خوابوں کی دنیا

لاشعور

سنبلہ افراد کے اندر لاشعوری طور پر یہ خواہش جوش مارتی رہتی ہے کہ تمام کام نظم و ضبط سے ہوں ۔ یہ لوگ دلائل سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ جزئیات کا جائرہ لیتے ہیں جو ان کی کامیابی کی بڑی وجہ ہوتی ہے۔ اس خوبی کی وجہ سے یہ معاملات کی تہ تک پہنچ جاتے ہیں۔
ایک خرابی ان میں یہ ہوتی ہے کہ یہ اپنا مشاہدہ اس طرح باریک بینی سے نہیں کرتے جس طرح دوسرے معاملات کا کرتے ہیں۔ اس وجہ سے اکثر لوگ ان پر طنز کرتے رہتے ہیں اور خاص طور پر لوگوں کی جانب سے ان پر اس وقت زیادہ طنز کیا جاتا ہے جب یہ انہیں اپنے طنز اور تنقید کا نشانہ بنا رہے ہوتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر یہ لوگ اکثر اشتعال میں آ جاتے ہیں لیکن انہیں اشتعال میںآنے کی بجائے یہ سوچنا چاہئے کہ ان کے متعلق جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ درست ہے اور غصے میں آنے کی بجائے انہیں اپنی اصلاح کرنی چاہئے۔
سنبلہ افراد اپنے برج کی خصوصیات کی وجہ سے ہمیشہ اپنے پیش نظر بلند مقاصد رکھتے ہیں۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے یہ انتھک محنت بھی کرتے ہیں اور اکثر اوقات جب انہیں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑے تو یہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے جنونی ہو جاتے ہیں۔ ہاں ان کے اندر ایک خامی یہ ہوتی ہے کہ یہ خود کو اپنی متعین کردہ حدود کے اندر قید کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے یہ اکثر ہمت ہارنے لگتے ہیں اور انہیں یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکیں گے۔ در اصل اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ جب اپنا تجزیہ کرتے ہیں تو انہیں اپنے اندر کئی جگہ خامیاں نظر آتی ہیں۔ انہی خامیوں کی وجہ سے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ اپنا مقصدحاصل نہیں کر پائیں گے لیکن چونکہ محنتی اور با ہمت لوگ ہوتے ہیں اس لئے اپنی ٹوٹتی ہوئی ہمت کا جمع کرتے ہیں اور ایک بار پھر بھرپور قوت کے ساتھ حصول مقصد کے لئے کوشاں ہو جاتے ہیں۔
ایسے اوقات میں ان لوگوں کو چاہئے کہ جونہی مایوسی کا غلبہ ہونے لگے تو خود کو فوراً اس سے آزاد کروائیں اور یہ سوچیں کہ ان کے لئے کوئی کام مشکل نہیں ہے، وہ اپنی خامیوں پر قابو پا سکتے ہیں۔ جب وہ اس طرح کی باتیں سوچیں گے تو ان کے اندر خود بخود ہمت پیدا ہونے لگے گی اور پھر اتنی ہمت آ جائے گی کہ وہ اپنی تمام تر کمزوریوں پر قابو پا لیں گے۔ ان لوگوں میں یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ اگر یہ ہمت اور تمام تر توجہ کے ساتھ کوئی کام کرنے کی ٹھان لیں تو یہ کر گزرتے ہیں۔
ان لوگوں کو چاہئے کہ اپنے لاشعور کا تجزیہ کریں۔ ان کا لاشعور اکثر تعمیری اور تخریبی کاموں کے خیالات پیدا کرتا رہتا ہے۔ اپنے اچھے مقاصد میں کامیاب ہونے کے لئے یہ لوگ ان تعمیری خیالوں سے مدد لے سکتے ہیں جبکہ تخریبی خیالات کو نظر انداز کر دیں تو ان افراد کے لئے بہتر ہوتا ہے کیونکہ اگر یہ ایسے خیالات پر عمل کرنے لگیں توبڑی تباہ کاریاں کر سکتے ہیں جن کا انجام بہر حال اچھا نہیں ہوتاہے۔
یہ لوگ اپنے لاشعور کے تحت ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسروں کی اصلاح اور مدد کرتے رہیں۔ اس کے علاوہ یہ لاشعوری طور پر ذرا ذرا سی باتوں میں نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ دفتر یا گھر میں اگر کوئی چیز بے ترتیبی سے رکھی ہے تو یہ اسے درست کر دیں گے۔ اگر کسی اور کی چیزوں کو بے ترتیب دیکھیں گے تو ان کی خواہش ہو گی کہ انہیں درست کر لیں، اگر ان کا بس چلے گا تو یہ انہیں درست کر لیں گے ورنہ بے چین رہیں گے اسی لئے یہ لوگ ایسی جگہوں پر بڑے کامیاب رہتے ہیں جہاں ترتیب کی ضرورت ہو، مثلاً لائبریری، جنرل اسٹور یا دیگر ایسی جگہیں۔
بے چینی ان افراد کی جبلت کا ایک حصہ ہے۔ یہ کاموں کو اطمینان بخش طور پر انجام دینے کے بعد پھر یہ خیال کر کے بے چین ہو جاتے ہیں کہ ابھی انہیں مزید بہتر طور پر کام کرنا چاہئے۔ مثلاً یہ اگر لائبریری میں ایک مرتبہ کتابیں ترتیب سے لگا دیں گے اور اپنی نشست پر بیٹھ کر اس کا جائزہ لیں گے تو پھر ان کا لا شعور انہیں یہ بتائے گا کہ یہ ترتیب غلط ہے، یہ اٹھیں گے اور نئی ترتیب سے کتابیں رکھنا شروع کر دیں گے۔
اکثر معاملات میں ان کا یہی حال ہوتا ہے اس سے جہاں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اچھے نتائج سامنے آتے ہیں، وہیں یہ نقصان بھی ہوتا ہے کہ یہ لوگ نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں، ان لوگوں کو چاہئے کہ اپنی اس عادت کو قابو کریں ورنہ اپنی فطری بے چینی کی وجہ سے یہ لوگ واقعی نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
ان لوگوں کو ایک وجہ سے اکثر دل برداشتہ ہونا پڑتا ہے کہ یہ جتنی محنت اور لگن سے کام کرتے ہیں، اس حساب سے نہ تو ان کے کام کو سراہا جاتا ہے اور نہ ہی معاوضہ دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ ان کی یہ خامی ہوتی ہے کہ یہ جو کچھ بھی کرتے ہیں بغیر شور مچائے اور لوگوں کو متوجہ کئے بغیر کرتے ہیں، یوں جب لوگ نتائج دیکھتے ہیں تو ان کے پس پردہ ان لوگوں کی محنت نظر نہیں آتی اور وہ جو چاہیں ریمارکس دے دیتے ہیں جس نے انہیں معاوضہ دینا ہوتا ہے وہ تو کوئی نہ کوئی نقص نکال کر ان کے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیتا ہے اور یہ اسے باور کرانا بھی چاہیں کہ انہوں نے اتنی محنت کی ہے تو تب بھی وہ ہزار بہانے کرتا ہے اور ان کی محنت کو تسلیم نہیں کرتا۔ یہ لوگ اپنی محنت کو تسلیم کروانے میں اس لئے بھی ناکام ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا ہوتا ہے وہ کسی کو بتائے بغیر اور جتائے بغیر کیا ہوتا ہے، ایسے وقت میں یہ لوگ بڑے ملول ہوت ہیں۔ ایسی باتوں کا ان پر یہ اثر ہوتا ہے کہ یہ منفی سوچوں کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں لیکن ان لوگوں کو چاہئے کہ اصل وجہ کو سمجھیں، یعنی بغیر دکھائے اور بغیر جتائے کام نہ کریں، قدم قدم پر اپنی کارکردگی سے دوسروں کو آگاہ کریں، خاص طور پر ان لوگوں کو جن سے بدلے میں آپ معاوضہ یا تعریفی کلمات چاہتے ہیں یا آپ کو کسی اور طرح کے بدلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کو چاہئے کہ ایسے حالات میں مندرجہ ذیل باتیں ذہن میں رکھیں۔
* جو کچھ کریں، اس سے دوسروں کو آگاہ کریں۔
* اپنی صلاحیتوں کا دوسروں پر اظہار کریں۔
* دوسروں پر یہ ظاہر کریں کہ آپ بڑے با صلاحیت ہیں اور جو کام آپ کر رہے ہیں وہ اوروں کے بس کی بات نہیں۔
* اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اچھا کام کر رہے ہیں تو کسی کی طرف سے تنقید کی صورت میں پہلے آپ کام چھوڑ دینے کی دھمکی دیں اور اگر تنقید جاری رہے تو چھوڑ دیں۔ جسے کام کی ضرورت ہے وہ خود آپ سے معاملہ طے کر لے گا۔
* کوشش کریں کہ اتنا ہی کام کر کے دیں جتنا آپ کو معاوضہ ملنا ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ اپنی خوشی سے آپ بہت اچھا کام کرنا چاہیں تو کر دیں۔
* تنقید کرنا آپ کی بری عادتوں میں شمار کیا جاتا ہے لیکن ایسے موقعوں پر جب کہ آپ کسی کے لئے کام کر رہے ہوں اور وہ کسی بہانے سے آپ کے معاوضے میں کٹوتی کرنا چاہتا ہو تو آپ اس پر اس قدر تنقید کر سکتے ہیں کہ وہ بوکھلا جائے۔
* کسی جانب سے دل شکنی ہو تو اس کا زیادہ اثر نہ لیں۔ ایسے میں خاموش رہ کر کڑھنے سے بہتر ہے کہ آپ سامنے والے کو لتاڑ دیں تا کہ آئندہ اس میں آپ کی دل شکنی کی ہمت نہ ہو۔
* منفی سوچوں کو فوراً ذہن سے نکال دیں۔
* جارحانہ انداز اس حد تک استعمال کریں جہاں تک اس کی ضرورت ہو۔
* خطرات سے نہ گھبرائیں۔
* جرأت مندی کا مظاہرہ کریں۔
* خوف کو خود سے دور کریں۔
* جھجک ختم کر دیں۔
* خوابوں کو حقیقت سے نہ جوڑیں۔