برج اسد سے تعلق رکھنے والے مردوں کی خصوصیات

ہمدرد

اب تک ہم نے ان لوگوں کی جن خوبیوں اور خامیوں کا تذکرہ کیا ہے اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سفاک اور خطرناک قسم کے لوگ ہیں، ایک حد تک تو یہ بات درست ہے لیکن یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ان لوگوں میں ہمدردی اور رحم دلی کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا۔ ایسا نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہمدرد لوگ ہوتے ہیں لیکن یہ دوسروں کی طرح ذرا ذرا سی بات پر ہمدردی نہیں دکھاتے۔ عام حالات میں ان کا رویہ سخت اور سفاک ہی نظر آتا ہے لیکن ان کی ہمدردی خاص مواقع پر کھل کے سامنے آ جاتی ہے مثلاً اگر کہیں ایکسیڈنٹ ہو جائے تو یہ بھیڑ کو چیرتے ہوئے متاثرین تک پہنچ جاتے ہیں اور بغیر کچھ سوچے سمجھ ان کی مدد شروع کر دیتے ہیں۔ جب تک یہ اپنے اس کام کو مکمل نہ کر لیں یہ چین سے نہیں بیٹھتے۔
اس طرح ان کے علم میں اگر یہ بات آ جائے کہ ان کے محلے میں کوئی مستحق شخص رہتا ہے یا کوئی ایسا بچہ ہے جس کا نام فیس نہ ادا کرنے کی وجہ سے سکول سے کاٹا جا چکا ہے تو ان کی ہمدردانہ جبلت جاگ اٹھتی ہے۔ ایسے میں یہ اسد فرد جس کے بارے میں لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ یہ نہایت سفاک اور بے رحم ہے، سب سے پہلے بڑھ کر اُس مستحق فرد کی مدد کرتا ہے یااس بچے کی فیس ادا کر کے اُس کا نام پھر سے اسکول میں لکھواتا ہے۔
یہ افراد بہت غصہ ور اور سفاک تو ہوتے ہیں اور انہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان سے بچ کر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے لیکن یہ ایک حیرت ناک بات ہے کہ ان لوگوں میں در گزر کرنے کی بڑی خوبی ہوتی ہے۔ یہ جب کسی سے دشمنی پر آ جائیں تو اسے نیست و نابود کر دینے کے لئے بے چین ہو جاتے ہیں لیکن اگر وہ شخص آ کر اُن سے معافی مانگ لے تو ان کا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔ اُن کا دل موم ہو جاتا ہے، یہ اُسے معاف کر دیتے ہیں لیکن یہ معافی انہیں ایک ہی بار ملنے کا امکان ہوتا ہے یا پھر دو بار لیکن اس سے زیادہ مرتبہ یہ معاف کرنے کے قائل نہیں ہوتے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جن باتوں پر عام لوگ مشتعل ہو جاتے ہیں، اسد افراد انہیں ہنس کر ٹال دیتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کی ذہنی سطح بہت اونچی ہوتی ہے، یہ خود کو کسی بادشاہ سے کم تصور نہیں کرتے، دوسرے لوگ ان کی نظر میں ان کی رعایا ہوتے ہیں اور ایک بادشاہ سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی سوچ اور شان کے مطابق کسی بھی بات کو ہنس کر ٹال دے لیکن ساتھ ہی ان کی شاہانہ سوچ کی وجہ سے ان سے یہ بھی توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ کسی ایسی بات پر چراغ پا ہو جائیں جو دوسروں کے لئے معمولی ہو۔ در اصل یہ اپنے الگ انداز سے سوچتے ہیں۔