برج جوزا کے موافق پتھروں کے خواص

ماہیت

(1) عقیق کی شکل کافی مسدس یا متوازی الاضلاع ہوتی ہے۔ عقیق کی شکل ڈھلی بندی ہوئی نہیں ہوتی۔ اکثر اس کی شکل گول سنگریزوں کی طرح ہوتی ہے۔
(2) چمک بلورین
(3) رنگ بھورا، زرد، سفید، سرخ اور سیاہ ہوتا ہے۔ عقیق کے رنگوں کی دھاریاں یا تو متوازی ایک دوسرے کی ہوتی ہیں یا سب ہم مرکز گول ہوتی ہیں۔ یا اس کے رنگ داغ اور دھبوں کی طرح ہوتے ہیں۔
(4) سختی 7 درجہ کی۔
(5) عمدہ شفاف تہیں براق ہے۔
(6) وزن مخصوص 65ء2۔
(7) طاقت انعکاس دو چند۔
(8) گھسنے سے طاقت برقی پیدا ہوتی ہے۔
(9) اس کے مرکبات کیمیائی کے بارے میں مختلف محققوں کی مختلف رائے ہیں۔ اس میں جز اعظم سیلیکا تقریباً 99 حصہ ہے اور ایک حصہ سرخ آکسیڈ آہن اور اسی آکسیڈ آہن کے باعث اس کا رنگ ہوتا ہے۔ بعض کی رائے ہے کہ ا س میں آکسیڈ میگنشیاکی بھی قدرے مقدار ہے۔
زمرد
اسم معروف: پنا۔ فارسی: زمرد۔ عربی : زمرد
ماہیت: عمدہ پتھروں میں سے ہے اور سونے کی کان میں ملتا ہے اس کی کئی قسمیں ہیں۔
طبیعت: دوسرے درجے میں سرد اور تیسرے میں خشک اور قوت اس کی مدت کثیر تک باقی رہتی ہے۔
رنگ و بو: سبز آبدار صاف شفاف خوشنما۔
ذائقہ: پھیکا بے مزہ، مثل بلور وغیرہ کے۔
مضر: مثانے کے لئے مضر ہے اور سرد مزاجوں کو
مصلح: مشک و گلاب و عرق کیوڑہ وغیرہ۔
بدل: دماغ سموم میں زبر جد اور اسہال میں مرجان
نسبت سیارہ: منسوب ہے مشتری۔
نفع خاص: روح و دل و دماغ اور حرارت غریزی کا مقوی ہے۔
کامل : رفع سم میں ایک دانگ او نزف الدم میں ایک قیراط۔
ناقص: رفع سموم میں نصف دانگ اور نزف الدم میں نصف قیراط۔
افعال و خواص: مفرح ہے اور حرارت غریزی اور دل و دماغ و کبد معدے کا مقوی اور غم و ہم خزن و ملال اور خفقان و صرع کا رافع اور ذات الجنب و ذات الریہ و نزف الدم و اسہال دموی کو نافع اور سموم قتال اور زہر ہوام اور ساتسقاء و یرقان اور حسب البول اور اخراج سنگ گردہ و مثانہ اور جذام کے لئے مفید اور اگر کسی نے زہر کھایا ہو اور قبل ظاہر ہونے اس کے اثر کے بوزن آٹھ جو کے باریک کر کے پی لے تو زہر کا ر گر نہ ہو گا اور سرمساس کا بینائی کا مقوی اور سبل کا دافع اور زیادہ دیکھنا زمرد کا آنکھ کی ماندگی کا دافع اور اس کی انگوٹھی پہننا صرع کو مفید سانپ اس کے دیکھنے سے اندھا ہوتا ہے مگر یہ امر صحیح نہیں ہے اور جو کچھ اس کی مبارکی مشہور ہے وہ بھی صحیح نہیں ہے۔ (مخزن)
زمر دجیسا عمدہ سبز رنگ اور کوئی جواہر نہیں۔ یہ ان متذکرہ بالا اقسام جواہر سے جن کا اصل (الیومینا یا کاربن) تھا۔ ایک مختلف قسم کا جواہر ہے جس کا اصل سیلیکا (Silica )ہے۔ اس جواہر کا گہرا سبز رنگ آنکھوں کو بہت بھاتا ہے۔ شہر اولڈروم، مصر، پومپائی ( یہ ایک پرانے شہر کے کھنڈرات ہیں جو کوہ ویسویس واقعہ (اٹلی) کے دامن میں تھا اور 79 میں برباد ہوا) ہر کونسیم کے کھنڈرات سے زمرد کے زیورات پائے جانے سے معلوم ہوتا ہے کہ متقدمین زید کو استعمال کرتے تھے۔ چنانچہ پلائینی ایک کتاب میں لکھتا ہے کہ ’’ متقدمین زمرد کو اچھی طرح جانتے تھے اور اس کی قدر کرتے تھے۔ صاحب مذکور اس جوہر کو سمار گدس (Simargdus) کے نام سے لکھتے ہیں اور اس کی بابت کئی طرح کے عجیب و غریب بیان درج کرتے ہیں کئی اور شہادتوں سے بھی صاف ظاہر ہے کہ زمانہ سلف میں لوگ زمرد کو اچھی طرح جانتے تھے۔ چنانچہ 240ء میں سیویلی (Seuille) (ہسپانیہ کا ایک بڑا شہر جو دریائے گوایڈل کور پر واقعہ ہے) کاپادری اسے دودس نامی بیان کرتا ہے کہ ’’ تمام سبز رنگ پتھروں میں زمرد افضل ہے اس کا رنگ ان اشخاص کی آنکھوں کے لئے جو اس کے کاٹنے اور جلا کرنے میں مشغول ہوتے ہیں نہایت مفید ہے۔‘‘
گیارھویں صدر میں پسیلس (Pesellos) زمرد کے بابت لکھتا ہے کہ ’’ یہ جواہر عمدہ سبز رنگ ہے اور اس کے کئی ایک عدد سنہری نیلے رنگ کے بھی ہوتے ہیں۔ اگر اس میں پانی ملائیں تو یہ صرع اور کئی ایک اور بیماریوں کو شفا دے سکتا ہے۔ پلائینی زمرد کی چمک وغیرہ خواص کی بابت کئی ایک کا بیان لکھتا ہے۔
بعض محققین زمرد کی دو اقسام بیان کرتے ہیں۔ ایک زمر دوسرا زبرد لیکن فی الحقیقت زبر جد زمرد سے کئی لحاظ میں مختلف ہے۔ اس لئے ا س کا بیان جواہرات درجہ دوم میں کیا جاتا ہے۔
عرب و فارس کے حکماء زمرد کے مفصلہ ذیل انواع بیان کرتے ہیں۔
(1) زہابی جن کا سنہری رنگ ہو۔ بعض ماہرین کی رائے ہے کہ جس جگہ زمرد کی یہ قسم رکھی جائے وہاں مکھیاں نہیں آ سکتیں۔
(2) سعیدی یہ سعید مصر سے آتا ہے۔ اگر اس پر نگاہ ڈالیں تو انسان کا عکس دکھلائی دیتا ہے او ر آنکھیں بند معلوم ہوتی ہیں۔
(3) ریحانی گل ریحان کی طرح سبز رنگ
(4) فستقی ( عربی لفظ بمعنی پستہ، زردی مائل، سبز رنگ جو مغز پستہ کی طرح ہوتا ہے) سیاہی مائل سبز رنگ اس کو پرانا زمر دبھی کہتے ہیں۔
(5) سلقی ( عربی لفظ معنی چقندریہ یہ ایک ترکاری ہوتی ہے جو شلغم کی مانند ہوتی ہے) جن کا رنگ فارس کے چقندر کی طرح ہو۔
(6) زنجاری یا رتگاری جن کا رنگ مرچ سا ہو۔
(7) کیراثی ( ایک قسم کا پودا جسے گنڈنا کہتے ہیں) جن کا رنگ کیراث کی طرح ہو۔
(8) صابونی جن کا رنگ سفید اور سبز کی ملاوٹ سے ہو۔ ان میں سے عمدہ دو قسم گنا جاتا ہے جو سخت،صاف، سبز رنگ، بے عیب ہو۔ آج کل کے ہندوستانی جو ہری زمرد کے مفصلہ ذیل اقسام بیان کرتے ہیں۔
1۔ پرانا
2۔ مرگجا
3۔ توڑیکا
4۔ پیالیکا
5۔ نیا
6۔ جہاجی اور ہر ایک کی دو نوع بتلاتے ہیں۔ کاہی اور دہانی نوع۔ کاہی ان کو کہتے ہیں جن میں سیاہی مائل سبز رنگ ہو اور دہانی جن کا زردی مائل سبز رنگ ہو۔