مکمل راستہ
برج
سنبلہ
سنبلہ باریک بینی والا اور حقیقت پسند، ہر کام میں ترتیب اور بہتری لاتا ہے۔
برج سنبلہ کے موافق پتھروں کے خواص
سنگ سلیمانی
تفصیل
یہ ایک مشہور جواہر ہے۔ اور عقیق کی قسم کے جواہرات میں سے ہے۔ یونانی اور ایرانی زبان کی پرانی کتابوں میں اس کا ذکر دیکھنے ظاہر ہوتا ہے۔ کہ سنہ عیسوی کے آغاز سے پیشتر یہ جواہر اعلیٰ قسم کے جواہرات میں شمار ہوتا تھا۔ چونکہ اس جواہر کی شکل انسان کے ناخن سے بہت ملتی ہے اس لئے اس کو یونانی زبان میں آنکس کہتے ہیں جس کے معنی ناخن ہیں۔ اس جواہر کے بابت مختلف حکماء کئی طرح کے حالات لکھ گئے ہیں۔ چنانچہ بوی شش لکھتا ہے کہ ’’ عرب کے سنگ سلیمانی کا رنگ سیاہ ہوتا ہے اور پردے سفید، آرن پک ( Aaron Pick) لکھتا ہے کہ ’’ کتب مقدسہ میں اس جواہر کا نام شوہام لکھا ہے لیکن مصنف مذکور اپنی تصنیفات میں اس کا نام کارلنبکلل لکھتا ہے۔‘‘ کتب یونانی میں اس کی پیدائش یوں لکھی ہے کہ ’’ فرشتہ شہتوت (یعنی کام دیو) سلیمانی پیدا ہو گئے۔‘‘ زمانہ قدیم میں یہ جواہر باعث نزاع و فساد صرع کا علاج سمجھا جاتا تھا اور لوگوں کا خیال تھا کہ اس میں ایک جن مقید ہوتا ہے جو رات کے وقت بیدار ہو کر پہننے والے کو مضطرب کر دیتا ہے۔سنگ سلیمانی دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک عام دوسرا مشرقی۔ مشرقی سنگ سلیمانی بڑا قیمتی ہوتا ہے۔ اس کا رنگ سرخی مائل بھورعا یا زیتونی ہوتا ہے۔ اس کے طبقے سفیدیابھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔ جن سے نہایت خوشنما لگتا ہے۔ چونکہ یہ جواہر سارڈس (Sards) واقع لیڈن (Lyden) سے اور سارڈس یعنی سارڈینا سے نکلتا ہے اس لئے اس کو ساڈآنکس یعنی ساڈینا کاسنگ سلیمانی کہتے ہیں۔ یا یہ کہ سارڈ آنکس یعنی سارو (رودراکھ) اور آنکس (سنگ سلیمانی) کا مرکب کہتے ہیں۔ کہ سیمس (Samos) کے حریف پولی کریٹ (Poly Crates) نے جو قیمتی انگشتری سمندر میں ڈالی تھی اس سے سادہ آنکس پیدا ہوا ۔سنگ سلیمانی کی ایک اور قسم ہے جسے نیکولو (Nicolo) یا اونیکلو (Onicolo کہتے ہیں۔ اس کے گہرے نیلے رنگ زمین پر نیلگوں پردے ہوتے ہیں۔ سنگ سلیمانی کے خواص و ماہیت عقیق سی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس کا رنگ سیاہی مائل یا بھورے رنگ مائل ہوتا ہے اور اس پرسفید، سبز، بھورے اور سیارہ رنگ کے طبقات ہوتے ہیں
ذیلی زمرے
متعلقہ صفحات
2 صفحاتجواہرات کے طبی فوائد
یہ جواہر جو اپنی دلربا چمک و دمک و دلفریب آب وتاب کے باعث سب دنیاوی اشیا سے اعلیٰ درجہ کے ہیں۔ صرف انہی خارجی اوصاف کے باعث ہر دلعزیز اور شہر آفاق نہیں۔ بلکہ ان میں کئی عجیب و غریب کرامات و یمن و برکات مانی گئی ہیں۔ جن کے باعث لوگ بڑی خواہش سے ان کے طلبگار ہوتے ہیں۔ زمانہ قدیم سے لوگوں کا یہ اعتقاد چلا آ رہا ہے کہ جواہرات کے پہننے سے کئی برکات نازل ہوتی ہیں۔ کئی آفت و امراض سے بچاؤ ہوتا ہے۔ ان کے استعمال سے طاقت، دولت ، مرتبہ، خوشی اور کئی برکات حاصل ہوتی ہیں۔ کئی جواہر اسعد کئی نحس سمجھے جاتے ہیں۔ گو آج کل کے تہذیب یافتہ نوجوانوٓں اور نئی روشنی والوں کے نزدیک یہ خیالات پوچ اور واہیات ہیں لیکن ہر زمانہ میں عامل و فاضل ہوتے رہے ہیں۔ جنہوں نے اس مضمون کی طرف توجہ فرمائی ہے اور ان کی برکات کے بارے میں اپنے خیالات قلم بند کر کے چھوڑ گئے ہیں۔ جن کے باعث آج کل بھی اس زمانہ علم و فضل میں جب کہ نئی روشنی پرانے ضعیف الاعتقادی کے خیالات دور کرتی جاتی ہے۔کئی اقوام ان کی برکات کے معتقد ہیں۔ ہندوستان میں لوگوں کے یہ خیالات مدت سے چلے آ رہے ہیں اور کل دنیا سے اہل ہند جواہرات کے عجیب و غریب کرامات کے زیادہ معتقد ہیں۔ پورانوں اور دیگر دیرینہ کتب سنسکرت میں ان کے خواص سحری کا تذکرہ دیکھنے میں پایا جاتا ہے کہ اہل ہنود اس اعتقا د کا یہی کتب متبرک موجد ہیں۔ بعض کتب میں جواہرات کا پہننا فرائض مذہبی میں بڑا ثواب بخش و سعد کیا گیا ہے۔ ان کے دان و بخشش کرنے کے بڑے ثواب لکھے ہیں۔ علم نجوم میں کئی ایک نحس کواکب کے بد اثر کے رد کرنے کے واسطے خاص خاص جواہر نامزد کئے گئے ہیں۔ اور اگر کسی سیارے کی گردش کے ایام نحوست کا ڈر ہو تو اس سیارے میں خوشنودی حاصل کرنے اور نحوست دور کرنے کے ایام گردش کے درمیان خاص خاص جواہر کا پہننا فائدہ مند سمجھا گیا ہے۔ اسی طرح کئی ایک زیورات میں خاص طور پر جواہر جڑوا کر پہننے سے عزت، شہرت، دولت، راحت ، طاقت و اقبال کا حاصل ہونا قرار دیا گیا ہے۔ ذیل کی جدول میں لکھا جاتا ہے کہ سیاروں کے کون کون سے خاص جواہر ہیں۔ ان کے بر خلات ہونے اور ان کے ایام گردش میں کون سے جواہر پہننے چاہئیں۔ نام سیارہ برخلاف یہ جواہر سکون کا خاص جواہر ایام گردش میں یہ جواہر پہننا چاہئے پہننا چاہئے شمس ۔۔۔ یاقوت ۔۔۔ یاقوت ۔۔۔ یاقوت قمر ۔۔۔ مروارید ۔۔۔ حجر القمر ۔۔۔ الماس مریخ ۔۔۔ مرجان ۔۔۔ مرجان ۔۔۔ مرجان عطارد ۔۔۔ زمرد ۔۔۔ زرقون ۔۔۔ زرقون مشتری ۔۔۔ پکھراج ۔۔۔ بلور ۔۔۔ مروارید زہرہ ۔۔۔ الماس ۔۔۔ لہسینا ۔۔۔ لہسینا زحل ۔۔۔ نیلم ۔۔۔ نیلم ۔۔۔ نیلم راہووکیتو ۔۔۔ زرقون زمرد ۔۔۔زمرد ۔۔۔ زمرد جواہرات کو عبادت گاہوں میں جڑوانے اور معبودوں کے آگے پیش کرنے کے کئی ثواب لکھے ہیں۔ شاستروں میں مختلف اغراض کے حصول کے لئے ہیں۔ جواہرات کو معبود بنا کر پرستش کرنے کا بڑا ثواب ہے۔ چنانچہ ایک پران میں لکھا ہے کہ ہر ایک سال کے بارہ مہینوں میں ذیل کی شرح کے مطابق جواہر کے شوج مہاراج کی مورتی بنا کر پرستش کرنی چاہئے۔ اس طرح ممالک مغربی میں سال کے بارہ ماہ میں ایک ایک جواہر ایک ایک ماہ کے لئے خاص تھا اور وہ اسی ماہ میں پہنا جاتا تھا چنانچہ یہ دونوں باتیں ذیل کے جدول سے ظاہر ہیں۔ نام ماہ ۔۔۔ کون سا جواہر پہننا چاہئے ۔۔۔ کس جواہر کا شوجی مہاراج بنانا جنوری یا ماگھ ۔۔۔ گومیدک ۔۔۔ مہرہ افعی کا فروری یا پھاگن ۔۔۔ امیتھسٹ ۔۔۔ حجر القمر کا مارچ یا چیت ۔۔۔ سنگ یشب ۔۔۔ طلاکا اپریل یا بیساکھ ۔۔۔ نیلم ۔۔۔ الماس کا مئی یا جیٹھ ۔۔۔ عقیق ۔۔۔ زمرد کا جون یا اساڑہ ۔۔۔ زمرد ۔۔۔ مروارید کا جولائی یا ساون ۔۔۔ سنگ سلیمانی ۔۔۔ نیلم کا اگست یا بھادو ۔۔۔ رودراکھ ۔۔۔ یاقوت کا ستمبر یا کاتک ۔۔۔ زبر جد ۔۔۔ مرجان نومبر یا اگھن ۔۔۔ پکھراج ۔۔۔ لہسینا دسمبر یا پوس ۔۔۔ یاقوت ۔۔۔ پکھراج اسی طرح دیگر دیوتاؤں کے جواہرات سے پرستش کرنے کے قواعد لکھے ہیں۔ پرانوں اور شاستروں میں جواہرات کے عجیب و غریب خواص دیکھنے میں کچھ تعجب انگیز نہیں کیونکہ منتر شاستر میں کل دنیاوی اشیاء کے عجیب و غریب سحری خواص لکھے ہیں۔ بعض سعد سمجھے گئے ہیں اور بعض نحس، انہی میں جواہرات بھی ہیں بلکہ ان کی سب اشیاء پر چمک دم، آب و تاب اور ندرت کے باعث فضیلت ہونے سے ان کی طرف زیادہ توجہ ہوئی اور کئی طرح کی برکات ان کی سمجھی گئی۔ لیکن اہل یورپ کا جو کہ دنیا میں روشن خیال مشہور ہیں۔ ان سحری خواص پر معتقد ہونا حیرت انگیز ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ سحر و جادو کا علم متقدمین یورپ نے ممالک مشرقیہ سے اخذ کیا۔ اور چونکہ علم سحر میں جواہرات کے عجیب خواص کا بھی ذکر ہے۔ اس لئے ان کو بھی ان کا علم ہو گیا ۔ متقدمین یورپ کی تصانیف میں جواہرات کے خواص سحری کے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ زمانہ قدیم سے یہ علم وہاں چلا آیا ہے۔ چنانچہ پانچ سو سال پیشتر سن عیسوی اور نومیکری ٹس نامی پادری نے جواہر کے عجیب و غریب یمن و برکات کی بابت لکھا۔ وہ لکھتا ہے کہ ’’ جو کوئی شخص بلور کو ہاتھ میں لے کر عبادت گاہ میں جائے تو اس کی دعا ضرور مستجاب ہو گی۔ نیز اگر اس پتھر کو اس طرح خشک لکڑی پر رکھیں کہ اس پر آفتاب کی کرنیں پڑ سکیں۔ اسی طرح سے اس نے عقیق، پکھراج، سنگ یشب، کہربا، کاکیتک، مرجان اور اوپل کے خواص لکھے ہیں۔ ان میں صحت، خوبصورتی، دولت، اقبال، عزت و خوش قسمتی کے بخشنے کی طاقت سمجھی جاتی تھی۔ اس لئے اہل یورپ ان کو بڑے شوق سے پہنتے تھے۔ اگرچہ روشنی علم نے تاریکی و جہالت و ضعیف الاعتقادی کو دور کر دیا لیکن اس زمانے میں بھی سینکڑوں علم سحر کے معتقد ہیں چنانچہ یوجنی قیصرہ فرانس اوپل کے واسطے نہیں پہنتے کہ یہ نحس ہے اور باعث بد بختی ہے۔ آج کل کے یورپین ساحروں نے جواہرات کے مخفی سحری طاقتوں کو دریافت کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ متقدمین کو اچھی طرح معلوم تھیں۔ وہ معتقد ہیں کہ خواص طبی کے علاوہ جواہرات میں عجیب و غریب طاقتیں ہیں اور ہر ایک جواہر کا ایک ایک فرشتہ سے تعلق ہے۔ کہتے ہیں کہ کاگنٹ (Mesr Chagnet) نامی ساحر نے ایڈیلی (Adeley) سے یہ علم حاصل کیا ان کے سوال کے جواب جواہرات کے نہانی عجیب و غریب خواص کے بارہ میں مشہور ہیں۔ جی بی پورٹا (G-B- Porta) صاحب کے علم سحر سے جواہر کی خواص کی بابت بہت کچھ معلوم ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ ہندو شاستروں میں مختلف اغراض کے حصول کے لئے مختلف طور پر زیورات بنوا کر ان میں جواہر جڑوانے کے لئے لکھے ہیں۔ اسی طرح یورپ بھی اس ضعیف الاعتقادی سے خالی نہیں۔ وہاں بھی کئی کتب میں جواہرات کے مختلف طرح کے زیورات خاص خاص ایام میں بنانے اور پہننے کے طریق لکھے ہیں اور ان کے پہننے کے فوائد بیان کئے گئے ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کی مہیب و زور آور دشمن پر غالب ہونے کی مراد ہو تو اسے ذیل کے طریق سے (انگشتری) بنوا کر پہننے چاہئیں۔ طریق بروز اتوار، ساعت مشتری (یعنی گیارہ سے بارہ اور دو سے سات بجے دن کے درمیان، ایام زادی النور میں خالص سونے کی انگشتری بنوا کر اور اس میں یہ ساتھ جواہر الماس، یاقوت، نیل ، زمرد، زرقون اور پکھراج جڑواؤ اور اسے پہنو۔ تم کو کسی کا خوف نہ رہے گا۔ جو علماء و حکماء علم سحر و جواہرات کے عجیب و غریب کرامات کے قائل ہیں۔ وہ اپنے ثبوت میں جو دلائل پیش کرتے ہیں ان میں سے چند ذیل میں ہدیہ ناظرین باتمکین ہیں۔ عوام کے نزدیک سحر و کرامات کی تعریف یہ ہے کہ کسی ایسی بات کا ظہور میں آنا جو قانون قدرت کے خلاف ہو۔ غرضیکہ جو بات جس کے ذہن میں نہ آئی اس کو سحر کہہ دیا۔ اب یہ دیکھنا چاہئے کہ عوام الناس کا یہ خیال کہاں تک درست ہے اگر کوئی شخص کسی ایسے فعل کو دیکھ کر جو اس کی سمجھ میں نہ آئے اور نہ وہ قبل اس کے اس کے سننے میں آیا ہو یہ کہے کہ یہ خلاف قانون قدرت ہے گو وہ پیشتر سے ایسی باتیں فرض کر لیتا ہے جس کا کوئی مبشر دعویٰ نہیں کر سکتا اور جس پر صرف صانع حقیقی ہی حاوی ہے۔ اول تو ایسا کہنے سے اس کا یہ منشا ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص تمام قوانین قدرت سے واقف ہے کیونکہ اگر وہ واقف نہ ہوتا تو وہ کس طرح سے یہ دریافت کر لیتا ہے کہ فلاں بات قانون قدرت کے برخلاف ظہور میں آئی۔ اب دیکھو کہ آیا یہ ممکن ہے کہ انسان تمام قوانین قدرت کو جانے۔ جب خدا کی ذات غیر محدود ہے اور اس کے قوانین بھی اندازہ گمان میں نہیں آ سکتے۔ اور عقدہ راز فطرت عق و وہم کے زور سے نہیں کھل سکتا۔ توانسان جو ایک محدود چیز ہے کیونکہ اس وسیع کائنات کے سب قوانین قدرت کو جان سکتا ہے۔ مثلاً الماس میں یہ خاصا عجیب ہے کہ جو کوئی شخص اس کو پہنے اس کو صحت جسم حاصل ہوتی ہے۔ سب خوف دور ہو جاتے ہیں۔ دشمنوں پرفتح حاصل ہوتی ہے۔ ہر ایک شخص اس بات کا قائل ہے۔ کہ خدا کی قدرت کا لا انتہا ہے۔ اور انسن کے طائر عقل و فہم کی اتنی بلند پروازی نہیں کہ وہاں تک پہنچ سکے۔ عقدہ راز فطرت اب تک نہیں کھلا۔ کس قدر کسی عالم فاضل نے ساری عمر تجربات کرتے اور صفحہ ہستی کا مطالعہ کرتے چند باتیں معلوم کر لیں وہ قوانین قدرت خیال کئے۔ باقی باتیں وہ خلاف قانون قدرت سمجھی گئیں۔ تو ایک طرف تو ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ قوانین قدرت محدود ہیں۔ اس میں اجتماع ضدیں واقع ہوتا ہے ایک چیز کو وہم یہ کہتے ہیں کہ غیر محدود ہے۔ اور پھر کہتے ہیں کہ کوئی چیز اس کے باہر واقع ہوئی۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ وہ غیر محدود نہیں ہے۔ اس صانع حقیقی نے جو قوانین بنائے ہیں وہ مثل قوانین نوع انسان ایسے نہیں کہ آج جاری ہوئے کل منسوخ ہو گئے۔ انسان تو اپنے علم و عقل کے محدود ہونے کے باعث اپنے سب کاموں کے نتائج بخوبی دیکھ نہیں سکتا ہے۔ اور جب کسی بات کے حصول یا دفعیہ کے لئے اس کی کوئی تدبیر قاصر ہوتی ہے تو اس وقت وہ مجبور ہوتا ہے کہ کوئی دوسری تدبیر کرے اور بوجہ اپنے ذاتی نقص کے کبھی اس بات میں کامیاب نہیں ہوتا کہ کوئی ایسا قانون بنائے جو تمام دنیا کے واسطے کافی ہو اور جس کو کبھی منسوخ کرنے کی ضرورت نہ ہو۔
عقیق
اسم معروف: عقیق۔ فارسی ، عقیق۔ عربی: عقیق ماہیت: مشہور پتھر ہے عمدہ یمنی ہوتا ہے۔ طبیعت: سردو خشک ہے دوسرے درجے میں۔ رنگ و بو: سرخ و زرد و سفید و سیاہ و شجری۔ ذائقہ: پھیکا کوئی مزہ نہیں۔ مضر: گردے کے لئے مضر ہے۔ مصلح: کتیرا اور اشیائے تر۔ بدل: بسد احمر یعنی مونگے کی جڑ اور کہربا۔ نسبت ستارہ: منسوب ہے پلوٹو سے۔ نفع خاص: مقوی دل و بصر و دندان رافع خفقان۔ کامل: پونے دو ماشے تک۔ ناقص: چار رتی یا چھ رتی تک۔ افعال و خواص: باریک حل کیا ہوا قریب چھ رتی کے پینا دل کو قوت دیتا ہے۔ خفقان کا دافع اور حابس خون ہے۔ خصوصاً خون حیض کا جو کسی طرح بن نہ ہوتا ہو اور ادویہ مفتحہ کے ساتھ جگر اور طحال کے سدوں کا دافع اور ادویہ مفتتہ کے ساتھ مفت حصاۃ ہے سرمہ اس کا مقوی بصر اور منجن دانتوں کا مقوی ہے اور خون بہنے کا مانع اور گلے میں لٹکانا غصے اور غضب کا دافع اور خفقان کو سود مند۔ عقیق ایک خوش شکل او ر مشہور جواہر ہے۔ بعض علماء کی رائے ہے کہ عقیق فی الحقیقت از قسم معدنیات نہیں کیونکہ لفظ معدنیات حرف انہیں کافی اشیاء پر عائد ہو سکتا ہے کہ جن کی اجزاء کو اگر از روئے علم کیمیا تحلیل کیا جائے تو ہر ایک حصہ کی ہوی ماہیت ہو جو اس دھات کی ہے۔ جس کا وہ جزو ہے۔ عقیق میں یہ بات نہیں۔ یہ جواہر سیلیکا اور کوارٹرز قسم کی چند معدنیات کا مجموعہ ہے۔ جو کہ رنگ ڈھنگ اور بناوٹ میں ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ جب ان معدنیات میں دو یا زیادہ مل کر ڈلی بن جاتی ہیں اور ان پر داغ اور طبقہ پڑ جاتے ہیں تو یہ عقیق کہلاتے ہیں۔ یہ معدنیا ت از خود از قسم جواہر ہیں اور ان کیانام یہ ہیں۔ کالسڈونی، رودراکھ، سنگ سلیمانی، سنگ یشم، اوپل، امیتھسٹ سنگ ستارہ، حجر الدم، سنگ موچا اور بھیکہم۔ عقیق کو انگریزی میں اگیٹ کہتے ہیں۔ مختلف رنگ و ڈھنگ کے لحاظ پر عقیق کی کئی ایک قسمیں ہیں۔ (1) رابینڈا گیٹ (Riband Agate) (یعنی ریشمی فیتہ سا عقیق) جس میں مختلف رنگ کے طبقے ہوں اور یہ طبقے ایک دوسرے کو قطع کریں۔ (2) آنگس اگیٹ (Ongas Agate) (یعنی سنگ سلیمانی عقیق) جس میں طبقوں کے رنگ شوخ ہوں اور طبقہ سطح کے متوازی ہوں۔ (3) بینڈا گیٹ (Banda Agate) (یعنی زردی دار عقیق) جس پر طرح طرح کی دھاریاں ہوں۔ (4) جس میں یہ دھاریاں ہوں اسے سرکلر اگیٹ (cercular Agate)یعنی گول عقیق کہتے ہیں۔ (5) اور اگر دھاریوں کے مرکز میں اور رنگ کے نقطہ ہوں تو اسے آئی گیٹ (Eye Agate) یعنی عقیق مانند چشم کہیں گے۔ (6) قوس قزاحی عقیق جس کی دھاریاں مل کر قوس کی شکل بن جائیں اور آفتاب کے مقابل کرنے سے رنگ منشوری ظاہر ہوں۔ جس قدر پتھر زیادہ پتلا ہو اسی قدر یہ وصف زیادہ ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ کئی اور علماء ان کی یہ قسمیں بتاتے ہی۔ (1) رابن اگیٹ (Ribbon Agate) یعنی ریشمی لچھے سا عقیق، اس میں سنگ یشم اور کارلسڈونی کے طبقہ متوزی قطاروں میں ہوتے ہیں۔ یہ سائبیریا اور سسلی سے آتا ہے۔ (2) بریشنٹیڈ اگیٹ یہ اصل میں اسیتھسٹ ہوتا ہے اور اس میں رابن اگیٹ کے ٹکڑے بھی مرکب ہوتے ہیں یہ سکسنی سے آتا ہے۔ (3) فارٹی فیکیشن اگیٹ (Fartification Agate) یہ کئی شکل کا پایا جاتا ہے۔ اس کو کاٹنے کے وقت اس کے متوازی سطریں عمارت کی صورت دکھلائی دیتی ہیں۔ اس میں بھیکہم اور میتھسٹ کے ٹکڑے دکھائی دیتے ہیں۔ (4) ماس اگیٹ (Moss Agate) یعنی نباتاتی عقیق یہ اس میں کالسڈونی ہے اور سرخ سنگ یشم کی دھاریاں ہوتی ہیں۔ اس کی شکل ایسی دکھلائی دیتی ہے کہ گویا اس کا نباتاتی اصل ہے۔ اس میں آکسیڈ آہن مرکب ہے۔ اور بعض میں نفت بھی ہوتی ہے۔ اس کی سطح کو پتھر پر رگڑ کر نرم لکڑی سے جلا دیتے ہیں۔ اس کا رنگ بھورا، زرد، ماہ آکسیڈ میگنشیا واہن کے باعث ہوتا ہے۔ (5) سارو آنکس (6) پلاسما (Plasma) یہ سبز گیا ہی رنگ کا نیم شفاف، زرد اور سفید داغ۔ اس کا رنگ مادہ کلورائیٹ کے باعث ہوتا ہے۔ (7) علاوہ بریں عقیق کی تقسیم ایک اور طرح بھی ہے۔ یعنی تمام براق اور عمدہ قسم کے عدد مشرقی از کم درجہ مغربی عقیق کہلاتے ہیں۔ کتب فارسی میں عقیق کے مندرجہ ذیل اقسام درج ہیں۔ 1۔ سرخ و جگری جن کا ندرونی رنگ بیرونی کی نسبت زیادہ سرخ ہو۔ 2۔ صاف شفاف ہوں اور آئینہ کی طرح طاقت انعکاس رکھتے ہوں۔ 3۔ صقاق جو چنداں شفاف نہ ہو اور آئینہ سی طاقت انعکاس نہ رکھتا ہو۔ 4۔ ابلقی جو کچھ سفید اور کچھ سیاہ ہو۔ 5۔ ذوبلقاتی یا جوزا جس کے ابرق کی طرح پرت ہوں۔ 6۔ شجری جو شکل میں درخت یا پہاڑی کے مشابہ ہو۔ 7۔ بابا گری یا سلیمانی جس میں گول نشان ہوں۔ مصر میں سبز رنگ عقیق کو انٹاس، سیاہ رنگ کو سلیمانی اور خاکی رنگ کو گوری کہتے ہیں۔ عقیق چونکہ یمن میں بکثرت ملتا ہے اس لئے عمدہ رنگوں کو عقیق یمنی کہتے ہیں۔
یہ صفحات اسی زمرے میں ہیں
متعلقہ مضامین
6 مضامینبری خصوصیات
بات بات پر تنقید، چرب زبانی، طنز گوئی، تیز زبان، غیر مطئن رہنا، ہنگامہ آرائی، کاہلی، سستی، خوابوں سے ڈرنا
اچھی خصوصیات
رحم دلی، ایمانداری، انصاف پسندی، سچائی، ذہانت، قیافہ شناسی، انتھک محنت، خوش لباس، دور اندیش، منصوبہ ساز، تخلیق کار، تجزیہ نگار
حوت
حوت حساس، تخیل میں ڈوبا ہوا اور دوسروں کے لیے شفقت لاتا ہے۔
دلو
دلو مستقبل کو دیکھتا ہے، نئے آئیڈیاز اور انسانیت کی خدمت کے لیے سرگرم رہتا ہے۔
جدی
جدی ذمہ داری قبول کرتا ہے، عرصہ دراز کی منصوبہ بندی اور احتساب میں یقین رکھتا ہے۔
قوس
قوس سچائی کا متلاشی، سفر اور نئی دفتروں کے دروازے کھولتا ہے۔
یہ مضامین آپ کی دلچسپی کے ہو سکتے ہیں