان کے قریب آنے کی کوشش کریں تو یہ انہیں مزید کوئی موقع نہیں دیتے، ہاں اس صورت میں یہ انہیں موقع دے سکتے ہیں جب یہ محسوس کریں کہ جو کچھ ہوا تھا وہ غلطی سے ہوا تھا یا کوئی غلط فہمی تھی۔ دانستہ دھوکا دینے والوں کو یہ معاف نہیں کرتے ہیں اور دوبارہ ان سے کسی صورت تعلقات استوار نہیں کرتے ہیں۔
محبت میں محتاط
یہ افراد محبت میں بڑے محتاط ہوتے ہیں۔ یہ اگر کسی لڑکی کو چاہنے لگیں تو پہلے اس کا بغور جائزہ لیتے ہیں۔ اسے باتوں باتوں میں آزماتے ہیں۔ اگر انہیں احساس ہو جائے کہ وہ لڑکی ان کے لئے زیادہ سنجیدہ نہیں ہے تو یہ اپنے دل کا حال زبان پر نہیں لاتے اور مناسب وقت کا انتظار کرتے ہیں۔ انہیں یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں ان کی محبوبہ انہیں نا پسند قرار نہ دے دے۔ یہ بار بار اپنا راز دل اس پر افشاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ان کے الفاظ حلق تک تو آتے ہیں لیکن زبان پر نہیں آ پاتے۔ یہ اپنی محبوبہ کے بارے میں دوسروں سے بات چیت کرتے رہتے ہیں اور اس بات چیت سے وہ یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی محبوبہ کے ان کے بارے میں کیا خیالات ہیں۔ اگر انہیں یہ پتہ چلے کہ وہ ان میں دلچسپی نہیں لیتی ہے تو یہ کوششیں شروع کر دیتے ہیں کہ وہ کسی طرح انہیں پسند کرنے لگے۔ یہ ایسی باتیں کرتے ہیں جو اسے پسند ہوتی ہیں اور اپنے عمل سے بھی اس کا پسندیدیہ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی کوششیں اس وقت تک جاری رہتی ہیں جب تک انہیں یہ یقین نہ ہو جائے کہ ان کی محبوبہ ان میں دلچسپی لینے لگی ہے، ایسے وقت میں یہ اپنا حال دل بہت احتیاط کے ساتھ اس کے سامنے لاتے ہیں۔ اس وقت حالات ایسے ہوتے ہیں کہ اکثر نتیجہ ان کے حق میں نکلتا ہے۔
جنونی محبت
ہم گزشتہ سطور میں لکھا کہ ان افراد کو اپنی محبوبہ کے سامنے اپنا حال دل کہنے میں کتنی دشواری پیش آتی ہے۔ جب یہ مرحلہ طے ہو جاتا ہے اور نتیجہ ان کے حق میں نکل آتا ہے تو یہ اپنی محبوبہ کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں، اس کی ہر خوشی کا خیال رکھتے ہیں اور جلد از جلد اسے اپنا شریک حیات بنا لینا چاہتے ہیں۔ جب وہ ان کی بیوی بن جاتی ہے تو دیگر برجوں سے تعلق رکھنے والے مردوں کی طرح ان کی محبت میں کمی نہیں آتی بلکہ ان کی محبت میں مزید گرم جوشی آ جاتی ہے۔ یہ بیوی کا حد سے زیادہ خیال رکھنے لگتے ہیں۔ در اصل یہ لوگ سچی محبت کے قائل ہوتے ہیں۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی بیوی ان سے سچی محبت کرے اور یہ خود بھی یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس سے سچی محبت کرتے ہیں۔ یہ بیوی کے جذبات اور ضروریات کا پوری طرح خیال رکھتے ہیں۔ گھر کی اکثر ذمہ داریاں خود اٹھاتے ہیں تا کہ ان کی بیوی کو زیادہ سے زیادہ آرام مل سکے۔ یہ گھر میں ایسے کاموں میں بھی عورتوں کا ہاتھ بٹاتے ہیں جو خالصتاً عورتوں کے ہوتے ہیں۔ ان کی بیویوں کوعام طور پر ان سے کوئی شکایت نہیں ہوتی لیکن کبھی کبھی ان کی فطری سستی اور تصوراتی طرز عمل بیویوں کے لئے پریشانیوں کا سبب بنتا ہے لیکن یہ ایسی کوئی خاص بات نہیں ہوتی جو بیویوں کے لئے نظر انداز کرنا مشکل ہو یہ لوگ اپنے بچوں کا بھی بے حد خیال رکھتے ہیں۔
انکساری
ان افراد میں ہمدردانہ جذبات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ گزشتہ صفحات پر ہم نے تذکرہ کیا کہ اس خصوصیت کی وجہ سے اکثر لوگ ان پر بناوٹی کا لیبل لگا دیتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہوتا ہے۔ یہ لوگ حقیقت میں بہت ہمدرد ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان میں انکساری بھی بہت زیادہ ہوتی ہے اور ان کی انکساری پر بناوٹ کا لیبل لگایا جاتا ہے لیکن یہ فطرتاً منکسر المزاج ہوتے ہیں۔ یہ جب بولتے ہیں تو ان کے لفظوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جیسے ان میں شیرینی گھلی ہوئی ہے۔ یہ اپنے کسی لفظ سے یہ ظاہر نہیں ہونے دیتے کہ انہیں کسی بات پر غرور یا فخر ہے بلکہ ان کے الفاظ نہایت عاجزانہ ہوتے ہیں۔ یہ بڑے بڑے کارنامے دکھا جاتے ہیں اور جب ان کی تعریف کی جائے تو عاجزانہ انداز اختیار کر کے یوں ظاہر کرتے ہیں جیسے ان کارناموں میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے بلکہ قدرت کی مہربانی ہے۔ یہ اچھے مصور، گلوکار، اداکار اور فنکار ہوتے ہیں، انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتنے بڑے مقام پر ہیں اس کے باوجود یہ عام لوگوں سے بڑی عاجزی سے پوچھتے ہیں کہ ان کے کام میں کہیں کوئی غلطی یا کوئی کمی تو نہیں ہے؟ ان کی انکساری لوگوں میں انہیں مقبول بنانے میں معاون ہوتی ہے۔ لیکن جو لوگ ان سے حسد کرتے ہیں وہ اس حوالے سے بھی ان کے متعلق جلی کٹی باتیں کرتے ہیں اور ان پر بناوٹی ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔
حساس
یہ بہت حساس ہوتے ہیں، ذرا ذرا سی بات کو محسوس کرنا ان کی فطرت کا حصہ ہے یہ دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں اگر کوئی ان سے اچھا سلوک کرے تو اسے نوٹ کر لیتے ہیں اور اگر کوئی ان کی دل شکنی کرے تو اسے بھی محسوس کرتے ہیں۔ اکثر اخبارات و رسائل میں چھپنے والی ایسی خبریں ان کے لئے افسوس کا سبب بنتی ہیں جو بے جا قتل و غارت گری سے حادثات سے متعلق ہوں۔ انہیں ان لوگوں سے بھی ہمدردی ہوتی ہے جن کی یہ صرف خبریں پڑھتے ہیں، انہوں نے ان لوگوں کا نہ تو کبھی دیکھا ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے قبل وہ ان کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔
گھبراہٹ کا شکار
یہ لوگ اکثر باتوں پر گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مثلاً اگر کہیں کسی وجہ سے کوئی ان پر تنقید یا طنز کر دے تو گھبرا جاتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ تنقید کسی خاص حوالے سے ہی ہو۔ اگر ان کے لباس پر تنقید کر دی جائے یا ان کے ہیئر اسٹائل پر تو فوراً گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے لئے تعریفی کلمات ادا کئے جائیں۔ اس کے لئے باقاعدہ تیاری اور اہتمام بھی کرتے ہیں مثلاً یہ خصوصی طور پر لباس پر توجہ دیں گے یا پھر بالوں کو خوب اچھی طرح سنواریں گے، ایس بھی ہو سکتا ہے کہ یہ اپنی کار کو اس طرح سجا لیں کہ لوگ اس کی تعریف کرنے پر مجبور ہو جائیں لیکن اگر ان کی توقع کے بر عکس ان کی تعریف کے بجائے تنقید کر دی جائے تو یہ گھبرا جاتے ہیں اسکی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ بڑے حساس ہوتے ہیں، یہ ہم لکھ ہی چکے ہیں کہ یہ ذرا ذرا سی بات کا اثر لیتے ہیں۔
مستقبل کے لئے فکر مند
یہ لوگ اپنے مستقبل کے حوالے سے کافی فکر مندرہتے ہیں۔ اگر ان کے پاس اپنا مکان نہیں ہے تو یہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح ان کا اپنا مکان بن جائے۔ اس سلسلے میں یہ رقم بھی جمع کرتے رہتے ہیں اور دوسروں سے مشورے بھی کرتے رہتے ہیں، ساتھ ہی اخبارات میں بھی اس موضوع سے متعلق موادکا مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔ انہیں اپنی صحت کی بھی بڑی فکر رہتی ہے۔ اس حوالے سے یہ غذاؤں پر توجہ رکھتے ہیں اور ایکسر سائز بھی کرتے رہتے ہیں۔ انہیںیہ بھی فکر ہوتی ہے کہ اگر انہیں کچھ ہو گیا تو ان کے بیوی بچوں کا کیا بنے گا۔ اس سلسلے میں یہ رقم پس انداز کرتے ہیں اور انشورنس بھی کروا لیتے ہیں، اس کے علاوہ شریک حیات کو مختلف مشورے بھی دیتے رہتے ہیں۔ اگر یہ تعلیم حاصل کرنے کے مراحل میں ہیں تو اس حوالے سے فکر مند رہتے ہیں کہ کہیں یہ فیل نہ ہو جائیں یا ان کے نمبر کم نہ آئیں۔ غرض اس طرح کی بے شمار فکریں انہیں گھیرے رہتی ہیں۔
پر اسرار
اکثر یہ افراد دوسروں کو بڑے پر اسرار معلوم ہونے لگتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ اپنے قول و فعل پر پورے نہیں اترتے۔ ان پر جھوٹ بولنے کا شک ہونے لگتا ہے۔ ان کا رویہ بھی عجیب سا ہو جاتا ہے۔ یہ افراد اگر کسی سے ہنس کر مل رہے ہوتے ہیں تو تھوڑی دیر بعد اس سے انتہائی خشک رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اسے ہم ان کی بری عادت بھی کہہ سکتے ہیں اور اچھی بھی، بری اس طرح کہ ان کے رویے سے لوگوں کو پریشانی، غلط فہمی اور تکلیف ہوتی ہے اور اچھی اس طرح کہ اگر یہ لوگ اپنی اس خصوصیت کو سمجھ لیں اور فیصلہ کر لیں کہ اس کا درست استعمال کرتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھانا ہے۔
ڈپریشن کا شکار
یہ لوگ ویسے تو بہت پر عزم، حوصلہ مند اور ڈٹ جانے والے ہوتے ہیں۔ یہ اکثر ناکامیوں سے گھبراتے نہیں ہیں لیکن بہر حال انسان ہونے کے ناطے کبھی نہ کبھی کوئی ناکامی یا کوئی اور وجہ انہیں ڈپریشن میں مبتلا کر دیتی ہے۔ انہیں اکثر مختلف خوف بھی گھیرتے رہتے ہیں مثلاً مستقبل کی فکر، صحت کا خوف، دولت چلے جانے کا خطرہ یا اور بہت سی باتیں، یہ لوگ ڈپریشن کا شکار ہو کر ایسی حرکتیں بھی کرنے لگتے ہیں جو دوسروں کے لئے پریشانی یا مضحکہ کا سبب بنتی ہیں۔ ایسے میں ان پر مایوسی بھی غالب آ جاتی ہے۔ ان کا چہرہ بھی ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرتا ہے، اکثر لوگ ان سے اس کی وجہ بھی پوچھ لیتے ہیں۔ اگر یہ چاہتے ہیں کہ اس سلسلے میں ان کی کوئی مدد کر ے تو یہ نہ صرف اس فرد کو اپنا مسئلہ بتا دیتے ہیں بلکہ بہتری کے لئے اس سے مشورہ بھی کرتے ہیں۔ ویسے بھی ان لوگوں کے لئے بہتر ہوتا ہے کہ یہ اپنا مسئلہ دوسروں کو بتا دیں ورنہ یہ سوچ سوچ کر خود کو ہلکان اور پریشان کرتے رہتے ہیں۔ ان کی مایوسی بڑھتی جاتی ہے۔
مضطرب
مضطرب رہنا ان افراد کی فطرت میں شامل ہے۔ اچھے خاصے ماحول میں اچانک کوئی ذرا سی بات ان کے لئے خطرات کا سبب بن جاتی ہے اور پھر یہ اس بارے میں سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ جتنا سوچتے ہیں اتنا ہی پریشان ہو جاتے ہیں اور ان کے اضطراب میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اگر یہ کسی خوف کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس میں ان کا ذہن الجھ جاتا ہے۔ ایسے میں یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ ڈپریشن کا شکار ہو کر عجیب و غریب باتیں اور حرکتیں کرنے لگیں اور اس طرح یہ معاملہ دوسروں کے لئے بھی حیران کن اور پریشانی کا سبب بنتا ہے۔ یہ لوگ اگر زیادہ سوچیں تو بے شمار خدشات انہیں گھیر لیتے ہیں، ایسے میں یہ دوسروں سے مشورہ بھی نہیں لیتے، انہیں کسی پر اعتبار نہیں رہتا۔ ان کے اس طرز عمل پر وہ لوگ حیران ہو جاتے ہیں جو ان کے قریبی دوست ہوتے ہیں اور یہ لوگ ہر معاملے میں ان سے مشورے لیتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں انہیں ایک بری عادت پڑ جاتی ہے اور وہ یہ کہ یہ دوسروں پر طنزاور تنقید کرنے لگتے ہیں، حالانکہ کسی کی دل شکنی ان کا شیوہ نہیں ہوتا لیکن اپنی اس کیفیت میں یہ اپنی کئی خوبیاں کھو بیٹھتے ہیں۔ ایسے میں انہیں چاہئے کہ خود کو سنبھالیں، جو معاملہ ہو اس کے بارے میں کسی اچھے دوست سے مشورہ کریں، کسی کو تنقید کا نشانہ نہ بنائیں اور کسی پر طنز نہ کریں، اگر یہ اپنے اس رویے پر کنٹرول نہ کریں تو یہ ان کی پختہ عادت بن جاتی ہے اور یقینی بات ہے کہ اس عادت سے انہیں نقصان ہو سکتا ہے، فائدہ نہیں۔
شہرت کے خواہش مند
کئی برجوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو شہرت کی خواہش ہوتی ہے اور وہ اسی خواہش کے اسیر ہوتے ہیں۔ سرطان افراد بھی یہ خواہش رکھتے ہیں لیکن یہ مستقل طور پر اس خواہش کی گرفت میں نہیں رہتے بلکہ مختلف کیفیات اور حلات انہیں اس طراح مائل ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی سرطان فرد کسی مشہور شخصیت سے متاثر ہو جائے اور اس کی طرح مشہور ہونے کی خواہش اس کے اندر موجزن ہو جائے لیکن حالات ایسے ہوں کہ اس کی خواہش پوری ہونے کا کوئی امکان نہ ہو تو یہ خواہش اس کے اندر جڑ پکڑنے لگتی ہے اور اکثر یہ خواہش جنون کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے میں یہ اکثر نفسیاتی مسائل کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ایسے افراد کے لئے بہتر ہے کہ یہ خود کو ایسے حالات میں سنبھالیں۔ اپنی اس طرح کی کسی خواہش کو شروع میں ہی ختم کر دیں۔
مقبولیت پسند
یہ لوگ حلقہ احباب اور تقریبات وغیرہ میں مقبولیت حاصل کرنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ یہ چونکہ خوش اخلاق اور خوش کلام ہوتے ہیں اس لئے اکثر لوگ تو اس وجہ سے ہی ان سے متاثر ہو جاتے ہیں اور باقی کئی لوگوں کو یہ افراد اپنے اپنے جملوں، خوب صورت لطائف وغیرہ سے متاثر کر لیتے ہیں لیکن خود کو مقبول کروانے کی خواہش انہیں شرمسار ہونے پر بھی مجبور کر لیتی ہے کیونکہ ان سے ایسی باتیں اور حرکتیں سرزد ہو جاتی ہیں جو مضحکہ خیز ہوتی ہیں۔
حاکمیت پسند
یہ لوگ جہاں ہمدرد، منکسر المزاج اور خوش اخلاق ہوتے ہیں وہیں ان کے اندر اکثر دوسروں پر حکم چلانے کی خواہش بھی جنم لیتی رہتی ہے۔ اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے یہ دفتر یا گھر وغیرہ میں حکم چلانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ کوئی ان کے حکم پر چلے یا نہ چلے۔
فضول خرچی
یہ افراد ویسے تو فراخ دل ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھار یہ فضول خرچی پر بھی اتر آتے ہیں جب یہ فضول خرچی کر رہے ہوتے ہیں تو دنیا کا کوئی فلسفہ انہیں اس سے باز نہیں رکھ سکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں یہ اپنے کئے پر پچھتائیں۔ بہر حال اس وجہ سے یہ مالی مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں لہٰذا جب ان پر یہ کیفیت طاری ہو تو خود کو کنٹرول کریں۔
بہتر سے بہتر
ان لوگوں کو زندگی کے بیشتر معاملات میں بہتر سے بہتر کی تلاش ہوتی ہے۔ یہ ان کی اچھی عادت ہے جو انہیں کامیابیوں سے ہمکنار کرتی ہے لیکن اس طرح یہ اکثر آرام سے محروم ہو جاتے ہیں اور صحت کی طرف سے انہیں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی یہ عادت انہیں کسی ایک جگہ رکنے نہیں دیتی، یہ پہلے سمجھتے ہیں کہ یہی ان کی منزل ہے لیکن پھر ان کی بے چینی انہیں اکساتی ہے اور یہ اس سے اگلی منزل کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں اور جب وہاں پہنچتے ہیں تو پھر بے چینی کی وجہ سے اس سے آگے کا سفر اختیار کرتے ہیں، یوں یہ بہتر نتائج حاصل کرتے ہیں۔
صاف گو
ان لوگوں میں صاف گوئی کی عادت ہوتی ہے۔ یہ کسی کی خامیوں پر بڑے آرام سے تنقید کرتے ہیں اور اس کی خوبیوں پر حسد کرنے کی بجائے اس کی بڑے کھلے دل سے تعریف کرتے ہیں۔ ان کی یہ عادت انہیں بہت سے ایسے لوگوں سے دور کر دیتی ہے جو سچائی سننے کے عادی نہیں ہوتے البتہ ان کے قریبی لوگ ان کی اس عادت سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور ان کی کسی بات برا نہیں مانتے۔
ظاہر باطن
ان کا ظاہر اور باطن ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ جو ان کے دل میں ہو وہ اس کے بر خلاف زبان سے الفاظ ادا کریں۔ اگر انہیں کسی کی کوئی بات بری لگتی ہے تو واضح طور پر اس کا اظہار کر دیتے ہیں اور اگر کوئی بات اچھی لگے تو اس کا بھی بر ملا اظہار کر دیتے ہیں۔
بہتر منصوبہ سازی
یہ لوگ جو بھی منصوبے بناتے ہیں وہ بہتر ہوتے ہیں لیکن ان میں ایک خامی یہ ہوتی ہے کہ ان کے منصوبے اکثر اس لئے قابل عمل ہوتے ہیں کہ ان کے وسائل نا کافی یا حالات ناساز گار ہوتے ہیں لیکن بہرحال ان کے منصوبوں میں کوئی خرابی نہیں ہوتی۔ ان کی اس صلاحیت سے بہت لوگ واقف ہوتے ہیں تو ان میں کوئی کھوٹ نہیں ہوتا، وہ بڑے مخلصانہ اور کسی غرض سے پاک مشورے ہوتے ہیں۔ یہ افراد اپنی صحت، اپنے گھر، مستقبل اور دیگر حوالوں سے اچھے منصوبے بناتے رہتے ہیں، ان میں سے اکثر منصوبوں پر یہ مکمل طور پر عمل کر لیتے ہیں اور اس کے بہتر نتائج سے مستفیذ ہوتے ہیں۔
ذہانت
ان افراد میں ذہانت کی کمی نہیں ہوتی۔ جب یہ اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہیں تو بڑے اچھے نتائج حاصل کرتے ہیں۔ اگر یہ مایوسی یا ڈپریشن کا شکار ہو جائیں تو ان کی ان صلاحیتوں پر برا اثر پڑتا ہے۔ یہ الٹے سیدھے فیصلے کرنے لگتے ہیں، اس لئے ان کے لئے ضروری ہے کہ جب یہ ڈپریشن یا مایوسی کا شکار ہوں تو کوئی فیصلہ نہ کریں بلکہ ڈپریشن اور مایوسی کی کیفیت کو ختم کرنے کی کوشش کریں اسی طرح کی کیفیت میں ا ن سے ایسے فیصلے بھی ہو سکتے ہیں جن پر انہیں بعد میں پچھتانا پڑے۔
بہترین یاد داشت
ان افراد کی یادداشت بہترین ہوتی ہے۔ انہیں اپنے بچپن تک کی اکثر ایسی باتیں تمام جزئیات کے ساتھ یاد ہوتی ہیں جو دوسرے بھول چکے ہوتے ہیں، انہیں یہ یا ہوتا ہے کہ فلاں واقعہ کس وقت پیش آیا، وہاں کتنے لوگ تھے، انہوں نے کیسے کپڑے پہن رکھے تھے اور انہوں نے کیا کیا کہا تھا۔ اچھی یادداشت کی خصوصیتت ان کے بہت کام آتی ہے۔ انہیں امتحانات میں کامیابی ملتی ہے۔ لوگوں سے معاملات طے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ انہیں اپنی غلطیاں بھی یاد ہوتی ہیں اور وہ ایسی غلطیوں کو دہراتے نہیں ہیں۔
صفائی پسند
یہ لوگ صفائی پسند ہوتے ہیں۔ یہ اپنے دفتروں، گھروں اور دیگر استعمال کی جگہوں کو صاف ستھرا رکھتے ہیں، اگر ان کے آفس کا چپڑاسی چھٹی پر ہو تو یہ خود آفس کی صفائی کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ گندی جگہوں اور گندگی سے انہیں نفرت ہوتی ہے۔ یہ ان سے اجتناب کرتے ہیں۔ ان کے کپڑے ہمیشہ صاف ستھرے ہوتے ہیں، یہ خود کو بھی صاف ستھرا رکھتے ہیں اور ان لوگوں سے ہی ملنا پسند کرتے ہیں جو صفائی پسند ہوں۔
کاروباری امور
ان افراد میں کامیاب کاروبار کرنے کی بڑی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ اپنی ذہانت اور خوش مزاجی سے کاروبار کو بہت جلد وسعت دے لیتے ہیں۔ ان کا مزاج اکھڑا نہیں ہوتا جو کہ کاروبار کیلئے زہر قاتل ہے۔ انہیں یہ پتہ ہوتا ہے کہ کس شخص سے کس طرح ڈیلنگ کرنی ہے۔ یہ دوسرے کاروباری لوگوں پر بھی بھر پور نظر رکھتے ہیں اور ان سے بہتر کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ چونکہ دھوکا باز نہیں ہوتے اس لئے صاف ستھرا کاروبار کرتے ہیں، ان پر لوگوں کو یقین ہو جاتا ہے اس لئے لوگ ان سے کاروبار کرنا پسند کرتے ہیں۔ یہ لوگ اگر وقت پڑے تو کم سے کم منافع پر بھی کام کر لیتے ہیں۔ کاروبار میں ہر طرح کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی کو ان سے کوئی شکایت نہ ہو۔ اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لئے یہ اپنا بہترین اسٹاف منتخب کرتے ہیں۔ یہ کاہل، سست اور مفاد پرست قسم کے لوگوں کی چھٹی کرا دیتے ہیں اور مخلص، ایماندار اور ذہین لوگوں کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور انہیں سہولتیں دیتے ہیں تا کہ وہ خوش رہیں، اس طرح ان کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ یہ کائنٹس سے نہایت خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں تحائف وغیرہ بھی دیتے ہیں۔ ساتھ ہی انہیں دیگر تمام ممکنہ سہولتیں دیتے ہیں۔ یوں کلائنٹس ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے اور ان سے کاروبار کرنا پسند کرتے ہیں۔
نڈر اور بے خوف
یہ لوگ نڈر اور بے خوف ہوتے ہیں۔ یہ ایسی خصوصیت ہے جو زندگی کے اکثر مراحل میں انہیں کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔ زندگی میں کئی ایسے موڑ آتے ہیں جہاں بے باکی کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ نتائج اچھے نہیں نکلتے، سرطان افراد میں یہ بے باکی موجود ہوتی ہے۔ اپنی اس صلاحیت کی وجہ سے یہ اچھے لیڈر، وکیل، سوشل ورکر اور مقرر ثابت ہوتے ہیں۔ یہ افراد جب کسی سے بات کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے ذہن میں یہ بات نہیں ہوتی کہ سامنے والاکتنا با اثر ہے بلکہ یہ بے خوفی سے سچ بات کہہ رہے ہوتے ہیں۔ یوں اکثر لوگ ان کے دشمن بھی بن جاتے ہیں۔ مثلاً اگر یہ اخباری لائن میں آ جائیں تو یہ چشم کشا رپورٹس شائع کرتے ہیں جس سے مختلف حیران کن باتیں تو سامنے آتی ہیں لیکن اس سے متعلقہ لوگ ان کے دشمن بن جاتے ہیں۔ یہ ایسی دشمنیوں سے نہیں ڈرتے اور اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ اس طرح اگر یہ سوشل ورکر ہوں تب بھی ان کا یہی حال ہوتا ہے۔ یہ غلط لوگوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان کے خاتمے کے لئے کام کرتے ہیں، یوں یہاں بھی انہیں دشمنیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ یہ دشمنیوں سے ڈرتے نہیں ہیں۔ اس طرح جہاں انہی نقصان پہنچتا ہے وہاں انہیں یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ یہ لوگوں میں مقبول ہو جاتے ہیں اور لوگ ان سے متاثر بھی بہت ہوتے ہیں۔ یہ لوگ جن کی بات کوئی نہیں سنتا وہ اپنی فریاد لے کر ان لوگوں کے پاس آ جاتے ہیں، یہ انہیں مایوس کرتے اور ان کی پوری پوری مدد کرتے ہیں۔
ادیب اور شاعر
یہ افراد بہترین ادیب اور شاعر ہوتے ہیں۔ ان شعبوں میں یہ دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کی سوچ اور فکر الگ نوعیت کی ہوتی ہے۔ اگر یہ افسانہ نگاری کریں تو معاشرے کے المیوں کو نہایت پر اثر انداز میں تحریر کرتے ہیں اور شاعری میں بھی ان کا یہی حال ہوتا ہے۔ یہ اپنی تحریروں کے ذریعہ معاشرے کے مسائل اجاگر کرتے ہیں۔اور ان کا حل بھی پیش کرتے ہیں یہ اپنے شعبے میں کوئی بے ایمانی نہیں کرتے اس لئے بہت جلد مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں۔
آرٹ
آرٹس کی طرف بھی ان افراد کا جھکاؤ ہوتا ہے۔ یہ آرٹ کے جس شعبے کی طرف بھی آئیں خود کو بہت جلد منوا لیتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ بہت محنتی اور ذہین ہوتے ہیں۔ اگر یہ مصور ہیں تو ان کی نگاہ ہم عصر مصوروں پر ہوتی ہے، یہ ان کے بارے میں جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور یہ ان سے مختلف اور منفرد کا م پیش کرتے ہیں، یہ اپنی تصویروں میں ایسے رنگ استعمال کرتے ہیں جو وہی تاثر دے سکیں جو وہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح ان کی توجہ تصویر کی دیگر باریکیوں کی جانب بھی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر یہ گلو کار، ادا کار یا موسیقار وغیرہ ہیں تب بھی یہ محنت اور ریاضت کر کے خود کو منوا لیتے ہیں اور ان شعبوں میں بھی ان کی انفرادیت برقرار رہتی ہے۔ یہ اچھی آواز پیش کرتے ہیں۔ ان کی ادا کاری لا جواب ہوتی ہے اور ان کی دھنیں تاثر انگیز ہوتی ہیں۔
تنہائی پسند
معاشرے میں اہم کردار ادا کرنے کے باوجود یہ لوگ تنہائی پسند ہوتے ہیں۔ یہ تمام امور نمٹانے کے بعد تنہا بیٹھنا پسند کرتے ہیں، اس طرح انہیں دلی تسکین ملتی ہے۔ ایسے میں یہ اپنا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں، اپنی خامیوں کو تلاش کرتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ ان کی کارکردگی کیا کر رہی ہے۔ مستقبل کے لئے اچھے منصوبے بناتے ہیں۔ یہ لوگ گھروں میں رہنا پسند کرتے ہیں، باہر کی دنیا سے انہیں خاصی دلچسپی نہیں ہوتی۔ یہ باہر کے معاملات میں اس حد تک الجھتے ہیں جہاں تک یہ ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ اگر ان کے پاس وقت ہو تو یہ باہر رہنے کی بجائے گھر میں رہنا پسند کریں گے۔
قدامت پسند
دیگر گئی برجوں سے تعلق رکھنے والے افراد جدت پسند ہوتے ہیں اور پرانی روایات سے انہیں دلچسپی نہیں ہوتی لیکن سرطان افراد ان کے بر عکس قدامت پسند ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی روایات سے بڑی عقیدت اور محبت ہوتی ہے۔ یہ ان کا بڑا خیال رکھتے ہیں۔ جدت کی طرف ان کا رجحان کوئی خاص نہیں ہوتا۔ اگر ان کے پاس اپنے کسی بزرگ کی بڑی تصویر ہو تو یہ اسے اسٹور میں رکھنا پسند نہیں کریں گے بلکہ یہ اسے ڈرائنگ روم کی زینت بنائیں گے، ہر آنے جانے والے یہ فخریہ انداز میں اس ہستی کا تعارف کرائیں گے۔
صحت
مجموعی طور پر ان کی صحت اچھی رہتی ہے لیکن یہ اکثر پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ ان کا معاہدہ کافی کمزور ہوتا ہے۔ یہ اعصابی مرض میں مبتلا رہتے ہیں۔ ویسے یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ ان کے اعصاب کافی کمزور ہوتے ہیں اور ذرا ذرا سی باتوں کا گہرا اثر لیتے ہیں جس کی وجہ سے یہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ انہیں مختلف اعصابی امراض گھیرے رہتے ہیں۔ لیکن ایسا معاملہ تمام سرطان لوگوں کے ساتھ نہیں ہوتا، ان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو قابل رشک صحت کے مالک ہوتے ہیں اور اعصابی امراض سے بھی دور ہوتے ہیں۔
مزاج میں تبدیلی
ان لوگوں کا مزاج وقتاً فوقتاً بدلتا رہتا ہے۔ یہ اپنے مزاج کو ایک جیسا ہی رکھنے پر قادر نہیں ہوتے۔ اگر یہ کسی وقت خوب ہنس ہنس کر باتیں کر رہے ہوتے ہیں تو ضروری نہیں ہے کہ ذرا دیر بعد بھی ان کا رویہ ایسا ہی ہو۔ اس وقت یہ انتہائی رنجیدہ بھی ہو سکتے ہیں جو لوگ ان کے قریب رہتے ہیں ان کی اس عادت سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں لیکن جو قریب نہیں رہتے ان کے لئے ان کا ایسا رویہ نہایت پریشان کن اور حیران کن ہوتا ہے۔ بہر حال وہ ان سے جلد ہی محتاط ہو جاتے ہیں۔
خاموشی پسند
ویسے تویہ لوگ نڈر، بے باک اور بے خوف ہوتے ہیں۔ جب یہ بات کر رہے ہوتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان سے اچھی اور مدلل گفتگو کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بھی یہ لوگوں سے گھل مل کر بات چیت کرتے ہیں جہاںیہ اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں بلا وجہ گفتگو یہ پسند نہیں کرتے اور خاموش رہتے ہیں۔
کاہل
ان کی اکثر حرکات سے یوں ظاہر ہوتے ہیں جیسے کاہل اور سست ہیں لیکن بوقت ضرورت ا ن کی تیزی اور مستعدی قابل رشک ہوتی ہے۔ یہ لوگ چونکہ موڈی ہوتے ہیں اور ان کا موڈ ذرا ذرا دیر بعد بدلتا رہتا ہے اس کا اثر ان کے معاملات پر بھی پڑتا ہے کبھی ان کا موڈ کام کرنے کا نہیں ہوتا، ان پر اس وقت جتنا دباؤ ڈالا جائے گا یہ کام کر کے نہیں دیتے، ایسے میں ان پر کاہل اور سست کا لیبل درست طور پر چسپاں کیا جاتا ہے اگر ذرا ہی دیر بعد ان کا موڈ بدل جائے اور یہ کام کرنے پر آمادہ ہو جائیں تو پھر ان سے زیاہ ایکٹو کوئی نہیں ہو سکتا، ان کی مستعدی اور پھرتی قابل دید ہوتی ہے۔
مرغن غذائیں
ان افراد کو مرغن غذائیں بہت پسند ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے اکثر یہ فربہ ہو جاتے ہیں۔ چونکہ صحت کے معاملے میں یہ بڑے حساس ہوتے ہیں اس لئے اگر ذرا سے موٹے ہو جائیں تو پریشان ہو جاتے ہیں اور فوراً اپنے موٹاپے کو کنٹرول کرنے کی تدبیریں کرنے لگتے ہیں۔ ان افراد کے لئے بہتر یہی ہے کہ مرغن غذاؤں کا زیادہ استعمال نہ رکھیں کیونکہ اس طرح یہ دل کے عارضے میں بھی مبتلا ہو سکتے ہیں۔ یہ ایسی غذاؤں کا انتخاب کریں جو کسی بیماری کا سبب نہ بنیں۔
قدرتی مناظر کے دلدادہ
یہ افراد قدرتی مناظر کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ یہ اکثر ساحل پر جاتے رہتے ہیں اور وہاں سمندر کا نظارہ کر کے دلی تسکین محسوس کرتے ہیں۔ اس طرح سر سبزو شاداب علاقوں میں بھی یہ جا کر رہتے ہیں۔ پھول، پودے اور درخت وغیرہ انہیں بہت پسند ہوتے ہیں، بارشوں میں خوب خوش ہوتے ہیں، فرحت بخش ہواؤں کے متلاشی ہوتے ہیں۔
کفایت شعار
عام حالات میں یہ افراد بہت کفایت شعار ہوتے ہیں۔ بہت سوچ سمجھ کر رقم خرچ کرتے ہیں اور ذرا سی فضول خرچی کو بھی پسند نہیں کرتے لیکن بعض اوقات ان پر جیسے فضول خرچی کا بھوت سوار ہو جاتا ہے۔ یہ اپنی تمام احتیاطوں کو بالائے طاق رکھ کر رقم خرچ کرتے ہیں لیکن ایسا یہ کبھی کبھار ہی کرتے ہیں عام طور پر یہ کفایت شعار ہی ہوتے ہیں۔
گھر سے محبت
یہ لوگ اپنے گھر اور اہل خانہ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ یہ گھروں کو بناتے اور سنوارتے ہیں۔ اکثر ایسی چیزیں خرید کر لاتے رہتے ہیں جو ان کے گھر کی سجاوٹ میں اضافہ کریں۔ گھریلو معاملات پر ان کی گہری نظر ہوتی ہے۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ان کے گھر میں کس چیز کی ضرورت ہے اور کیا چیز ختم ہو گئی ہے۔ یہ اہل خانہ کے جذبات اور ضرورتوں کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔ انہیں سیرو تفریح کے لئے بھی لے جاتے ہیں۔ ا ن کی کوشش ہوتی ہے کہ گھر ان کا اپنا ہو، اگر یہ کرایے کے مکان میں رہ رہے ہوتے ہیں تو پورے طور پر کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح ان کا اپنا گھر ہو جائے اور جب ان کا اپنا گھر ہو جاتا ہے تو یہ اسے خوبصورت رکھتے ہیں اور سجاتے سنوارتے ہیں۔
شراکت داری
ویسے تو ان لوگوں میں اتنی صلاحیت ہوتی ہے کہ یہ اپنا کاروبار اکیلے ہی سنبھال سکیں لیکن اگر یہ کسی سے شراکت داری کر لیں تو مزید ترقی کر سکتے ہیں۔ اس طرح کرنے سے ان کے اعصاب کو سکون ملتا ہے۔ انکے پارٹنرز ان کے کاروبار کی آدھی ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں۔ کسی پارٹنر کے ہونے سے ان پر یہ خیال حاوی رہتا ہے کہ ان کی کسی پریشانی کی صورت میں کاروبار کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور ان کا پارٹنر ان کی پریشانی ختم ہونے تک اسے خوب اچھی طرح سنبھال لے گا۔ پارٹنر کی موجودگی میں ان کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور ان کی تخلیقی صلاحیتیں مزید ابھر کر سامنے آتی ہیں۔
انتہا پسند
ان میں سے بیشتر افراد انتہا پسند ہوتے ہیں۔عام حالات میں انہیں دیکھ کر یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ کوئی انتہا پسندانہ قدم اٹھا سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام حالات میں یہ بالکل بے ضرر سے معلوم ہوتے ہیں لیکن یقیناًآپ نے یہ مثال سنی ہو گی کہ اگر چیونٹی پیر کے نیچے آ جائے تو وہ کاٹ لیتی ہے حالانکہ وہ بڑی بے ضرر سی ہوتی ہے، اسی طرح اگر ان افراد کو بے جا تنگ کیا جائے تو یہ مشتعل ہو جاتے ہیں۔ معاملے کی نوعیت اگر ایسی ہو کہ قابو میں نہ آئے تو پھر یہ لوگ بڑے سے بڑا قدم اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے، یہ مغلظات سے بھی دوسرے کی تواضع کرتے ہیں اور ہاتھ پیر بھی چلا سکتے ہیں اور زیادہ مشتعل ہو جائیں تو کسی ہتھیار وغیرہ استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ انکے لئے بہتر ہے کہ اپنے غصے پر کنٹرول پائیں اور ان کے قریبی دوستوں اور احباب کو چاہئے کہ اگر یہ کسی وقت مشتعل ہو جائیں تو کسی نہ کسی طرح بات کو ختم کرنے کی کوشش کریں ورنہ کسی بڑے نقصان کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ انتہا پسندی کا مظاہرہ صرف غصے میں ہی نہیں کرتے ہیں بلکہ مذہب یا دیگر کسی معاملے میں بھی یہ ایسا رویہ اختیار کر سکتے ہیں، اس لئے مناسب یہی ہے کہ ہر معاملے میں اعتدال کا دامن تھامیں۔ کون ایسا فرد ہوتا ہے جو خود اپنا نقصان کرنا پسند کرے گا، اس طرح سرطان افراد بھی اپنا نقصان پسند نہیں کرتے لیکن غصہ انسان کی عقل کو ختم کر دیتا ہے اور اکثر انسان غصے میں وہ کچھ کر جاتا ہے جو عام حالات میں وہ تصور بھی نہیں کر سکتا، غصے کے عالم میں سرطان افراد بھی ایسی حرکتیں کر سکتے ہیں لہٰذا ان کے لئے ضروری ہے کہ غصے پر قابو پائیں
خوش اخلاق
انسان اگر کسی سے خوش اخلاقی سے مل لے تو وہ سامنے والے کا دل جیت لیتا ہے لیکن یہ وصف بہت کم لوگوں میں ہوتا ہے، بہر حال سرطان افراد ایسے ہوتے ہیں جو یہ خصوصیت رکھتے ہیں، ان میں بہت ملنساری ہوتی ہے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ یہ اپنے رویے سے کسی کی دل شکنی نہ کریں اس لئے یہ ہر بات نہایت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔[ ان کے لہجے میں بڑی مٹھاس ہوتی ہے، جسے سننے والا بے حد پسند کرتا ہے، ان کی نرم و ملائم گفتگو دوسرو ں کے دلو ں میں اتر جاتی ہے۔ یہ طنز اور تنقید کو نہ تو برداشت کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کے لئے ایسا کرنا پسند کرتے ہیں۔ لیکن اکثر یہ انجانے خوف کا شکار ہو کر ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو دوسروں کے دل شکنی کا سبب بنتی ہیں۔ جب یہ اپنے اس خوف اور ڈپریشن سے باہر آتے ہیں تواپنے رویے کی معافی مانگ لیتے ہیں اور یہ واضح کر دیتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا تھا وہ دانستہ نہیں بلکہ نا دانستہ طور پر ہوا ہے۔ یہ لوگ بچوں سے بڑی محبت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خود بھی بچے بن جاتے ہیں، ان سے کھیلتے کودتے ہیں اور انہیں ٹافیاں، مٹھائیاں اور کھلونے وغیرہ لا کر دیتے ہیں، بچے ان سے بہت خوش رہتے ہیں۔
جذباتی
دنیا کا کوئی ایسا انسان نہیں جو جذبات سے آزاد ہو، یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگوں پر جذبات زیادہ حاوی رہتے ہیں اور کچھ لوگ جذبات پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ سرطان افراد کا استعمال ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جو جذبات کی گرفت میں رہتے ہیں۔ یہ کسی بھی جذباتی مرحلے پر آنسو بہا سکتے ہیں اور کسی دوسرے ایسے ہی مرحلے پر آپے سے باہر ہو سکتے ہیں۔ جذبات پر قابو نہ ہونے کا احساس ان لوگوں کو خوب ہوتا ہے لیکن یہ اس معاملے میں خود کو مجبور سمجھتے ہیں۔ یہ فیصلہ تو کر لیتے ہیں کہ اب کبھی جذباتی پن کا مظاہرہ نہیں کریں گے لیکن جب وقت آتا ہے تو یہ اپنا فیصلہ بھول جاتے ہیں اور ایک بار پھر جذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں۔ ان کے جذبات کا تعلق صرف ان کی اپنی ذات تک نہیں ہوتا بلکہ یہ دوسروں کے جذبات کا بھی پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے رویے سے کسی کے جذبات مجروح نہ ہوں۔ ان کی شخصیت کا ایک عجیب و غریب پہلو یہ بھی ہے کہ اکثر یہ جذباتی ہو کر دوسروں پر شک کرنے لگتے ہیں۔ یہ اپنے دوستوں سے بھی کسی قسم کا مشورہ نہیں لیتے۔ انہیں دنیا کا ہر انسان دشمن نظر آنے لگتا ہے، یوں کہنا چاہئے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے جذبات کا ایسا پردہ آ جاتا ہے جو ان کی عقل کو ماؤف کر دیتا ہے۔ جذبات کی آندھی انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ ایسے میں اگرکوئی ان سے ہمدردی کرنے کی کوشش کرے تو یہ اس سے بھی اچھا رویہ اختیار نہیں کرتے۔ جو لوگ ان کی اس عادت سے واقف ہوتے ہیں وہ دوران جذبات انہیں مشورہ دینے یا ان سے ہمدردی کرنے کی بجائے انہیں سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت ہر مشورہ پر ہمدردی فضول ہو گی۔
ثابت قدم
انسان کی زندگی میں بے شمار نشیب و فراز آتے ہیں۔ اکثر ایسا وقت آتا ہے جب انسان دل برداشتہ ہو جاتا ہے اور مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبتا چلا جاتا ہے، اسے بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی ہوتی، بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ان حالات میں ثابت قدم رہ سکیں۔ سرطان افراد میں یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ بہت سی ناکامیوں اور مصیبتوں پر ثابت قدم رہتے ہیں ان کے حوصلے پست نہیں ہوتے اور ان کی عقل پورے طور پر کام کر رہی ہوتی ہے۔ یہ بات تو ہے کہ یہ افراد اکثر نامناسب حالات سے گھبرا جاتے ہیں اور ایسے میں اوٹ پٹانگ حرکتیں بھی کرتے ہیں لیکن بہرحال اگر یہ اس گھبراہٹ پر قابو پا لیں تو ان کے اندر حالات سے لڑنے کا نیا جوش اور ولولہ پیدا ہوتا ہے ویسے اکثر اوقات یہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پا کر نئے عزم وحوصلے کے ساتھ قدم بڑھاتے ہیں۔ یہ کچھ حالات پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ یہ ثابت قدم رہنے پر کتنے مجبور ہیں۔ عام حالات میں تو شاید انہیں اس طرح کرنے میں کچھ وقت لگے لیکن اگر حالات دوسری نوعیت کے ہوں تو پھر ان کی ثابت قدمی قابل دید ہوتی ہے مثلاً اگر یہ محاذ جنگ پر ہیں اور دشمن ان پر غلبہ پا رہا ہے تو ایسے حالات میں مایوسی ان پر غلبہ نہیں پائے گی بلکہ ان کے اندر کامیابی حاصل کرنے کیلئے جذبہ موجزن ہو جائے گا۔ اس طرح اگر یہ پولیس کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور مجرموں نے ان کے لئے مایوس کن صورت حال پیدا کر دی ہے تو یہ مایوس نہیں ہوں گے بلک یہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں گے او ر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی پوری پوری کوشش کریں گے۔
فربہی مائل
جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں تذکرہ کر چکے ہیں کہ یہ افراد مرغن غذاؤں کے بڑے شوقین ہوتے ہیں۔یہ غذائیں ویسے تو ان کے جسم کے لئے فائدہ مند بھی ہوتی ہیں لیکن جب ان کا زیادہ استعمال شروع ہو جائے تو یہ نقصان دہ ثابت ہونے لگتی ہیں۔ ان افراد کا جسم فربہی مائل ہو جاتا ہے۔ موٹاپا کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔ اس سے بے شمار بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ خاص طور پر اس سے ہارٹ اٹیک کا خطرہ رہتا ہے۔ سرطان افراد جب کھانے پر آتے ہیں تو کھاتے ہی چلے جاتے ہیں۔ یہ زبان کے زائقے اور پیٹ کو تسکین دینے کی خاطر تمام خطرات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ اس بات کا بالکل احساس نہیں کرتے کہ یہ مرغن غذائیں انہیں کتنے مسائل سے دوچار کر دیں گی۔ ان کے لئے دوڑنا تو کیا چلنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دشواری محسوس کرتے ہیں اور ہانپنے لگتے ہیں، اس کے علاوہ یہ کسی قسم کی تیز سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتے، کھیل کود ان کے بس کی بات نہیں رہتی۔غرض ان کی زبان کا چٹخارہ ان کے لئے بے شمار مصبتیں لے کر آتا ہے اور یہ تمام مصیبتوں کو گلے لگا لیتے ہیں لیکن کھانا ترک کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ ان افراد کو چاہئے کہ کھانے کے معاملے میں احتیاط سے کام لیں۔ خاص طور پر ایسی غذاؤں سے پرہیز کریں جو ان کے موٹاپے کا سبب بنے اور بے شما ر بیماریوں کا شکار ہو جائیں۔
کینہ اور بغض
دنیا کے اکثر لوگوں میں کینہ اور بغض رکھنے کی عادت ہوتی ہے لیکن سرطان افراد ایسی خامیوں سے دور ہوتے ہیں۔ جو شخص صاف گو ہو گا، اس کے لئے دل میں کینہ اور بغض نہیں ہوگا۔ سرطان افراد بھی چونکہ صفا گو ہوتے ہیں، جو ان کے دل میں ہوتا ہے اس زبان پر بھی لے آتے ہیں اس لئے یہ کسی کے لئے بغض اور کینہ نہیں رکھتے۔ اکثر لوگوں سے ان کی تلخ کلامی اور جھگڑے ہو جاتے ہیں، انکے خلاف انہوں نے جو کچھ کرنا ہوتا ہے وہ موقع پر ہی کر لیتے ہیں، یہ اس فرد کے خلاف دل میں کوئی بات نہیں رکھتے۔ اکثر لوگ دوسروں کی ترقی دیکھ کر جل اٹھتے ہیں۔ وہ ان کے خلاف دل میں حسد کا جذبہ رکھتے ہیں اور بعض اوقات تو انہیں ناکام کرنے کے لئے بھی اقدامات کر ڈالتے ہیں لیکن سرطان افراد ایسے لوگوں میں سے نہیں ہوتے بلکہ یہ دوسروں کی کامیابیوں پر خوش ہوتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اکثر لوگوں کو ان کے اس رویے پر شک ہونے لگتا ہے کہ شاید یہ دکھاوا کر رہے ہیں جبکہ درحقیقت یہ جو کچھ کر رہے ہوتے ہیں، اس میں دکھاوے کا کوئی عنصر شامل نہیں ہوتا۔
دور اندیشی
ان لوگوں میں دور اندیشی کی خصوصیت بھی موجود ہوتی ہے۔ یہ آنے والے خطرات کو محسوس کر لیتے ہیں۔ انہیں یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ آئندہ کس قسم کے حالات آنے والے ہیں۔ یہ ان کی کوئی روحانی صلاحیت نہیں ہوتی بلکہ ان کی ذہانت ہوتی ہے۔
کمزوروں کی مدد
یہ ذرا مختلف قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ لوگ جب اپنے سے کمزو ر لوگوں کو دیکھتے ہیں تو ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں یا ان سے ہتک آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں لیکن سرطان افراد کے ساتھ معاملہ اس کے بر عکس ہوتا ہے۔ یہ کمزوروں کو دیکھ کر ان کے لئے ہمدردی محسوس کرتے ہیں، ان سے فائدہ اٹھانے کی بجائے ان کی مدد کرتے ہیں اور ہتک آمیز رویہ اختیار کرنے کی بجائے ان سے پیار محبت سے پیش آتے ہیں۔ یہاں بھی ان لوگوں کو دیگر افراد کی طرف سے یہ سننا پڑتا ہے کہ یہ دکھاوا کر رہے ہیں حالانکہ یہ جو کچھ کر رہے ہوتے ہیں سچے دل سے کر رہے ہوتے ہیں۔ ان افراد کا یہ رویہ ان لوگوں کے لئے تو وقعی فائدہ مند ہوتا ہے جو مستحق ہوتے ہیں لیکن ان کی اس ہمدردانہ طبیعت کی وجہ سے بہت سے لوگ ان سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اکثر لوگ ان سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں لیکن جب وہ پہچانے جاتے ہیں تو یہ افراد ان سے قطع تعلق کر لینا بہتر سمجھتے ہیں۔
مغرور
یہ افراد مغرور نہیں ہوتے لیکن ان کی کم گوئی کی وجہ سے لوگ انہیں مغرور سمجھنے لگتے ہیں، مگر وہ لوگ جو ان کے قریب ہوتے ہیں، وہ ان کی کم گوئی کی عادت سے واقف ہوتے ہیں، وہ انہیں مغرور نہیں سمجھتے ۔
مخلص
خلوص ان لوگوں کے دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ ویسے تو یہ تمام لوگوں سے ہمدردی رکھتے ہیں لیکن جو لوگ ان کے قریب ہوتے ہیں، ان کے لئے یہ بہت زیادہ مخلص ہوتے ہیں۔ یہ ان کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ ان کے لئے ایسے اقدامات کرتے ہیں جن سے انہیں زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔ ان کے سامنے ان کے دوستوں وغیرہ کو کوئی بر انہیں کہہ سکتا۔ جب ان کے کسی عزیز پر برا وقت آتا ہے تو یہ اس سے اصل مسئلہ پوچھتے ہیں اور اندازہ کرتے ہیں کہ اس کی کیا ضروریات ہیں اور اسے کس قسم کی مدد کی ضرورت ہے، پھر یہ اس حساب سے ان کی بھرپور مدد کرتے ہیں۔ ان کے دوستوں اور عزیزوں کو اکثر ان کا یہ رویہ بہت عجیب سا لگتا ہے کہ یہ اکثر ان سے دور دور اور خاموش رہنے لگتے ہیں لیکن در حقیقت یہ افراد ان سے دور نہیں ہوتے، ان کے دل میں ان کے لئے بھرپور محبت ہوتی ہے لیکن کسی سے دور ہو جانا اور خاموش رہنا ان کی فطرت کا حصہ ہے، اکثر انہیں تنہائی کی ضرورت ہوتی ہے، یہ تنہائی میں خود کو بہت پر سکون اور مطؤن سمجھتے ہیں ۔ اس وقت یہ بہت کچھ سوچتے ہیں۔ اپنے معاملات پر غور کرتے ہیں اور انہیں ایسے اوقات میں کسی اور کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ صرف تنہائی چاہتے ہیں۔ جو لوگ ان کی اس عادت سے واقف ہوتے ہیں وہ ایسے وقت میں انہیں بھرپور تنہائی کا موقع دیتے ہیں۔
شرمیلے
ویسے تویہ افراد بہت با اعتماد نڈر اور بے بکا ہوتے ہیں، انہیں دیکھ کر کوئی یہ اندازہ نہیں کر سکتا کہ ان میں شرمیلا پن بھی ہو گا لیکن شرمیلا پن ان کی فطرت کا حصہ ہے، ایسی کیفیت ان پر کبھی کبھار آتی ہے۔ ایسے اوقات میں ان میں عجیب و غریب تبدیلیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ ان کے اعتماد میں کمی واقع ہو جاتی ہے، ان کی بے باکی اور بے خوفی ناجانے کہاں چلی جاتی ہے۔ ان کی آواز بھی بے اعتماد ہو جاتی ہے۔ یہ ان کی بہت بڑی خامی ہے جو ان کی شاندار شخصیت کو بہت متاثر کرتی ہے۔ وہ لوگ جو ان سے مرعوب ہوتے ہیں ان کا شرمیلا پن دیکھ کر ان پر غلط اثر پڑتا ہے اور سارا رعب ختم ہو جاتا ہے۔
اصول پسند
یہ بڑے اصول پسند ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی کے اکثر معاملات اصولوں کے مطابق ہوتے ہیں۔ یہ سونے جاگنے کا ایک وقت مقرر رکھتے ہیں۔ کام کے لئے انہوں نے اوقا ت مقرر کئے ہوتے ہیں، زندگی کے دیگر معاملات کے لئے بھی انہوں نے مختلف اصول بنائے ہوتے ہیں، صرف یہ کھانے پینے کے بارے میں کوئی اصول مرتب نہیں کر سکتے۔ من پسند غذائیں دیکھ کر یہ لوگ بے قابو ہوجاتے ہیں۔ خوب ڈٹ کر کھاتے ہیں اور پریشانیوں سے دو چار ہوتے ہیں۔ انہیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ غذا کے بارے میں ان کا کوئی اصول نہیں ہے، یہ اکثر اس سلسلے میں کوئی نہ کوئی اصول مرتب بھی کرلیتے ہیں لیکن جب ان پر کھانے کا جنون سوار ہوتا ہے تو یہ اپنے اصول بھول جاتے ہیں۔ اصول پسند ہونے کے ساتھ ساتھ یہ قانون پسند بھی ہوتے ہیں۔ یہ قانون کی پابندی کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اگر سڑک خالی ہو اور ان کے پاس اپنی گاڑی آگے لے جانے کا موقع بھی ہو لیکن سگنل سرخ ہو جائے تو تب بھی یہ گاڑی روک لیں گے اور سگنل کو گرین ہونے کا انتظار کریں گے۔ یہ لوگ نہ تو خود قانون شکن ہوتے ہیں اور نہ ہی قانون شکنوں کو پسند کرتے ہیں۔ انہیں جرائم پیشہ افراد سے شدید نفرت ہوتی ہے، اگر یہ کالم نگار ہوں تو ایسے افراد کے بارے میں خوب لکھتے ہیں اور ان کی نشاندہی کرتے ہیں، اسی طرح اگر یہ پولیس کے محکمے میں ہوں تو انہیں اپنی فطرت کے عین مطابق مجرموں کے خلاف بھڑاس نکالنے کا بھرپور موقع ملتا ہے۔ یہ اپنے بچوں کو بھی اصولوں اور قانون پسندی کا درس دیتے ہیں
یہ صفحات اسی زمرے میں ہیں
متعلقہ مضامین
6 مضامینحوت
حوت حساس، تخیل میں ڈوبا ہوا اور دوسروں کے لیے شفقت لاتا ہے۔
دلو
دلو مستقبل کو دیکھتا ہے، نئے آئیڈیاز اور انسانیت کی خدمت کے لیے سرگرم رہتا ہے۔
جدی
جدی ذمہ داری قبول کرتا ہے، عرصہ دراز کی منصوبہ بندی اور احتساب میں یقین رکھتا ہے۔
قوس
قوس سچائی کا متلاشی، سفر اور نئی دفتروں کے دروازے کھولتا ہے۔
عقرب
عقرب گہری سوچ رکھنے والا، راز اور دوبارہ پیدا ہونے کا کردار ادا کرتا ہے۔
میزان
میزان توازن کا ماہر، حسین منظر اور تعلقات میں ہم آہنگی پسند کرتا ہے۔
یہ مضامین آپ کی دلچسپی کے ہو سکتے ہیں