وقت کا احساس

تفصیل

حوت افراد کی زندگی پر اگر نظر ڈالی جائے تو ان کی سب سے بڑی جو خامی سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ انہیں وقت کی قدر اور احساس نہیں ہوتا ہے۔ یہ اپنی دھن مگن رہتے ہیں اور جب وقت گزر جاتا ہے تو سوائے پچھتاوے کے ان لوگوں کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یہ اپنے لڑکپن اور ابتدائی جوانی کے دن ہنسنے کھیلنے اور اپنے مشاغل میں گزار دیتے ہیں۔ انہیں یہ احساس بالکل نہیں ہوتا کہ اب ان کی عملی زندگی کا آغاز ہونے والا ہے۔ کچھ عرصہ بعد جب ان پر ذمہ داریوں کا بوجھ آنا شروع ہوتا ہے تو یہ گھبراتے ہیں، ایسے میں اکثر لوگ حالات کا صحیح رخ نہیں دیکھ سکتے اور وقت ضائع کرتے رہتے ہیں اور مسائل انہیں گھیرتے چلے جاتے ہیں اور جب ان پر ذمہ داریوں کا زیادہ بوجھ پڑتا ہے کہ ان کی گھبراہٹ اور پریشانی بڑھ جاتی ہے۔ ایسے میں یہ الٹے سیدھے منصوبے بنا کر اپنے گزرے وقت کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ سارے ناکام منصوبے ہوتے ہیں، اگر ایسے وقت میں بھی یہ درست سمت کا تعین نہ کریں تو مزید مسائل انہیں گھیرنے کے لئے تیار کھڑے ہوتے ہیں اور جب یہ اچھی طرح مسائل و مشکلات میں گھر جاتے ہیں تو فرار کا راستہ تلاش کرتے ہیں اور اکثر منشیات کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ یہ وقت کی قدر کریں۔

متعلقہ صفحات

17 صفحات

قوت برداشت

ان لوگوں میں قوت برداشت کی کمی ہوتی ہے۔ اکثر یہ ذرا ذرا سی بات پر پھٹ پڑتے ہیں یا معمولی باتوں کو دل پر لے لیتے ہیں اور اس کا منفی رد عمل ظاہر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کیلئے مناسب یہ ہے کہ اپنی اس خامی کی طرف توجہ دیں۔ اگر یہ اس پر قابو پانے کی کوشش کریں گے تو کامیاب ہوں گے۔

مزید پڑھیں

واہموں کا شکار

یہ لوگ مختلف واہموں کا شکار رہتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ پر اسرار اور ماورائی امور کی جانب بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ ان واہموں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اس طرح ان کا وقت بھی بہت ضائع ہوتا ہے اور یہ ذہنی طور پر مختلف الجھنوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یہ کسی ایسی چیز سے ڈرنے لگتے ہیں، جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ یہ ایسے خواب بھی دیکھتے ہیں جو پر اسرار اور ماورائی باتوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ اس طرح کے یہ سارے امور میں ذہنی الجھنوں میں گرفتار ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ کوشش کریں تو ان پر قابو پا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

خیالی دنیا

یہ خیال اور تصوراتی دنیا کے باسی ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے زیادہ با عمل نہیں ہوتے۔ یہ اپنی اس دنیا کو چھوڑنے پر کسی صورت راضی نہیں ہوتے اور حقائق کی طرف آنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس طرح یہ بڑا نقصان اٹھاتے ہیں۔ کیونکہ خیالوں میں رہ کر مطۂن تو رہا جا سکتا ہے لیکن آسودہ زندگی نہیں گزاری جا سکتی، اس کے لئے جدو جہد اور محنت کرنی پڑتی ہے۔ ان لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ حقائق سے نہ گھبرائیں اور ان کا مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا کریں، انہیں خود نہیں معلوم ہوتا کہ ان کے اندر کتنی صلاحیتیں ہیں، اگر یہ دوسروں کی طرح حقائق کا سامنا کریں اور عملی انسان بنیں تو یہ اپنی صلاحیتوں اور خوبیوں کی وجہ سے عام لوگوں سے کہیں زیادہ کامیاب ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

انتہا پسندی

ان کا ایک المیہ یہ ہے کہ یہ ہر معاملے میں انتہا پسند ہوتے ہیں۔ یہ ہاںیا نہ کا رویہ رکھتے ہیں، ان کے پاس کوئی درمیانی راستہ نہیں ہوتا۔ یہ جب کسی کو چاہتے ہیں تو اس میں بڑی شدت ہوتی ہے اور جب کسی سے نفرت کرتے ہیں تو وہ بھی بڑی شدید ہوتی ہے۔ ناپسندیدہ لوگوں کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور جو لوگ انہیں پسند ہوں اسے دل وجان سے چاہتے ہیں۔ کام کے متعلق بھی ان کا یہی رویہ ہوتا ہے۔ یہ جو کام کرنا چاہتے ہیں اس میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے ہیں، اس کے لئے اپنے تمام تر وسائل اور اپنی تمام تر توجہ مرکوز کر دیتے ہیں لیکن جس کام میں ان کی دلچسپی نہ ہو، اس کی طرف ذرا سی بھی توجہ نہیں دیتے۔ اگر ان کے سامنے وہ کام ہو رہا ہوتو یہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جبکہ کئی لوگوں میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ اگر ان کے سامنے کوئی کام ہو رہا ہو تو وہ اسے سیکھ جاتے ہیں۔ یہ اپنی فطرت کی وجہ سے انتہا پسندانہ رویے کو ترک نہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں لیکن اب یہ بھی نہیں ہے کہ اگر یہ کوشش کریں تو اسے ترک نہیں کر سکتے۔ انہیں اس رویے کو ترک کرنے یا اس میں نرمی لانے کی کوشش ضرور کرنی چاہئے، اس طرح یہ زیادہ فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

شرمیلا پن

شرمیلا پن بھی ان کی فطرت کا حصہ ہے۔ اکثر اوقات یہ اس کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو ایسے ہوتے ہیں جو ذرا ذرا سی بات پر شرما جاتے ہیں اور لوگوں کا سامنا کرنے کی بھی ان میں ہمت نہیں ہوتی۔ اس طرح لوگ ان کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔ یہ لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کے لئے کسی کا سہارا لیتے ہیں اور اگر ہمت کر کے خود اپنی بات کہیں تو ان کے لہجے میں اعتماد نہیں ہوتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ بہت گھبرائے ہوئے ہیں۔ ان کے الفاظ اٹکتے ہیں۔ یہ اپنی اس خامی پر تھوڑی سی کوشش کے بعد قابو پا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

صحت

صحت کی طرف ان لوگوں کی توجہ بہت کم رہتی ہے۔ اس وجہ سے یہ اکثر کمزور اور لاغر رہتے ہیں۔ اس طرح یہ جلد ہی بیماریوں کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ ان کے لئے بے حد ضروری ہے کہ یہ اپنی صحت کی طرف سنجیدگی سے توجہ دیں۔ اس سلسلے میں انہیں غذا کا خیال رکھنا چاہئے۔ ضرورت سے کم خوراک نہ لیں بلکہ درست وقت پر مناسب خوراک لیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب انہیں بھوک لگتی ہے تو یہ کوئی ہلکی پھلکی چیز کھا لیتے ہیں جو ان کی جسمانی ضروریات کے لحاظ سے کم ہوتی ہے اور بہت سے لوگ صرف چائے پر بھی گزارا کر لیتے ہیں اور اکثر ایسے بھی ہیں جو سگریٹ سے ہی بھوک و پیاس مٹا لیتے ہیں۔ اب ایسی باتوں کا کیا اثر ہوتا؟ یقینی بات ہے کہ ان کی صحت خراب ہو جائے گی اور کوئی بھی بیماری آسانی سے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ ان کی صحت اچھی نہیں ہے، اس کے باوجود اس کمی کی جانب توجہ نہیں دیتے۔ یہ ان کا ایک نفسیاتی مسئلہ بھی ہے اور غلط سوچیں بھی انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ نفسیاتی مسئلہ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ ذرا دیر بعد کھائیں گے اور اس طرح سارا دن نکال دیتے ہیں، یہ بھی سوچتے ہیں کہ تھوڑی سی خوراک انکی جسمانی ضرورتیں پوری کر دے گی یا ایسی ہی بے شمار باتیں سوچ کر یہ خوراک نہیں لیتے ہیں اور آہستہ آہستہ لاغر و کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ انہیں اس جانب بھرپور توجہ دینی چاہئے۔

مزید پڑھیں

تنہائی پسند

دنیا میں شائد ہی ایسا کوئی شخص ہو گا جو تنہا نہیں رہنا چاہتا۔ تھوڑی بہت تنہائی ہر کسی کی ضرورت ہے۔ ایسے میں انسان اپنی مرضی کے مطابق سوچ سکتا ہے اور اٹھ بیٹھ سکتا ہے۔ بعض لوگ صرف اس لئے ذرا دیر کے لئے تنہا رہنا چاہتے ہیں کہ وہ آرام کر سکیں اور بعض اس وجہ سے تھوڑی سی تنہائی چاہتے ہیں کہ آرام سے پڑھ سکیں لیکن تنہائی پسندی میں حوت افرا دسے آگے کوئی نہیں ہوتا۔ ان کے لئے تو آدم بیزار کے الفاظ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اگر ان کا بس چلے تو یہ ہر وقت تنہا رہیں اور کسی سے بھی نہ ملیں۔ یہ جس حد تک تنہا رہ سکتے ہیں، رہتے ہیں۔ ان کی یہ خامی ان کے لئے بہت نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ یہ دنیا سے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ اکثر لوگ ان کے بارے میں یہ تاثر لیتے ہیں کہ یہ بڑے مغرور ہیں لیکن ان کا غرور سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ تو لوگوں سے ملتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ کسی سے بات کرنا اس کے لئے دشوار ہوتا ہے۔ اپنی اس خامی کی وجہ سے یہ نہ صرف لوگوں سے کٹے رہتے ہیں بلکہ انہیں یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ کہاں کیا ہو رہا ہے۔ اس طرح یہ بے شمار نقصانات کرتے ہیں۔ اس خامی پرقابو پانے کے لئے ان لوگوں کو خاصی محنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں اپنے اندر اعتماد پیدا کرنا ہوتا ہے، خود کو دوسروں کے سامنے لائیں تا کہ آپ کے اندر سے جھجک اور گھبراہٹ نکل

مزید پڑھیں

متضاد رویے

یہ درست ہے کہ فطری طور پر آپ دوہری شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کے اندر دو طرح کے خیالات ایک ہی وقت میں جنم لیتے ہیں۔ یہ اگر کسی بات کو پسند کر رہے ہیں تو ذرا دیر بعد اسے سخت نا پسند بھی کر سکتے ہیں۔ اسی طرح یہ اگر کسی سے اچھے انداز میں بات چیت کر رہے ہیں تو ذرا دیر بعد اس سے بالکل لا تعلق بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کے اس طرح کے مضاد رویوں سے لوگ پریشان بھی ہوتے ہیں اور جو لوگ ان کا جائزہ لے رہے ہوتے ہیں وہ انہیں نفسیاتی مریض قرار دے دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جس طرح کا یہ رویہ رکھتے ہیں۔ اس کے حساب سے انہیں نفسیاتی مریض کہنا بھی غلط نہیں ہے۔ کسی نفسیاتی مریض سے ہی یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر وہ ابھی آپ سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہا ہے تو ذرا ہی دیر بعد آپ سے لا تعلق ہو جائے۔ ان کے اس رویے کی وجہ سے لوگ ان سے کاروباری اور دیگر معاملات نہیں کرنا چاہتے۔ انہیں یہ خطرہ ہوتا ہے کہ کسی بھی وقت ان کا موڈ بدل گیا تو نہ جانے کتنا نقصان ہو گا۔ اپنے اس رویے پر قابو پانا ان لوگوں کے لئے بے حد ضروری ہے۔ ورنہ انہیں بہت سے نقصانات ہو سکتے ہیں

مزید پڑھیں

فضول خرچی

حوت افراد اپنے حال اور مستقبل کے حوالے سے بہت بے فکر رہتے ہیں۔ انہیں دولت سے کوئی لگاؤ نہیں ہوتا اور یہ ا س کے حصول یا جمع کرنے کے لئے کوشش نہیں کرتے، اس لئے ان کے پاس بہت زیادہ دولت نہیں ہوتی ہے لیکن یہ مصوری، گلوکاری، اداکاری اور دیگر ایسے شعبوں سے منسلک رہتے ہیں اور اکثر اس میں نہ صرف نام پیدا کرتے ہیں بلکہ انہیں دولت بھی خود ملتی ہے۔ ایسے میں تو ان کی فضول خرچی سمجھ میں آتی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ ایسے حالات میں بھی فضول خرچی سے گریز نہیں کرتے جب ان کے پاس زیادہ رقم نہ ہو۔ پیسہ ان کے ہاتھ میں رکتا نہیں ہے۔ جیسے ہی ان کے پاس رقم آتی ہے یہ اسے بے دریغ خرچ کرنے لگتے ہیں اور جب وہ ختم ہو جاتی ہے تو اکثر قرض پر زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ ان کا یہ رویہ کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ اس طرح یہ مالی مسائل کا شکار رہتے ہیں اور قرض لینے کی وجہ سے لوگ ان کی کوئی خاص عزت بھی نہیں کرتے ہیں اور پھر ایک مسئلہ ان کے ساتھ یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ کئی لوگوں سے تو قرض لے کرواپس کرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ انہیں اپنی اس کمزور پر پوری طرح قابو پانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ انہیں یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہئے کہ دولت کا جمع کرنا غلط ہے لیکن اس قدر دولت ضرور ہونی چاہئے کہ دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلا نا پڑے۔

مزید پڑھیں

مقصد حیات

ان لوگوں کے ساتھ ایک المیہ یہ بھی رہتا ہے کہ یہ زندگی کا ایک طویل حصہ گزارنے کے باوجود اپنا مقصد حیات طے نہیں کر پاتے۔ یہ شروع سے ان کاموں میں دلچسپی لیتے رہتے ہیں جو انہیں تسکین تو دیتے ہیں لیکن معاشی لحاظ سے ایسے کام کسی بھی طرح ان کے معاون ثابت نہیں ہو سکتے۔ ان کے اندر ایک خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ تبدیلی پسند ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کی دلچسپیاں بدلتی رہتی ہیں۔ یہ اپنے لئے ایک ٹارگٹ رکھتے ہیں اور اس کے لئے جدوجہد شروع کر دیتے ہیں اور جب اپنا ٹارگٹ ہٹ کر لیتے ہیں تو اس سے بیزار ہو جاتے ہیں اور کسی نئے ٹارگٹ کی طرف پیش قدمی شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح یہ اپنی زندگی کا طویل حصہ ضائع کر دیتے ہیں۔ اس طرح کی سرگرمیوں سے انہیں جہاں یہ نقصان ہوتا ہے کہ یہ کسی ایک شعبے میں ا پنا مقام بنانے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ وہیں کبھی کبھی انہیں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ان کی تمام صلاحیتوں کو مد نظر رکھ کر کوئی ان سے کام لینا چاہتا ہے۔ اس طرح ان کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آتی ہیں لیکن ایسا اکثر نہیں ہوتا ہے۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ یہ اپنی زندگی کی ابتدائی دور میں کسی ایک شعبے کا انتخاب کر لیں اور اس میں محنت کرتے رہیں تا کہ ان کا نام بھی ہو سکے اور یہ کسی شعبے کے ماہر بھی بن سکیں۔

مزید پڑھیں

دوسروں کو اہمیت دیں

حوت افراد کا ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ یہ دوسروں کو اہمیت نہیں دیتے۔ یہ اس بات کو ذہن میں نہیں رکھتے کہ اسی دنیا میں انسان کو زندہ رہنے کے لئے دوسروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کوئی کسی کو اہمیت نہیں دے گا تو بھلا اسے کون اہمیت دے گا؟ ان لوگوں کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ ان کے اس رویے کی وجہ سے اکثر لوگ ان سے ملنا جلنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں بھی ہوتے ہیں کہ اکثر لوگ ان سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ دیگر برجوں سے تعلق رکھنے والے کئی افراد ایسے ہوتے ہیں جو ترقی حاصل کرنے کے لئے دوسروں کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ اس طرح دوسروں کی نظر میں ان کی اہمیت ہو جاتی ہے، وہ انہیں بہت کچھ سکھاتے بھی ہیں، یوں ان افراد کے لئے ترقی حاصل کرنے کے مواقع پیدا ہوت ہیں۔ حوت افراد کسی سینئر کی بھی عزت نہیں کرن چاہتے۔ یہ ان کا ایک بر رویہ ہے۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ اگریہ کسی سینئر کی عزت نہیں کریں گے تو آگے کیسے بڑھیں گے اور اگر آگے بڑھ بھی گئے تو آنے والے دنوں میں کوئی جونیئر ان کی عزت کیوں کرے گا؟ ان کے لئے ضروری ہے کہ دوسروں کی حیثیت کو تسلیم کریں، خاص طور پر ان لوگوں کی عزت ضرور کریں جو با صلاحیت ہیں اور ان سے آگے ہیں۔ یہ ان سے کچھ سیکھ کر بہت آگے جا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

خوشیوں کا حصول

اس دنیا میں ہر انسان خوشیوں کا حصول چاہتا ہے۔ اس طرح حوت افراد بھی یہ خواہش رکھتے ہیں لیکن بہت سے لوگ خود کو ہر لحاظ سے مستحکم کر کے خوش ہوتے ہیں، اگر انہیں مالی پریشانی ہو تو یہ کھل کر ہنس بھی نہیں سکتے، لیکن حوت افراد ایسے واقعات میں بھی زور زور سے قہقے لگاتے نظر آتے ہیں جب کہ ان کی جیب میں کھانے کے لئے پیسے بھی نہیں ہوتے۔ در اصل یہ لوگ مادی معاملات کو اہمیت نہیں دیتے اور ذرا ذرا سی بات پر خوش ہو لیتے ہیں۔ بعض لوگ ان کے اس رویے کو زندہ دلی کا نام دیتے ہیں لیکن ماہرین نفسیات کا ان کے بارے میں کچھ اور ہی خیال ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کی زندہ دلی نہیں بلکہ حقائق سے دوری ہے۔ انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا ہے کہ حالات کیسے چل رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی خیالی دنیا بسائی ہوتی ہے جہاں کے یہ بادشاہ ہوتے ہیں۔ اس خیالی دنیا میں ہر کام ان کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے اور جب کسی کا ہر کام اس کی مرضی کے مطابق ہو رہا ہو تو وہ بھلا کیوں پریشان ہوتا؟ یہ الگ بات ہے کہ ان کے ان کاموں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ یہ حقائق کی دنیا سے رابطہ جوڑیں۔ تا کہ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکیں۔ ورنہ یادرکھیں کہ جو لوگ دنیا کے ساتھ نہیں چلتے وہ بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں

منشیات کی طرف راغب

ان لوگوں کے بارے میں ہم نے لکھا کہ یہ اپنے آپ میں مگن رہتے ہیں، اپنی خیالی دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں اور کسی کو اہمیت نہیں دیتے۔ اس طرح کے رویوں کے نقصان کا اندازہ انہیں اسی وقت ہوتا ہے جب یہ حقائق کی دنیا سے ناطہ جوڑنا چاہتے ہیں۔ تب انہیں پتہ چلتا ہے کہ لوگ ان سے کتنا دور رہنا چاہتے ہیں اور کوئی ان سے تعاون کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس طرح یہ لوگ ناکامیوں سے دو چار ہونے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بڑے حساس اور جذباتی ہوتے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات کو دل سے لگا لیتے ہیں۔ جب یہ مسائل اور پریشانیوں کا شکار ہو جاتے ہیں تو خود کو دنیا کا مظلوم فرد تصور کرنے لگتے ہیں۔ ایسے میں یہ منشیات کی طرف راغب ہوتے ہیں جن کے استعمال سے یہ وقتی طور پر اپنے مسائل اور پریشانیاں بھول جاتے ہیں لیکن انہیں ایسا بھی احساس نہیں رہتا کہ یہ جس دلدل میں پھنس رہے ہیں، وہ انہیں بالآخر تباہی کے دہانے تک لے جائے گی۔ اگر یہ منشیات کے استعمال پر قابو نہ پائیں تو ان کے عادی ہو جاتے ہیں اور پھر یہ مزید دنیا سے دور رہنے لگتے ہیں۔ ہیروئن جیسا نشہ کرنے لگیں تو موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں

مزید پڑھیں

بڑے منصوبے

ان کی نفسیات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ ہمیشہ بڑے بڑے منصوبے ترتیب دیتے ہیں جو ان کے بس سے باہر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ وسائل کی کمی ہوتی ہے۔ یہ چھوٹے منصوبے بنانا پسند نہیں کرتے۔ حالانکہ اگر یہ ایسے منصوبے بنائیں تو ان کی کامیابی کے بہت زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بڑے منصوبے ہی ترتیب دیتے ہیں اور پھر جب ان کے لئے مناسب وسائل نہیں ملتے تو مایوس ہو جاتے ہیں یا ان وسائل کی دستیابی کے لئے کوششیں شروع کر دیتے ہیں۔ بڑی رقموں کا حصول آسان کام نہیں ہوتا۔ اس لئے انہیں بھی ان کی مرضی کے مطابق بڑی رقمیں نہیں ملتیں، اس طرح یہ اپنے نصیب کو کوسنے لگتے ہیں اور خود کو بد قسمت گردانتے ہیں۔ لیکن یہ اس بات پر توجہ نہیں دیتے کہ ان کے منصوبوں کی ناکامی میں ان کے نصیب سے زیادہ ان کا اپنا عمل دخل ہوتا ہے۔ یہ لوگ سوچنا ہی گوارا نہیں کرتے کہ آخر انہوں نے ایسے منصوبے کیوں ترتیب دیئے جو ناقابل عمل ہیں یا ان کے لئے ان کے پاس وسائل موجود نہیں ہیں۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ اپنی اس کمزوری پر قابو پائیں۔ یہ یقین رکھیں کہ چھوٹے منصوبے پر یہ آسانی سے عمل کر کے کامیاب ہو سکتے ہیں اور جب کئی ایسے منصوبے کامیاب ہو جائیں تو یہ اتنے وسائل حاصل کر سکتے ہیں کہ کوئی بڑا منصوبہ کسی کا سہارا لئے بغیر خود شروع کر سکیں۔

مزید پڑھیں

صاف گوئی

یہ لوگ بہت زیادہ صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کے دل میں جو کچھ ہوتا ہے اسے زبان پر لانے میں دیر نہیں لگاتے۔ یہ ایسے لوگوں کے سامنے بھی صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہیں جن کے سامنے سچ بولنا سراسر اپنا نقصان کرنے کے مترادف ہوتا ہے لیکن یہ لوگ کسی نقصان کی پروا نہیں کرتے۔ ماہرین نفسیات نے ان کی صاف گوئی کے بارے میں یہ کہا ہے کہ اس طرح یہ اپنے دل پر کسی قسم کا کوئی بوجھ نہیں رکھنا چاہتے۔ صاف گوئی اچھی عادت ہے لیکن اس دنیا میں مختلف معاملات میں صرف صاف گوئی سے کام نہیں چلتا، اگر جھوٹ نہ بولا جائے تو وہاں سچ بھی بولنے سے خاموشی بہتر ہوتی ہے۔ یہ لوگ مصوری ،شاعری اور افسانہ نگاری جیسے شعبوں سے وابستہ ہوتے ہیں تو وہاں بھی اپنی اس عادت سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ اگر مصور ہیں توا ن کی تصویر میں کئی ایسی چیزیں ہوں گی جو کئی لوگوں کے پردے چاک کر دیتی ہیں، یہی حال ان کی شاعری اور افسانہ نگاری کا بھی ہوتا ہے۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ انہیں دنیا کے ساتھ چلنے کا سلیقہ ہی نہیں آتا۔ یہ اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور کسی مصلحت کو مد نظر نہیں رکھتے لیکن بہر حال انہیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ ان کا یہ رویہ ان کے لئے نقصان دہ ہے، اسے ترک کریں

مزید پڑھیں

ہمدرد

یہ لوگ بہت ہمدرد، شفیق اور مہربان ہوتے ہیں۔ کسی کو دکھ اور تکلیف میں دیکھنا ان کے بس کی بات نہیں۔ یہ تو چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے غموں اور دکھوں کا خاتمہ ہو جائے، اس سلسلے میں یہ اپنی کوشش بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہ سوشل ورکنگ شروع کر دیتے ہیں یا نرسنگ اور طب کے دیگر شعبوں سے منسلک ہو جاتے ہیں۔ اپنی تقریر و تحریر کے ذریعے بھی یہ اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ان کی ایک خامی یہ ہوتی ہے کہ دوسروں کے لئے سوچتے سوچتے یہ خود کو فراموش کرتے چلے جاتے ہیں۔ ان کی توجہ اپنی طرف نہیں رہتی۔ یہ وقت پر اور مناسب غذا نہیں لیتے جس کی وجہ سے ان کی صحت گرتی چلی جاتی ہے۔ اپنے کاموں میں زیادہ مشغول رہنے کی وجہ سے نا مناسب خوراک مثلاً چائے، بسکٹ وغیرہ پر گزارا کرتے ہیں، اس کے علاوہ اپنے مالی اور معاشی امور کی جانب بھی ان کی نظر نہیں رہتی، یوں یہ دوسروں کے لئے مسیحا بن جاتے ہیں لیکن اپنے لئے کچھ نہیں کر پاتے۔ ایسے میں ایک اور المیہ بھی سامنے آتا ہے۔ کہ ان کے آس پاس مفاد پرست اور چالاک جمع ہو جاتے ہیں جو ان کی ہمدرد طبیعت اور کاوشوں سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کے کاموں میں ان کے ساتھی بن جاتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو مظلوم بن کتر ان سے مفادات حاصل کرتے رہتے ہیں

مزید پڑھیں

اپنے آپ کو سمجھیں

ہم نے اب تک حوت افراد کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے، اس سے با آسانی یہ نتجہ نکالا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ خاصی ناکام زندگی گزارتے ہیں لیکن اس کے برعکس یہ ایک ایسی کامیاب ترین زندگی گزارنے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں جو دوسروں کے لئے قابل رشک اور قابل تقلید ہو۔ یقیناًآپ حیران ہوں گے کہ ایسے ناکام لوگ بھلا ایسا کامیاب کارنامہ کیسے انجام دے سکتے ہیں تو یقین کر لیجئے کہ جب یہ لوگ ٹھان لیں کہ انہیں کامیابی حاصل کرنی ہے تو پھر یہ کسی آندھی اور طوفان سے کم نہیں ہوتے۔ ایسے میں ان کے اندر اتنا اعتماد آ جاتا ہے کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں، ان کا شرمیلا پن غائب ہو جاتا ہے۔ یہ لوگوں سے دور رہنے کی بجائے ان میں گھل مل جاتے ہیں اور ان کا تجزیہ کر کے اس کے مطابق ان سے کام لیتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی انہیں ان کے مقصد سے ہٹانے کی کوشش کرے تو یہ اس سے بڑی سختی سے نمٹتے ہیں، ایسے میں یہ بہت بہادر اور دلیر نظر آتے ہیں، ان کے بارے میں یہ تاثر ختم ہو جاتا ہے کہ یہ بزدل ہیں۔ ان کے لئے بہترین مشورہ یہی ہے کہ اپنے آپ سے کوئی عزم کر لیں کہ انہیں کسی بھی شعبے میں انتہائی کامیابی حاصل کرنی ہے۔ یوں یہ اس جگہ پہنچ سکتے ہیں جہاں لوگ انہیں بھی قابل رشک نظروں سے دیکھیں۔

مزید پڑھیں

یہ صفحات اسی زمرے میں ہیں

متعلقہ مضامین

6 مضامین

حوت

نشان ۔۔۔۔۔۔ دو مچھلیاں تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 20؍ فروری تا 20؍ مارچ حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ نپ چون عنصر ۔۔۔۔۔۔ آبی مبارک دن ۔۔۔۔۔۔ اتوار، پیر ، جمعرات مبارک عدد ۔۔۔۔۔۔ 7 مبارک پتھر ۔۔۔۔۔۔ پکھراج، نیلم اور پنا مبارک رنگ ۔۔۔۔۔۔ گہرا نیلا، سلیٹی، سفید ، بنفشی

مزید پڑھیں

دلو

تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 21؍ جنوری تا 19؍ فروری حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ یورانس عنصر ۔۔۔۔۔۔ ہوا نشان ۔۔۔۔۔۔ مشکیزہ، بردار موافق دن ۔۔۔۔۔۔ ہفتہ، اتوار موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 4-8 موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ عقیق، فیروزہ، نیلم موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ بنفشی، ہلکا نیلا، سبز

مزید پڑھیں

جدی

حاکم سیارہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زحل موافق رنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سبز ۔بھورا موافق نگینہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فیروزہ ، نیلم عنصر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خاکی موافق دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہفتہ موافق عدد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۸

مزید پڑھیں

قوس

تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 23؍ نومبر تا 21؍ دسمبر حکمران سیارہ ۔۔۔۔۔۔ مشتری عنصر ۔۔۔۔۔۔ آتش موافق دن ۔۔۔۔۔۔ جمعہ، جمعرات، منگل موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 3 موافق نگینہ ۔۔۔۔۔۔ پکھراج، فیروزہ موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ سرخ، نیلا اور ارغوانی موافق دھات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سونا، چاندی

مزید پڑھیں

عقرب

تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 23؍ اکتوبر نشان ۔۔۔۔۔۔ بچھو عنصر ۔۔۔۔۔۔ آبی حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ پلوٹو۔ مریخ مبارک عدد ۔۔۔۔۔۔ 9 مبارک دن ۔۔۔۔۔۔ منگل مبارک پتھر ۔۔۔۔۔۔ پکھراج، سنگ سلیمانی، اوپل مبارک رنگ ۔۔۔۔۔۔ نیلا ، سبز، سرخ، بھورا

مزید پڑھیں

میزان

تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 24؍ ستمبر تا 22؍ اکتوبر نشان ۔۔۔۔۔۔ ترازو عنصر ۔۔۔۔۔۔ بادی حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ زہرہ موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ نیلم، اوپل موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ سفید، سبز، زرد، ہلکا نیلا موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 6 اور 9 موافق دن ۔۔۔۔۔۔ جمعہ

مزید پڑھیں

یہ مضامین آپ کی دلچسپی کے ہو سکتے ہیں