برج میزان کے موافق پتھروں کے خواص

یمنی اوپل دودھیا پتھر

یہ جواہر بڑا قیمتی اور پرانا ہے۔ زمانہ سلف کے حکماء اس کے بارے میں اپنے اپنے بیانات لکھ گئے ہیں۔ چنانچہ نکل لکھتا ہے کہ ’’ اس جواہر کی آب و تاب کاربنکل کی مانند ہے۔ اور اس کے عمدہ زعفرانی رنگ امتھسٹ کے مشابہ ہے اور زرد رنگ میں یہ زمرد سے ملتا ہے۔‘‘ بویش لکھتا ہے کہ یہ جواہر خوش رنگتی میں تمام جواہرات پر فوقیت رکھتا ہے۔ پلائینی کا بیان ہے کہ یہ جواہر تمام جواہرات پر شان و شوکت میں افضل ہے۔‘‘ علیٰ ہذا لقیاس۔


زمانہ قدیم میں یہ جواہرات باعث عزت و رفعت سمجھا جاتا تھا۔ زمانہ متوسط تک لوگوں کے دلوں میں اس کی نسبت ایسے ہی خیال تھے۔ سترہویں صدی کے آغاز سے پیشتر اس جواہر کی بڑی قدر ہوتی۔ اس کے خواص سحری کا خیال سر واٹلر سکاٹ نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا۔


اس جواہر کی کئی ایک قسمیں ہیں۔ ان میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔


(1) سیاہ اوپل۔


یہ قسم باقی قسم کے اوپلوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ اس کا رنگ بہت ہی عمدہ ہے۔ کان ہائے ہنگری کے مالک بیرن گولڈ شمڈٹ (Baron Gold Schmudt) نے اپنی کان سے اس قسم کے کئی نگ بھیجے جن کی صرف مبصرین قیمت ڈال سکتے ہیں۔ اسی قسم کا ایک نگ مرغٰی کے بیضہ کی مقدار کا تھا بہت مہنگا فروخت ہوا۔ اب یہ قسم بہت نایاب ہے بعض محققین کی رائے ہے کہ از روئے علم کیمیا اس قسم کی پیدائش عمدہ نہیں ہوتی۔


(2) اعلیٰ قسم کا اوپل


(3) آتشی اوپل


اس کے اندر سے چمکیلی سرخ رنگ کی دمکیں نکلتی ہیں۔ یہ ہنگری اور کارنوال میں پایا جاتا ہے۔


(4) عام اوپل یا سیمی اوپل


اس میں عمدہ دودھی رنگ ہوتا ہے۔شیشہ سے یہ چھیلاجاسکتاہے۔


(5) ہائیڈ روفین (Hydrophane) تارمک خوش رنگ۔


(6) کیچو لانگ (Cacholong)چونکہ یہ دریائے کیچ (Cache) (افریقہ میں 12 شمالاً غرباً پر ہے) واقعہ بوچیریا (Bucharia) سے نکلتا ہے۔ اس لئے اس کو کیچولانگ کہتے ہیں۔ یہ کالسڈونی کے مشابہ ہے۔


(7) ہایا لائیٹ (Hyalite) یا ملرس گلاس (Millers Glass) (یعنی شیشہ حکاک)یا فیورئیٹ (Fiorite) بلورن چمک۔ شفاف۔


(8) مینی لائیٹ (Menilite) اس کا نام کوہ مینل (Menil) پر پڑا ہے۔ جہاں کہ یہ پایا جاتا ہے۔ رنگ بھورا


(9) ورڈ اوپل (Wordopal) یعنی چوبی اوپل، رنگ خاکی، بھورا سیاہ، چوبی ساخت کا ہے۔ اصل میں ہیڈریٹ سیلیکا کے باعث چوبی شکل کا ہوا ہے۔


(10)اوپل جیسپر یہ سنگ یشم کے مشابہ ہے۔


(11) سبلیش سنٹر (Sibicious Sintr) کوہ ہائے آتش فشاں و چشمہ ہائے گرم کے قریب و جوار میں ملتا ہے۔


(12) بٹاشر، شکل معدنی اوپل معہ پتھر کے جس میں سے یہ نکلتا ہے۔