مکمل راستہ
برج
حوت
نشان ۔۔۔۔۔۔ دو مچھلیاں تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 20؍ فروری تا 20؍ مارچ حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ نپ چون عنصر ۔۔۔۔۔۔ آبی مبارک دن ۔۔۔۔۔۔ اتوار، پیر ، جمعرات مبارک عدد ۔۔۔۔۔۔ 7 مبارک پتھر ۔۔۔۔۔۔ پکھراج، نیلم اور پنا مبارک رنگ ۔۔۔۔۔۔ گہرا نیلا، سلیٹی، سفید ، بنفشی
برج حوت کے موافق پتھروں کے خواص
زمرد
تفصیل
اسم معروف: پنا۔ فارسی: زمرد۔ عربی : زمرد ماہیت: عمدہ پتھروں میں سے ہے اور سونے کی کان میں ملتا ہے اس کی کئی قسمیں ہیں۔ طبیعت: دوسرے درجے میں سرد اور تیسرے میں خشک اور قوت اس کی مدت کثیر تک باقی رہتی ہے۔ رنگ و بو: سبز آبدار صاف شفاف خوشنما۔ ذائقہ: پھیکا بے مزہ، مثل بلور وغیرہ کے۔ مضر: مثانے کے لئے مضر ہے اور سرد مزاجوں کو مصلح: مشک و گلاب و عرق کیوڑہ وغیرہ۔ بدل: دماغ سموم میں زبر جد اور اسہال میں مرجان نسبت سیارہ: منسوب ہے مشتری۔ نفع خاص: روح و دل و دماغ اور حرارت غریزی کا مقوی ہے۔ کامل : رفع سم میں ایک دانگ او نزف الدم میں ایک قیراط۔ ناقص: رفع سموم میں نصف دانگ اور نزف الدم میں نصف قیراط۔ افعال و خواص: مفرح ہے اور حرارت غریزی اور دل و دماغ و کبد معدے کا مقوی اور غم و ہم خزن و ملال اور خفقان و صرع کا رافع اور ذات الجنب و ذات الریہ و نزف الدم و اسہال دموی کو نافع اور سموم قتال اور زہر ہوام اور ساتسقاء و یرقان اور حسب البول اور اخراج سنگ گردہ و مثانہ اور جذام کے لئے مفید اور اگر کسی نے زہر کھایا ہو اور قبل ظاہر ہونے اس کے اثر کے بوزن آٹھ جو کے باریک کر کے پی لے تو زہر کا ر گر نہ ہو گا اور سرمساس کا بینائی کا مقوی اور سبل کا دافع اور زیادہ دیکھنا زمرد کا آنکھ کی ماندگی کا دافع اور اس کی انگوٹھی پہننا صرع کو مفید سانپ اس کے دیکھنے سے اندھا ہوتا ہے مگر یہ امر صحیح نہیں ہے اور جو کچھ اس کی مبارکی مشہور ہے وہ بھی صحیح نہیں ہے۔ (مخزن) زمر دجیسا عمدہ سبز رنگ اور کوئی جواہر نہیں۔ یہ ان متذکرہ بالا اقسام جواہر سے جن کا اصل (الیومینا یا کاربن) تھا۔ ایک مختلف قسم کا جواہر ہے جس کا اصل سیلیکا (Silica )ہے۔ اس جواہر کا گہرا سبز رنگ آنکھوں کو بہت بھاتا ہے۔ شہر اولڈروم، مصر، پومپائی ( یہ ایک پرانے شہر کے کھنڈرات ہیں جو کوہ ویسویس واقعہ (اٹلی) کے دامن میں تھا اور 79 میں برباد ہوا) ہر کونسیم کے کھنڈرات سے زمرد کے زیورات پائے جانے سے معلوم ہوتا ہے کہ متقدمین زید کو استعمال کرتے تھے۔ چنانچہ پلائینی ایک کتاب میں لکھتا ہے کہ ’’ متقدمین زمرد کو اچھی طرح جانتے تھے اور اس کی قدر کرتے تھے۔ صاحب مذکور اس جوہر کو سمار گدس (Simargdus) کے نام سے لکھتے ہیں اور اس کی بابت کئی طرح کے عجیب و غریب بیان درج کرتے ہیں کئی اور شہادتوں سے بھی صاف ظاہر ہے کہ زمانہ سلف میں لوگ زمرد کو اچھی طرح جانتے تھے۔ چنانچہ 240ء میں سیویلی (Seuille) (ہسپانیہ کا ایک بڑا شہر جو دریائے گوایڈل کور پر واقعہ ہے) کاپادری اسے دودس نامی بیان کرتا ہے کہ ’’ تمام سبز رنگ پتھروں میں زمرد افضل ہے اس کا رنگ ان اشخاص کی آنکھوں کے لئے جو اس کے کاٹنے اور جلا کرنے میں مشغول ہوتے ہیں نہایت مفید ہے۔‘‘ گیارھویں صدر میں پسیلس (Pesellos) زمرد کے بابت لکھتا ہے کہ ’’ یہ جواہر عمدہ سبز رنگ ہے اور اس کے کئی ایک عدد سنہری نیلے رنگ کے بھی ہوتے ہیں۔ اگر اس میں پانی ملائیں تو یہ صرع اور کئی ایک اور بیماریوں کو شفا دے سکتا ہے۔ پلائینی زمرد کی چمک وغیرہ خواص کی بابت کئی ایک کا بیان لکھتا ہے۔ بعض محققین زمرد کی دو اقسام بیان کرتے ہیں۔ ایک زمر دوسرا زبرد لیکن فی الحقیقت زبر جد زمرد سے کئی لحاظ میں مختلف ہے۔ اس لئے ا س کا بیان جواہرات درجہ دوم میں کیا جاتا ہے۔ عرب و فارس کے حکماء زمرد کے مفصلہ ذیل انواع بیان کرتے ہیں۔ (1) زہابی جن کا سنہری رنگ ہو۔ بعض ماہرین کی رائے ہے کہ جس جگہ زمرد کی یہ قسم رکھی جائے وہاں مکھیاں نہیں آ سکتیں۔ (2) سعیدی یہ سعید مصر سے آتا ہے۔ اگر اس پر نگاہ ڈالیں تو انسان کا عکس دکھلائی دیتا ہے او ر آنکھیں بند معلوم ہوتی ہیں۔ (3) ریحانی گل ریحان کی طرح سبز رنگ (4) فستقی ( عربی لفظ بمعنی پستہ، زردی مائل، سبز رنگ جو مغز پستہ کی طرح ہوتا ہے) سیاہی مائل سبز رنگ اس کو پرانا زمر دبھی کہتے ہیں۔ (5) سلقی ( عربی لفظ معنی چقندریہ یہ ایک ترکاری ہوتی ہے جو شلغم کی مانند ہوتی ہے) جن کا رنگ فارس کے چقندر کی طرح ہو۔ (6) زنجاری یا رتگاری جن کا رنگ مرچ سا ہو۔ (7) کیراثی ( ایک قسم کا پودا جسے گنڈنا کہتے ہیں) جن کا رنگ کیراث کی طرح ہو۔ (8) صابونی جن کا رنگ سفید اور سبز کی ملاوٹ سے ہو۔ ان میں سے عمدہ دو قسم گنا جاتا ہے جو سخت،صاف، سبز رنگ، بے عیب ہو۔ آج کل کے ہندوستانی جو ہری زمرد کے مفصلہ ذیل اقسام بیان کرتے ہیں۔ 1۔ پرانا 2۔ مرگجا 3۔ توڑیکا 4۔ پیالیکا 5۔ نیا 6۔ جہاجی اور ہر ایک کی دو نوع بتلاتے ہیں۔ کاہی اور دہانی نوع۔ کاہی ان کو کہتے ہیں جن میں سیاہی مائل سبز رنگ ہو اور دہانی جن کا زردی مائل سبز رنگ ہو
ذیلی زمرے
متعلقہ صفحات
2 صفحاتپکھراج
پکھراج جسے فارسی میں یاقوت ارزق اور ہندی میں پوشپ راگ کہتے ہیں۔ ایک عمدہ زرد رنگ قدیمی جواہر ہے۔ زبان عبرانی میں اسے پت دوہ کہتے ہیں۔ جس کا مصدر سنسکرت لفظ پیت (معنی زرد) معلوم ہوتا ہے۔ یونانی زبان میں اسے ٹوپاسٹیون (Topasitun) کہتے ہیں۔ جس کا مآخذلفظ ٹپ دوہ ہے۔ جو پت دوہ کا بگڑا ہوا ہے۔ اس کا انگریزی نام ٹوپاز ایک جزیرہ (واقعہ بحیرہ قلزم) کے نام پر پڑا ہے جہاں سے پہلے یہ نکلتا تھا۔ یہ جزیرہ بحیرہ قلزم میں ہے اور چونکہ اس کے گرد ہمیشہ دھند و غبار رہتا ہے۔ اس لئے اس کا نام ٹوپاز پڑا۔ معنی تلاش کرنا پڑا اور اسی سے لفظ ٹوباز نکلا ہے۔ کئی دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جواہر زمانہ قدیم میں مروج تھا۔ چنانچہ بوتش (Boetus) لکھتا ہے کہ یہ جواہر سبزی مائل زرد رنگ کا ہے۔ اور اس کے کئی ایک خواص سحری یمن و برکات مانے جاتے تھے۔ یونانی حکماء لکھتے ہیں کہ ’’ پکھراج غم غصہ کو دور کرتا ہے۔ بازو پر باندھنے سے جادو کا اثر نہیں ہوتا۔ عیاشی سے بچاؤ ہوتا ہے۔‘‘ ماہرین اس کی دو قسمیں بیان کرتے ہیں۔ ایک مشرقی دوم مغربی۔ جس پکھراج میں صرف الیومینا مرکب ہوتا ہے وہ مشرقی اور جن اقسام میں 57 حصہ الیومینا اور باقی سلیکا اور فلورائین مرکب ہوں انہیں مغربی کہتے ہیں۔ کتب سنسکرت میں اس کی چار ذاتیں بیان کی گئی ہیں۔ سفید پکھراج، برہمن، سرخی مائل کھتری، زرد رنگ، ویش اور سیاہی مائل شودر، متقدمین اسے چرائسولیٹ (Chrysolite) کہتے تھے۔ پکھراج کی ایک قسم پس نائیٹ (Pysnite) نامی ہے جو الٹن برگ سے ملتی ہے۔ ایک اور قسم ہے جسے فالیو لائیٹ (Physolite) یا پرائی فائسولائیٹ (Phrphyslite) کہتے ہیں۔ یہ تاریک ہوتی ہے۔ اور گرمی سے سوج جاتی ہے۔
نیلم
اسم معروف :نیلم۔ فارسی نیلم۔ عربی، یاقوت کبود۔ ہندی: نیلمن ماہیت: مشہور پتھر ہے معدنی اعلیٰ قسم کا جس کے نگینے وغیرہ بنائے جاتے ہیں۔ طبیعت پہلے درجے میں گرم اور تیسرے میں خشک ہے۔ رنگ و بو نیلا صاف شفاف چمکدار۔ ذائقہ پھیکا کوئی مزہ غالب نہیں۔ مضر: گرم مزاجوں کو مضر ہے۔ مصلح: یاقوت سفید اور اشیائے سرد۔ بدل: یاقوت سرخ یا زرد۔ نسبت سیارہ: منسوب زحل ہے۔ نفع خاص: مفرح و مقوی دل و دماغ۔ کامل : ساڑھے تین رتی تک۔ ناقص: رتی سے دورتی تک۔ افعال و خواص: مفرح ہے اور دل و دماغ کو قوت اور ایک ورم حل کر کے پلانا صرع اور وسواس اس، خفقان، طاعون، نزف الدم، دفع زہر، تغیر ہوائے بائی میں مفید، خون کو صاف کرتا، حرارت غریزی اور قوائے حیوانی کا محافظ ہے اس کا منہ میں رکھنا منہ کی بدبو کا دافع تشنگی کا مسکن، مقوی دل و مفرح ہے، سرمہ اس کا مقوی بصر اور محافظ چشم ہے۔ (مخزن) نیلم جسے سنسکرت میں نیلا، انگریزی میں سیفائر (Sapphire) اور فارسی عربی میں یاقوت ارزق کہتے ہیں نہایت ہی عمدہ نیلگوں جواہر ہے۔ اس کی چمک دمک اور آسمانی نیلی رنگت دل کو بہت بھاتی ہے۔ یہ جواہر زمانہ قدیم سے مشہور چلا آ رہا ہے اور اہل ہنود اور اہل اسلام کی پرانی کتابوں میں اس کا ذکر آیا ہے۔ اس جواہر کے برابر کسی اور جواہر کے خواص سحری نہیں مانے جاتے تھے۔ یونانی لوگ اسے اپولو ( یونانیوں کے ایک معبود کا نام) کی نظر کرتے تھے۔ جواہر اپنی خوش رنگت اور چمک چمک کے باعث زیبائش بد نی کے لئے بہت مروج ہے۔ متقدمین چونکہ ایسے سخت جواہر کو کاٹنا بڑا مشکل سمجھتے تھے اس لئے یہ زیورات میں بہت کم مستعمل تھا۔ نیلم کے پانچ اقسام بیان کئے جاتے ہیں اور اس کے پہننے کے مختلف فوائد لکھتے ہیں۔ (1) گوڈتو، جو مقدار میں چھوٹا اور تول میں بھاری ہو اس کے پہننے سے دل کی مرادیں بھر آتی ہیں۔ (2) سنگرت جو ہمیشہ چمکتا رہے اس کے پہننے سے دولت اور محبت بڑھتی ہے۔ (3) درناڑی جسے سورج کے سامنے رکھنے سے نیلے رنگ کی کرنیں نکلیں اص کے پہننے سے مال اور اجناس حاصل ہوتے ہیں۔ (4) پارشوت، جس سے سنہری روپہری اور بلوری چمکیں نکلیں اس کے پہننے سے ناموری ہوتی ہے۔ (5) رنج کیتو، جس کو برتن میں رکھنے سے اس کی چمک کے باعث برتن نیلا دکھلا ئی دے۔ اس کے پہننے سے اولاد کو ترقی ہوتی ہے۔ ایک مہانیل نامی نیلم ہوتا ہے۔ جسے اگر اس سے سو حصہ زیادہ دودھ میں ڈال دیں تو اس کی چمک سے دودھ نیلے رنگ کا دکھلائی دیتا ہے۔ ایک اندر نیل نامی نیلم ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ کتب سنسکرت میں کئی عیب دار اور نحس نیلم لکھے گئے ہیں۔ جن کے پہننے سے کئی ضرر اور نقصان متصور ہوتے ہیں وہ چھ ہیں۔ (1) ابرق جس کے اوپر کے حصہ میں بادل کی سی چمک ہو اس سے عمر و دولت برباد ہوتی ہے۔ (2) تراش جس میں ٹوٹے پن کا نشان ہو۔ اس سے ریچھ وغیرہ جانوروں سے ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ (3) چترک جو مندرجہ بالا رنگوں سے کسی مختلف رنگ کی ہو اس کے پہننے سے قوم کی بربادی متصور ہے۔ (4) مرت گریہہ جس کا مٹیلا سا رنگ ہو اس سے کئی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ (5) اشم گریہہ جس میں پتھر کا سا ٹکڑا معلوم ہو۔ اس کے پہننے سے موت کا ڈر ہوتا ہے۔ (6) روکہی جس میں سفید چینی کی طرح داغ ہوں اس کے پہننے سے جال وطنی کا ڈر ہے۔ آج کل کے جواہری نیلم کی دو قسمیں بیان کرتے ہیں۔ اول پران، دوم نیا ہر ایک کی تین نوعیں بتلاتے ہیں۔ (1) سبزین نیلا یا نیلا مائل سبزی۔ (2) لال پن نیلا۔ (3) خوب نیلا یعنی گہرا نیلگوں، اہل فارس نیلم کو یاقوت کی ایک قسم بیان کرتے ہیں اور اس لئے یاقوت ازرق کہتے ہیں لیکن فی الحقیقت یہ یاقوت سے ایک علیحدہ جواہر ہے۔
یہ صفحات اسی زمرے میں ہیں
متعلقہ مضامین
6 مضامینحوت
نشان ۔۔۔۔۔۔ دو مچھلیاں تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 20؍ فروری تا 20؍ مارچ حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ نپ چون عنصر ۔۔۔۔۔۔ آبی مبارک دن ۔۔۔۔۔۔ اتوار، پیر ، جمعرات مبارک عدد ۔۔۔۔۔۔ 7 مبارک پتھر ۔۔۔۔۔۔ پکھراج، نیلم اور پنا مبارک رنگ ۔۔۔۔۔۔ گہرا نیلا، سلیٹی، سفید ، بنفشی
دلو
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 21؍ جنوری تا 19؍ فروری حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ یورانس عنصر ۔۔۔۔۔۔ ہوا نشان ۔۔۔۔۔۔ مشکیزہ، بردار موافق دن ۔۔۔۔۔۔ ہفتہ، اتوار موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 4-8 موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ عقیق، فیروزہ، نیلم موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ بنفشی، ہلکا نیلا، سبز
جدی
حاکم سیارہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زحل موافق رنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سبز ۔بھورا موافق نگینہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فیروزہ ، نیلم عنصر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خاکی موافق دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہفتہ موافق عدد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۸
قوس
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 23؍ نومبر تا 21؍ دسمبر حکمران سیارہ ۔۔۔۔۔۔ مشتری عنصر ۔۔۔۔۔۔ آتش موافق دن ۔۔۔۔۔۔ جمعہ، جمعرات، منگل موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 3 موافق نگینہ ۔۔۔۔۔۔ پکھراج، فیروزہ موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ سرخ، نیلا اور ارغوانی موافق دھات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سونا، چاندی
عقرب
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 23؍ اکتوبر نشان ۔۔۔۔۔۔ بچھو عنصر ۔۔۔۔۔۔ آبی حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ پلوٹو۔ مریخ مبارک عدد ۔۔۔۔۔۔ 9 مبارک دن ۔۔۔۔۔۔ منگل مبارک پتھر ۔۔۔۔۔۔ پکھراج، سنگ سلیمانی، اوپل مبارک رنگ ۔۔۔۔۔۔ نیلا ، سبز، سرخ، بھورا
میزان
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 24؍ ستمبر تا 22؍ اکتوبر نشان ۔۔۔۔۔۔ ترازو عنصر ۔۔۔۔۔۔ بادی حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ زہرہ موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ نیلم، اوپل موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ سفید، سبز، زرد، ہلکا نیلا موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 6 اور 9 موافق دن ۔۔۔۔۔۔ جمعہ
یہ مضامین آپ کی دلچسپی کے ہو سکتے ہیں