برج اسد کے موافق پتھروں کے خواص

پکھراج

پکھراج جسے فارسی میں یاقوت ارزق اور ہندی میں پوشپ راگ کہتے ہیں۔ ایک عمدہ زرد رنگ قدیمی جواہر ہے۔ زبان عبرانی میں اسے پت دوہ کہتے ہیں۔ جس کا مصدر سنسکرت لفظ پیت (معنی زرد) معلوم ہوتا ہے۔ یونانی زبان میں اسے ٹوپاسٹیون (Topasitun) کہتے ہیں۔ جس کا مآخذلفظ ٹپ دوہ ہے۔ جو پت دوہ کا بگڑا ہوا ہے۔ اس کا انگریزی نام ٹوپاز ایک جزیرہ (واقعہ بحیرہ قلزم) کے نام پر پڑا ہے جہاں سے پہلے یہ نکلتا تھا۔ یہ جزیرہ بحیرہ قلزم میں ہے اور چونکہ اس کے گرد ہمیشہ دھند و غبار رہتا ہے۔ اس لئے اس کا نام ٹوپاز پڑا۔ معنی تلاش کرنا پڑا اور اسی سے لفظ ٹوباز نکلا ہے۔ کئی دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جواہر زمانہ قدیم میں مروج تھا۔ چنانچہ بوتش (Boetus) لکھتا ہے کہ یہ جواہر سبزی مائل زرد رنگ کا ہے۔ اور اس کے کئی ایک خواص سحری یمن و برکات مانے جاتے تھے۔ یونانی حکماء لکھتے ہیں کہ ’’ پکھراج غم غصہ کو دور کرتا ہے۔ بازو پر باندھنے سے جادو کا اثر نہیں ہوتا۔ عیاشی سے بچاؤ ہوتا ہے۔‘‘
ماہرین اس کی دو قسمیں بیان کرتے ہیں۔ ایک مشرقی دوم مغربی۔ جس پکھراج میں صرف الیومینا مرکب ہوتا ہے وہ مشرقی اور جن اقسام میں 57 حصہ الیومینا اور باقی سلیکا اور فلورائین مرکب ہوں انہیں مغربی کہتے ہیں۔ کتب سنسکرت میں اس کی چار ذاتیں بیان کی گئی ہیں۔ سفید پکھراج، برہمن، سرخی مائل کھتری، زرد رنگ، ویش اور سیاہی مائل شودر، متقدمین اسے چرائسولیٹ (Chrysolite) کہتے تھے۔ پکھراج کی ایک قسم پس نائیٹ (Pysnite) نامی ہے جو الٹن برگ سے ملتی ہے۔ ایک اور قسم ہے جسے فالیو لائیٹ (Physolite) یا پرائی فائسولائیٹ (Phrphyslite) کہتے ہیں۔ یہ تاریک ہوتی ہے۔ اور گرمی سے سوج جاتی ہے۔