خوابوں کی دنیا

جواہرات کے طبی فوائد

یہ جواہر جو اپنی دلربا چمک و دمک و دلفریب آب وتاب کے باعث سب دنیاوی اشیا سے اعلیٰ درجہ کے ہیں۔ صرف انہی خارجی اوصاف کے باعث ہر دلعزیز اور شہر آفاق نہیں۔ بلکہ ان میں کئی عجیب و غریب کرامات و یمن و برکات مانی گئی ہیں۔ جن کے باعث لوگ بڑی خواہش سے ان کے طلبگار ہوتے ہیں۔ زمانہ قدیم سے لوگوں کا یہ اعتقاد چلا آ رہا ہے کہ جواہرات کے پہننے سے کئی برکات نازل ہوتی ہیں۔ کئی آفت و امراض سے بچاؤ ہوتا ہے۔ ان کے استعمال سے طاقت، دولت ، مرتبہ، خوشی اور کئی برکات حاصل ہوتی ہیں۔ کئی جواہر اسعد کئی نحس سمجھے جاتے ہیں۔ گو آج کل کے تہذیب یافتہ نوجوانوٓں اور نئی روشنی والوں کے نزدیک یہ خیالات پوچ اور واہیات ہیں لیکن ہر زمانہ میں عامل و فاضل ہوتے رہے ہیں۔ جنہوں نے اس مضمون کی طرف توجہ فرمائی ہے اور ان کی برکات کے بارے میں اپنے خیالات قلم بند کر کے چھوڑ گئے ہیں۔ جن کے باعث آج کل بھی اس زمانہ علم و فضل میں جب کہ نئی روشنی پرانے ضعیف الاعتقادی کے خیالات دور کرتی جاتی ہے۔کئی اقوام ان کی برکات کے معتقد ہیں۔ ہندوستان میں لوگوں کے یہ خیالات مدت سے چلے آ رہے ہیں اور کل دنیا سے اہل ہند جواہرات کے عجیب و غریب کرامات کے زیادہ معتقد ہیں۔ پورانوں اور دیگر دیرینہ کتب سنسکرت میں ان کے خواص سحری کا تذکرہ دیکھنے میں پایا جاتا ہے کہ اہل ہنود اس اعتقا د کا یہی کتب متبرک موجد ہیں۔ بعض کتب میں جواہرات کا پہننا فرائض مذہبی میں بڑا ثواب بخش و سعد کیا گیا ہے۔ ان کے دان و بخشش کرنے کے بڑے ثواب لکھے ہیں۔ علم نجوم میں کئی ایک نحس کواکب کے بد اثر کے رد کرنے کے واسطے خاص خاص جواہر نامزد کئے گئے ہیں۔ اور اگر کسی سیارے کی گردش کے ایام نحوست کا ڈر ہو تو اس سیارے میں خوشنودی حاصل کرنے اور نحوست دور کرنے کے ایام گردش کے درمیان خاص خاص جواہر کا پہننا فائدہ مند سمجھا گیا ہے۔ اسی طرح کئی ایک زیورات میں خاص طور پر جواہر جڑوا کر پہننے سے عزت، شہرت، دولت، راحت ، طاقت و اقبال کا حاصل ہونا قرار دیا گیا ہے۔ ذیل کی جدول میں لکھا جاتا ہے کہ سیاروں کے کون کون سے خاص جواہر ہیں۔ ان کے بر خلات ہونے اور ان کے ایام گردش میں کون سے جواہر پہننے چاہئیں۔

نام سیارہ برخلاف یہ جواہر سکون کا خاص جواہر ایام گردش میں یہ جواہر
پہننا چاہئے پہننا چاہئے
شمس ۔۔۔ یاقوت ۔۔۔ یاقوت ۔۔۔ یاقوت
قمر ۔۔۔ مروارید ۔۔۔ حجر القمر ۔۔۔ الماس
مریخ ۔۔۔ مرجان ۔۔۔ مرجان ۔۔۔ مرجان
عطارد ۔۔۔ زمرد ۔۔۔ زرقون ۔۔۔ زرقون
مشتری ۔۔۔ پکھراج ۔۔۔ بلور ۔۔۔ مروارید
زہرہ ۔۔۔ الماس ۔۔۔ لہسینا ۔۔۔ لہسینا
زحل ۔۔۔ نیلم ۔۔۔ نیلم ۔۔۔ نیلم
راہووکیتو ۔۔۔ زرقون زمرد ۔۔۔زمرد ۔۔۔ زمرد
جواہرات کو عبادت گاہوں میں جڑوانے اور معبودوں کے آگے پیش کرنے کے کئی ثواب لکھے ہیں۔ شاستروں میں مختلف اغراض کے حصول کے لئے ہیں۔ جواہرات کو معبود بنا کر پرستش کرنے کا بڑا ثواب ہے۔ چنانچہ ایک پران میں لکھا ہے کہ ہر ایک سال کے بارہ مہینوں میں ذیل کی شرح کے مطابق جواہر کے شوج مہاراج کی مورتی بنا کر پرستش کرنی چاہئے۔ اس طرح ممالک مغربی میں سال کے بارہ ماہ میں ایک ایک جواہر ایک ایک ماہ کے لئے خاص تھا اور وہ اسی ماہ میں پہنا جاتا تھا چنانچہ یہ دونوں باتیں ذیل کے جدول سے ظاہر ہیں۔

نام ماہ ۔۔۔ کون سا جواہر پہننا چاہئے ۔۔۔ کس جواہر کا شوجی مہاراج بنانا
جنوری یا ماگھ ۔۔۔ گومیدک ۔۔۔ مہرہ افعی کا
فروری یا پھاگن ۔۔۔ امیتھسٹ ۔۔۔ حجر القمر کا
مارچ یا چیت ۔۔۔ سنگ یشب ۔۔۔ طلاکا
اپریل یا بیساکھ ۔۔۔ نیلم ۔۔۔ الماس کا
مئی یا جیٹھ ۔۔۔ عقیق ۔۔۔ زمرد کا
جون یا اساڑہ ۔۔۔ زمرد ۔۔۔ مروارید کا
جولائی یا ساون ۔۔۔ سنگ سلیمانی ۔۔۔ نیلم کا
اگست یا بھادو ۔۔۔ رودراکھ ۔۔۔ یاقوت کا
ستمبر یا کاتک ۔۔۔ زبر جد ۔۔۔ مرجان
نومبر یا اگھن ۔۔۔ پکھراج ۔۔۔ لہسینا
دسمبر یا پوس ۔۔۔ یاقوت ۔۔۔ پکھراج
اسی طرح دیگر دیوتاؤں کے جواہرات سے پرستش کرنے کے قواعد لکھے ہیں۔ پرانوں اور شاستروں میں جواہرات کے عجیب و غریب خواص دیکھنے میں کچھ تعجب انگیز نہیں کیونکہ منتر شاستر میں کل دنیاوی اشیاء کے عجیب و غریب سحری خواص لکھے ہیں۔ بعض سعد سمجھے گئے ہیں اور بعض نحس، انہی میں جواہرات بھی ہیں بلکہ ان کی سب اشیاء پر چمک دم، آب و تاب اور ندرت کے باعث فضیلت ہونے سے ان کی طرف زیادہ توجہ ہوئی اور کئی طرح کی برکات ان کی سمجھی گئی۔ لیکن اہل یورپ کا جو کہ دنیا میں روشن خیال مشہور ہیں۔ ان سحری خواص پر معتقد ہونا حیرت انگیز ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ سحر و جادو کا علم متقدمین یورپ نے ممالک مشرقیہ سے اخذ کیا۔ اور چونکہ علم سحر میں جواہرات کے عجیب خواص کا بھی ذکر ہے۔ اس لئے ان کو بھی ان کا علم ہو گیا ۔ متقدمین یورپ کی تصانیف میں جواہرات کے خواص سحری کے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ زمانہ قدیم سے یہ علم وہاں چلا آیا ہے۔ چنانچہ پانچ سو سال پیشتر سن عیسوی اور نومیکری ٹس نامی پادری نے جواہر کے عجیب و غریب یمن و برکات کی بابت لکھا۔ وہ لکھتا ہے کہ ’’ جو کوئی شخص بلور کو ہاتھ میں لے کر عبادت گاہ میں جائے تو اس کی دعا ضرور مستجاب ہو گی۔ نیز اگر اس پتھر کو اس طرح خشک لکڑی پر رکھیں کہ اس پر آفتاب کی کرنیں پڑ سکیں۔ اسی طرح سے اس نے عقیق، پکھراج، سنگ یشب، کہربا، کاکیتک، مرجان اور اوپل کے خواص لکھے ہیں۔ ان میں صحت، خوبصورتی، دولت، اقبال، عزت و خوش قسمتی کے بخشنے کی طاقت سمجھی جاتی تھی۔ اس لئے اہل یورپ ان کو بڑے شوق سے پہنتے تھے۔ اگرچہ روشنی علم نے تاریکی و جہالت و ضعیف الاعتقادی کو دور کر دیا لیکن اس زمانے میں بھی سینکڑوں علم سحر کے معتقد ہیں چنانچہ یوجنی قیصرہ فرانس اوپل کے واسطے نہیں پہنتے کہ یہ نحس ہے اور باعث بد بختی ہے۔ آج کل کے یورپین ساحروں نے جواہرات کے مخفی سحری طاقتوں کو دریافت کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ متقدمین کو اچھی طرح معلوم تھیں۔ وہ معتقد ہیں کہ خواص طبی کے علاوہ جواہرات میں عجیب و غریب طاقتیں ہیں اور ہر ایک جواہر کا ایک ایک فرشتہ سے تعلق ہے۔ کہتے ہیں کہ کاگنٹ (Mesr Chagnet) نامی ساحر نے ایڈیلی (Adeley) سے یہ علم حاصل کیا ان کے سوال کے جواب جواہرات کے نہانی عجیب و غریب خواص کے بارہ میں مشہور ہیں۔ جی بی پورٹا (G-B- Porta) صاحب کے علم سحر سے جواہر کی خواص کی بابت بہت کچھ معلوم ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ ہندو شاستروں میں مختلف اغراض کے حصول کے لئے مختلف طور پر زیورات بنوا کر ان میں جواہر جڑوانے کے لئے لکھے ہیں۔ اسی طرح یورپ بھی اس ضعیف الاعتقادی سے خالی نہیں۔ وہاں بھی کئی کتب میں جواہرات کے مختلف طرح کے زیورات خاص خاص ایام میں بنانے اور پہننے کے طریق لکھے ہیں اور ان کے پہننے کے فوائد بیان کئے گئے ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کی مہیب و زور آور دشمن پر غالب ہونے کی مراد ہو تو اسے ذیل کے طریق سے (انگشتری) بنوا کر پہننے چاہئیں۔
طریق بروز اتوار، ساعت مشتری (یعنی گیارہ سے بارہ اور دو سے سات بجے دن کے درمیان، ایام زادی النور میں خالص سونے کی انگشتری بنوا کر اور اس میں یہ ساتھ جواہر الماس، یاقوت، نیل ، زمرد، زرقون اور پکھراج جڑواؤ اور اسے پہنو۔ تم کو کسی کا خوف نہ رہے گا۔
جو علماء و حکماء علم سحر و جواہرات کے عجیب و غریب کرامات کے قائل ہیں۔ وہ اپنے ثبوت میں جو دلائل پیش کرتے ہیں ان میں سے چند ذیل میں ہدیہ ناظرین باتمکین ہیں۔
عوام کے نزدیک سحر و کرامات کی تعریف یہ ہے کہ کسی ایسی بات کا ظہور میں آنا جو قانون قدرت کے خلاف ہو۔ غرضیکہ جو بات جس کے ذہن میں نہ آئی اس کو سحر کہہ دیا۔ اب یہ دیکھنا چاہئے کہ عوام الناس کا یہ خیال کہاں تک درست ہے اگر کوئی شخص کسی ایسے فعل کو دیکھ کر جو اس کی سمجھ میں نہ آئے اور نہ وہ قبل اس کے اس کے سننے میں آیا ہو یہ کہے کہ یہ خلاف قانون قدرت ہے گو وہ پیشتر سے ایسی باتیں فرض کر لیتا ہے جس کا کوئی مبشر دعویٰ نہیں کر سکتا اور جس پر صرف صانع حقیقی ہی حاوی ہے۔ اول تو ایسا کہنے سے اس کا یہ منشا ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص تمام قوانین قدرت سے واقف ہے کیونکہ اگر وہ واقف نہ ہوتا تو وہ کس طرح سے یہ دریافت کر لیتا ہے کہ فلاں بات قانون قدرت کے برخلاف ظہور میں آئی۔
اب دیکھو کہ آیا یہ ممکن ہے کہ انسان تمام قوانین قدرت کو جانے۔ جب خدا کی ذات غیر محدود ہے اور اس کے قوانین بھی اندازہ گمان میں نہیں آ سکتے۔ اور عقدہ راز فطرت عق و وہم کے زور سے نہیں کھل سکتا۔ توانسان جو ایک محدود چیز ہے کیونکہ اس وسیع کائنات کے سب قوانین قدرت کو جان سکتا ہے۔ مثلاً الماس میں یہ خاصا عجیب ہے کہ جو کوئی شخص اس کو پہنے اس کو صحت جسم حاصل ہوتی ہے۔ سب خوف دور ہو جاتے ہیں۔ دشمنوں پرفتح حاصل ہوتی ہے۔ ہر ایک شخص اس بات کا قائل ہے۔ کہ خدا کی قدرت کا لا انتہا ہے۔ اور انسن کے طائر عقل و فہم کی اتنی بلند پروازی نہیں کہ وہاں تک پہنچ سکے۔ عقدہ راز فطرت اب تک نہیں کھلا۔ کس قدر کسی عالم فاضل نے ساری عمر تجربات کرتے اور صفحہ ہستی کا مطالعہ کرتے چند باتیں معلوم کر لیں وہ قوانین قدرت خیال کئے۔ باقی باتیں وہ خلاف قانون قدرت سمجھی گئیں۔ تو ایک طرف تو ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ قوانین قدرت محدود ہیں۔ اس میں اجتماع ضدیں واقع ہوتا ہے ایک چیز کو وہم یہ کہتے ہیں کہ غیر محدود ہے۔ اور پھر کہتے ہیں کہ کوئی چیز اس کے باہر واقع ہوئی۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ وہ غیر محدود نہیں ہے۔ اس صانع حقیقی نے جو قوانین بنائے ہیں وہ مثل قوانین نوع انسان ایسے نہیں کہ آج جاری ہوئے کل منسوخ ہو گئے۔ انسان تو اپنے علم و عقل کے محدود ہونے کے باعث اپنے سب کاموں کے نتائج بخوبی دیکھ نہیں سکتا ہے۔ اور جب کسی بات کے حصول یا دفعیہ کے لئے اس کی کوئی تدبیر قاصر ہوتی ہے تو اس وقت وہ مجبور ہوتا ہے کہ کوئی دوسری تدبیر کرے اور بوجہ اپنے ذاتی نقص کے کبھی اس بات میں کامیاب نہیں ہوتا کہ کوئی ایسا قانون بنائے جو تمام دنیا کے واسطے کافی ہو اور جس کو کبھی منسوخ کرنے کی ضرورت نہ ہو۔