تعبیرخواب

کشی (ناؤ)

حضرت دانیال علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ کشتی کو خواب میں دیکھنا غم و اندوہ یا قید خانہ ہے۔ یا ایسا کام ہے کہ اس کے کرنے سے اس کو رنج اور تکلیف پہنچے گی۔خاص کر اگر دریا سے کشتی باہر نہ نکلی ہو تو یا کشتی دریا میں ہی رہ گئی ہو۔ حضرت ابن سیرین رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی خواب میں دیکھے کہ کشتی میں ہے اور وہاں سے سلامتی کے ساتھ باہر نکلا ہے دلیل ہے کہ رنج سے نجات پائے گا۔ فرمان حق تعالیٰ ہے۔ فانجینا و من معہ فی الفلک المشحون (ہم نے اس کو اور اس کے ساتھ والوں کو بھرے بیڑے سے نجات عنایت کی) اور اگر دیکھے کہ دریا میں کشتی تباہ ہوئی ہے۔ دلیل ہے کہ کسی قوم کے ہاتھ سے ہلاک ہو گا۔ اور اگر دیکھے کہ اس کی کشتی زمین پر رہی ہے۔ دلیل ہے کہ رنج اوربلا میں گرفتار ہو گا اور دیر سے نجات پائے گا۔ اوراگر دیکھے کہ کشتی غرق ہوئی اور وہ سلامت رہا ہے۔ دلیل ہے کہ اس کا مال ضائع ہو گا اور خود بچے گا اور اگر دیکھے کہ کشتی ٹوٹی اور سب کچھ غرق ہوا ہے دلیل ہے کہ اس پر بڑی مصیبت آئے گی۔ اور اگر دیکھے کہ کشتی میں اونچی جگہ پر بیٹھا ہے اور کشتی پانی میں چل رہی ہے۔ دلیل ہے کہ سفر کوئی جائے گا۔ فرمان حق تعالیٰ ہے۔ ولہ الجوار المشات فی البحر کا لا علام (اور اسی کے لیے دریا میں بھری کشتیاں جھنڈں کی طرح قائم ہیں۔) اور اگر دیکھے کہ کشتیاں کھڑی ہیں۔ دلیل ہے کہ سفر کو جائے گا اور دیر تک رہے گا۔ بلکہ اس سفر میں مقیم ہو گا۔ اور اگر دیکھے کہ کشتی میں بیٹھا ہے اور عمدہ ہوا آئی ہے اور کشتی کو اچھی طرح چلا رہی ہے۔ دلیل ہے کہ غم و اندوہ سے نجات پائے گا۔ اور اگر دیکھے کہ کشتی کھڑی ہے اور ہر طرف سے موج آ رہی ہے۔ دلیل ہے کہ اس کو سختی پیش آئے گی اور ہلاکت کا خوف ہو گا۔ فرمان حق تعالیٰ ہے۔ وجاء الموج من کل مکان (اور ان پر ہر جگہ سے موج آئی) اور اگر دیکھے کہ کشتی اس کے آگے جا رہی ہے اور وہ اس تک پہنچ نہیں سکا ہے دلیل ہے کہ مشکل کام میں پڑے گا اور آ خر کار خلاصی پائے گا۔ فرمان حق تعالیٰ ہے۔ فانجینا واصحب سفینہ (ہم نے اس کو اور کشتی والوں کو نجات دی۔ ) اور اگر دیکھے کہ کشتی کے پہلو میں دریا کے اندر گیا۔ دلیل ہے کہ سفر کا جائے گا اور بہت سا فائدہ حاصل کرے گا۔ فرمان حق تعالیٰ ہے۔ یز جی لکم الفلک فی البحر لتبتفوا من فضلہ (تمہارے لئے کشتی کو دریا میں چلاتا ہے تا کہ تم اس کا فضل حاصل کرو) اور اگر دیکھے کہ کشتیوں میں کوئی چیز نہ تھی اور خالی جا رہی ہیں۔ دلیل ہے کہ بادشاہ سفیروں کو کہیں بھیجی گا اور اگر دیکھے کہ کشتیاں غرق ہو گئی ہیں۔ دلیل ہے کہ ان سفیروں کو لوگ روک لیں گے۔ حضرت جابر مغربی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے ۔ اگر دیکھے کہ کشتی دریا میں غرق ہوئی ہے اور وہ جانتا ہے کہ وہ کشتی اس کی ملک نہ تھی۔ دلیل ہے کہ اس کو ہلاک کا اندیشہ نہیں ہے۔ اور اگر دیکھے کہ کشتی میں بیٹھا ہے اور بادشاہ سے ڈرتا ہے۔ دلیل ہے کہ بادشاہ کا مقرب ہو گا اور کشتی کی بڑائی کے مطابق اس کو منفعت حاصل ہو گی۔ اور اگر کشتی میں امن سے بیٹھا ہے۔ دلیل ہے کہ اس کو بادشاہ سے خوف ہو گا۔ اور اگر دیکھے کہ دریا میں کشتیاں رنگ برنگ کے کپڑوں سے آراستہ ہیں۔ دلیل ہے کہ بادشاہ کا مقرب ہو گا۔ اور اگر دیکھے کہ کشتی دریا کی تہہ میں گئی ہے ۔ دلیل ہے کہ اس کو بادشاہ سے بڑی قوت ہو گی۔ اور اگر دیکھے کہ کشتی چلتی نہیں ہے تو اس کی تاویل خلاف ہے۔ حضرت اسماعیل اشعث رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا ہے۔ اگر دیکھے کہ چھوٹی کشتی میں بیٹھا ہے اور وہ دریا میں چلتی نہیں ہے۔ دلیل ہ کہ اس کو غم و اندوہ زیادہ ہو گا۔ اور اگر دیکھے کہ کشتی پانی میں رواں ہے۔ دلیل ہے کہ سفر کو جائے گا اور جلدی واپس آئے گا۔ اور اگر اپنی کشتی کو خشکی میں کھری دیکھے۔ دلیل ہے کسی کام میں عاجز ہو گا۔ حضرت جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایاہے کہ خواب میں کشتی کا دیکھنا آٹھ وجہ پر ہے۔ (۱)فرزند(۲)باپ(۳)عورت(۴)سواری(۵)خوشی(۶)امن(۷)عیش(۸)توانگری اور دولت مندی۔