مکمل راستہ
برج
اسد
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 24؍ جولائی تا 23؍ اگست حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ شمس نشان ۔۔۔۔۔۔ شیر ببر موافق دن ۔۔۔۔۔۔ اتوار، پیر، جمعرات موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ سنہری، زرد، نارنجی موافق دھات ۔۔۔۔۔۔ سونا موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ پکھراج، ہیرا ، یاقوت عنصر ۔۔۔۔۔۔ آگ موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 4
برج اسد سے تعلق رکھنے والے مردوں کی خصوصیات
عجیب رویہ
تفصیل
ان لوگوں کا ایک عجیب رویہ کبھی کبھار لوگوں کے سامنے آتا ہے کہ یہ اچانک بالکل بے فکر ہو جاتے ہیں، ان کا جوش ختم ہو جاتا ہے اور لوگ حیران ہوتے ہیں کہ ان کے رویے میں اچانک تبدیلی کیوں آ گئی ہے لیکن بھلا لوگ اس بارے میں کیا جان سکتے ہیں کیونکہ اسد افراد خود اپنے اس رویے کے بارے میں نہیں جان سکتے بس یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ان کی فطرت کا ایک حصہ ہے۔ تقریباً ہفتہ یا دس بارہ دن ان کی یہی کیفیت رہتی ہے ان کے کام ادھورے پڑے رہتے ہیں یہ لوگوں اور کاموں سے لاتعلق رہتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں کسی بات کی فکر نہیں ہے۔ اگر ان کا نقصان بھی ہو رہا ہوتا ہے تو یہ اس کی فکر نہیں کرتے لیکن پھر یہ اپنی اصلی حالت کی طرف آنے لگتے ہیں۔ ان کا جوش واپس آنے لگتا ہے یہ لوگوں سے بات چیت شروع کر دیتے ہیں انہیں یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ ان کا بڑا نقصان ہوا ہے۔ ان لوگوں کو چاہئے کہ: ایسی کیفیت کے لئے تیار رہیں اور دوسروں کو بتا کر رکھیں کہ اگر ایسا ہو تو وہ ان کے زیر تکمیل کاموں کو جاری رکھیں۔ دوستوں سے کہہ رکھیں کہ اگر ان کا رویہ اچانک بدل جائے تو اس کا برا نہ مانیں کیونکہ فطری طور پر ان کے ساتھ ایسا معاملہ ہے
متعلقہ صفحات
43 صفحاتذہانت سے بھرپور
یہ لوگ ذہانت سے بھرپور ہوتے ہیں ہر کام کو سوچ سمجھ کر کرنا ان کی فطرت کا خاصہ ہے۔ اپنی ذہانت کے بل بوتے پر یہ بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کرتے ہیں اس وجہ سے اکثر لوگ ان سے بھی حسد بھی کرنے لگتے ہیں لیکن بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان کی صلاحیتوں کے معترف ہوتے ہیں اور مختلف معاملات میں ان سے صلاح مشورہ نہ صرف پسند کرتے ہیں بلکہ ضروری بھی سمجھتے ہیں۔ ان افراد میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ اگر یہ کوئی کام کرنے کا ارادہ کریں تو جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرتے بلکہ پہلے اس کام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں سے صلاح مشورے کرتے ہیں جو پہلے یہ کام کر چکے ہوں۔ جب یہ اس بات سے پوری طرح مطئن ہو جاتے ہیں کہ اب کام شروع کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے تو یہ کام شروع کر دیتے ہیں۔ تمام تر معلومات کے باوجود یہ پھر بھی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرتے اور بہت سوچ سمجھ کر کام کرتے ہیں۔ زندگی کا کوئی بھی میدان ہو ان کا رویہ ایسا ہی ہوتا ہے، اسی وجہ سے اکثر کامیابی ان کے قدم چومتی ہے
آزاد طبع
یہ لوگ آزاد طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ کسی کا حکم ماننا ان کے لئے بے حد تکلیف دہ ہوتا ہے،یہ اگر کہیں ملازمت بھی کرتے ہیں تو افسران کی صرف اُن باتوں کی تعمیل کرتے ہیں جنہیں یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کے فرائض میں شامل ہیں، اس کے علاوہ اگر افسران بلا وجہ انہیں مرعوب کرنے کی کوشش کریں تو تلخ رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اپنی آزاد طبیعت کی وجہ سے یہ کسی بھی شعبے میں یکسانیت کو پسند نہیں کرتے۔ یہ اکثر ملازمتیں بدلتے رہتے ہیں اور اگر ان کا اپنا کاروبار ہو تو اس میں بھی وقتاً فوقتاً تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کے ذہن میں پیدائشی طور پر یہ بات سمائی ہوتی ہے کہ یہ دوسروں پر حکم چلانے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ ان کی یہ عادت جہاں انہیں کئی مواقع پر فائدے دیتی ہے وہیں یہ نقصان بھی اٹھاتے ہیں۔ مثلاً اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یہ کسی شعبے کے بارے میں تھوڑی بہت شُد بُدھ حاصل کر لیتے ہیں اور پھر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب یہ اُس شعبے کے ماہر ہو گئے ہیں، لوگ حقیقت حال سے واقف ہوتے ہیں اس لئے یا تو انہیں مذاق کا نشانہ بناتے ہیں یا پھر ان سے قطع تعلق کر لیتے ہیں۔
مضبوط قوت ارادی
یہ مضبوط قوت ارادی کے مالک ہوتے ہیں یہ جو ارادہ کر لیتے ہیں اس سے انہیں ہٹانا نا ممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہوتا ہے۔ انسان کی زندگی میں اکثر ناکامیاں آتی رہتی ہیں، ایسے حالات میں بہت سے لوگ دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔ ایسے بے شمار واقعات ہمارے ارد گرد پھیلے ہوئے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ناکامی کو برداشت کرنا بہت مشکل ہے، کئی لوگوں نے کسی کام میں ناکام ہو جانے پر خود کشی تک کی ہے۔ اسد افراد کی زندگی میں بھی بہت سی ناکامیاں آتی ہیں جو چھوٹی بھی ہوتی ہیں اور بڑی بھی لیکن ان لوگوں میں بڑا حوصلہ ہوتا ہے، یہ ان ناکامیوں سے گھبراتے نہیں ہیں، ان کے اعصاب پر ایسی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے یہ حوصلے سے ان باتوں کو سہہ جاتے ہیں اور تحمل سے ان امور کا جائزہ لیتے ہیں جن کی وجہ سے یہ ناکام ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ ایک بار پھر کمر باندھتے ہیں اور کامیابی حاصل کرنے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں اور اکثرا یسا ہوتا ہے کہ کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔ یہ افراد اپنی اس عادت کی وجہ سے بڑے خطرناک کاموں میں بھی ہاتھ ڈالتے ہیں جبکہ بیشتر لوگ ایسے کاموں سے بہت گھبراتے ہیں۔ یہ لوگ جو کام کرنے کی ٹھان لیں، اس کی تکمیل میں جتنی مشکلات آئیں یہ اسے پایۂ تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں۔
متحرک
یہ لوگ یکسانیت اور جمود سے بیزار ہو جاتے ہیں اس لئے آپ انہیں اکثر متحرک ہی دیکھیں گے۔ یہ خود کو مختلف کاموں میں رکھنا پسند کرتے ہیں۔ یہ لوگ ایسے کاموں اور جاب وغیرہ سے جلد اُکتا جاتے ہیں جس میں انہیں ایک ہی جگہ بیٹھ کر کئی گھنٹے گزارنے پڑیں۔ ویسے بھی ان لوگوں کے لئے متحرک رہنا بے حد ضروری ہوتا ہے کیونکہ اگر یہ ایک جیسے ماحول میں رہیں گے تو ان کی طبیعت میں چڑچڑاہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ اپنے لئے ان کاموں کا انتخاب کرتے ہیں جن میں یہ زیادہ سے زیادہ معروف اور متحرک رہ سکیں۔ اپنی اس طبیعت کی وجہ سے یہ لوگ کھیلوں میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں اس لئے یہ خود کو زیادہ سے زیادہ متحرک رکھ سکتے ہیں۔ سیرو سیاحت کا شوق بھی انہیں اپنی اس عادت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان لوگوں کی ایک خاصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ ایک کام کے بعد خود کو دوسرے کاموں میں مشغول کر لیتے ہیں، یوں یہ زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرتے ہیں لیکن اس طرح اکثرا ن کی صحت متاثر ہو جاتی ہے۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ خود کو بہت زیادہ مصروف نہ رکھیں ان کی یہ عادت اچھی ہے کہ یہ کسی کام کو ادھورا انہیں چھوڑتے۔
قائدانہ صلاحیت
یہ قائدانہ صلاحیت کے مالک ہوتے ہیں جیسا کہ ہم نے گزشتہ صفحات میں لکھا کہ پیدائشی طور پر ان کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ یہ دوسروں پر حکم چلانے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ اس خیال کی وجہ سے قدرتی طور پر ان میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جب یہ اسکول میں ہوتے ہیں تو اکثر اپنی کلاس میں مانیٹر بن جاتے ہیں اور اسکول کی دیگر سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ کھیلوں کی طرف ان کا رجحان ہوتا ہے اس لئے نہ صرف یہ اسکول کی کسی ٹیم میں شامل ہوتے ہیں بلکہ اس کے کیپٹن بھی بن جاتے ہیں۔ یہ ایسے شعبوں کا انتخاب کرتے ہیں جہاں انہیں اپنے جوہر دکھانے کا موقع ملے۔ مثلاً یہ آرمی، ائیر فورس، نیوی یا پولیس وغیرہ میں جانا پسند کرتے ہیں۔ اگر انہیں کسی بھی شعبے میں لیڈر بنا دیا جائے تو انہیں اپنی فطرت کی وجہ سے بڑی تسکین ملتی ہے اور یہ صرف اس تسکین پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ اپنے ماتحتوں سے بڑا اچھا کام بھی لیتے ہیں۔ یہ جہاں کہیں بھی ہوں آہستہ آہستہ وہاں کی لیڈر شپ اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں چونکہ یہ خاصے ذہین ہوتے ہیں اس لئے نہایت ذہانت سے اپنا یہ مقصد حاصل کر لیتے ہیں۔
عمل پسند
ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو عمل پسند ہوتے ہیں ان کے یہاں خیالی پلاؤ پکانے کا کوئی خاص رجحان نہیں ہوتا ہے یہ خود کو مصروف رکھنا پسند کرتے ہیں فراغت کے اوقات گزارنا ان کے لئے نہایت مشکل ہوتا ہے۔ اسد افراد کے اندر پیدائشی طور پر یہ بات موجود ہوتی ہے کہ یہ باتیں کم اور کام زیادہ کرتے ہیں۔ جس طرح موت اور دیگر افراد خیالات کی دُنیا میں ڈیرے ڈالے رکھتے ہیں، اسد افراد کے یہاں ایسا کوئی رجحان نہیں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کوئی بھی کام صرف سوچنے کی حد تک نہیں کرتے بلکہ جو کچھ سوچتے ہیں اس پر عمل بھی کرتے ہیں اور ان کا کوئی بھی عمل سرسری اندازہ نہیں ہوتا بلکہ جب یہ کوئی منصوبہ بناتے ہیں یا کوئی کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو پہلے اس بارے میں خوب سوچ بچار کرتے ہیں، اس کے منفی اور مثبت پہلوؤں کا اچھی طرح جائزہ لیتے ہیں، اگر انہیں اس کام میں نقصان نظر آئے تو یہ اسے ترک کردینا بہتر سمجھتے ہیں اور اگر فائدہ نظر آئے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ اس کام کو جنونیوں کی طرح کرتے ہیں اور جب تک اُسے مکمل نہ کر لیں، سکون سے نہیں بیٹھتے۔ ویسے اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ کچھ کام صرف اپنے شوق کی خاطر کرتے ہیں، ان کاموں میں یہ نفع اور نقصان کے پہلو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ویسے بھی تمام انسانوں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہے کہ وہ شوق کی خاطر بڑے بڑے نقصان برداشت کر لیتے ہیں
تخلیقی صلاحیتیں
ان لوگوں میں تخلیقی صلاحیتیں پیدائشی طور پر موجود ہوتی ہیں۔ بچپن ہی سے ان کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔ اسد بچے مقرری، گلوکاری، اداکاری اور دیگر فنکارانہ کاموں کی جانب راغب ہوتے ہیں۔ اب یہ بڑوں کا کام ہوتا ہے کہ انہیں کوئی صحیح لائن دیں، اگرایسا ہو جائے تو بچے جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں، ان کی یہ صلاحیت درست سمت میں سامنے آتی ہے اور اگر یہ کسی استاد کی سرپرستی میں ہوں تو یہ بالکل درست کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کی تخلیقی صلاحیتیں صرف فنکارانہ کاموں تک ہی محدود نہیں ہوتیں بلکہ زندگی کے دیگر معاملات میں بھی ان کا یہی رویہ ہوتا ہے۔ مثلاً اگر یہ کوئی کام کر رہے ہیں تو یہ سوچتے ہیں کہ اسے کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اکثر ایجادات کے بارے میں بھی یہ لوگ غور و فکر کرتے رہتے ہیں کہ یہ چیز کس نے ایجاد کی اور اس میں کیا کیا تبدیلیاں کر کے اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اکثر بہت زیادہ فنکارانہ کاموں میں ہاتھ ڈال دینے کی وجہ سے ان کی صلاحیتیں ضائع ہوتی رہتی ہیں، اس کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ کسی ایک کام پر مکمل توجہ نہیں دیتے، مثلاً اگر یہ مصوری کر رہے ہیں تو یہ ساتھ ساتھ گلوکاری، اداکاری اور شاعری بھی کر رہے ہوتے ہیں، اسی طرح یہ یکسوئی سے کوئی ایک کام نہیں کر پاتے۔ ان لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ ایک وقت میں کسی ایک شعبے کا انتخاب کریں۔
اچھے مقرر
ان لوگوں میں چونکہ اعتماد کی کمی نہیں ہوتی اور یہ کسی بھی طرح کے ماحول سے گھبراتے نہیں اس لئے یہ لوگوں سے بہت اعتماد کے ساتھ خطاب کرتے ہیں، اس وجہ سے بھی انہیں تقریر کا موقع ملے، یہ بہت اچھی تقریر کرتے ہیں۔ ان میں ذہانت بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہ دوسروں کی نفسیات کا بڑی خوبی سے اندازہ لگا لیتے ہیں۔ ان کے لئے یہ معلوم کر لینا مشکل کام نہیں ہوتا کہ سامنے والے کس طرح کی باتیں سننا چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے سامنے ایک یا دو افراد ہوں تب ہی یہ ان سے ایسی گفتگو کرتے ہیں کہ انہیں متاثر کر دیتے ہیں اور اگر ان کے سامنے ہزاروں افراد کا مجمع ہو تو تب بھی یہ اندازہ لگا لیتے ہیں کہ مجمع میں موجود لوگ کیا سننا پسند کرتے ہیں، اگر انہیں کسی خاص موضوع پر بات کرنا ہو تو یہ براہِ راست اپنی بات شروع نہیں کرتے بلکہ لوگوں کی پسند کی باتیں کرتیں ہیں، اس طرح وہ ان کی باتوں میں دلچسپی لینے لگتے ہیں، اس کے بعد یہ آہستہ آہستہ اور غیر محسوس اندا زمیں اپنی اصل بات کی طرف آ جاتے ہیں لیکن اس میں بھی دلچسپی برقرار رکھتے ہیں۔ اپنی اس صلاحیت کی وجہ سے یہ سوشل ورکنگ کی طرف آ جاتے ہیں۔ یہ اپنے محلے سے یہ کام شروع کرتے ہیں۔ سوشل ورکنگ کے ساتھ ساتھ ان کے لئے سیاست کا راستہ بھی کھل جاتا ہے اور اگر یہ وکالت کی جانب آئیں تو تب بھی بڑے کامیاب رہتے ہیں
قول کے پکے
اسد افراد کے لئے اپنی بات پوری کرنا بہت اہم معاملہ ہوتاہے۔ یہ لوگ قول کے پکے ہوتے ہیں۔ اگر یہ کسی سے کوئی وعدہ کر لیں تو اسے ہر حال میں پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی یہ عادت انہیں لوگوں میں مقبول اور معتبر بنائے رکھتی ہے۔ اگر یہ کسی سے کوئی عہد کر لیں تو دوسروں کو پوری طرح اعتماد ہو جاتا ہے کہ اب یہ بات ہر حال میں پوری ہو گی۔ کوئی ایسا خدشہ نہیں رہتا کہ یہ بات پوری نہیں ہو گی۔ قول کے ساتھ ساتھ یہ لوگ وفاداری میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ یہ جب کسی سے دوستی کرتے ہیں یا اچھے تعلقات بنا لیتے ہیں تو اُس کے ساتھ پوری طرح مخلص اور وفادار ہو جاتے ہیں۔ ایسے اوقات میں اگر کوئی ان کے ساتھ بے وفائی کرے یا انہیں دھوکا دے تو انہیں بڑا دھچکا لگتا ہے۔ یہ اس فرد سے قطع تعلق کرنا بہتر سمجھتے ہیں۔ بات اگر زیادہ سنجیدہ ہو تو یہ انتقام لینے سے بھی نہیں چوکتے۔ یہ چونکہ خود بے وفائی نہیں کرتے اس لئے کسی دوسرے سے بھی ایسی توقع نہیں رکھتے۔ اپنے مندرجہ بالا اوصاف کی وجہ سے یہ لوگوں میں چونکہ بہت پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اس لئے اکثر لوگ اپنے مختلف معاملات میں بطور گواہ یا بطور ثالث لانا پسند کرتے ہیں۔ انہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ لوگ جو فیصلہ بھی کریں گے وہ درست ہو گا۔ یہ لوگ نہ صرف ایسے معاملات میں درست فیصلے کرتے ہیں بلکہ اگر کوئی فریق اس پر عمل نہ کرے تو اس سے سختی سے نمٹتے ہیں۔
فراخ دل
فراخ دلی میں ان لوگوں کا کوئی ثانی نہیں ہوتا بلا شبہ ان افراد کو ہر دور کا حاتم طائی کہا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ چونکہ بہت ذہین، باعمل اور محنتی ہوتے ہیں اس لئے خوب دولت کماتے ہیں لیکن دولت کو جمع کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ یہ نہ صرف اپنے معاملات میں خوب رقم خرچ کرتے ہیں بلکہ دوسرے لوگ بھی ان سے خوب فیضیاب ہوتے رہتے ہیں۔ ان کے دوستوں کو ان سے بطور قرض رقم مانگ کر کبھی مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یہ ان کی توقع سے زیادہ رقم انہیں دے دیتے ہیں، دوست تو ان سے وعدہ کر لیتے ہیں کہ فلاں وقت پر انہیں یہ رقم واپس کر دیں گے لیکن اگر انہیں وقت مقررہ پر رقم واپس نہ ملے تو یہ تقاضا نہیں کرتے بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جب انہیں رقم واپس کی جائے تو اُسے لینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ان کا فلسفہ یہ ہوتا ہے کہ دوستوں سے کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا۔ ان لوگوں کے اہل خانہ بھی ان کی فراخ دلی اور فیاضی سے خوب مستفیض ہوتے ہیں۔ انہیں کبھی کسی چیز کی پریشانی نہٰں ہوتی ہے۔ ان کے گھر میں ضرورت کی چیزیں ہر وقت موجود رہتی ہیں۔ یہ لوگ اپنی اس عادت کی وجہ سے اکثر مالی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں اس لئے انہیں رقم سوچ سمجھ کر خرچ کرنا چاہئے۔
صاف گھر
جہاں ان افراد میں وفاداری، باعمل اور ذہین ہونے کے وصف ہوتے ہیں وہیں ان کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ بہت صاف گو ہوتے ہیں۔ جو بات ان کے دل میں ہوتی ہے اُسے زبان پر لانے میں دیر نہیں لگاتے۔ ان کی صاف گوئی سے بہت سے لوگ تو بڑے بیزار ہوتے ہیں بلکہ وہ ایسی جگہوں سے رفو چکر ہو جانا پسند کرتے ہیں جہاں یہ لوگ موجود ہوں یا آنے والے ہوں۔ ان کے احباب ان کی صاف گوئی کی عادت سے خوب واقف ہوتے ہیں، جب یہ ان کی کوئی خامی نکالتے ہیں کہ وہ ان پر برا نہیں مانتے بلکہ وہ یہ جانتے ہیں جو کچھ ان کے بارے میں کہا گیا ہے وہ درست ہے اور اس میں خلوص بھی شامل ہے۔ ان لوگوں کو اپنی صاف گوئی کی وجہ سے کئی مرتبہ نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے مثلاً کہیں سچائی کی گنجائش اور ضرورت نہیں ہوتی لیکن یہ سچ بول جاتے ہیں اور نہ صرف کئی طرح کے نقصانات ہو جاتے ہیں بلکہ کئی لوگوں سے ان کے تعلق بھی خراب ہو جاتے ہیں لیکن انہیں اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ کتنا نقصان ہوا ہے اور کس سے ان کے تعلقات خراب ہوئے ہیں بلکہ یہ اس بات پر مطأن ہوتے ہیں کہ انہوں نے سچ بولا ہے اور ان کے دل پر کوئی بوجھ نہیں ہے۔ صاف گوئی کی عادت ان میں بچپن سے موجود ہوتی ہے اپنے بچپن سے ہی بڑی بے باکی سے سچ بولتے ہیں۔
دوہری شخصیت
ان لوگوں کی دوہری شخصیت ہوتی ہے۔ ان کی شخصیت کا ایک پہلو تو وہو ہوتا ہے جو یہ دوسروں کے سامنے رکھتے ہیں لیکن ایک پہلو یہ لوگوں سے چھپا کر رکھتے ہیں۔ اس پہلو میں ان کے اصل جذبات و احساسات ہوتے ہیں جو یہ دوسروں کے سامنے نہیں لاتے۔ یہ لوگ اگر کسی وجہ سے دل شکستہ ہوں تو دوسروں کے سامنے کبھی یہ ظاہر نہیں کریں گے کہ ان کا دل ٹوٹا ہوا ہے یا وہ غم زدہ ہیں، ان کے چہرے پر روایتی مسکراہٹ اور جوش نظر آئے گا لیکن یہ سب کچھ اس وقت تک ہو گا جب تک کہ دوسرے ان کے ساتھ رہیں گے جونہی تنہائی میسر آئے گی ان کے چہرے بجھ جائیں گے اور ان کا ذہن اپنے غم کی طرف چلا جائے گا۔ ان کی یہ عادت اس لحاظ سے تو درست ہے کہ یہ اپنی انا کو مجروح نہیں ہونے دیتے، کسی کو اپنی اصل کیفیت نہیں بتاتے، اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہوں نے دوسروں کے سامنے اپنا ایک اچھا امیج بنا رکھا ہوتا ہے۔ یہ کسی کو اپنی تکلیف اس لئے نہیں بتاتے کہ اس طرح وہ ان سے ہمدردی کرے گا اور ان کی کسی بھی طرح مدد کرنے کی کوشش کرے گا اور یہ بات انہیں کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہوتی کہ کوئی ان کی مدد کرے۔ یہ حاکمیت پسند ہوتے ہیں اور دوسروں کی مدد کرنا جانتے ہیں اس لئے کسی کی مدد حاصل کرنا ان کے لئے بڑا مشکل ہوتا ہے۔ انہیں اپنی اس خامی پر قابو پانا چاہئے۔
اعتدال پسند
اعتدال ان لوگوں کی فطرت کا حصہ ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی بھی معاملے میں اعتدال کو چھوڑ کر انتہا پسندی کا مظاہرہ کریں۔ ایک صورت میں یہ انتہا پسند ہو جاتے ہیں جب ان کے جذبات پورے طور پر بھڑک جائیں، یہ کسی سے انتقام لینے کی ٹھان لیں اور ان کے سامنے اُسے ختم کر دینا یا نیچا دکھانا مقصد ہو۔ اعتدال پسندی کا رویہ انہیں زندگی کے بیشتر معاملات میں کامیابی و کامرعانی رکھتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ یہ مالی معاملات میں خود پر قابو نہیں رکھ سکتے جیسا کہ ہم نے گزشتہ صفحات میں لکھا کہ یہ بڑے فراخ دل ہوتے ہیں اور رقم خرچ کرنے پر انہیں اختیار نہیں رہتا۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر یہ قابو پانے کے بارے میں ا کثر سوچتے رہتے ہیں لیکن قابو پا نہیں سکتے اور ان حالات میں تو یہ اس مسئلے پر بہت سنجیدگی سے سوچتے ہیں جب یہ فضول خرچی کرنے کے بعد مالی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے میں یہ اٹل فیصلہ کر لیتے ہیں کہ اب ان کے پاس رقم آئے گی تو یہ فضول خرچی نہیں کریں گے لیکن جب ان کے پاس رقم آتی ہے تو یہ اپنے سے کئے گئے سارے عہدو پیمان توڑ دیتے ہیں، اُن کی جبلت ان پر حاوی ہو جاتی ہے اور یہ پھر فراخ دلی کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے کہ اپنی اعتدال پسندی کو مال داری کیح الات میں بھی اپنائیں۔
امن پسند
بنیادی طور پر یہ لوگ امن پسند ہوتے ہیں۔ عام طور پر جو لوگ ان کا تجزیہ کرتے ہیں، اُس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اسد افراد خاصے تیز طرار اور مار دھاڑ والے ہوتے ہیں، ان میں جیسے جوش بھرا ہوا ہوتا ہے لیکن ہم نے لکھا ہے کہ بنیادی طور پر یہ لوگ امن پسند ہوتے ہیں، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ در اصل یہ لوگ امن کے خواہاں ہی ہوتے ہیں لیکن انسان کی زندگی مختلف نشیب و فراز سے گزرتی ہے اور اگر کوئی یہ چاہے کہ ہر وقت امن ہی امن رہے تو اس کے چاہنے پر کچھ نہیں ہو سکتا اس لئے کہ اگر وہ حالات بہتر رکھنا چاہے گا تو ضروری نہیں ہے کہ باقی لوگ بھی اس کے ہم خیال ہو جائیں اور امن قائم کر دیں مثلاً اگر کوئی اسد فرد یہ چاہتا ہے کہ اس کے محلے میں امن قائم رہے اور اُس کا کسی سے جھگڑا نہ ہو، وہ کسی بھی طرح کسی جھگڑے وغیرہ میں ملوث نہ ہو تو ایک حد تک تو وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو سکتا ہے لیکن جب اس کے حصے میں کئی طرح کے لوگ رہتے ہوں اور کئی ایک شر پسند بھی ہوں تو بھلا وہ خود کو کب تک امن کا علم بردار ثابت کر سکتا ہے، کوئی نہ کوئی ایسا موقع ضرور آ جاتا ہے جب وہ کسی معاملے میں الجھ جاتا ہے چونکہ ان لوگوں کی فطرات کے بارے میں ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ حاکمیت پسند ہوتے ہیں، اس لئے کچھ تو یہ اپنی اس فطرت سے مجبور ہوتے ہیں اور کچھ حالات انہیں سخت رد عمل ظاہر کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں، یوں جب یہ ایکشن کرتے ہیں تو بدنام ہو جاتے ہیں کہ یہ مار دھاڑ والے لوگ ہیں لیکن ہم پھر یہی کہیں گے کہ یہ امن کے خواہاں ہوتے ہیں۔
عشق ومحبت
یہ لوگ بڑی مشکل سے عشق و محبت کے چکر میں پڑتے ہیں کیونکہ یہ حقائق کی طرف زیادہ توجہ رکھتے ہیں لیکن بہر حال یہ بھی انسا ن ہی ہوتے ہیں اور ہر انسان میں مختلف جذبات کا ہونا لازمی ہے جس میں ایک جذبہ محبت کا بھی ہے۔ وہ ان میں بھی ہوتاہے۔ یہ لوگ جب کسی سے عشق کرتے ہیں تو اس میں انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں اگر کوئی ان کے دل کو بھا جائے تو یہ اُسے اپنا سب کچھ مان لیتے ہیں۔ اُس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ محبت میں دھوکے کے بارے میں تو ہر شخص جانتا ہے پہلے کا دور ایسا تھا جب کوئی کسی سے محبت کرتا تھا تو اُس کے لئے اپنی جان بھی دے دیتا تھا لیکن اب زمانہ بدل گیاہے، اب زیادہ تر لوگ ’’تو نہیں اور سہی‘‘کے فلسفے پر چل رہے ہیں۔ اس طرح جب کوئی اسد فرد کسی سے محبت کرتا ہے اور دوسرا فریق اس کے ساتھ دھوکا کرتا ہے تو پھر اسے شدید دھچکا لگتا ہے۔ ایسے میں یہ دل برداشتہ ہو جاتاہے۔ دیگر برجوں سے تعلق رکھنے والے لوگ تو ایسے حالات میں مایوسی کی وجہ سے تارک دنیا ہونے کا سوچتے ہیں لیکن اسد افرادچونکہ اپنے اندر شدید غیض و غضب رکھتے ہیں اس لئے ایسے حالات میں اُن میں غصے کی وجہ سے انتقام کا لاوا اُبلنے لگتا ہے۔ ان میں جوش بھر جاتاہے، یہ اپنے محبوب کو وارننگ دیتے ہیں اور اگر اس کی گنجائش نہ ہو تو جو کچھ ان سے ہو سکتا ہے وہ کرتے ہیں
شہرت و مقبولیت کے خواہش مند
یہ لوگ شہرت و مقبولیت کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہم گزشتہ صفحات میں لکھ چکے ہیں کہ یہ دوسروں کی نفسیات کو سمجھ کر اُن سے بات چیت کرتے ہیں، جب یہ شہرت و مقبولیت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس وقت بھی انکا یہی رویہ ہوتا ہے۔ ان کے سامنے اگر ایک فرد ہو تو یہ اس کے سامنے بھی خود ک ممتاز رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں یہ پہلے اس کی نفسیات کا جائزہ لے لیتے ہیں اور اس کے بعد کوئی نہ کوئی ایسا پہلو نکال لیتے ہیں کہ اُس شخص کو مرعوب کر لیتے ہیں، یہ تو تھی ایک فرد کی بات، اگر زیادہ لوگ ہوں یا کوئی مجمع ہو تو تب بھی ان لوگوں کا ایسا ہی رویہ ہوتا ہے، یہ تمام لوگوں کی نفسیات کا جائزہ لینے کے بعد اپنا کام کر ڈالتے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس شہرت و مقبولیت حاصل کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے بھی اپنا یہ مقصد حاصل کر لیتے ہیں مثلاً یہ اگر مصوری کی طرف آئیں تو پہلے دور حاضر اور سابقہ دور کے مصوروں کا جائزہ لیتے ہیں اور پھر کوشش کرتے ہیں کہ اُن سے ذرا مختلف اور اچھوتی چیز دیں جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔ اس طرح اگر یہ اداکاری کا شعبہ اپناتے ہیں تو اس شعبے میں بھی یہ ایسا ہی رویہ رکھتے ہیں اور دوسروں سے مختلف اداکاری پیش کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے بہتر یہ ہے کہ شہرت و مقبولیت کے حصول کے لئے غلط راستوں کا انتخاب نہ کریں۔
بلند نگاہ
یہ بلند نگاہ لوگ ہوتے ہیں۔ ان کی نظریں بڑے مقاصد پر ہوتی ہیں۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے یہ لوگ صرف خیالی پلاؤ ہی نہیں پکاتے ہیں بلکہ محنت و مشقت بھی کرتے ہیں۔ عام سطح کے کام ان لوگوں کو زیادہ متاثر نہیں کرتے ہیں۔ مثلاً یہ عام شعبوں میں آنا پسند نہیں کرتے، یہ اگر کسی فیکٹری میں کام کریں تو تیزی سے ترقی کرنے لگتے ہیں اور وہاں کے تمام کاموں پر دسترس حاصل کرنے لگتے ہیں اور اس طرح اگر ان کے ساتھ کوئی مالی طور پر مستحکم فرد مل جائے تو ان سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ کوئی فیکٹری لگا لیں۔ ان لوگوں میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہوتی ہے ساتھ ہی ان میں بے چینی بھی ہوتی ہے یہ ایسی بے چینی ہوتی ہے جو انہیں ایک جگہ رکنے نہیں دیتی اور یہ اس وجہ سے آگے سے آگے بڑھنے پر مجبور ہوتے ہیں اسی وجہ سے بالآخر یہ اونچے مقام پر پہنچ جاتے ہیں۔ ان لوگوں میں ایک خامی بھی ہوتی ہے اور وہ یہ کہ ایک ہی وقت میں کئی شعبوں کا انتخاب کر کے اُن میں آگے بڑھنے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں، اس طرح ان کی صلاحیتیں دوست پر کار آمد نہیں ہوتیں۔ ان میں سے اکثر اپنی اس خامی کو سمجھ جاتے ہیں یا انہیں کوئی اس سے آگاہ کر دیتا ہے اس کے بعد یہ کسی ایک شعبے کا انتخاب کر کے جب آگے بڑھتے ہیں تو بہت کامیاب رہتے ہیں۔
دکھاوا
ان لوگوں میں بے شمار خوبیاں ہوتی ہیں۔ لیکن بہت سی خامیاں بھی ہوتی ہیں اور ان ہی میں سے ایک خامی یہ بھی ہے کہ یہ دکھاوا کرنے کے شوقین ہوتے ہیں یہ جتانا چاہتے ہیں کہ ان میں کیا کیا صلاحیتیں ہیں اور اکثر یہ غرور کا شکار بھی ہو جاتے ہیں اور بڑکیں بھی مارنے لگتے ہیں۔ اس وجہ سے اکثر لوگ انہیں بڑبولا کہتے ہیں ان کے احباب ان کی اس عادت سے واقف ہوتے ہیں کہ انہیں کسی کسی وقت دکھاوے کا دورہ پڑتا ہے لہٰذا وہ انہیں خوش دلی سے برداشت کر لیتے ہیں اور اکثر ایسے حالات میں ان کی خوب تعریف کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس وقت ایسی ہی باتوں کی ضرورت ہے۔ اسد افراد چونکہ حاکمانہ ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں اس لئے ان کی خوشی ہوتی ہے کہ یہ جو کچھ بھی کریں لوگ ان سے مرعوب ہوں۔ ویسے تو دوران عمل ہی کئی لوگوں کو مرعوب کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اگر ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہوں پھر بعد میں یہ باتوں سے انہیں مرعوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ لوگ اگر اس خامی پر قابو پائیں تو ان کی شخصیت کا اچھا اثر پڑ سکتا ہے۔
زندہ دل اور خوش مزاج
یہ لوگ زندہ دل اور خوش مزاج ہوتے ہیں۔ ہر وقت ہنستے مسکراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جہاں بھی ہوں وہاں کا ماحول خوشگوار رہے۔ یہ ان لوگوں کو پسند کرتے ہیں جو ہنستے مسکراتے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں انسان کو ہر طرح کے حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسد افراد بھی ایسے حالات سے گزرتے ہیں انہیں جب کوئی نقصان ہو جائے یا کسی بھی وجہ سے دل برداشتہ ہو جائیں تو زیادہ دیر مایوس نہیں رہتے۔ یہ اپنی اس کیفیت پر جلد از جلد قابو پا لیتے ہیں، ناکام و مایوس ہونے کی صورت میں ان لوگوں میں ایک نیا جوش اور ولولہ آ جاتا ہے۔ در اصل یہ حاکمیت پسند ہوتے ہیں لہٰذا یہ کسی بھی ناکامی کا تصور بھی نہیں کرتے۔ ناکامی کی صورت میں یہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ ناکامیاں ان کے لئے نہیں ہیں۔ یہ صرف کامیاب رہنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ ایسے ہی خیالات انہیں مایوسی کی دلدل میں دھنسنے نہیں دیتے ہیں اور یہ تمام ناکامیوں کو کچل کر بالآخر کامیاب ہو جاتے ہیں۔ عام حالات میں یہ بہت خوش مزاج ہوتے ہیں ماحول کو خوش گوار رکھتے ہیں لیکن جب انہیں کوئی طیش دلا دے یا ان کی مخالفت کرے تو انہیں بہت غصہ آتا ہے ایسے میں یہ اپنی ساری خوش مزاجی بھول جاتے ہیں اور یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ اس وقت یہ سب سے بڑے بد اخلاق ہوتے ہیں۔
جدت پسند
چونکہ یہ لوگ تخلیقی ذہن رکھتے ہیں اس لئے آگے سے آگے بڑھنے کی خواہش ان میں جنم لیتی رہتی ہے کسی ایک مقام پر رُک جانا ان لوگوں کو پسند نہیں ہوتا۔ یہ جدت پسند لوگ ہیں۔ مختلف اشیاء و ایجادات انہیں اصل حالت میں کبھی مطئن نہیں کرتیں۔ ان کے سامنے اسکائی لیب بھی لائی جائے تو یہ چاہیں گے کہ اس میں بھی کوئی جدت پیدا کر دی جائے ان کی یہ عادت انہیں بے شمار کامیابیوں سے ہم آہنگ کرتی ہے لیکن اکثر کاموں میں یہ اپنا وقت ضائع کر دیتے ہیں۔ ان لوگوں کو سائنس سے خاصی دلچسپی ہوتی ہے یہ نئی اور پرانی ایجادات کے بارے میں معلومات حاصل کرتے رہتے ہیں ان سائنس دانوں کے بارے میں بھی جاننے کے خواہش مند ہوتے ہیں، انہوں نے مختلف ایجادات کی ہیں یہ ان کی زندگی کا تجزیہ کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ ان لوگوں نے اتنی اچھی ایجادات کیں؟ اگر انہیں اچھا ماحول اور اور مناسب وسائل میسر آ جائیں تو ان سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ کوئی اہم یا غیر اہم ایجاد کر ڈالیں گے۔ اپنی اس جبلت کی تسکین کے لئے یہ اکثر اپنائی دی یا موٹر سائیکل کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ لوگ اگر چاہیں تو اپنی اس صلاحیت سے بہت فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی ان کی ایسی صلاحیتوں سے مستفیذ ہو سکتے ہیں لیکن اس کے لئے شر ط یہی ہے کہ انہیں ساز گار ماحول اور وسائل مہیا کئے جائی
روایات سے محبت
ان لوگوں کو اپنی روایات سے بڑی محبت ہوتی ہے۔ یہ خاندان اقدار اور وقار کا بڑا خیال رکھتے ہیں۔ یہ اپنے خاندان سے ان لوگوں کے کارنامے لوگوں کو سنانا پسند کرتے ہیں جو کسی بھی طرح نمایاں رہے ہوں۔ اس طرح یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا تعلق بڑے اعلیٰ خاندان سے ہے یعنی دوسرے معنوں میں یہ سامنے والے کو کم تر ظاہر کرتے ہیں، اس کی وجہ ان کی حاکمیت پسند ہی ہوتی ہے۔ یہ اپنے خاندان کے ان لوگوں کو پسند نہیں کرتے جو روایات سے بغاوت کریں۔ انہیں ایسا کرنے سے منع کرتے ہیں اور اگر وہ باز نہ آئیں تو ان سے سخت رویہ اختیار کرتے ہیں اور اگر مجبوراً ان سے قطع تعلق کرنا پڑے تو تب بھی ان کے دشمن بنے رہتے ہیں۔ یہ اپنی روایات کو پوری طرح تو اپنا نہیں سکتے کیونکہ حالات میں تبدیلی آتی رہتی ہے لیکن ہر طرح کے حالات کے باوجود یہ کسی ایک روایات کو اپنائے رکھتے ہیں، اس طرح انہیں دلی تسکین ہوتی ہے۔ یہ لوگ اپنے خاندان والوں سے بھی بڑی محبت کرتے ہیں۔ یہ اکثر ایسے لوگوں سے بھی ملتے جلتے رہتے ہیں جو بڑی دور کے رشتہ دار ہوتے ہیں۔ درس گاہ ہو یا محلہ یا پھر کوئی اور جگہ یہ اپنی روایات اور اپنے خاندان کو رعب جھاڑتے نظر آتے ہیں۔ اس حوالے سے بہت سے لوگ ان کا مذاق بھی اڑاتے نظر آتے ہیں لیکن یہ ان کا زیادہ برا نہیں مانتے ہاں کبھی کبھی بات بگڑ بھی جاتی ہے۔
جابرانہ رویہ
ان لوگوں کی فطرت کے بارے میں ہم خاصی وضاحت کر چکے ہیں کہ یہ ذہین، جدت پسند، شہرت و مقبولیت کے خواہاں اور حاکمانہ ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں ان کی بے شمار خوبیاں اور خامیاں ہیں۔ ایک خامی یہ بھی ہے کہ کبھی کبھاران کا رویہ جابرانہ اور نہایت سفاک بھی ہو جاتا ہے۔ ایسا عام طور پر تو نہیں ہوتا لیکن جب ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ آ جائے یا کوئی انہیں زیر کرنے کی کوشش کرے تو غصے کی وجہ سے یہ بہت پر جوش ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایسے حالات میں یہ اندھے ہو جاتے ہیں۔ اور انہیں اپنے دشمن کے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا، یہ اس سے اس حد تک جابرانہ اور سفاک رویہ اختیار کر سکتے ہیں کہ جس کی کوئی توقع نہیں کر سکتا۔ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے کہ کسی بھی قسم کے انتہا پسندانہ اقدام سے گریز کریں ان کے لئے ضروری ہے کہ یہ اپنے غصے پر قابو پائیں کیونکہ ایسے حالات میں ان سے کوئی بھی غلط قدم اٹھ سکتا ہے جس کی وجہ سے بعد میں پچھتاوا ہو سکتا ہے۔ انہیں یہ جان لینا چاہئے کہ ان کی مخالفت بھی ہو سکتی ہے اور کئی برجوں سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد موجود ہیں جو انہی کی طرح کا مزاج رکھتے ہیں، وہ بھی اپنی مخالفت برداشت نہیں کر سکتے اور دشمنی میں کسی طرح پیچھے نہیں رہتے، ایسے میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں سے دشمنی کا نتیجہ صرف بربادی کے اور کچھ نہیں نکل سکتا اس لئے ان لوگوں کے لئے خود پر قابو پانا بہتر ہے۔
طاقت ور
یہ لوگ بہت طاقتور ہوتے ہیں۔ انہیں خود بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے اندر کتنی طاقت موجود ہے جب انہیں اس کا ادراک ہوتا ہے تو یہ حیرت زدہ ہو جاتے ہیں مثلاً جب کوئی بڑی الماری ایک حصہ سے ہٹانی ہو یا کسی گاڑی کو دھکا لگانا ہو تو ایسے واقعات میں انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اندر کتنی طاقت موجود ہے۔ جب ان لوگوں کو اپنی طاقت کا پتہ چل جاتا ہے تو یہ جا بہ جا اس کا استعمال کرنے لگتے ہیں، اس سے انہیں یہ فائدہ تو ہوتا ہے کہ اکثر لوگ ان کے رعب میں آ جاتے ہیں لیکن یہ بھی ہوتا ہے کہ کئی لوگ ان کے دشمن بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ اگر اپنی طاقت کا درست استعمال کریں تو اس سے بے شمار فائدے اٹھا سکتے ہیں۔ اپنی اس خوبی کی وجہ سے یہ اکثر ایسے شعبوں کا انتخاب کرتے ہیں جن میں طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ * طاقت کا غلط استعمال نہ کریں۔ * ایسے شعبوں کا انتخاب کریں جن میں یہ اپنی طاقت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ * بلا وجہ طاقت سے لوگوں کو مرعوب کرنے کی کوشش نہ کریں، اس طرح لڑائی جھگڑے اور دشمنی کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔
منفی سوچیں
انسان کے ذہن میں ہر وقت خیالات اور سوچوں کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا رہتا ہے۔ یہ حالات پر منحصر ہوتا ہے کہ کس وقت انسان کیا سوچتا ہے۔ انسان کی زندگی میں اکثر ایسے حالات آتے رہتے ہیں جب منفی سوچیں اس کے ذہن میں آنے لگتی ہیں اور وہ ان کی طرف راغب بھی ہو جاتا ہے۔ اسد افراد کی زندگی میں بھی ایسے حالات رہتے ہیں۔ ایسے میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ یہ جنسی بے راہ روی کی طرف متوجہ ہو جائیں یا منشیات کو اپنا لیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب یہ اس دلدل میں پھنستے چلے جاتے ہیں ان رستوں پر چل کر انسان کو تسکین تو بہت ملتی ہے اور وہ اپنے کئی دکھوں اور غموں کو بھلا دیتا ہے لیکن یہ سب کچھ دائمی نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک سنہری جال ہوتا ہے جو تباہی، بربادی اور موت کی طرف لے جاتا ہے۔ ہیروئن اور دیگر کئی ایسے نشے ہیں جو انسان کی موت کا سبب بنتے ہیں۔ جب اسد افراد یا کسی بھی برج سے تعلق رکھنے والا فرد ان راستوں کا انتخاب کرتا ہے تو اکثر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس راستے کے اختتام پر موت اس کی منظر کھڑی ہے۔ ان لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ : * منشیات سے ہمیشہ گریز کریں۔ * جنسی بے راہ روی کا شکار نہ ہوں۔ * دیگر منفی سر گرمیوں سے دور رہیں
جذبات سے گریز کریں
جیسا کہ ہم نے گزشتہ صفحات میں لکھا ہے کہ یہ لوگ حاکمیت پسند اور غصے کے تیز ہوتے ہیں ان کے اس رویے سے انہیں کئی جگہوں پر فائدہ تو ہوتا ہے لیکن غصے اور اس طرح کے دیگر جذباتی ررویوں کی وجہ سے انہیں جو سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ان کا دل کمزور ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فربہ ہیں تو ان کے جسم میں چربی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور فربہ لوگ اکثر دل کے عارضہ کے شکار ہوتے ہیں اس طرح اگر یہ فربہ ہوں اور ساتھ ہی غصے وغیرہ کا شکار بھی ہوں تو ان کے دل پر گہرا اثر ہوتاہے اور یہ دل کے عارضہ میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ احتیاط، علاج سے بہتر ہے اس لئے ان لوگوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ ان رویوں سے گریز کریں جو انہیں کسی عارضہ میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ: * غصے سے گریز کریں۔ * ناکامیوں پر دل برداشتہ نہ ہوں۔ * مناسب غذا کا استعمال کریں۔ * ورزش کی عادت اپنائیں۔ * درگزر کا رویہ اختیار کریں۔ * دوسروں کی بات برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔
جارحانہ رویہ
ان لوگوں سے کسی بھی وقت کسی بھی معاملے میں جارحانہ رویہ کی توقع کی جا سکتی ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ یہ خاصے بے حس و بے رحم لوگ ہوتے ہیں اکثر جب یہ اپنا کوئی مفاد حاصل کرنا چاہیں تو غلط راستوں کا انتخاب بھی کر لیتے ہیں اس طرح دیگ کئی برجوں سے تعلق رکھنے والے افراد احساس جرم کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن اسد افراد کے اندر ایسا کوئی احساس نہیں ہوتا۔ یہ لوگ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے دوسروں کو بڑی بے رحمی سے استعمال کرتے ہیں ان کی وجہ سے جنہیں نقصان پہنچا ہو یہ ان پر ذرا بھی رحم نہیں کھاتے۔ ایسے میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بعض لوگ ان کی باتوں کو سہ جاتے ہیں اور لوگ دشمنی پر اُتر آتے ہیں۔ کھیل کے میدان میں ان لوگوں کا جارحانہ رویہ واضح نظر آتاہے۔ ان کی حرکتوں اور چہرے کے تاثرات ان کے سفاک ہونے کا پتہ دیتے ہیں۔ ایسے میںیہ اپنے حریف کو ہر حال میں زیر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ: * اپنے روئیے کو ختم کریں۔ * بے رحمی کا مظاہرہ نہ کریں۔ * یاد رکھیں دوسرے بھی آپ کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔
جلد بازی
ویسے تو عام حالات میں یہ لوگ بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے والے ہوتے ہیں لیکن اکثر اوقات یہ اس قدر جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ جس کی توقع ان سے نہیں کی جا سکتی۔ کہتے ہیں کہ جلدی کا کام شیطان کا ، اس طرح اکثر یہ اپنی جلد بازی سے نقصان اُٹھاتے ہیں۔ بہت سے مقامات ایسے آتے ہیں جب یہ صبر سے کام لینا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ ان کا کام جلد از جلد ہو جائے۔ کئی شعبے ایسے ہوتے ہیں جن میں جلد بازی زیادہ نقصان دہ نہیں ہوتی لیکن ذرا سوچیں ڈرائیونگ کے معاملے میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا جائے تو اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟ اسد افراد کو جہاں اپنی دیگر کئی خامیوں پر قابو پانے کی ضرورت ہوتی ہے وہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ اپنی جلد بازی والی خامی پر بھی قابو پائیں۔ یہ جان لیں کہ جو کام بھی سوچ سمجھ کر اور صبر و تحمل سے کیا جائے گا اس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے اور جو کام بلا سوچے سمجھے اور جلد بازی میں کیا جائے گا وہ نقصان دہ ہو گا۔ ان افراد کے لئے ضروری ہے کہ: * بے صبری کا مظاہرہ نہ کریں۔ * یاد رکھیں کہ جلد بازی ہر حال میں نقصان دہ ہے۔
راز دار
ہم نے اب تک اسد افراد کی کئی خامیوں پر روشنی ڈالی ۔ اب ان کی ایک خوبی کا تذکرہ کرتے ہیں۔ یہ لوگ بہت قابل اعتماد راز دار ہوتے ہیں۔ ویسے تو اکثر لوگوں میں یہ خوبی ہوتی ہے لیکن اسد افراد کے بارے میں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ یہ خود کو اس بات کا پابند رکھتے ہیں۔ حالات چاہے کیسے بھی ہوں، اگر آپ نے انہیں کوئی راز بتا دیا ہے اور انہوں نے وعدہ کر لیا ہے کہ کسی بھی حال میں اس راز کو افشاء نہیں ہونے دیں گے تو یہ اپنے قول پر ہر حال میں قائم رہیں گے، چاہے آپ کی ان سے دشمنی ہو جائے۔ یہ صرف اچھے راز دار ہی نہیں ہوتے بلکہ برے حالات میں آپ کو اچھے مشورے بھی دے سکتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ ایک صورت میں یہ اپنی اس عادت کو ترک کر سکتے ہیں کہ جب کوئی ان کے راز کھولنے لگے۔ ہم نے گزشتہ صفحات میں لکھا کہ دشمنی کے وقت یہ لوگ بالکل اندھے ہو جاتے ہیں اور انہیں اپنے دشمن کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا لہٰذا جب کوئی دشمن بن کر ان کے راز اُگلنے شروع کرتا ہے تو پھر ان کے سینے میں بھی اُس کے جتنے راز ہوتے ہیں یہ اُسے اُگلنا شروع کر دیتے ہیں۔ عام حالات میں یہ اپنی شاندار شخصیت کو قائم رکھنے کے لئے کسی کا راز کسی بھی صورت میں افشاء نہیں کرتے۔
ہمدرد
اب تک ہم نے ان لوگوں کی جن خوبیوں اور خامیوں کا تذکرہ کیا ہے اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سفاک اور خطرناک قسم کے لوگ ہیں، ایک حد تک تو یہ بات درست ہے لیکن یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ان لوگوں میں ہمدردی اور رحم دلی کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا۔ ایسا نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہمدرد لوگ ہوتے ہیں لیکن یہ دوسروں کی طرح ذرا ذرا سی بات پر ہمدردی نہیں دکھاتے۔ عام حالات میں ان کا رویہ سخت اور سفاک ہی نظر آتا ہے لیکن ان کی ہمدردی خاص مواقع پر کھل کے سامنے آ جاتی ہے مثلاً اگر کہیں ایکسیڈنٹ ہو جائے تو یہ بھیڑ کو چیرتے ہوئے متاثرین تک پہنچ جاتے ہیں اور بغیر کچھ سوچے سمجھ ان کی مدد شروع کر دیتے ہیں۔ جب تک یہ اپنے اس کام کو مکمل نہ کر لیں یہ چین سے نہیں بیٹھتے۔ اس طرح ان کے علم میں اگر یہ بات آ جائے کہ ان کے محلے میں کوئی مستحق شخص رہتا ہے یا کوئی ایسا بچہ ہے جس کا نام فیس نہ ادا کرنے کی وجہ سے سکول سے کاٹا جا چکا ہے تو ان کی ہمدردانہ جبلت جاگ اٹھتی ہے۔ ایسے میں یہ اسد فرد جس کے بارے میں لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ یہ نہایت سفاک اور بے رحم ہے، سب سے پہلے بڑھ کر اُس مستحق فرد کی مدد کرتا ہے یااس بچے کی فیس ادا کر کے اُس کا نام پھر سے اسکول میں لکھواتا ہے۔ یہ افراد بہت غصہ ور اور سفاک تو ہوتے ہیں اور انہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان سے بچ کر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے لیکن یہ ایک حیرت ناک بات ہے کہ ان لوگوں میں در گزر کرنے کی بڑی خوبی ہوتی ہے۔ یہ جب کسی سے دشمنی پر آ جائیں تو اسے نیست و نابود کر دینے کے لئے بے چین ہو جاتے ہیں لیکن اگر وہ شخص آ کر اُن سے معافی مانگ لے تو ان کا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔ اُن کا دل موم ہو جاتا ہے، یہ اُسے معاف کر دیتے ہیں لیکن یہ معافی انہیں ایک ہی بار ملنے کا امکان ہوتا ہے یا پھر دو بار لیکن اس سے زیادہ مرتبہ یہ معاف کرنے کے قائل نہیں ہوتے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جن باتوں پر عام لوگ مشتعل ہو جاتے ہیں، اسد افراد انہیں ہنس کر ٹال دیتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کی ذہنی سطح بہت اونچی ہوتی ہے، یہ خود کو کسی بادشاہ سے کم تصور نہیں کرتے، دوسرے لوگ ان کی نظر میں ان کی رعایا ہوتے ہیں اور ایک بادشاہ سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی سوچ اور شان کے مطابق کسی بھی بات کو ہنس کر ٹال دے لیکن ساتھ ہی ان کی شاہانہ سوچ کی وجہ سے ان سے یہ بھی توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ کسی ایسی بات پر چراغ پا ہو جائیں جو دوسروں کے لئے معمولی ہو۔ در اصل یہ اپنے الگ انداز سے سوچتے ہیں۔
مدح سرائی
جو لوگ ان کے قریب رہتے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر ان لوگوں سے کوئی کام لینا ہے تو ان کی مدح سرائی کی جائے، ان کی خوشامد کی جائے، ان کے کاموں پر واہ واہ کی جائے۔ ویسے تو تقریباً تمام انسانوں کی یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنی تعریف سن کر بہت خوش ہوتے ہیں لیکن اسد افراد کی تو یہ بہت بڑی کمزوری ہوتی ہے۔ در اصل ان کا مزاح شاہانہ اور حاکمانہ ہوتا ہے، ان کی خواہش تو ہوتی ہی یہ ہے کہ سب لوگ ان کی بات مانیں اور انہیں برتر تصور کریں۔ ایسے میں جو لوگ ان کی تعریف اور خوشامد کرتے ہیں۔ ان کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو خود سے زیادہ بہتر و برتر تصور کر رہے ہیں یوں تعریف و خوشامد کر کے ان سے اپنا کام نکالا جا سکتا ہے۔ دوسرے برجوں سے تعلق رکھنے والے لوگ جو سمجھ جاتے ہیں کہ ان کی خوشامد کر رہا ہے لیکن یہ ایک حیرت ناک بات ہے کہ اسد افراد ایسی باتوں کو سمجھے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ خوشی میں سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ ان کی اس کمزوری سے بڑے بڑے فوائد حاصل کر لیتے ہیں۔ لیکن اسد افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی کمزوری کو پہچانیں، جہاں لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں، وہیں یہ خوشامد پسند بھی مشہور ہو جاتے ہیں۔
دھوکا باز
لیجئے ان لوگوں کی ایک اور خامی حاضر ہے۔ یہ بد ترین دھوکا باز بھی ہوتے ہیں۔ یہ اکثر اپنے معمولی سے فائدہ کے لئے کسی کو بڑا دھوکا بھی دے سکتے ہیں۔ ان کے دوست اکثر ان سے بہت ہوشیار رہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جب یہ مفاد پرستی پر آئیں گے تو انہیں اپنے مفاد کے علاوہ کچھ نظر نہیں آئے گا۔ ہم نے پہلے لکھا ہے کہ ان لوگوں میں احساس جرم نہیں ہوتاہے، بس یہی وجہ ہے کہ جب یہ کسی بھی جرم کا ارتکاب کرتے ہیں تو ان کے اندر جرم کا احساس پیدا نہیں ہوتا، یہ سوچتے ہیں کہ مجبوری میں جائز ہے۔ ان کی دھوکا دہی کی عادت اس قدر مشہور ہو جاتی ہے کہ لوگ ان کے سائے سے بھی ڈرنے لگتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اسد افراد کے دوست بہت کم ہوتے ہیں کیونکہ یہ دوستوں کو بھی دھوکا دینے سے بعض نہیں آتے۔ اگر آپ کے گروپ میں کوئی اسد فرد موجود ہے اور آپ لوگ مل کر کوئی کام شروع کر رہے ہیں تو یہ بات ہر وقت ذہن میں رکھیں کہ کسی بھی لمحے اس کی طرف سے آپ کو دھوکا مل سکتا ہے۔ ممکن ہے وہ کچھ رقم لے کر آپ کی مخالف پارٹی سے مل جائے یا کسی طرح آپ سب کو کام سے الگ کر کے خود مالک بننے کی کوشش کرے۔ اسد افراد کو اپنے اس رویے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
دروغ گوئی
جہاں یہ دھوکا بازی اور مفاد پرستی میں سب سے آگے ہوتے ہیں وہیں دروغ گوئی میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ہوتا۔ ضرورتاً اور مجبوراً تو آج کل کے زمانے میں ہر کوئی تھوڑا بہت جھوٹ بول لیتا ہے لیکن اسد افراد جھوٹ بولنے کو اپنی زندگی کا حصہ تصور کرتے ہیں یہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ یہ لوگوں پر اپنی جس شاندار شخصیت کو متاثر کرنا چاہتے ہیں حالات اس کے بالکل بر عکس رخ اختیار کرتے ہیں جب یہ محفل سے اٹھ کر جاتے ہیں تو عام طور پر ان کے بار ے میں کہا جاتا ہے کہ بڑا جھوٹا آدمی ہے۔ جھوٹ بولنا کوئی اچھی بات تو نہیں ہے اور پھر یہ قول تو عام ہے کہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے یعنی کہ جھوٹا شخص کسی نہ کسی وقت پکڑا جاتا ہے اور اس کا جھوٹ سامنے آ جاتا ہے لیکن اسد افراد اتنے ڈھیٹ ہوتے ہیں کہ جب ان جھوٹ پکڑا جائے تو پہلے تو یہ اس کا اثر زائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر بات نہ بنے تو پھر کہتے ہیں کہ مجبوراً انہیں جھوٹ بولنا پڑا۔ یہ لوگ جب کسی سے کوئی بات کرتے ہیں تو سامنے والا سب سے پہلے یہ سوچتا ہے کہ یہ کہیں جھوٹ تو نہیں بول رہے ہیں؟ یہ رویہ لوگوں میں ان کی عزت نہیں بننے دیتا۔
اچھے منتظم
ہم نے اسد افراد کی بہت سی خامیوں کا تذکرہ کیا لیکن ہم یہ بار بار لکھ چکے ہیں کہ یہ حاکمانہ ذہنیت کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کی یہ ذہنیت جہاں ان کے لئے کئی نقصانات کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے وہیں انہیں اپنی اس جبلت سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ یہ کسی بھی شعبے میں ایک اچھے منتظم بن سکتے ہیں۔ چونکہ ان میں دوسروں کو محکوم رکھنے کی پیدائشی خواہش موجود ہوتی ہے لہٰذا یہ اس انداز میں سوچتے ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ کس سے کس طرح کام لیا جا سکتا ہے لہٰذا جب انہیں کسی شعبے میں لیڈر بنا دیا جاتا ہے اور اختیارات ان کے پاس آ جاتے ہیں تو انہیں اپنے جوہر دکھانے کا موقع ملتا ہے۔ یہ اپنے تابع لوگوں کی نفسیات کا جائزہ لیتے ہیں اور ان سے ان کی نفسیات کے مطابق کام لیتے ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ : * ان کے تابع لوگوں کا مزاج کیا ہے۔ * ان میں سے کتنے تیز مزاج کے ہیں اور کتنے نرم مزاج کے۔ * کون ان کے سامنے زبان درازی کر سکتا ہے۔ * کس پر سختی کی ضرورت ہے۔ * کون نرم رویہ سے اچھا کام کرے گا۔ * کتنے ایسے لوگ ہیں جنہیں کام سے نکالنا ضروری ہے۔
با اعتماد
ان لوگوں میں اعتماد کی کمی نہیں ہوتی ہے۔ ان کے اعتماد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ جب جھوٹ بولتے ہیں تو اس پر سچ کا گمان ہوتا ہے۔ ان کی گفتگو سے کسی طرح بھی یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ یہ جو کچھ بول رہے ہیں وہ سراسر جھوٹ ہے۔ با اعتماد ہونے کی وجہ سے بہت سے شعبوں میں کامیاب بھی رہتے ہیں۔ مثلا اگر یہ فوج، پولیس اور وکالت وغیرہ کا شعبہ اپنا لیںیا پھر اگر یہ سیاست دان بن جائیں تو ان کا اعتماد انہیں آگے سے آگے لے جاتا ہے۔ ان کے پاس اعتماد ایک ایسی صلاحیت ہے جس سے یہ منفی اور مثبت فوائد حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً اگر یہ پولیس افسر ہیں تو مجرم ان کے نام سے گھبراتے ہیں یہ مجرموں کی سرکوبی کے لئے ایسے اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرتے جن میں بڑا خطرہ ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر یہ سیاست دان ہیں تو ان کی با اعتماد تقریر سننے والوں کو ضرور متاثر کرتی ہے۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ اپنے اعتماد کی صلاحیت کومثبت انداز میں استعمال کریں تا کہ ان کی شخصیت اور وقار قائم رہ سکے
فضول خرچ
دنیا میں اکثر لوگ ایسے ہیں جن کے ہاتھ میں اگر رقم آ جائے تو اسے پس انداز کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ جونہی پیسہ ان کے ہاتھ میں آتا ہے وہ اسے پہلے ضرورتاً خرچ کرتے ہیں اور پھر اپنے شوق کی چیزیں لاتے ہیں، اس کے بعد فضول خرچی کی جانب مائل ہو جاتے ہیں۔ اسد افراد کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ اسد افراد بہت فراغ دل ہوتے ہیں۔ یہ خود پر اور اپنے افرد پر دل کھول کر رقم خرچ کرتے ہیں۔ اگر ان لوگوں کے پاس آمدنی کے اچھے ذرائع موجود ہوں تو یہ بہت کم مالی وسائل کا شکار رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جونہی رقم ان کے ہاتھ میں آتی ہے تو انہیں بے چینی سی ہونے لگتی ہے یہ رقم خرچ کر دینا چاہتے ہیں۔ ایسے میں بہت سے ایسے لوگ بھی ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں جو اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ ان کے ہاتھ میں رقم آئے اور جیسے ہی انہیں رقم ملتی ہے۔ یہ لوگ کسی نہ بہانے ان کے سامنے اپنی ضرورتیں رکھ کر رقم اینٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسد افراد کے لئے ضروری ہے کہ * اگر وسائل محدود ہوں تو رقم سوچ سمجھ کر خرچ کریں۔ * ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں جو وقتاً فوقتاً ان سے رقم مانگتے رہتے ہیں۔ * ایسی چیزیں نہ خریدیں جن کی ضرورت نہ ہو۔ * کچھ نہ کچھ رقم ضرور پس انداز کریں۔
بد زبان
یہ افراد اکثر بد زبان مشہور ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے دل میں کچھ ہوتا ہے یہ بلا جھجک زبان پر لے آتے ہیں۔ کون ایسا ہے جو اپنی برائی سننا پسند کرتے ہوں؟ اسد افراد کی یہی خامی ہے کہ یہ دوسروں کی خامیوں کو بڑی بے باکی سے ان کے اور دوسرے لوگوں کے سامنے بیان کر دیتے ہیں۔ اس طرح اکثر لوگ ان سے دور ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ عام گفتگو میں اسد افراد کی کوشش ہوتی ہے کہ ماحول خوش گوار رہے، یہ لوگ ہنسی مذاق بھی کرتے ہیں لیکن ان کی یہ عادت بھی ہوتی ہے کہ یہ ذرا ذرا سی بات پر مشتعل ہو جاتے ہیں اور جب یہ اشتعال میں آ جاتے ہیں تو انہیں اپنی زبان پر قابو نہیں رہتا، یوں ان کے بد زبان مشہور ہو جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے۔ ان لوگوں میں چالاکی بہت کم ہوتی ہے۔ عام حالات میں تو یہ کوئی چالاکی کرنا پسند بھی نہیں کرتے، یہ دو ٹوک انداز میں بات کرنا پسند کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ دوسرے ان کی بات مانیں۔ اپنی اس کوشش میں بھی یہ کبھی کبھی بد زبانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگریہ لوگ اپنی اس عادت کو صرف ضرورت کی جگہ پر استعمال کریں تو یہ اپنی شاندار شخصیت کا تاثر لوگوں پر قائم کر سکتے ہیں۔
ثابت قدم
یہ لوگ بڑے ثابت قدم ہوتے ہیں۔ ناکامیاں انہیں اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتی ہیں۔ دنیا میں ایسا کون سا فرد ہو گا جو ناکامیوں سے دو چار نہیں ہوتا لیکن اکثر لوگ ناکام ہونے کی صورت میں مایوسی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے حواس درست طور پر کام نہیں کرتے، جھٹکا اگر شدید ہو تو مزید برے اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن اسد لوگوں کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ناکامیوں کی وجہ سے مزید حوصلہ مند اور پر عزم ہو جاتے ہیں۔ ناکامی انہیں مزید آگے بڑھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ان میں جوش بھر جاتا ہے۔ یہ حاکمانہ ذہنیت کے لوگ ہوتے ہیں اس لئے ناکامیوں کو نا پسند کرتے ہیں۔ یہ بلند نگاہ لوگ ہوتے ہیں ناکامیوں کو کچل دینے کی ان میں بڑی صلاحیت ہوتی ہے۔ زندگی میں بہت سے ایسے مقامات آتے ہیں جہاں ثابت قدمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسد افراد ایسے وقت میں ڈٹے رہتے ہیں۔ اگر یہ پولیس افسر ہوں اور انہوں نے کسی مجرم کی سرکردگی کا فیصلہ کر لیا ہو تو یہ ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور پھر چاہے ان پر جتنا دباؤ ڈالا جائے یا انہیں رشوت دینے کی کوشش کی جائے یہ اپنا فیصلہ نہیں بدلتے۔ زندگی کے دیگر معاملات میں بھی یہ ثابت قدم رہتے ہیں اور لوگ ان کی اس خوبی کے معترف ہوتے ہیں۔
اپنی ذات میں مگن
یہ لوگ اپنی ذات میں مگن رہنا پسند کرتے ہیں۔ کون کیا کر رہا ہے، اس سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ ان کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں، اپنے شوق ہوتے ہیں اور اپنا حلقۂ احباب ہوتا ہے جہاں خوش اور مگن رہتے ہیں۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ یہ دوسروں کے معاملات میں دخل دیں، صرف اس وقت یہ دوسروں کے کاموں میں ضرور مداخلت کرتے ہیں جب کسی طرح یہ ان سے متاثر ہو رہے ہوں۔ کسی پر فضا مقام پر جا کر یہ لوگ پھولوں اور پودوں کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں یا پھر اگر ساحل سمندر پر ہوں تو یہ موجوں کو بیٹھ کر دیکھ سکتے ہیں۔ اس وقت انہیں غرض نہیں ہوتی کہ کون کس کام میں مشغول ہے۔ اگر یہ دفتر میں ہوں تو فارغ اوقات میں یہ کوئی ریڈیو یا ٹیپ ریکارڈر کھول کر اس کے پرزوں کا جائزہ لے سکتے ہیں، ایسے میں یہ اپنے دفتری لوگوں سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے کیونکہ انہیں اپنے کام میں زیادہ تسکین محسوس ہوتی ہے۔ اس طرح اگر ان کا دل چاہے تو یہ تنہا لانگ ڈرائیو پر بھی جا سکتے ہیں، ایسے میں یہ صرف اور صرف ڈرائیونگ سے لطف اندوز ہونا پسند کرتے ہیں اور کسی اچھے دوست کی رفاقت کو بھی نظر انداز کر سکتے ہیں۔ اس طرح ہم ان کے بارے میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ موڈی لوگ ہوتے ہیں۔
مختلف خوف
یہ لوگ مختلف خوف کا شکار رہتے ہیں۔ انہیں اکثر یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ تھوڑی دیر بعد کوئی حادثہ رونما ہونے والا ہے۔ اسی طرح اپنے بہت زیادہ موٹے ہو جانے کا خوف بھی لاحق ہو سکتا ہے۔ تنہائی کا خوف تو ان کے لئے لازم ہے۔ بھری محفل میں بھی یہ اکثر سوچتے ہیں کہ جب یہ محفل ختم ہوئی تو یہ پھر تنہا رہ جائیں گے۔ در اصل تمام ہی برج سے تعلق رکھنے والے افراد اس طرح کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں اور اسے ہم نفسیاتی مسئلہ کہہ سکتے ہیں کیونکہ اس طرح کے معاملات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ یہ صرف سوچوں کا کھیل ہے۔ کوئی بھی سوچ جب انسان پر زیادہ اثر کر جاتی ہے تو وہ اس کا شکار ہو جاتا ہے۔ اب یہ اس سوچ پر منحصر ہے کہ وہ کس قسم کی ہے اور اس کی کتنی شدت ہے۔ اسد افراد کے لئے ضروری ہے کہ: فضول سوچوں کو ذہن میں حصہ نہ دیں۔ یہ جان لیں کہ اگر کوئی حادثہ ہو گا تو اس وقت احتیاطی اقدامات کر لئے جائیں اور ضروری نہیں ہے کہ کوئی حادثہ ہو جائے اور یہ بھی سوچ لیں کہ حادثے کے رونما ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ تنہائی سے خوف زدہ نہ ہوں کیونکہ اس دنیا میں کوئی تنہا نہیں ہے، کوئی نہ کوئی اس کے آس پاس موجود ہی رہتا ہے۔
بے خوف
یہ بے خوف لوگ ہیں۔ یہ اکثر ایسے کام مسکرا کر کرتے ہیں جن سے دوسرے لوگ گھبرا جاتے ہیں اور انہیں کرنے سے ڈرتے ہیں۔ موت کے کنویں میں موٹر سائیکل پر کار چلانا آسان کام نہیں ہے لیکن اسد افراد کو اگر ذریعہ معاش میسر نہ ہوتو وہ یہ کام بخوشی کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی موٹر سائیکل یا کار پر ایک طویل جمپ لگانی ہے تو اس کے لئے اسد افراد نہایت موزوں ہے کیونکہ اس کے حواس ہر طرح کے خطرناک حالات میں بھی درست طور پر کام کرتے رہتے ہیں۔ اگر محاذ جنگ پر گولہ باری ہو رہی ہو تو اسد فوجی بالکل بد حواس نہیں ہوتا بلکہ حالات کا جائزہ لے گا اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ دشمن کو کسی نہ کسی طرح مارڈالا جائے، اگر اس کے قریب بھی گر کر پھٹ جائے تو اس کے حواس معطل نہیں ہوں گے بلکہ دشمن کے خلاف اس کے جذبات مزید بھڑک اٹھیں گے۔ یہ لوگ بے خوف ہو کر اپنی بات کہہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسی باتوں سے نہیں ڈرتے جن سے دوسرے ڈر جاتے ہیں۔ اگر کسی بلڈ بنک میں آگ لگ جائے تو اسد افراد جلدی سے بھاگ کر اپنی جان بچانے کی بجائے اس بلڈنگ میں موجود لوگوں کی جان بچانے کی فکر کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس جانب راغب کرتے ہیں۔
منصوبہ ساز
ان لوگوں میں منصوبہ سازی کی بڑی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ تمام باتوں کا جائزہ لینے کے بعد ایک منصوبہ ترتیب دیتے ہیں اور اس پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں۔ ایسے منصوبوں میں اکثر رکاوٹیں بھی آتی ہیں اور ناکامیوں کا سامنا بھر کر نا پڑتا ہے لیکن ان لوگوں کے سامنے نہ تو رکاوٹیں کوئی اہمیت رکھتی ہیں اور نہ ہی یہ ناکامیوں کو خاطر میں لاتے ہیں بلکہ یہ ہر حال میں اپنا منصوبہ مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ جو بھی منصوبہ بناتے ہیں اس سے کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور اٹھانا چاہتے ہیں جبکہ دیگر برجوں سے تعلق رکھنے والے افراد ایسے بھی ہیں جو صرف اپنے شوق کی خاطر کسی منصوبے کی تکمیل چاہتے ہیں یا پھر ایسے لوگ بھی جو اکثر منصوبوں کو ادھورا چھوڑ کر کسی اور جانب متوجہ ہو جاتے ہیں لیکن اسد افراد جو بھی منصوبہ بناتے ہیں جب تک اسے پایۂ تکمیل تک نہ پہنچا دیں سکون سے نہیں بیٹھتے۔ اگر منصوبہ کامیاب ہو جائے تو ٹھیک ہے اور اگر ناکام ہو جائے تو یہ ہاتھ چھوڑ کر نہیں بیٹھتے بلکہ اس کی خامیوں کو تلاش کرتے ہیں اور ایک بار پھر اس کی تکمیل میں لگ جاتے ہیں۔ ان کی منصوبہ سازی کی صلاحیت سے جو لوگ واقف ہوتے ہیں وہ اپنے کسی معاملے میں ان سے مشورہ لینا ضرور پسند کرتے ہیں۔ اسد افراد ان لوگوں کو بڑے پر خلوص مشورے دیتے ہیں۔
بڑکیں مارنا
ان لوگوں میں اکثر ایسے ہیں جو بڑکیں مارنے لگتے ہیں۔ ایسا اکثر ہوتا رہتا ہے۔ یہ ایسی ایسی باتیں لوگوں سے کرتے ہیں کہ وہ بظاہر حیرانی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن جب یہ لوگ چلے جاتے ہیں تو ان کے بارے میں تبصرہ کرتے ہیں کہ یہ بڑکیں مارنے والا شخص ہے۔ اس طرح کی باتیں کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ جب یہ عملی طور پر کچھ نہیں کر پاتے تو بے سکون ہو جاتے ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ ان سے مرعوب رہیں ایسے میں ان کے پاس تسکین حاصل کرنے کا واحد راستہ یہی ہوتا ہے کہ یہ بڑکیں ماریں۔ ان کے اس طرح کے رویے سے انہیں کوئی خاص فائدہ تو ہوتا نہیں ہے ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ یہ بڑک مار مشہور ہو جاتے ہیں۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ: * خود کو زیادہ سے زیادہ مصروف رکھیں۔ * یہ ضرور سوچیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں کیا لوگ اس پر یقین کر رہے ہیں یا نہیں؟ * کوشش کریں کہ لوگ آپ کے کارناموں سے مرعوب ہوں انہیں صرف باتوں سے مرعوب کرنے کی کوشش نہ کریں۔
مستحکم رہنے کی خواہش
یہ لوگ اپنے آپ کو ہر طرح سے مستحکم رکھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ اس کے لئے یہ اپنی زندگی کی منصوبہ سازی کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت کم ایسے ہیں جو کسی شیڈول کے مطابق زندگی نہ گزاریں۔ ان میں سے اکثر مالی طور پر مستحکم رہنے کے لئے ایسے شعبوں کا انتخاب کرتے ہیں جن سے یہ خوب دولت کما سکیں۔ اگر یہ فضول خرچی نہ کریں تو بڑی رقم پس انداز کر لیتے ہیں۔ یہ اپنی ہمت کو بھی مستحکم رکھنا چاہتے ہیں اس سلسلے میں یہ: اپنی غذا کا خیال رکھتے ہیں۔ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں۔ سگریٹ اور دیگر منشیات سے دور رہتے ہیں۔ کھیلوں اور دیگر صحت افزا سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں یہ لوگ اپنے رشتوں کو بھی مستحکم رکھنا چاہتے ہیں، اسی لئے سب لوگوں سے اچھے تعلقات رکھتے ہیں ۔ ان کی بے شمار خامیوں کی وجہ سے ان کے دوست کم ہی ہوتے ہیں لیکن وہ لوگ ان کے ضرور دوست بن جاتے ہیں جو ان کی عادتوں کو سہہ سکیں، یہ اپنے ان دوستوں سے بہت مخلص بھی رہتے ہیں۔
یہ صفحات اسی زمرے میں ہیں
متعلقہ مضامین
6 مضامینحوت
حوت حساس، تخیل میں ڈوبا ہوا اور دوسروں کے لیے شفقت لاتا ہے۔
دلو
دلو مستقبل کو دیکھتا ہے، نئے آئیڈیاز اور انسانیت کی خدمت کے لیے سرگرم رہتا ہے۔
جدی
جدی ذمہ داری قبول کرتا ہے، عرصہ دراز کی منصوبہ بندی اور احتساب میں یقین رکھتا ہے۔
قوس
قوس سچائی کا متلاشی، سفر اور نئی دفتروں کے دروازے کھولتا ہے۔
عقرب
عقرب گہری سوچ رکھنے والا، راز اور دوبارہ پیدا ہونے کا کردار ادا کرتا ہے۔
میزان
میزان توازن کا ماہر، حسین منظر اور تعلقات میں ہم آہنگی پسند کرتا ہے۔
یہ مضامین آپ کی دلچسپی کے ہو سکتے ہیں