برج سنبلہ کے موافق پتھروں کے خواص

سنگ سلیمانی

یہ ایک مشہور جواہر ہے۔ اور عقیق کی قسم کے جواہرات میں سے ہے۔ یونانی اور ایرانی زبان کی پرانی کتابوں میں اس کا ذکر دیکھنے ظاہر ہوتا ہے۔ کہ سنہ عیسوی کے آغاز سے پیشتر یہ جواہر اعلیٰ قسم کے جواہرات میں شمار ہوتا تھا۔ چونکہ اس جواہر کی شکل انسان کے ناخن سے بہت ملتی ہے اس لئے اس کو یونانی زبان میں آنکس کہتے ہیں جس کے معنی ناخن ہیں۔ اس جواہر کے بابت مختلف حکماء کئی طرح کے حالات لکھ گئے ہیں۔ چنانچہ بوی شش لکھتا ہے کہ ’’ عرب کے سنگ سلیمانی کا رنگ سیاہ ہوتا ہے اور پردے سفید، آرن پک ( Aaron Pick) لکھتا ہے کہ ’’ کتب مقدسہ میں اس جواہر کا نام شوہام لکھا ہے لیکن مصنف مذکور اپنی تصنیفات میں اس کا نام کارلنبکلل لکھتا ہے۔‘‘ کتب یونانی میں اس کی پیدائش یوں لکھی ہے کہ ’’ فرشتہ شہتوت (یعنی کام دیو) سلیمانی پیدا ہو گئے۔‘‘ زمانہ قدیم میں یہ جواہر باعث نزاع و فساد صرع کا علاج سمجھا جاتا تھا اور لوگوں کا خیال تھا کہ اس میں ایک جن مقید ہوتا ہے جو رات کے وقت بیدار ہو کر پہننے والے کو مضطرب کر دیتا ہے۔سنگ سلیمانی دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک عام دوسرا مشرقی۔ مشرقی سنگ سلیمانی بڑا قیمتی ہوتا ہے۔ اس کا رنگ سرخی مائل بھورعا یا زیتونی ہوتا ہے۔ اس کے طبقے سفیدیابھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔ جن سے نہایت خوشنما لگتا ہے۔ چونکہ یہ جواہر سارڈس (Sards) واقع لیڈن (Lyden) سے اور سارڈس یعنی سارڈینا سے نکلتا ہے اس لئے اس کو ساڈآنکس یعنی ساڈینا کاسنگ سلیمانی کہتے ہیں۔ یا یہ کہ سارڈ آنکس یعنی سارو (رودراکھ) اور آنکس (سنگ سلیمانی) کا مرکب کہتے ہیں۔ کہ سیمس (Samos) کے حریف پولی کریٹ (Poly Crates) نے جو قیمتی انگشتری سمندر میں ڈالی تھی اس سے سادہ آنکس پیدا ہوا ۔سنگ سلیمانی کی ایک اور قسم ہے جسے نیکولو (Nicolo) یا اونیکلو (Onicolo کہتے ہیں۔ اس کے گہرے نیلے رنگ زمین پر نیلگوں پردے ہوتے ہیں۔ سنگ سلیمانی کے خواص و ماہیت عقیق سی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس کا رنگ سیاہی مائل یا بھورے رنگ مائل ہوتا ہے اور اس پرسفید، سبز، بھورے اور سیارہ رنگ کے طبقات ہوتے ہیں