برج جوزا کے موافق پتھروں کے خواص

خواص و ماہیت

زمرد کی شکل نہ تراشیدہ حالت میں عموماً مسدس شش پہلو منارے کی طرح ہوتی ہے۔ (بعض ماہرین کا خیا ل ہے کہ وزن کی نسبت زمرد کا حجم بہت زیادہ ہوتا ہے چنانچہ اگر زمرد اور نیلم یکساں وزن کے ہوں تو زمر د کا حجم نیلم سے دو چند ہو گا) جس میں قدرتی شگاف چاروں طرف ہوتا ہے۔ کاٹنے کے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ جو شگاف آخری یا سرے کی سطح کے متوازی ہوتا ہے وہ ہی درست ہوتا ہے باقی نا درست ہوتے ہیں۔ زمرد کو اکثر مثلث شکل اور بریلینٹ قط کا کاٹ کرتے ہیں۔
(2) اس میں سختی 5ء7 درجہ سے 8 تک ہوتی ہے اس لئے بھیکہم کو کاٹ سکتا ہے۔
(3) چمک اس کی بلورین ہے۔ زمانہ قدیم میں اس کی چمک کا بڑا شہرہ تھا۔ چنانچہ پلائینی لکھتا ہے ’’ کہ جزیرہ سانیپرس میں شاہ ہر سیاس کی قبر پر ایک سنگ مرمر کا شیر بنا ہوا ہے۔ جس کی آنکھوں میں زمرد جڑے ہوئے ہیں۔ ان کی چمک متصلہ بحیرہ پر ایسی دمک ہے کہ مچھلیاں ڈر کے مارے نزدیک نہ آتی تھیں۔ ماہی گیروں نے اس نقصان کو دیکھ کر زمرد آنکھوں سے نکال لئے اور ان کی بجائے عام پتھر لگا دئیے۔‘‘ تھیو فرسیٹس لکھتا ہے کہ ’’ زمرد ایسا چمکیلا ہے کہ پانی میں ڈالنے سے یہ پانی کا رنگ اپنے جیسا بنا لیتا ہے۔ ‘‘
(4) زمرد کا رنگ گیاہی سبز سے سبزی مائل سفید ہوتا ہے۔
(5) اس کا وزن مخصوص 678ء2 تک ہے۔
(6) اس میں طاقت انعکاس دو چند ہے لیکن کم درجہ
(7) رگڑنے سے طاقت برقی پیدا ہو سکتی ہے۔
(8) یہ عمدہ شفاف ہے۔
(9) زمرد کے مرکبات کیمیائی یہ ہیں۔ سلیکا 5ء68 درجہ، الیومینا 75ء15، گلوسینا 5ء12 آکسیڈ آہن، آکسڈ کروم 3ء سوڈا امیگنشیا 6ء12 اور چونا 25 حصہ اس کے بارے میں بحث ہوئی ہے کہ زمرد کا رنگ کسی مادہ کی ترکیب کے باعث ہوتا ہے۔ بعض محققین کی رائے ہے کہ یہ خوش رنگت مادہ کروم کے باعث ہے۔ لیوی (Livy) نے نیو گرینیڈا کی کان موزو کے زمرد کو کیمیائی طور پر تحلیل کرنے سے معلوم کیا کہ اس میں کاربونیٹ آف ہائیڈروجن (Corboneto of Hydrogen) (ہائیڈروجن اور کارن کا کیمیائی اتحاد) مرکب ہے۔ اور اس کے رنگ کی گہرائی اس کے باعث ہے۔ بلم (Blam) نے زمرد کو چار گھنٹہ سخت گرمی پہنچا کر پانی میں ڈالنے سے معلوم کیا کہ زمرد ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ بعض ٹکڑے سیاہ رنگ بعض سبز رنگ دکھلائی دینے لگے۔ اب تک اس نقطہ پر بحث ہو رہی ہے لیکن عموماً یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ زمرد کا رنگ سبز آکسیڈ کروم کے باعث ہے۔
(10) زمرد پھکنی کی ذریعہ آگ دی جانے یا سوہاگہ کے ساتھ کھٹائی میں ڈالنے سے زرد ہو کر پگھل جاتا ہے