مکمل راستہ
برج
دلو
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 21؍ جنوری تا 19؍ فروری حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ یورانس عنصر ۔۔۔۔۔۔ ہوا نشان ۔۔۔۔۔۔ مشکیزہ، بردار موافق دن ۔۔۔۔۔۔ ہفتہ، اتوار موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 4-8 موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ عقیق، فیروزہ، نیلم موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ بنفشی، ہلکا نیلا، سبز
برج دلو کے موافق پتھروں کے خواص
فیروزہ
اس معروف: فیروزہ ۔ فارسی: پیروزہ۔ عربی : فیروزج۔ ہندی : فروزہ ماہیت: یہ سبز پتھر ہے مائل نیلاہٹ کی نیشا پور اور شیراز اور بھوٹان اور کرمان سے آتا ہے سب سے عمدہ نیشا پوری ہے۔ طبیعت: پہلے درجے میں سرد اور تیسرے میں خشک اور یہ عمدہ قدرے گندھک اور پارے سے معدن میں تیار ہوتا ہے۔ رنگ وبو: رنگ فیروزی نہایت مشہور ہے۔ ذائقہ : پھیکا مثل اور پتھروں کے ہوتا ہے۔ مضر: گردے کے امراض کے لئے مضر ہے۔ مصلح: کتیر اور اشیائے لعا بد اور تر۔ بدل: اکثر افعال میں زمرد ا س کا بدل ہے۔ نسبت سیارہ: منسوب ہے ستارۂ نپ چون سے ازروئے مزاج۔ نفع خاص: مقو قلب و دماغ و بصر ومفرح و دافع زہر ہے۔ کامل: دو ماشے تک یہ کم وبیش بقدر ضرورت۔ ناقص: ایک ماشے تک یہ قدرے زیادہ۔ افعال و خواص: مفرح ہے قوت تریاقیہ کے ساتھ سرمہ اس کا آنکھ کی رطوبت کا جاذب اور آنسو بہنے اور جالے کا دافع بینائی کو قوت دیتا اور توندھی کو دور کرتا اور آنکھ کے طبقوں کے اکثر امراض کو نافع ہے اور شہد کے ساتھ مرگی اور ورم طحال کو مففید اور سنگ گردہ مثانہ کا مخرج اور مناسب دواؤن یا معجون کے ساتھ دل و معدے کا مقوی خفقان اور دوستوں اور آنتوں کے زخموں اور تمام اندرونی زخموں کے لئے مفید ہے۔ نصف ورم تمام زہروں کا تریاق ہے اور ایک ورم سخت زہرون کے اثر کا دافع اور ایک ماشہ بچھوں کے زہر کے اثر کو دور کرتا ہے اور مجرب ہے اور لٹکانا اس کا مقوی قلب دافع خوف دشمن ہے اور نرم دھاتوں کو سخت کرتا ہے۔ انگریزی میں اس کو ٹرکوائس اس واسطے کہتے ہیں کہ یہ ملک ٹرکس (Truks) یعنی روم سے آتا ہے۔ اسے کیلٹ (Kalait) ، اگیفٹ (Afaphite )، اور جو نائیٹ (Johnite) بھی کہتے ہیں۔ فیروزہ کی دو حسب ذیل قسمیں ہیں۔ (1) مشرقی فیروزہ:۔ اس کا رنگ ہمیشہ قائم رہتا ہے اور پرانی چٹانوں سے نکلتا ہے۔ تیزاب فاسفورس 9ء30، الیومینا 5ء44، آکسیڈ تانبہ 75ء3 آکسیڈ آہن، 8ء1 پانی، 19 حصہ مرکب ہے۔ (2) مغربی فیروزہ:۔ اسے بون (یعنی استخوان) بھی کہتے ہیں۔ اس کا رنگ خراب ہو کر سبز ہو جاتا ہے اور نئے چٹانوں کی پیدائش سمجھا جاتا ہے۔ اس میں ایک جزو اعظم استخوان یعنی فاسفیٹ چونا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس میں یہ فاسفیٹ چونا 80 حصہ کاربونیٹ آف لائم 8حصہ فاسفیٹ آہن اور فاسفیٹ میگنیشیا 2، الیومینا 5ء 1 اور پانی 1-6 حصہ مرکب ہیں۔ یہ قسم سالیمور (Simore) متصل اور لینگوڈک (Languedoc Lower)( فراس کا ایک صوبہ 43 شمالاً شرقاً پر ہے) پائی جاتی ہے۔ حکماء ایران اس کی یہ اقسام بیان کرتے ہیں۔ (1) فتحی ۔ (2) اظہاری۔ (3) سلیمانی۔ (4) درلدی۔ (5) آسمان گوں۔ (6) عبدالحمیدی۔ (7) آندیشی۔ (8) گنجوینا۔ پہلی پانچ قسمیں خاکی رنگ کی ہوتی ہیں۔ باقی تین کوہستان و نیوت میں ملتے ہیں۔ جو عدد کرمان اور شیرز میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سفید رنگ ملا ہوتا ہے۔ اور انہیں سابانگی اور سربوم کہتے ہیں۔ جن میں نیلے رنگ کی دھاری ہوتی ہے ان کو نیلبوم کہتے ہیں۔
ماہیت
تفصیل
(1) فیروزہ کی معدنی شکل اگرچہ عمدہ اور بے شگاف ہوتی ہے لیکن اس کی قلمیں عمدہ نہیں بندھتیں۔ (2) سختی 6 درجہ شیشہ کو کاٹ سکتا ہے۔ (3) چمل بلورین۔ (4) رنگ نیلا، سبز، سفید۔ (5)تاریک ، کناری براق۔ (6) وزن مخصوص 6ء2 سے 8ء2 تک۔ (7) طاقت انعکاس واحد۔ (8) اس میں 34ء 27 تیزاب فاسفیٹ لائم، 18ء18 پانی مرکب ہیں۔ اس کا رنگ آکسیڈ آہن اور تانبہ کے باعث ہوتا ہے۔ (9) گرمی پہنچانے سے پانی خشک ہو جانے کے باعث اس کا رنگ سیاہ ہو جاتا ہے۔ یہ دھونکنی کے آگے بھی نہیں پگھلتا۔ اس کا رنگ بھورا سا ہو جاتا ہے۔ کسی تیزاب کا اثر اس پر نہیں ہوتا۔
متعلقہ مضامین
6 مضامینماہیت
(1) عقیق کی شکل کافی مسدس یا متوازی الاضلاع ہوتی ہے۔ عقیق کی شکل ڈھلی بندی ہوئی نہیں ہوتی۔ اکثر اس کی شکل گول سنگریزوں کی طرح ہوتی ہے۔ (2) چمک بلورین (3) رنگ بھورا، زرد، سفید، سرخ اور سیاہ ہوتا ہے۔ عقیق کے رنگوں کی دھاریاں یا تو متوازی ایک دوسرے کی ہوتی ہیں یا سب ہم مرکز گول ہوتی ہیں۔ یا اس کے رنگ داغ اور دھبوں کی طرح ہوتے ہیں۔ (4) سختی 7 درجہ کی۔ (5) عمدہ شفاف تہیں براق ہے۔ (6) وزن مخصوص 65ء2۔ (7) طاقت انعکاس دو چند۔ (8) گھسنے سے طاقت برقی پیدا ہوتی ہے۔ (9) اس کے مرکبات کیمیائی کے بارے میں مختلف محققوں کی مختلف رائے ہیں۔ اس میں جز اعظم سیلیکا تقریباً 99 حصہ ہے اور ایک حصہ سرخ آکسیڈ آہن اور اسی آکسیڈ آہن کے باعث اس کا رنگ ہوتا ہے۔ بعض کی رائے ہے کہ ا س میں آکسیڈ میگنشیاکی بھی قدرے مقدار ہے۔
مشہور و معروف نیلم
(1) سفیر انگریزی نے آوا (برہما کا ایک مشہور شہر) میں ایک نیلم 951 قیراط وزنی عمدہ خوش رنگ و بے عیب دیکھا۔ (2) پیرس کے شاہی خزانہ میں ایک بڑا خوشنما بے عیب بادامی شکل 122-1/16 قیراط وزنی نیلم ہے۔ جس کو ایک ڈولیاں بیچنے والی بنگالی نے حاصل کیا۔ اس لئے اس کا نام ڈون سپون سیلری پڑا۔ بعدہ یہ نیلم ریسپولی (House of Rospali) کے گھرانے (یہ گھر شہر روم میں ہے) میں آنے سے بنام ریسپولی مشہور ہوا۔ پھر یہ ایک جرمنی کے شہزادہ کے پاس فروخت ہوا۔ جس نے اسے ایک فرانسیسی جوہر پیرٹ نامی کے پاس 28 ہزار روپے میں بیچ ڈالا۔ (3) آج کل یورپ میں نہایت مشہور دو نیلم ہیں۔جو 1863ء کی نمائش گاہ لندن میں دکھلائے گئے۔ ایک سیاہ بادامی شکل بے عیب اور تقریباً 252 قیراط وزنی ہے۔ دوسرا اس سے کچھ کم وزن تھا جو 1856ء میں 225 قیراط وزنی ہندوستان سے وہاں کا کاٹا ہوا آیا تھا۔ اس میں ایک بڑا عیب زردی مائل تھا۔ دوبارہ کٹوائے جانے سے یہ 165 قیراط رہ گیا اور پیرس میں 7 یا 8 ہزار پونڈ پر فروخت ہوا۔ (4) ملکہ کے تاج میں ایک بہت بڑا نیلم مارویلک (Marveilex) نامی دیکھا گیا۔ جس کا رنگ دن میں نیلگوں اور رات کے وقت زمرد سا دکھلائی دیتا تھا۔ چونکہ نیلم بہت سخت ہے اس لئے اس پر کھدائی کا کام نہیں ہوتا ہے۔ صرف چند ہی نیلم ایسے ہیں جن پر کھدائی کا کام دیکھا گیا ہے۔ (1) چنانچہ روم میں ایک نیلم ہے جس پر ہر کولیس (Hercules) کی تصویر بنقش ہے۔ (2) فرمانروائے لیکسینسی کے پاس ایک نیلم 53قیراط وزنی ہے جس پر ایک شکار کا نظارہ کھدا ہوا ہے اور ساتھ الفاظ کانٹس آگ (Constentius Aug) کندہ ہیں۔ یہ نظارہ اس طرح ہے کہ ایک بادشاہ ایک جنگلی سور پر جو ایک حسین عورت کے روبر کھڑا ہے برچھی لگا رہا ہے۔ (3) ایک عمدہ 3/4 انچ مربع نیلم پر پوپ پال (Pop Paul) سوم کی تصویر کندہ ہے۔ (4) ایک زرد رنگ پانچ پہلو دار نیلم دیکھا گیا جس پر ہنری چہارم کی تصویر بنقش تھی اور ساتھ الفاظ سی ،ڈی ، ایف ( C.D.F) کندہ تھے۔ (5) ایک نیلم 3/4 انچ طول، 11/2 انچ عرض میں دیکھا گیا جس پر کیرا کلا کے چہرے کا نقش کندہ تھا۔ (6) ایک پرانے نیلم پر کارڈیہ نل ولسی (Caridinel Wolsey) کی کلغی اور باروؤں کا نقش کندہ ہے۔ علی ہذا القیاس کان ہائے نیلم واقعہ ریاست کشمیر ریاست جموں و کشمیر میں کان ہائے نیلم بعہد سری مہاراجہ رنبیر سنگھ صاحب بہادر ظاہر ہوئی۔ یہ جموں کی سرحد پر دور دراز دشوار گزار پہاڑوں میں جموں سے 160 میل کے فاصلہ پر 76-53 درجہ طول و 33-30 درجہ عرض ہیں۔ جموں سے یہاں تک راستہ نہایت خطرناک دشوار گزار ہے۔ یہ کانیں صرف حسن اتفاق سے اس طرح ظاہر ہوئیں کہ عرصہ تقریباً 13 سال کا ہوا تھا کہ پہاڑ سے ایک ٹیلا گرا جیسے کہ نیلم والاپارہ کوہ یعنی وادی میں آ گرا ان ناگند کو ہندوستان میں صرف بھٹے قوم کے گڈرئیے ماہ جولائی اگست ستمبر میں واسطے شکار یا چرانے بھیڑوں کے آتے ہیں۔ ان خوبصورت چمکیلے پتھروں کو دیکھ کر حیران ہوئے اور گوان کو جواہرات نہ سمجھا۔ لیکن یہ چند بہتر جو عمدہ شکل کے اور بیرنگ تھے جمع کئے اس کے عوض نمک و مصری لی جائے گی جو وہاں نہایت کمیاب ہے اور بڑی گراں قیمت پر بیوپاری پنگی، چمبہ اور شملہ سے مل سکتی ہے۔ ان گڈریوں نے جب دیکھا کہ بیوپاری ان پتھروں کے عوض نمک، مصری، لوہا اور دیگر ضروریات بڑی خوشی سے دے دیتے ہیں تو انہوں نے ان کے ہمراہ ایک خاصہ باقاعدہ لین دین شروع کر دیا جنہوں نے ان وحشی گڈریوں کی لا علمی کی وجہ سے بہت فائدہ اٹھایا او ر ریاست کشمیر کونقصان پہنچا۔ اسی اثناء میں جب کہ یہ ناجائز بیوپار زورو شور سے جاری تھا تو چند نگ ایک دہلی کے جوہر کے ہاتھ لگے جو کہ ان کو دیکھ کر نہایت متعجب ہوا کہ ایسے عمدہ نیلم کوہ ہمالیہ کی طرف سے بیوپاری پنگی و چمبہ کی معرفیت ہاتھ آتے ہیں۔ دریافت کرنے سے اسے پتہ لگ گیا کہ ان پتھروں کااصل میخ کہاں ہے۔ انعام کثیر حاصل کرنے کی خاطر اس نے سری مہاراجہ رنبیر سنگھ بہادر کو اطلاع دی کہ ایک بیش بہا خزانہ ان کی ریاست میں ہے جو کہ گڈریوں کے ذریعہ ظاہر ہوا ہے۔ اور جس کو بیوپاری چھوٹی چھوٹی چیزوں کے عوض اڑا رہے ہیں۔ مہاراجہ مرحوم نے جب یہ سنا کہ ان کے علاقہ میں کان نیلم ہے تو چند معتبر اراکین ریاست کو اس طرف بھیجا اور تمام نیلم جو مل سکے جمع کرائے جو لاکھوں روپوں کے تھے اور وہاں پہرہ بٹھا دیا۔ کہ آئندہ نقصان نہ ہو۔
خواص وماہیت
نیلم کی معدنی شکل شش پہلو متوازی الاضلاع یا مسدس ہوتی ہے۔ اس لئے یہ زمرہ ڈچروک (Dichroic) میں گنا جاتا ہے۔ اس میں سختی 9 درجہ ہے۔ اس لئے یہ صرف الماس سے ہی کاٹا جا سکتا ہے۔ نیلم کا رنگ بہت عمدہ خوشنما ہوتا ہے یعنی روشن نیلگوں سے ارغوانی رنگ کے نیلم بھی ہوتے ہیں۔ کتب اہل ہنود میں ان کے علاوہ نیلم کئی اور انواع بیان کئے گئے ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے کہ ’’ اگرچہ اصلی نیلم کا رنگ نیلا ہے جس کے باعث یہ نیلم کہلاتا ہے پھر بھی ایک اور رنگوں جھلک ان میں ظاہر ہوتی ہے۔ چنانچہ بعض نیلم کنول کے پھول کی طرح، بعض تلوار، بھونرے، سمندر کے پانی، کوئل کے گلے وغیرہ کی مانند نیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ ان کے رنگوں کے لحاظ پر چار نوعیں ہیں۔ (1) برہمن نیلم (سفیدی مائل نیلا) (2) چھتری (سرخی مائل نیلا) (3) ویش (زردی مائل نیلا) (4) شودر (سیاہی مائل نیلا) نیلم کا وزن مخصوص 9ء3 سے 2ء3 تک ہے۔ نیلم کے مرکبات کیمیائی طاقت انعکاس وغیرہ و دیگر خواص یاقوت سے ملتے ہیں۔ نیلم اور یاقوت میں صرف رنگ کا ہی فرق ہے۔ یعنی نیلم کا رنگ آسمانی نیلگوں اور یاقوت کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ نیلم کا رنگ مادہ کروم (ایک مشہور عنصر) کی ترکیب کے باعث ہوتا ہے۔ گرمی کی تاب سے سفید اور زردی مائل نیلم سفید ہو جاتے ہیں لیکن مشرقی نیلم کا رنگ گیس کی روشنی کے آگے ایسا ہی رہتا ہے۔ ہاں کم درجہ عدوں کا رنگ امینہٹ کے رنگ کی طرح تاریک ہو جاتا ہے۔
حوت
حوت حساس، تخیل میں ڈوبا ہوا اور دوسروں کے لیے شفقت لاتا ہے۔
دلو
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 21؍ جنوری تا 19؍ فروری حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ یورانس عنصر ۔۔۔۔۔۔ ہوا نشان ۔۔۔۔۔۔ مشکیزہ، بردار موافق دن ۔۔۔۔۔۔ ہفتہ، اتوار موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 4-8 موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ عقیق، فیروزہ، نیلم موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ بنفشی، ہلکا نیلا، سبز
جدی
حاکم سیارہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زحل موافق رنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سبز ۔بھورا موافق نگینہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فیروزہ ، نیلم عنصر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خاکی موافق دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہفتہ موافق عدد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۸
یہ مضامین آپ کی دلچسپی کے ہو سکتے ہیں