مکمل راستہ
برج
دلو
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 21؍ جنوری تا 19؍ فروری حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ یورانس عنصر ۔۔۔۔۔۔ ہوا نشان ۔۔۔۔۔۔ مشکیزہ، بردار موافق دن ۔۔۔۔۔۔ ہفتہ، اتوار موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 4-8 موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ عقیق، فیروزہ، نیلم موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ بنفشی، ہلکا نیلا، سبز
دلو مردوں کی خصوصیات
جو انہیں سربراہی کا موقع فراہم کرتی ہیں مثلاً
تفصیل
- یہ ذہین ہوتے ہیں۔
- گہرا مشاہدہ کرتے ہیں۔
- گفتگو کے فن میں مہارت رکھتے ہیں۔
- ان کی اچھی تحریر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان میں دیگر بے شمار صلاحیتیں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے یہ لوگوں کی نظروں میں آ جاتے ہیں۔ مثلاً اگر یہ کالج میں ہیں تو کسی بھی کھیل میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ٹیچرز کی نظر میں آ جاتے ہیں اور انہیں ٹیم کا کپتان بنا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر یہ کسی جگہ ملازمت کرتے ہیں تو ایسی کارکردگی دکھاتے ہیں کہ افسران ان کی تعریف کرتے ہیں اور انہیں ترقی کے مواقع ملتے ہیں۔ یہ اگر مناسب مواقع ہوں تو یہ لوگ ادارے کا سربراہ بھی بن سکتے ہیں۔ اپنے محلے میں یہ ایسے فلاحی کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے اہل محلہ انہیں کونسلر بنانا پسند کرتے ہیں جہاں سے انہیں ترقی کے زینے طے کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور یہ مختلف انداز میں سربراہ ہوتے ہیں۔
متعلقہ صفحات
32 صفحاتاچھے دوست
کہتے ہیں کہ دوست ہوتے نہیں ہر ہاتھ ملانے والا، یہ حقیقت بھی ہے، آپ کو دن بھر میں نا جانے کتنے لوگ ملتے ہوں گے جن سے آپ ہنس ہنس کر باتیں بھی کرتے ہیں، ان کے ساتھ کھانابھی کھاتے ہیں اور تفریح بھی کرتے ہیں لیکن کیا آپ انہیں اپنا دوست کہہ سکتے ہیں؟ شاید آپ کا جواب نفی میں ہو گا کیونکہ اس طرح تو ضرور تاسب ہی کو روزانہ نہ جانے کتنے لوگوں سے ملنا پڑتا ہے لیکن ان ملنے والوں میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو صرف ایک دن ہی ملتے ہیں، اس کے بعد ساری زندگی ان سے واسطہ نہیں پڑتا۔ آپ کسی سفر کی مثال ہی لے لیں۔ ایک یا دو دن کے سفر میں لوگ آپس میں ملتے ہیں اور بچھڑ جاتے ہیں اور ان میں اکثر پھر زندگی میں کبھی نہیں ملتے۔ اس کا مطلب ہے کہ ا ن سے زیادہ واسطہ نہیں ہوتااور نہ ہی وہ دوست ہوتے ہیں۔ دوستی کے لئے خلوص سب سے بڑی شرط ہے۔ آپ نے ایسی دوستیابی بھی دیکھی ہوں گی جو کئی سال قائم رہنے کے بعد ٹوٹ جاتی ہیں، اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ان دوستوں میں سے کوئی ایک مخلص نہیں ہوتا۔ کسی کو دوست بنانا آسان ہے لیکن دوستی کو نبھانا بڑا مشکل ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر انسان کے کچھ ہی کے کچھ ہی دوست ہوتے ہیں جن پر وہ اعتماد کر سکتا ہے، ان سے دل کی بات کہہ سکتا ہے اور ہر لحاظ سے ان پر بھروسہ کر سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ دوستی بڑی قربانی اور خلوص مانگتی ہے۔ جو لوگ یہ کر سکتے ہیں انہیں اچھے دوست مل جاتے ہیں۔ ( برج اسد کی کتاب میں ہم نے لکھا تھا کہ اسد افراد تحکمانہ ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں، وہ اپنے مفاد کی خاطر اپنے دوستوں کو بھی زک پہنچانے سے گریز کرتے ہیں اور اسد وہ برج ہے جس کے حامل اچھے دوستوں سے محروم رہتے ہیں کیونکہ وہ دوستی کے لئے قربانی دینا نہیں جانتے، وہ خلوص کا مظاہرہ نہیں کرتے، انہیں اپنے فسادات عزیز ہوتے ہیں اور وہ ان کی خاطر اپنی دوستی قربان کر دیتے ہیں۔) دلو افراد اس معاملے میں بہت خوش قسمت ہوتے ہیں، ان کے ایسے دوست ہوتے ہیں جو زندگی بھر ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہ لوگ بہت سوچ سمجھ کر دوست بناتے ہیں، یہ جنہیں دوست بنانا چاہیں پہلے ان کا بھر پور انداز میں جائزہ لیتے ہیں، ان کے اندر خلوص کو دیکھتے ہیں، اگر وہ فرد ان کے معیار پر پورا اترے تو یہ اس کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں اور اس سے نہایت پر خلوص دوستی کرتے ہیں۔ ان کی دوستی میں بناوٹ اور تضع نہیں ہوتا۔ یہ دوست کے ہر اچھے برے وقت میں اس کے کام آتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ ان کا دوست بھی ایسے ہی رویے کا مظاہرہ کرے ۔ اگر ان لوگوں کا اندازہ غلط بھی ہو جاتا، وہ اس طرح کہ یہ جس فرد کے بارے میں اچھی طرح چھان بین کر کے اسے دوست بناتے ہیں، تھوڑے یا بہت عرصہ بعد وہ اپنے کسی نہ کسی مفاد کا شکار ہو کر دوستی کو روند ڈالتا ہے۔ یوں یہ لوگ اس سے قطع تعلق کر کے نئے دوست کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔
انصاف پسند
آپ نے دیکھا ہو گا کہ بے شمار لوگ کسی کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہونے کے بعد یہ واویلا کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہے اور آپ کو ان لوگوں سے ہمدردی بھی ہو جاتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ ان کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوں لیکن اگر آپ ذرا غور سے ان لوگوں کا جائزہ لیں تو آپ کو اندازہ ہو گا یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جب ان کے ساتھ کوئی زیادتی ہو جائے تو یہ انصاف کا شور مچا دیتے ہیں لیکن جب یہ لوگ یہی رویہ دوسروں کے ساتھ روا رکھتے ہیں تو انصاف کے تمام تقاضوں کو بھول جاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ انصاف پسند نہیں ہوتے کیونکہ انسان ایسے فرد کو کہا جا سکتا ہے جو صرف انصافہی کا طالب نہ ہو بلکہ خود بھی انصاف کرے۔ انسان لالچ اور ہوس کا پتلا ہے۔ اکثر لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان کا مفاد سامنے ہوتا ہے تو وہ تمام اصولوں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ ان کے بہانے صرف ایک ہی مقصد رہ جاتا ہے کہ کسی طرح اپنا مفاد حاصل کرو۔ آئے روز اس کی مثالیں ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں کہ دوست نے دوست کو قتل کر ڈالا،ڈاکوؤں نے لوٹ مار مچا دی یا پھرکسی ڈرائیور نے تیز رفتاری کے باعث اپنی گاڑی کے نیچے کسی کو روند ڈالا۔ اگر ہم ذرا غور کریں تو ہمیں پتہ چلے گا ایسے تمام رویوں کے پیچھے جہاں لالچ، ہوس اور مفادات نظر آتے ہیں وہیں یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ ایسی باتوں کے مرتکب افراد انصاف سے بالکل نابلد ہوتے ہیں یا کم از کم وہ اسے اس وقت بالکل بھول جاتے ہیں جب وہ اپنے مفاد کی وجہ سے اندھے ہو چکے ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ انصاف ہر مسئلے کا حل ہے اور یہ بات درست بھی ہے کہ اگر معاشرے کے تمام شعبوں اور معاملات میں اگر انصاف کو اپنا لیا جائے تو ملک جنت کا نمونہ پیش کر سکتا ہے لیکن افسوس ایسا نہ تو آج تک ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ ہو سکتا ہے کیونکہ دنیامیں ہر طرح کے لوگ موجود ہوتے ہیں، ان میں ایسے بھی ہیں جو انصاف، دوستی، خلوص، رواداری اور دیگر اخلاقی اقدار کو ماننے کے لئے بالکل تیار نہیں ہوتے، وہ صرف اور صرف اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کے لئے وہ تمام اخلاقی تقاضوں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ دنیا میں تمام ہی انسانوں کو نا انصافی کرنے والا نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ اس دنیا میں دلو افراد بھی بستے ہیں جو ہر حال میں انصاف کے خواہاں ہوتے ہیں۔ یہ جب انصاف کرنے پر آتے ہیں تو اپنے عزیز و اقار ب کا خیال بھی نہیں کرتے، اگر فیصلہ ان کے خلاف دینا پڑے تو یہ ہچکچاتے نہیں ہیں۔ دوسروں کے معاملات میں انصاف کرنا تو پھر بھی آسان بات ہے، دلو افراد تو ایسے ہوتے ہیں جو اپنا احتساب کرنے سے بھی نہیں کتراتے۔ دلو افراد کو بیشتر لوگ اپنے معاملات میں ثالث کے طور پر مقرر کرنا پسند کرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ جو بھی فیصلہ کریں گے وہ انصاف کے تمام تقاضوں کو پوراکرتا ہو گا۔
خوش مزاج
دلو افراد بہت خوش مزاج ہوتے ہیں۔ ہر کسی سے ہنس کر بات کرنا ان کی عادت ہوتی ہے۔ دوران گفتگو یہ ایسی بات کا خیال رکھتے ہیں کہ ان کے منہ سے ایسی کوئی بات نہ نکل جائے جو دوسروں کے لئے دل شکنی کا باعث بنے اور اگر کبھی ایسا ہو جائے تو یہ لوگ پریشان ہو جاتے ہیں اور جس کی دل شکنی ہوتی ہے اس سے معافی مانگتے ہیں۔ عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ لوگ ملنساری کا بالکل مظاہرہ نہیں کرتے۔ آج کل تو ایسے حالات ہیں کہ کوئی کسی سے سیدھے منہ بات کرنے کو تیار ہی نہیں ہے۔ لوگ بد اخلاقی پر بھی فخر محسوس کرنے لگتے ہیں۔ دوسرے سے خود کو بڑا ظاہر کرنا عام رویہ بن چکا ہے لیکن ایسے میں دلو افراد ایسے ہیں جو مسکراہٹیں بکھیرتے نظر آتے ہیں۔ ان لوگوں سے بات کر کے دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ یہ ہر کسی کی بات نہایت توجہ سے سنتے ہیں اور انہیں مفید مشورے بھی دیتے ہیں۔ لوگ ان کے ساتھ بیٹھنا اور باتیں کرنا پسند کرتے ہیں۔ دلو افراد کسی بھی محفل میں ہوں وہاں اپنی مفید، دلچسپ اور با مقصد گفتگو سے دوسروں کو اپنی جانب متوجہ کر لیتے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ اپنے غصے پر قابو پانے کے ماہر ہوتے ہیں۔
گہرا مشاہدہ کرنے والے
یہ لوگ تمام امور کا گہرا مشاہدہ کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی بات میں وزن ہوتا ہے اور لوگ انکی باتوں کو اہمیت دیتے ہیں۔ مشاہدے والی عادت کی وجہ سے یہ ان شعبوں میں بہت ترقی کرتے ہیں جس کا یہ انتخاب کرتے ہیں۔ اگر ان کے سامنے کوئی ایجاد آ جائے تو یہ اس کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس سے مزید جدت پیدا کی جائے، اسی طرح اگر یہ کوئی نظارہ دیکھ لیں تو اس کی گہرائی میں اتر جاتے ہیں۔ ان کی گفتگو مدلل ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ یہ جس موضوع پر بات کرتے ہیں اس کے بارمیں انہیں بہت معلومات ہوتی ہیں۔ عالمی حالات پر بھی ان کی گہری نظر ہوتی ہے۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت دنیا میں کیا سیاسی صورت حال ہے، اس وجہ سے یہ ایک اچھے کالم نگار اور سیاست دان بن سکتے ہیں۔ سائنس اور آثار قدیمہ سے ان لوگوں کو گہری دلچسپی ہوتی ہے۔ اگر انہیں مناسب ماحول میسر آجائے تو ان سے بڑی ایجادات کی توقع کی جا سکتی ہے۔ گہرے مشاہدے کی عادت کی وجہ سے ان کی گفتگو بڑی پر کشش ہوتی ہے، اگر یہ تقریر کریں تو لوگ اسے توجہ سے سنتے ہیں۔
چیلنج قبول کرنے والے
یہ لوگ ہر طرح کا چیلنج قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عام حالات میں یہ بڑے ٹھنڈے مزاج کے نظر آتے ہیں لیکن اگر یہ کسی امر کو چیلنج سمجھ کر قبول کر لیں تو ان کا جوش و جذبہ قابل دید ہوتا ہے۔ ان لوگوں میں آگے سے آگے بڑھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ کسی ایک جگہ رک جانا ان کے بس کی بات نہیں، اسی وجہ سے انہیں جدت پسند کہا جاتا ہے، یہ تبدیلی کے خواہش مندہوتے ہیں، ایک ہی جاب کرتے کرتے یہ اکتا جاتے ہیں، ایک ہی جگہ رہتے رہتے یہ بیزار ہو جاتے ہیں اس لئے تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کو ویسے تو روایات سے لگاؤ ہوتا ہے۔یہ ان کی پاسداری بھی کرتے ہیں لیکن یہ ان میں بھی تبدیلی کے خواہاں ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی روایت کو اس کی بنیاد کے حوالے سے قائم رکھا جائے لیکن بدلتے زمانے کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلی ہوتی رہنی چاہئے جبکہ دیگر کئی برجوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس سے مخالف نظریہ رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ روایات جس طرح موجود ہیں انہیں من و عن ایسا ہی رہنے دیا جائے۔ جب یہ کوئی چیلنج قبول کرتے ہیں یا روایات میں تبدیلی چاہتے ہیں تو انہیں بہت سی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن یہ ان کی پروا نہیں کرتے اور اپنا کام کر کے ہی دم لیتے ہیں۔
ناکامیوں سے نفرت
ان لوگوں کو ناکامیوں سے نفرت ہوتی ہے۔ یہ صرف اور صرف کامیابیوں کو ہی پسند کرتے ہیں جب انہیں کسی کام میں ناکامی ہو جائے تو انہیں شدید جھنجھلاہٹ ہوتی ہے اور یہ کچھ دیر مایوسی کا شکار بھی رہتے ہیں، اس کے بعد ایک بار پھر نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے کام میں لگ جاتے ہیں۔ جب یہ کسی کام کا ارادہ کر لیتے ہیں تو انہیں اس ارادے سے ہٹانا یا باز رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو وقت کی بہت قدر ہوتی ہے اس لئے ایسے کاموں میں ہاتھ نہیں ڈالتے جن میں وقت ضائع ہونے کا احتمال ہو۔ یہ جو کام بھی کرتے ہیں اس کے لئے بہت سوچ بچار کرتے ہیں لیکن کبھی کبھار یہ جلد بازی کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں اور ان کے ایسے کام جو جلد بازی میں شروع کئے جائیں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتے، اس وقت تو یہ ارادہ کر لیتے ہیں کہ آئندہ کبھی کوئی کام جلد بازی سے نہیں کریں گے لیکن پھر جب کوئی موقع آتا ہے تو یہ جلد بازی کا مظاہرہ کر جاتے ہیں۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ جب انہیں ناکامی ہو تو یہ حوصلے سے کام لیں، ایسے اوقات میں جب یہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوتے ہیں توان سے بہت سے ایسے کام بھی سر زد ہو جاتے ہیں جو ان کے لئے مصیبت اور نقصان کا سبب بنتے ہیں لہٰذا یہ جان لیں کہ جب ناکامی ہو تو انہیں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے ورنہ نقصان کے لئے تیار رہیں۔
عشق و محبت
عشق و محبت کا سلسلہ ہمیشہ سے جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔ جہاں دوسرے برجوں سے تعلق رکھنے والے عشق و محبت کے معاملے میں اپنا کردار رکھتے ہیں اس طرح دلو افراد کا بھی اپنا ہی ایک انداز اور کردار ہوتا ہے۔ یہ لوگ سچی محبت کے قائل ہوتے ہیں۔ یہ افراد جب کسی کی طرف راغب ہوتے ہیں تو اس کے دل اور ذہن کی گہرائیوں میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اندازہ لگانا چاہتے ہیں کہ ان کی محبوبہ صرف ظاہری حسن کی مالک ہی ہے یا باطنی حسن سے بھی مالا مال ہے؟ جو خواتین ان کے معیار پر پوری نہیں اترتیں یہ انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں چاہے ظاہری طور پر وہ کتنی ہی حسین اور پر کشش کیوں نہ ہوں۔ ان لوگوں کو ایک ایسے جیون ساتھی کی تلاش ہوتی ہے جس پر یہ مکمل بھروسہ کر سکیں۔ جب یہ اپنے لئے کسی خاتون کا انتخاب کر لیتے ہیں تو پھر اسے دل سے چاہتے ہیں، وہ ان کی جیون ساتھی بن جائے تو یہ اسے اپنا سب کچھ مان لیتے ہیں۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ خوش و خرم رہے، اس کے لئے یہ اس کی ضروریات اور اس کے جذبات کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔ یہ اسے اپنا ہر راز بتا دیتے ہیں۔ اگر کبھی گھر میں لڑائی جھگڑا ہو جائے تو یہ اسے بڑھنے نہیں دیتے بلکہ صبر کا مظاہرہ کر کے معاملہ رفع دفع کر دیتے ہیں۔
جدت پسند
یہ لوگ بہت زیادہ جدت پسند ہوتے ہیں۔ اکثر ایجادات پر انہیں اعتراض ہوتا ہے کہ اگر اس میں فلاں تبدیلی کر لی جائے تو اس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ اپنی اس طبیعت کی وجہ سے ان لوگوں کو سائنس سے بڑی دلچسپی ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں یہ سائنسی رسالے پڑھتے ہیں اور سائنسی پروگرامز دیکھتے ہیں۔ انہیں اس بات فکر رہتی ہے کہ سائنس کے شعبے میں دنیا بھر میں کیا ہو رہا ہے، ان کا رجحان فلکیات اور آثار قدیمہ کی جانب بھی ہوتا ہے۔ یہ لوگ ایسے شعبوں کا انتخاب کرتے ہیں جہاں انہیں ان کی فطرت کے مطابق کوئی جدت دکھانے کا موقع مل سکے۔ یہ زیادہ تر ٹکنیکل شعبوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ویسے اگر یہ عام شعبوں میں بھی آ جائیں تو تب بھی کوئی نہ کوئی جدت کرتے ہی رہتے ہیں۔ مثلاً اگر یہ موسیقی کی طرف آئیں تو اپنا ایک نیا انداز متعارف کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مصوری کا شعبہ ہو تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ دوسروں سے ہٹ کر شاہکار پیش کریں۔ ا نہیں اپنے گھر اور گھر کی آرائش بدلنے کا بھی شوق ہوتا ہے اور یہ نئی سے نئی گاڑی کے بھی متلاشی رہتے ہیں۔ ایسی تمام باتیں ان کی جدت پسندی کی عادت کو تسکین بخشتی ہیں۔
ہمدرد
یہ لوگ ایک حساس دل رکھتے ہیں۔ کوئی بھی المیہ ان کے دل پر اثر کر سکتا ہے۔ ان کی خواہش تو یہ ہوتی ہے کہ یہ دنیا بھر کے مسائل و مشکلات کا خاتمہ کر دیں لیکن ایسا ممکن نہیں ہے۔ یہ کسی کو تکلیف میں دیکھ کر خود بھی دکھی ہو جاتے ہیں، کوشش کرتے ہیں کہ جلد از جلد اس کی تکلیف دور کر دیں۔ ان کی ہمدردانہ طبیعت کو دیکھ کر کئی چالاک لوگ ان سے ناجائز فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔ دلو افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسے افراد پر نظر رکھیں لیکن چونکہ یہ رحم دل ہوتے ہیں اس لئے اگر کوئی ان سے معافی مانگ لے تو در گزر سے کام لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ انہوں نے ان لوگوں کو ایک بار پھر اپنی کاروائی کرنے کا موقع دیا ہے۔ بہت سے برجوں سے تعلق رکھنے والے افراد ایک یا دو بار معاف کرتے ہیں لیکن دلو افراد کو یہاں بار بار معافی کی گنجائش ہوتی ہے۔ یہ اپنی نظر میں ایسے بہت سے لوگ رکھتے ہیں جو کسی نہ کسی طرح مدد کے مستحق ہوتے ہیں، یہ اکثر اوقات بغیر کسی دکھاوے کے ان کی مدد کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً اگر ان کی نظر میں کوئی ایسا طالب علم ہو جس کے والدین اس کی فیس ادا کرنے کے قابل نہ ہوں تو یہ اس کی فیس ادا کر دیتے ہیں اور اگ کوئی ایسا بچہ بیمار نظر میں ہو جو دوائیں نہ لے سکتا ہو تو یہ اسے دوائیں لا دیتے ہیں۔
بے وقوف بنانے کی عادت
ہم نے اب تک جہاں دلو افراد کی کئی خوبیوں کا تذکرہ کیا ہے وہیں ہم ان کی اس خامی کا تذکرہ کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ ان میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو دوسروں کو بے وقوف بنانے میں ماہر ہوتے ہیں۔ ویسے یہ ایک ایسی خامی ہے جسے ہم ان لوگوں کا ہتھیار بھی کہہ سکتے ہیں۔ عمومی طور پر یہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح تمام معاملات سیدھے طریقے سے طے پا جائیں لیکن پھر جب انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ اس طرح معاملات کو اپنے حق میں نہیں کر سکتے تو یہ اپنے ہتھیار کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔ جب یہ کسی کو بے وقوف بناتے ہوئے مختلف باتیں کر رہے ہوتے ہیں اس وقت کوئی اندازہ نہیں کر سکتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں اور ایسی باتوں کا تذکرہ کر رہے ہیں جن کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ اس کام میں ایسا لگتا ہے کہ ان لوگوں نے تربیت لی ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کو بے وقوف بنا سکتے ہیں جس کے بارے میں یہ مشہور ہو کہ اسے نہ تو کوئی بے وقوف بنا سکتا ہے اور ساتھ ہی یہ کہ وہ بہت سخت مزاج آدمی ہے۔ یہ لو گ نہ تو اس کی ذہانت کو خاطر میں لاتے ہیں اور نہ ہی اس کی سخت مزاجی کو یہ اپنا کام بڑی خوبی کے ساتھ کر گزرتے ہیں، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ان کے اس طرح کے کارناموں کا عرصہ دراز تک کسی کو علم نہیں ہوتا۔
با کردار
ابھی ہم نے دلو برج سے تعلق رکھنے والے کچھ ایسے افراد کا تذکرہ کیا ہے جو دوسروں کو بڑے خوب صورت انداز میں بے وقوف بنا لیتے ہیں۔ اب ہم ان میں سے کچھ ایسے لوگوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو اس طرح کی کسی حرکت کے مرتکب نہیں ہوتے۔ انہیں اپنی عزت بہت عزیز ہوتی ہے اور اپنی عزت قائم رکھنے کے لئے یہ بڑی قربانیاں دے دیتے ہیں۔ خاص طور پر ایک ایسا کردار قائم رکھتے ہیں جو قابل تعریف ہو۔ انسان کی زندگی میں بہت سے ایسے موقع آتے ہیں جب وہ کسی لالچ کا شکار ہو جاتا ہے اور ایسے کام کر گزرتا ہے جس کی وجہ سے اس کا کردار متاثر ہوجاتا ہے لیکن ہم جس طرح کے دلو افراد کا تذکرہ کر رہے ہیں، یہ ایسے مواقع پر بھی خود کو سنبھالے رکھتے ہیں۔ نہ صرف لالچ بلکہ دھونس اور دھمکی بھی ان پر کار گر ثابت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ انصاف کے معاملے میں اپنی ایک اچھی پہچان رکھتے ہیں، اس طرح ان کی گفتار بھی بہت اچھی ہوتی ہے۔ یہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے اور مظلوموں کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں کو کسی قسم کا لالچ دے کر خریدا نہیں جا سکتا۔ اپنے کردار کا استحکام کے لئے بڑی سے بڑی رشوت ٹھکرا سکتے ہیں۔
متاثر کرنے والے
ہم نے یہ تذکرہ کیا یہ لوگ گہر مشاہدہ کرنے والے اور با کردار ہوتے ہیں۔ یہ کوئی بھی قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھاتے ہیں، ان تمام خوبیوں کے علاوہ ان میں یہ خوبی بھی ہوتی ہے کہ یہ دوسروں کی نفسیات کا بخوبی اندازہ کر لیتے ہیں اور اس کے مطابق اس سے گفتگ کرتے ہیں، اس طرح سامنے والا ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ زندگی کے بیشتر معاملات پر ان کی گہری نظر ہوتی ہے اس لئے جب یہ کسی شخص سے گفتگو شروع کرتے ہیں تو ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس کے شعبے اور اس کی دلچسپیوں کے مطابق اس سے بات کریں۔ یوں سامنے والا ان ک طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ ان لوگوں میں یہ صلاحیت بھی ہوتی ہے کہ یہ ایک ہی موضوع پر اپنی گفتگو کو طویل سے طویل ترین کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اپنے لباس اور صفائی کا بھی بہت خیال رکھتے ہیں جس سے دوسرے متاثر ہوتے ہیں۔ ان کا انداز تکلم بھی بہت دلکش ہوتا ہے اور ساتھ ہی یہ بذلہ سنجی بھی کرتے جاتے ہیں، یوں یہ اپنی گفتگو کو بور نہیں ہونے دیتے۔ یہ لوگ اپنی تحریر و تقریر سے دوسروں کو متاثر کرنے کے فن سے آگاہ ہوتے ہیں
دنیا میں خوش حالی کے خواہش مند
ویسے تو دیگر کئی برجوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اپنے اندر یہ خواہش رکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں خوش حالی آ جائے لیکن دلو افراد کے اندر یہ خواہش شدید ہوتی ہے۔ یہ سوچتے ہیں کہ: * دنیا میں غریبی کیوں ہے؟ * لوگ بے روز گار کیوں ہیں؟ * لوگوں کو خوراک کیوں نہیں ملتی؟ * لوگ تعلیم سے محروم کیوں ہیں؟ اس طرح کے دیگر سوالات و خیالات ان لوگوں کے ذہن میں ابھرتے رہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ دنیا کے تمام لوگوں کو مساوی سہولتیں مل جائیں۔ ان کی خواہش اس قدر شدید ہوتی ہے کہ یہ اس میں مگن رہتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ایسا بہت ہی مشکل ہے او خاص طور پر وہ تنہا تو یہ کام کر ہی نہیں سکتے، یہ اپنی اس خواہش کے زیر اثر رہ کر اکثر سوشل ورکنگ شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح یہ سیاست میں بھی آ جاتے ہیں، وکالت کی طرف بھی ان کا رجحان اسی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ کسی بھی شعبے میں چلے جائیں، ان کی یہ خواہش ان کے ساتھ رہتی ہے اور یہ لوگوں کی فلاح کا کام حتیٰ المقدور کرتے ہیں۔
لیڈر
ان لوگوں کو لیڈر بننے کا بظاہر شوق تو نہیں ہوتا لیکن ان میں ایسی صلاحیتں ضرور ہوتی ہیں
درس و تدریس
جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ یہ لوگ سری د نیا کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں۔ جب یہ اس بارے میں سوچتے ہیں تو انہیں یہ نتیجہ ملتا ہے کہ دنیا بھر میں تعلیم کی بے حد کمی ہے، یہ اپنے خیالات کا پرچار شروع کر دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر درس و تدریس کے شعبے کی طرف آ جاتے ہیں، اس طرح انہیں بے حد تسکین ملتی ہے۔ یہ کسی اسکول یا کالج یا یونیورسٹی میں ہو سکتے ہیں اور اگر یہ سب نا ممکن ہو تو اپنا ٹیوشن سنٹر کھول لیتے ہیں۔ ایسے بچوں کو دیکھ کر انہیں بہت افسوس ہوتا ہے جو تعلیم حاصل نہیں کرتے۔ یہ اپنے بچوں سے ہمدردی رکھتے ہیں جو تعلیم حاصل کرنے کی بجائے کسی مجبوری کے تحت کوئی کام کررہے ہوتے ہیں۔ یہ چائلڈ لیبر کے بالکل خلاف ہوتے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ ہر بچے کو کھیلنے کودنے اور تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ملنے چاہئیں۔ اس سلسلے میں کالم لکھتے ہیں اور تقاریر کرتے ہیں۔ اگر ان کے بس میں ہو تو یہ کئی بے سہارا بچوں کی تعلیم و تربیت کا بندوبستف کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کی فلاح و بہبود سے انہیں بڑی دلچسپی ہوتی ہے، ساتھ ساتھ یہ ان لوگوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے کے لئے کہتے ہیں جو بچپن میں اسے حاصل نہ کر سکے ہوں۔
صحت
صحت کے معاملہ میں دلو افراد کی اکثریت بڑی لا پروا ثابت ہوتی ہے۔ ان لوگوں کو اپنی مصروفیات سے اتنی دلچسپی ہوتی ہے کہ یہ انہی میں مگن رہتے ہیں اور کھانے کا وقت نکل جاتا ہے، بھوک لگتی ہے تو یہ بسکٹ یا کوئی ہلکی غذا لے لیتے ہیں جو ان کی صحت برقرار رکھنے کے لئے ناکافی ہوتی ہے۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ: * غذا کی طرف بھرپور توجہ دیں۔ * وقت پر کھانا کھا لیں۔ * ورزش کی عادت اپنائیں۔ * پیدل ضرور چلیں۔ * مرغن غذاؤں سے پرہیز کریں۔ * ہر ماہ ڈاکٹر سے چیک اپ کروائیں تا کہ اگر کوئی کمی ہوتو ڈاکٹ آپ کو بہتر مشورہ دے سکے۔
دولت کی تمنا
جس طرح دنیا کے تقریباً ہر فرد کو دوست کی تمنا ہوتی ہے اسی طرح دلو افراد بھی یہ تمنا رکھتے ہیں لیکن کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دولت جمع کرنا تو جانتے ہیں لیکن اسے خرچ کرنے کے نام پر ان کی جان نکل جاتی ہے لیکن دلو افراد کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہے، یہ لوگ دولت خرچ بھی کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ فضول خرچ نہیں ہوتے لیکن اگر انہیں کبھی شوق کی چیزیں نظر آ جائیں تو یہ فضول خرچی کر جاتے ہیں۔ یہ دولت پر سانپ بن کر نہیں بیٹھتے۔ فلاحی کاموں پر رقم خرچ کر کے یہ تسکین محسوس کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف مناسب طور پر اپنے اوپر رقم خر چ کرتے ہیں بلکہ گھر والوں کی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں۔ انہیں صرف دولت کمانے کی ہی تمنا نہیں ہوتی بلکہ جب ان کے پاس دولت آ جاتی ہے تو یہ اسے ضروریات کے علاوہ فلاحی کاموں پر خرچ کرنا پسند کرتے ہیں۔ ان کی جتنی بساط ہو اس کے مطابق یہ اچھے کاموں پر رقم خرچ کرتے ہیں۔ اگر کم استطاعت ہو تو ایک بچے کو تعلیم دلواتے ہیں اور اگر اچھی دولت ہو تو اسکول بھی کھلوا دیتے ہیں۔
قوت فیصلہ
دنیا کے اکثر ذہین لوگوں کا یہ المیہ ہوتا ہے کہ ان کی قوت فیصلہ متزلزل رہتی ہے، اس طرح دلو افراد بھی کوئی فیصلہ کرتے ہوئے تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔ در اصل ان کا دماغ مستقبل کے حوالے سے بہت نقشے ان کے سامنے پیش کر رہا ہوتا ہے، بس یہی وجہ ہوتی ہے کہ یہ فیصلہ کرنے میں تاخیر کرتے ہیں اور جب یہ کوئی فیصلہ کر لیتے ہیں تو مختلف اندیشوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہیں مختلف خدشات گھیر لیتے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ: * اپنے اندر اعتماد پیدا کریں۔ * جلد از جلد فیصلہ کرنے کی عادت ڈالیں۔ * زیادہ تذبذت کا شکار نہ ہوں۔ * جو فیصلہ کر لیں اس پر مطأن رہیں اور مختلف خدشات کا شکار نہ ہوں، اس طرح آپ پریشان نہیں رہیں گے۔ اپنی قوت فیصلہ کو قابو کرنے کے لئے ان لوگون کو عادت ڈالنا ہوگی۔ اس کے بغیر ان کی یہ خامی دور نہیں ہو سکتی۔ یہ مان لیں کہ آپ کے اندر خود اعتمادی کی کمی ہے اور اسے دور کرنے کے لئے آپ کو اپنی تربیت کرنی ہے۔
روحانیت کی طرف راغب
یہ لگ روحانیت کی طرف بھی راغب ہو جاتے ہیں لیکن ایسا مخصوص حالات میں ہی ہوتا ہے یعنی انہیں اگر ایسا ماحول میسر آ جائے کہ جب انہیں روحانیت کی طرف جھکاؤ کا موقع مل جائے ۔ یہ حیرت ناک بات ہے کہ روحانی دنیا میں ان کی نہ صرف دلچسپی بڑھتی چلی جاتی ہے بلکہ ان کا وجدان اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ انہیں اس شعبے میں کامیابی حاصل ہورہی ہے۔ ان میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جو روحانی دنیا کی طرف جاتے ہیں۔ تو پھر واپس پلٹ کر دیکھنا بھول جاتے ہیں۔ ویسے بھی روحانی دنیا کا تعلق جب مذاہب سے جوڑ دیا جائے تو یہ موضوع وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے اور اس میں اتنی گنجائش ہوتی ہے کہ ایک عام انسان کی زندگی آرام سے اس میں صرف ہو سکتی ہے۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ: * اگر روحانیت کی طرف جائیں تو اس میں انتہا پسندی کو نہ اپنائیں۔ * اس کے حقائق کو اپنے آپ تک محدود رکھنے کی کوشش کریں کیونکہ عا م لوگوں کے لئے بعض حقائق نا قابل قبول ہوتے ہیں اور اس طرح وہ لوگ ان کے دشمن بن سکتے ہیں۔
گھر اور لوگوں سے بغاوت
دلوافراد کے بارے میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہ لوگ بات بات پر بغاوت کرنے پر تل جاتے ہیں۔ یہ اپنے گھر والوں سے بغاوت کرتے ہیں اور اکثر لوگوں سے بھی اتفاق رائے نہیں کرتے۔ ان لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ: * اپنی اس خامی کو خوبی میں بدلنے کے لئے بات بات پر اختلاف رائے نہ کریں بلکہ ان لوگوں اور ان باتوں سے بغاوت کریں جو ان کے اور دوسروں کے لئے نقصان دہ ہوں۔ * اپنے اندر صبر اور حوصلہ پیدا کریں، اگر خلاف طبیعت کوئی امر سامنے آئے تو اس سے اختلاف ضرور کریں لیکن اشتعال انگیز رویہ اختیار نہ کریں۔ * یاد رکھیں کہ آپ کا باغیانہ رویہ آپ کی شاندار شخصیت کے لئے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، اس طرح آپ اپنے بہت سے اچھے دوستوں سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔ * کوشش کریں کہ آپ کسی بات کے خلاف اگرکچھ کہنا چاہتے ہیں توفوراً اپنے خیالات کا اظہار نہ کریں بلکہ ذرا صبر کر لیں ا س طرح آپ غلط الفاظ کو قابو کر سکیں گے۔
بکھرا ہوا ذہن
ان لوگوں کا ذہن بکھرا ہوا ہوتا ہے، یہ ایک ہی وقت میں کئی معاملات پر سوچ رہے ہوتے ہیں، اس طرح یہ فائدہ تو ہوتا ہے کہ انہیں بہت سے شعبوں کے بارے میں معلومات حاصل ہو جاتی ہیں لیکن کسی ایک جگہ توجہ مرکوز نہ ہونے کی وجہ سے یہ کوئی مناسب نتیجہ حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ: * زیادہ کاموں پر ایک ہی وقت میں توجہ نہ دیں۔ * کسی ایک شعبہ کا انتخاب کریں۔ * دوسروں کے کاموں سے زیادہ اپنے کام پر توجہ دیں۔ * وقت کی قدر کریں، اگر آپ نے زیادہ کاموں پر توجہ دینے کا سلسلہ جاری رکھاتو وقت گزر جائے گا اور آپ پچھتائیں گے۔ * کسی کام میں جذباتی نہ ہوں۔ * ناکامیوں سے نہ گھبرائیں۔ * پر عزم رہیں اور مایوس نہ ہوں۔ * کسی کام کو ادھورا نہ چھوڑیں۔ * اپنے فیصلے خود کریں، دوسرو ں کی باتوں اور مشوروں پر زیادہ توجہ نہ دیں۔ تنقید ان لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں لیکن اگر ان پر تنقید کر دی جائے تو اکثر مشتعل ہو جاتے ہیں یا پھر تنقید کو قبول کرنے سے بالکل انکار کر دیتے ہیں۔ ان لوگوں کو ذہن میں رکھناچاہئے کہ تنقید کا نشانہ ہر کسی کو بننا پڑتا ہے۔ ہر انسان جب کوئی کام کرتا ہے کہ اسے ہر طرح سے مکمل اور قابل تعریف بنائے لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہت کم کام ایسے ہوتے ہیں جو تنقید سے بچ جاتے ہیں۔ در اصل کام کی خامیاں اور خوبیاں بعد میں ہی ظاہر ہوتی ہیں۔ ایک مصور جب کوئی تصویر بناتا ہے تو اسے شاہکار سمجھتا ہے۔ اس کے خیال میں اس نے ایسی تصویر تخلیق کی ہوتی ہے جو ہر لحاظ سے مکمل ہوتی ہے اور اس پر تنقید کا کوئی پہلو بظاہر نظر نہیں آتا لیکن جب وہ تصویر عام لوگوں اور دیگر مصوروں کی نظر میں آتی ہے تو اس کی خوبیاں اور خامیاں سامنے آتی ہیں۔ ایک بات اور اہم ہے کہ اگر تنقید نہ بھی کی جائے تو نا پسندیدگی بھی تنقید کا درجہ رکھتی ہے لیکن دلو افراد نہ تو کسی کی تنقید کو برداشت کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کی ناپسندیدگی کو پسند کرتے ہیں۔ بہر حال ان لوگوں کو کامیابی حاصل کرنے کے لئے تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہئے۔
ثابت قدم
دلو افراد کی بے شمار خوبیوں کے علاوہ ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ ثاتب قدم ہوتے ہیں۔ ان کے اندر ڈٹ جانے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ کئی لوگوں پر جب برا وقت آتا ہے، کوئی ناکامی ہوتی ہے یا کوئی نقصان ہو جاتا ہے تو مایوسی انہیں گھیر لیتی ہے، کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو واپسی کے لئے سامان باندھ لیتے ہیں، کچھ دل شکستگی کی وجہ سے آئندہ وہ کام نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں لیکن دلو افراد ان میں سے نہیں ہیں۔ کوئی ناکامی یا نقصان انہیں واپس جانے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ یہ تو ہے کہ وقت طور انہیں جھٹکا تو لگتا ہے لیکن یہ لوگ خود کو سنبھال لیتے ہیں۔ ایسے وقت میں انہیں دوسرے لوگوں کو تسلی کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ ان میں اتنا حوصلہ ہوتا ہے کہ خود کو سنبھال لیتے ہیں۔ یہ ثابت قدم رہتے ہیں اور ایک نئے جوش و جذبے کے ساتھ اٹھتے ہیں۔ اپنی ناکامی کی خامیوں پر نظر ڈالتے ہیں، انہیں دور کرتے ہیں اور کامیابی کی طرف قدم بڑھا دیتے ہیں۔ فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز میں یہ افراد بڑے کامیاب رہتے ہیں۔یہ کسی بھی قسم کے حالات سے نہیں گھبراتے بلکہ ڈٹے رہتے ہیں۔ ان کی ترقی میں ان کی ثابت قدمی کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔
ہشاش بشاش
ان لوگوں میں ایک خوبی یہ ہوتی ہے کہ اکثر ہشاش بشاش نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ کہی جا سکتی ہے کہ یہ زندہ دل ہوتے ہیں۔ ناکامیوں سے نہیں گھبراتے اور خوب محنت بھی کرتے ہیں لیکن جس طرح دیگر لوگ جب اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں تو وہ اسے صرف ایک کام سمجھتے ہیں اور ان کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ کب ان کی اس کام سے جان چھوٹے گی اور وہ اپنے من پسند مشغلوں کی جانب توجہ دیں گے لیکن دلو افراد میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ یہ اپنے لئے اس شعبے کا انتخاب کرتے ہیں جس سے انہیں دلچسپی ہوتی ہے، اس لئے جب یہ اپنے کام میں مشغول ہوتے ہیں تو صرف اسے کام سمجھ کر نہیں کر رہے ہوتے بلکہ یہ ان کا شوق بھی ہوتا ہے لہٰذا ان کے برا ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لئے جب یہ لوگ کام سے فارغ ہوتے ہیں تو ہشاش بشاش ہوتے ہیں اور اس کے بعد بھی یہ اپنے من پسند مشغلوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اس طرح وہاں بھی ان کی بوریت کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ ان کے خوش و خرم نظر آنے کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ کسی بھی معاملے کو اپنے سر پر سوار نہیں کرتے۔ حالات جیسے بھی ہوں یہ ماحول کو خوش گوار بنا لیتے ہیں۔ لوگوں سے چھیڑ چھاڑ اور ہنسی مذاق انہیں خوش و خرم رکھنے کا باعث بنتی ہے۔
منافقت
جہاں ہم نے ان کی بہت سے خوبیاں بیان کیں، وہیں ہم ان کی ایک خامی بھی بیان کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ یہ اکثر اپنے کسی مفاد کی وجہ سے منافقت شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے یہ اپنے تمام اعلیٰ اصول و ضوابط بھول جاتے ہیں اوران کے سامنے صرف اور صرف ان کا مفاد ہوتا ہے۔ بعض اوقات انہیں اپنے منافقانہ رویے پر افسوس بھی ہوتا ہے اور نوبت یہاں تک آ جاتی ہے کہ یہ آئندہ کے لئے ایسا رویہ نہ اپنانے کا عہد کر لیتے ہیں لیکن صد افسوس کہ جب کوئی اور موقع آتا ہے تو یہ ایک بار پھر سب کچھ بھول جاتے ہیں حتیٰ کہ وہ عہد بھی انہوں نے اپنے ساتھ کیا ہوتا ہے، یہ ایک بار پھر منافقت شروع کر دیتے ہیں، ان کے قول و فعل میں تضاد نظر آنے لگتا ہے۔ ہر انسان کی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے، اس طرح دلو افراد کی یہ کمزوری ہے کہ جب یہ اپنی منفی حرکتوں پر آتے ہیں تو تمام اصول و ضوابط کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ: * اپنے منافقانہ رویے پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ * جب کوئی ایسا موقع آئے جب انہیں منافقت کرنی ہو تو خود کو کسی اور کام میں مشغول کر لیں۔
دور اندیش
بے شمار خوبیوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں میں ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ یہ بڑے دور اندیش ہوتے ہیں۔ یہ آنے والے وقت کے بارے میں پہلے اندازہ لگا لیتے ہیں۔ اگر ایک معاملہ ان لوگوں کے سامنے آ جائے تو یہ فوراً اس کا گہرے انداز میں جائزہ لیتے ہیں، ان کے سامنے اس کے مثبت اور منفی پہلو آنے لگتے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ اندازہ قائم کر لیتے ہیں کہ جب یہ کام انجام پائے گا تو اس کے کیا نتائج سامنے آئیں گے۔ اس طرح اگر انہیں خطرہ ہو تو یہ اس سے کام دور رہنا پسند کرتے ہیں اور اگرا فائدہ ہو تو سب سے پہلے اس میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں۔ یہ لوگ ایسے حالات میں اپنے دوستوں کا بہت خیال رکھتے ہیں اور انہیں بھی آگاہ کر دیتے ہیں کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔ اکثر لوگ ان کی اس صلاحیت کے معترف ہوتے ہیں اور ان سے مشورے لیتے رہتے ہیں۔ نہ صرف یہ آنے والے وقت کے بارے میں درست اندازہ لگا لیتے ہیں بلکہ ابھی یہاں کیا ہو چکا ہے اس کا بھی انہیں اندازہ ہو جاتا ہے ان کی قوت مشاہدہ بہت تیز ہوتی ہے۔ یہ اپنے مشاہدے سے بھی بڑے اچھے انداز قائم کر لیتے ہیں۔
خوش مزاج
ان لوگوں کا مجموعی تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ یہ خوش مزاج ہوتے ہیں، ہر وقت ہنستے ہنساتے رہنا ان کی عادت ہوتی ہے لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یہ بالکل خاموش ہو جاتے ہیں، اس طرح جیسے ان کا فیوز اڑ گیا ہو۔ ایسی کیفیت اکثر ان پر آتی رہتی ہے لیکن یہ انہیں زیادہ دیر گھیرے نہیں رہ سکتی اس کے باوجود یہ دوسروں کے لئے پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ ایک ایسا شخص جو ہر وقت ہنستا کھیتا رہتا ہو اور وہ اچانک خاموش ہو جائے تو لوگوں کا پریشان ہو جانا فطری امر ہے۔ بہر حال ان لوگوں کے قریب جو افراد رہتے ہیں وہ ان کی اس عادت سے واقف ہو جاتے ہیں اور ان کی بدلی ہوئی طبیعت کا زیادہ نوٹس نہیں لیتے۔ لیکن جو لوگ ان کی اس عادت کو نہیں جانتے وہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ یہ ان کی کوئی ایسی عادت تو نہیں ہے جو تشویشناک ہو لیکن بہرحال تھوڑی بہت پریشانی تو ہو جاتی ہے۔ اپنی اس خامی پر اگر یہ لوگ قابو پا لیں تو نہ صرف خود اداس اور پریشان ہونے سے بچ سکتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی پریشانی سے بچا سکتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ لوگ ان کی خوش مزاجی کے دلدادہ ہیں، انہیں ہر وقت ہنستا کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔
طاقت ور
ان میں اکثر لوگ بہت طاقت ور ہوتے ہیں۔ ان کی یہ طاقت صرف ان کی جوانی تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ یہ ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ ان کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی عمر سے کہیں کم نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان کی عمر زیادہ ہو جاتی ہے اس وقت بھی یہ جوان ہی نظر آتے ہیں۔یہ توعام سی بات ہے اور ایسا اس صورت میں ہوتا ہے جب انہیں کوئی بیماری گھیر نہ لے یا یہ کسی وجہ سے کمزور نہ پڑ جائیں۔ یہ جوانی اس صورت میں دھندلا جاتی ہے جب یہ کمزور یا بیمار ہو جائیں لہٰذا اگر ان لوگوں کو اپنی جوانی برقرار رکھنی ہے تو: * غذا کی طرف خاص توجہ رکھیں۔ * بیمار ہوں تو در گزر سے کام نہ لیں بلکہ ڈاکٹر سے چیک اپ کروائیں تا کہ آپ کی صحت برقرار رہ سکے۔ * کام کی چاہے جتنی مصروفیت ہو، مقررہ وقت پر کھانا کھا لیں۔ * ورزش کرتے ہیں۔ * پیدل چلیں۔ * کھیلوں کی طرف توجہ رکھیں۔ * منشیات سے دور رہیں۔ * جنسی بے راہ روی اختیار نہ کریں۔
سوشل روکنگ
ان لوگوں کے جو خیالات ہیں، ان کی وجہ سے یہ لوگ خدمت خلق کی طرف بہت حد تک راغب ہوتے ہیں۔ یہ اپنے محلے میں فلاح و بہبود کا کام شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے عوض انہیں کسی بدلے کی تمنا نہیں ہوتی۔ ان کے پیش نظر صرف اور صرف یہ بات ہوتی ہے کہ مصیبت زدہ لوگوں کی مدد ہونی چاہئے۔ اپنی ایسی عادتوں کی وجہ سے یہ لوگوں میں مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں۔ اس وجہ سے لوگ انہیں سیاست کی جانب آنے کا مشورہ دیتے ہیں، ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ یہ سیاست وغیرہ سے دور رہیں لیکن اکثر افراد کو لوگ زور دے کر اس جانب لے آتے ہیں۔ اگر یہ کونسلر یا اس طرح کے کسی عہدے پر آ جائیں تو زیادہ بہتر اندا زمیں لوگوں کی خدمت کرتے ہیں، اس طرح انہیں اکثر تنقید کا نشانہ بھی بننا پڑتا ہے، ان پر رقم کی خود برد کا الزام بھی آ جاتا ہے۔ بہر حال یہ ایسی باتوں کی پروا نہیں کرتے اور اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ بطور سوشل ورکر یہ زندگی کے آخری دم تک خدمات جاری رکھتے ہیں۔ اگر ان کے پاس کوئی عہدہ یا اختیارات ہوں تو ٹھیک ہے ورنہ یہ اپنے طور پر سوشل ورکنگ جاری رکھتے ہیں۔
حاضر دماغ
یہ لوگ بہت حاضر دماغ ہوتے ہیں۔ ہر بات کا جواب جیسے ان کے پاس تیار ہوتا ہے۔ اکثر لوگ ان سے بات کرتے ہوئے اس لئے گھبراتے ہیں کہ کہیں یہ کوئی ایسی بات نہ کر دیں جس سے انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔ ان کی حاضر دماغی انہیں بہت فوائد پہنچاتی ہے لیکن اکثر یہ اپنی اس خوبی سے دوسروں پر طنز کرتے ہیں اور انہیں مذاق کا نشانہ بناتے ہیں، ایسا یہ صرف تفریح کے طور پر کرتے ہیں اور ان کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں ہوتا لیکن ان کا یہ خیال غلط ہوتا ہے ان کے بر عکس لوگ ان کی باتوں کا گہرا اثر لیتے ہیں۔ اگر انہیں ان کی کیفیت پتہ چل جائے تو یہ ان سے معافی مانگ لیتے ہیں۔ امتحانات میں ان کی یہ صلاحیت ان کے بہت کام آتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی انٹر ویو میں بھی یہ اپنی صلاحیت سے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اپنی اس صلاحیت کی وجہ سے یہ حالات کو بھانپ لیتے ہیں اوراگرکوئی خطرہ محسوس ہو تو یہ پیش بندی کر لیتے ہیں۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی معاملہ بگڑ جاتا ہے، ایسے میں کسی ایسے فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے جو معاملہ سنبھال سکے اور ایسا فیصلہ کرنے میں دلو افراد کا کوئی ثانی نہیں ہوتا۔
معمولی باتیں
یہ لوگ ویسے تو بڑے حوصلہ مند اور پر عزم ہوتے ہیں لیکن ان میں یہ خامی ضرور ہوتی ہے کہ معمولی باتیں ان پر اثر انداز ہو جاتی ہیں۔ مثلاً اگر یہ کوئی کام شروع کریں اور اگر وہ کسی وجہ سے مکمل نہ ہو پائے تو یہ متاثر ہوتے ہیں، اس طرح کسی مقابلے والے فرد کی کامیابی بھی ان کے لئے مایوسی کا باعث بنتی ہے حالانکہ یہ ایسی کیفیت کو زیادہ دیرخود پر طاری نہیں رہنے دیتے اور ایک بار پھر پر عزم ہو جاتے ہیں، بہرحال یہ خامی ان کے اندر مایوسی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے اس لئے انہیں اس سے گریز کرنا چاہئے۔
عجلت پسندی
ویسے تو یہ ہر کام بہت سوچ سمجھ کر کرنے کے عادی ہوتے ہیں جس کے انہیں بہتر نتائج بھی ملتے ہیں۔ اس کے باوجود اکثر یہ عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ایسی عجلت ان کے لئے ناکامی لے کر آتی ہے۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ: * عجلت پسندی کا مظاہرہ نہ کریں۔ * کبھی عجلت کرنے لگیں تو فوراً اس پر قابو پائیں۔ * کسی کی طرف سے عجلت کے مشورے کو نظر انداز کر دیں۔
خشک مزاج
ہم نے یہ تذکرہ کیا تھا کہ یہ لوگ خوش مزاج ہوتے ہیں لیکن ان پر کبھی کبھی خشک مزاجی کا دورہ بھی پڑتا ہے، ایسے میں یہ کسی سے صحیح طرح بات نہیں کرتے بلکہ کئی تلخ باتیں ان کے منہ سے نکل جاتی ہیں۔ یہ کیفیت ان پر کبھی کبھار ہی طاری ہوتی ہے لیکن یہ ان کی شاندار شخصیت کو متاثر کرتی ہے۔ جو لوگ ان کے اچھے اخلاق کی وجہ سے ان سے متاثر ہوتے ہیں، ان کی رائے ان کے بارے میں بدل جاتی ہے۔ انہیں چاہئے کہ اپنی اس عادت کو ترک کریں، یہ ان کی مقبولیت کا گراف دیتے ہیں
یہ صفحات اسی زمرے میں ہیں
متعلقہ مضامین
6 مضامینحوت
حوت حساس، تخیل میں ڈوبا ہوا اور دوسروں کے لیے شفقت لاتا ہے۔
دلو
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 21؍ جنوری تا 19؍ فروری حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ یورانس عنصر ۔۔۔۔۔۔ ہوا نشان ۔۔۔۔۔۔ مشکیزہ، بردار موافق دن ۔۔۔۔۔۔ ہفتہ، اتوار موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 4-8 موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ عقیق، فیروزہ، نیلم موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ بنفشی، ہلکا نیلا، سبز
جدی
حاکم سیارہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زحل موافق رنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سبز ۔بھورا موافق نگینہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فیروزہ ، نیلم عنصر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خاکی موافق دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہفتہ موافق عدد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۸
قوس
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 23؍ نومبر تا 21؍ دسمبر حکمران سیارہ ۔۔۔۔۔۔ مشتری عنصر ۔۔۔۔۔۔ آتش موافق دن ۔۔۔۔۔۔ جمعہ، جمعرات، منگل موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 3 موافق نگینہ ۔۔۔۔۔۔ پکھراج، فیروزہ موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ سرخ، نیلا اور ارغوانی موافق دھات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سونا، چاندی
عقرب
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 23؍ اکتوبر نشان ۔۔۔۔۔۔ بچھو عنصر ۔۔۔۔۔۔ آبی حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ پلوٹو۔ مریخ مبارک عدد ۔۔۔۔۔۔ 9 مبارک دن ۔۔۔۔۔۔ منگل مبارک پتھر ۔۔۔۔۔۔ پکھراج، سنگ سلیمانی، اوپل مبارک رنگ ۔۔۔۔۔۔ نیلا ، سبز، سرخ، بھورا
میزان
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 24؍ ستمبر تا 22؍ اکتوبر نشان ۔۔۔۔۔۔ ترازو عنصر ۔۔۔۔۔۔ بادی حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ زہرہ موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ نیلم، اوپل موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ سفید، سبز، زرد، ہلکا نیلا موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 6 اور 9 موافق دن ۔۔۔۔۔۔ جمعہ
یہ مضامین آپ کی دلچسپی کے ہو سکتے ہیں