مکمل راستہ

1

برج

2

عقرب

تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 23؍ اکتوبر نشان ۔۔۔۔۔۔ بچھو عنصر ۔۔۔۔۔۔ آبی حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ پلوٹو۔ مریخ مبارک عدد ۔۔۔۔۔۔ 9 مبارک دن ۔۔۔۔۔۔ منگل مبارک پتھر ۔۔۔۔۔۔ پکھراج، سنگ سلیمانی، اوپل مبارک رنگ ۔۔۔۔۔۔ نیلا ، سبز، سرخ، بھورا

3

برج عقرب کے موافق پتھروں کے خواص

4

یمنی اوپل دودھیا پتھر

یہ جواہر بڑا قیمتی اور پرانا ہے۔ زمانہ سلف کے حکماء اس کے بارے میں اپنے اپنے بیانات لکھ گئے ہیں۔ چنانچہ نکل لکھتا ہے کہ ’’ اس جواہر کی آب و تاب کاربنکل کی مانند ہے۔ اور اس کے عمدہ زعفرانی رنگ امتھسٹ کے مشابہ ہے اور زرد رنگ میں یہ زمرد سے ملتا ہے۔‘‘ بویش لکھتا ہے کہ یہ جواہر خوش رنگتی میں تمام جواہرات پر فوقیت رکھتا ہے۔ پلائینی کا بیان ہے کہ یہ جواہر تمام جواہرات پر شان و شوکت میں افضل ہے۔‘‘ علیٰ ہذا لقیاس۔ زمانہ قدیم میں یہ جواہرات باعث عزت و رفعت سمجھا جاتا تھا۔ زمانہ متوسط تک لوگوں کے دلوں میں اس کی نسبت ایسے ہی خیال تھے۔ سترہویں صدی کے آغاز سے پیشتر اس جواہر کی بڑی قدر ہوتی۔ اس کے خواص سحری کا خیال سر واٹلر سکاٹ نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا۔ اس جواہر کی کئی ایک قسمیں ہیں۔ ان میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔اس جواہر کی کئی ایک قسمیں ہیں۔ ان میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔ (1) سیاہ اوپل۔ یہ قسم باقی قسم کے اوپلوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ اس کا رنگ بہت ہی عمدہ ہے۔ کان ہائے ہنگری کے مالک بیرن گولڈ شمڈٹ (Baron Gold Schmudt) نے اپنی کان سے اس قسم کے کئی نگ بھیجے جن کی صرف مبصرین قیمت ڈال سکتے ہیں۔ اسی قسم کا ایک نگ مرغٰی کے بیضہ کی مقدار کا تھا بہت مہنگا فروخت ہوا۔ اب یہ قسم بہت نایاب ہے بعض محققین کی رائے ہے کہ از روئے علم کیمیا اس قسم کی پیدائش عمدہ نہیں ہوتی۔ (2) اعلیٰ قسم کا اوپل (3) آتشی اوپل اس کے اندر سے چمکیلی سرخ رنگ کی دمکیں نکلتی ہیں۔ یہ ہنگری اور کارنوال میں پایا جاتا ہے۔ (4) عام اوپل یا سیمی اوپل اس میں عمدہ دودھی رنگ ہوتا ہے۔شیشہ سے یہ چھیلاجاسکتاہے۔ (5) ہائیڈ روفین (Hydrophane) تارمک خوش رنگ۔؂ (6) کیچو لانگ (Cacholong)چونکہ یہ دریائے کیچ (Cache) (افریقہ میں 12 شمالاً غرباً پر ہے) واقعہ بوچیریا (Bucharia) سے نکلتا ہے۔ اس لئے اس کو کیچولانگ کہتے ہیں۔ یہ کالسڈونی کے مشابہ ہے۔ (7) ہایا لائیٹ (Hyalite) یا ملرس گلاس (Millers Glass) (یعنی شیشہ حکاک)یا فیورئیٹ (Fiorite) بلورن چمک۔ شفاف۔ (8) مینی لائیٹ (Menilite) اس کا نام کوہ مینل (Menil) پر پڑا ہے۔ جہاں کہ یہ پایا جاتا ہے۔ رنگ بھورا (9) ورڈ اوپل (Wordopal) یعنی چوبی اوپل، رنگ خاکی، بھورا سیاہ، چوبی ساخت کا ہے۔ اصل میں ہیڈریٹ سیلیکا کے باعث چوبی شکل کا ہوا ہے۔ (10)اوپل جیسپر یہ سنگ یشم کے مشابہ ہے۔ (11) سبلیش سنٹر (Sibicious Sintr) کوہ ہائے آتش فشاں و چشمہ ہائے گرم کے قریب و جوار میں ملتا ہے۔ (12) بٹاشر، شکل معدنی اوپل معہ پتھر کے جس میں سے یہ نکلتا ہے۔ ماہیت اوپل کی کافی شکل امور فس ہے۔ ختی 5ء5 سے 6 - چمک بلورین مرداردیدی، روگن، رنگ سفید، زرد، بھورا، سبز خاکی۔ اس کے رنگ ہائے بو قلموں کی نمائش کا باعث ٹھیک ٹھیک تحقیق نہیں ہوا۔ صاحب کی رائے ہے کہ اس کا باعث اندرونی درزیں ہیں جن میں ہوا بھری ہوئی ہوتی ہے۔ وزن مخصوص 1 سے 1 ء 2 تک۔ اس جواہر میں کئی چھوٹے چھوٹے نشیب ہوتے ہیں۔ جس میں ایک قسم کی رطوبت بھری جاتی ہے۔ وزن مخصوص انہی کے باعث ہے۔ یہ نیم شفاف ہے۔ اس میں90 حصہ سیلیکا 10 حصہ پانی مرکب ہے۔ دھونکنی کی مدد سے بھی نہیں پگھلتا۔ اگرتیزگرمی پہنچائی جائے تو پانی دور ہو جانے کے باعث یہ تاریک ہو جاتا ہے۔ جن اقسام میں کچھ لوہا بھی ہوتا ہے وہ گرمی سے سرخ ہو جاتے ہیں۔ عموماً تھوڑی گرمی میں اس کا رنگ شوخ ہو جاتا ہے۔ قیمت کا تعین اس جواہر کی قیمت رنگت پر منحصر ہے۔ ہنگری کا اوپل سب اقسام سے زیادہ قیمت پاتا ہے۔ زمانہ قدیم میں اس کی قیمت الماس کے برابر ہوتی تھی۔ رومی اس کے بہت شائق ہیں۔ بہت بڑے نگ کمیاب ہونے کے باعث نہایت بیش بہا ہوتے ہیں۔ اس کی قیمت پر رواج کا بھی اثر ہوتا ہے

آپ یہاں ہیں

مشہور و معروف

تفصیل

کئی ایک ایسے اوپل ہیں جو خوش رنگت اور مقدار کے باعث نامزد عالم ہیں۔ ان میں سے چند کا بیان ہدیہ ناظرین با تمکین کیا جاتا ہے۔ (1) نمائش گاہ 1851ء میں ایک ہنگری کا اوپل 526-1/2 قیراط وزنی 10 ہزار روپے قیمتی دیکھا گیا۔ (2)کان ہنگری سے 1866ء میں دو بہت عمدہ کر دی شکل اوپل نکلے۔ ایک 186قیراط ، دوم 160 قیراط وزنی تھا۔ (3) پلائینی ایک عدد کے بارے میں لکھتا ہے کہ ’’ یہ رنگ سپاری کے برابر مقدار میں 2 لاکھ روپے قیمتی سینٹر نوینس (Senator Nonws) کے پاس تھا۔ ایک شخص مارک انٹوی (Marc Antony) نامی نے یہ جواہر مانگا۔ یکن نوینس نے اسے دینا نہ چاہا او اسے لے کر بھاگ گیا۔ (4) شاہ دنیا کے جواہرات میں ایک عدد 17 اونس وزنی مشت کے برابر ہے۔ (5) آج کل سب سے عمدہ اوپل ہے جو ملکہ جوزفائن (Josephine) کے پاس ہے۔ اور اشعہ لمعان کے باعث برننگ ٹرائی (Burring Truy) کے نام سے مشہور ہے۔ (6) ایک اوپل پر لوس سیز وہم کی قیصر بنقش ہے۔ (7) ایک اوپل پرجوبا کی تصویر ہے۔ یہ مجمع الجواہرات ڈیوک آف آرلینز میں ہے۔ (8) ہوپ کے جواہرات میں کئی نگ ہیں ایک 11 انچ طول 12/4 عرض، بڑا شفاف و خوش رنگ ہے۔اس پر اپولوکے سر کانقش ہے۔جس کے ارد گرد آتشی کرنیں حلقہ کے طور پر محیط ہیں

متعلقہ مضامین

6 مضامین

خواص ماہیت

(1) پکھراج کی کافی شکل قائم الزاویہ متوازی اضلاع اور مستطیل ہوتی ہے۔ (2) اس کی سختی 8 سے 9 تک ہے۔ اس لئے یہ بلور کو کاٹ سکتا ہے اور الماس و نیلم سے کاٹا جاتا ہے۔ (3) چمک اس کی بلورین ہے۔ (4) اس کا رنگ زرد، سفید، نارنجی ۔ دارچینی، نیلگوں، گلابی، پیازی، زردی مائل سفید، سبزی مائل سفید، پہاڑی سبز، آسمانی نیلا، کرمزی، گوشت سا سرخ وغیرہ ہوتا ہے۔ زرد رنگ پکھراج نہایت عمدہ خوشنما ہوتا ہے۔ یہ رنگ جس قدر گہرا ہو اسی قدر قیت زیادہ ہوتی ہے۔ گلابی رنگ کے لحاظ سے اس کے یہ نام ہیں۔ (1) گلابی رنگ پکھراج یہ زرد رنگ پکھراج سے اس طرح بناتے ہیں کہ گہرے زرد رنگ پکھراج کو حقہ کی چلم یا کسی چھوٹی کھٹائی میں رکھ کر اوپر راکھ یا ریت ڈالتے ہیں۔ بعدہ تھوڑی آنچ دینے سے اس کا رنگ زرد سے گلابی ہو جاتا ہے۔ اگر رنگ عمدہ نکلے تو قیمت بڑھ جاتی ہے۔ اس کو برازیل کا پکھراج بھی کہتے ہیں۔ (2) سرخ رنگ پکھراج اس رنگ کا پکھراج کامیاب ہوتا ہے۔ کرمزی رنگ اکثر دیکھے جاتے ہیں۔ (3) نیلگوں پکھراج یہ عمدہ خوش رنگ ہوتا ہے اور چنداں نایاب بھی نہیں ہوتا۔ ہلکے رنگ کے پاری بھدر اس کی بجائے خریدے جاتے ہیں۔ (4) سفید انکوائنس نوداس بھی کہتے ہیں۔ یہ بازو بند، مالا وغیرہ زیورات میں مزین ہوتا ہے۔ (5) وزن مخصوص 2ء3۔ (6) شفاف و براق۔ ( 7) طاقت انعکاس۔ (8) ملنے اور گرمی پہنچانے سے طاقت برقی پیدا ہوتی ہے۔ پہلے پہل پکھراج برازیل کی طاقت برقی 1760ء میں کنٹن (Canton) نامی ایک شخص نے دریافت کی۔ ایب ہائی (Abbe Huuy) نے سائبیریا کے پکھراج میں بھی یہ خواص دیکھا کہ یہ طاقت پکھراج میں 20 یا 24 گھنٹہ تک رہ سکتی ہے۔ سر ڈیویڈ بریوسٹر (Sir David Brewster) نے ایک ایسے پکھراج کو کاٹنے میں جس میں کئی ایک نشیب تھے اور نشیبوں میں بڑی پھیلنے والی رقیق شے تھی۔ ایک عجیب کیفیت دیکھی۔ اس کی غرض یہ تھی کہ ایک نشیب پر شگاف لگا کر اور اسے کھول کر اس کے رقیق مادہ کو دیکھے۔ نشیب کے کھلنے سے دو نہایت سرعت سے پھیلنے والے رقیق مادے جلائے ہوئے حصہ پر بہنے لگے اور بتدریج پھیلنا اور سکڑنا شروع کیا۔ کبھی تو وہ سکڑ کر قطرہ بن جاتے اور کبھی پھیل کر چوڑے ہو جاتے۔ یہ حرکت جاری رہی حتیٰ کہ وہ بخارات بن کر اُڑ گئے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ حرکت اس طاقت برقی کے باعث تھی جو کاٹنے سے پیدا ہوئی۔ (9) اس میں 38ء 58 حصہ الیومینا۔ 01ء 34 حصہ سلیکا 61ء 7 فلورائین مرکب ہیں۔ (10) اگر اسے کوئلہ پر رکھ کر پھونکنی کے ذریعہ آنچ دی جائے تو بھی نہیں پگھلتا۔ ہاں سوہاگہ کے ساتھ اسے گرمی پہنچائی جائے تو بے رنگ شیشہ کی طرح ہو جاتا ہے۔ اگر اسے تیز گرمی دی جائے تو اس پر بلبلے نمودار ہوتے ہیں۔ جو فوراً ٹوٹ جاتے ہیں۔ زرد رنگ پکھراج گرمی سے بے رنگ ہو جاتے ہیں۔ تاریک زرد گلابی یا گومیدک جیسے سرخ ہو جاتے ہیں۔ تیز آب کوبالٹ سے یہ نیلے رنگ کا ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

مقامات پیدائش

یہ جواہر سنگ سیماق کے ساتھ کئی مقامات پر پایا جاتا ہے۔ مشرق رنگ سلیمانی ہندوستان، مصر، عرب اور آرمینا سے اور عام قسم کے عدد سکسنی کے جزیرہ سکائی (Sky Iste) اور روس، آئر لینڈ، بوسیمیا کے کئی مقامات پائے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں

حوت

حوت حساس، تخیل میں ڈوبا ہوا اور دوسروں کے لیے شفقت لاتا ہے۔

مزید پڑھیں

دلو

دلو مستقبل کو دیکھتا ہے، نئے آئیڈیاز اور انسانیت کی خدمت کے لیے سرگرم رہتا ہے۔

مزید پڑھیں

جدی

جدی ذمہ داری قبول کرتا ہے، عرصہ دراز کی منصوبہ بندی اور احتساب میں یقین رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں

قوس

تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 23؍ نومبر تا 21؍ دسمبر حکمران سیارہ ۔۔۔۔۔۔ مشتری عنصر ۔۔۔۔۔۔ آتش موافق دن ۔۔۔۔۔۔ جمعہ، جمعرات، منگل موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 3 موافق نگینہ ۔۔۔۔۔۔ پکھراج، فیروزہ موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ سرخ، نیلا اور ارغوانی موافق دھات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سونا، چاندی

مزید پڑھیں

یہ مضامین آپ کی دلچسپی کے ہو سکتے ہیں