برج اسد کے موافق پتھروں کے خواص

یاقوت

اسم معروف: یاقوت، فارسی: یاقوت، عربی: یاقوت، ہندی، مانک
ماہیت: معدنی چیز ہے کہ اپنے معدن میں گندھک اور خالص پارے سے بنتا ہے۔
طبیعت: حرارت اور برددت میں معتدل اور دوم میں خشک ہے۔
رنگ و بو: نہایت سرخ شفاف چمکدار
ذائقہ: پھیکا کوئی ذائقہ غالب نہیں۔
مضر: بہت مضر نہیں ہے۔
مصلح: عنبر اور سونا وغیرہ۔
بدل: اس کی دوسری قسمیں مثل سفید کے
نسبت سیارہ: منسوب ہے مریخ ہے۔
نفع خاص: مفرح مقوی دل و حرارت غریزی۔
کامل: تین رتی تک مستعمل ہے۔
ناقص: ایک یا دو رتی
افعال و خواص:۔
مفرح ہے اور دماغ کو قوت دیتا ہے ایک درہم پلانا مرگی وسواس خفقان اور طاعون کو مفید اور خون منجمد کو محلل اور نزف الدم کا مانع اور زہروں کا دافع ہوائے وبائی کے تغیر کو سود مند خون کو صاف کرتا اور حرارت غریزی کا محافظ ہے اور اس کی انگوٹھی پہننا طاعون کو مفید اور منہ میں رکھنا پیاس کا مسکن دل کا مقوی و مفرح اور سرمہ اس کا مقوی بصر محافظ چشم ہے۔
یاقوت جسے انگریزی میں روبی (Ruby) اور ہندی میں مانک کہتے ہیں۔ بڑا بیش قیمت جواہر ہے۔ یہ ندرت رنگت اورخوش وضعی کے باعث سب جواہرات سے افضل گنا جاتا ہے اور نہایت ہی قبول نظر ہے۔ اصل میں جواہر کارٹڈم کی ایک قسم ہے۔ کہ ہیرے کا اصل کاربن ہے۔ اب یہ سوال ہو سکتا ہے کہ آیا صرف اکیلا کاربن ہی شکل بدل کر سب جواہرات بن جاتا ہے۔ یا کوئی اور شے بھی جو جواہرات کا مادہ کہی جا سکے۔ تو جواب ہو سکتا ہے کہ پیدائش قدرت میں ایک شے الیومینا ہے جو بڑے جواہرات کے مرکبات کیمیا میں ایک جزو بنتا ہے۔ ایسی قسم کے جواہرات کو جن میں یہ مادہ مرکب ہے کارنڈم کہتے ہیں اور یہ جواہرات خواص اور صاف کے لحاظ سے الماس پر بھی سبقت لے گئے ہیں۔ اول مشرقی یاقوت، دوئم سیائنل دبے جسے ہندوستانی لعل زمانی کہتے ہیں۔ سوئم پیلس روبی اور چہارم ربی سیل اگرچہ آخری تین قسمیں رنگ ڈھنگ کے باعث یا قوت کے ہم پلہ ہیں لیکن سختی وزن مخصوص اور ایک دو خواص کے لحاظ سے یاقوت سے کم درجہ ہونے کے باعث اس سے مختلف ہیں۔ اس لئے جواہرات درجہ دوئم میں شمار ہوئے ہیں۔ یاقوت مشرقی کے اہل عرب و فارس دونوں بتلاتے ہیں۔ ایک یاقوت دوئم لعل، اب یاقوت کا بیان کیا جاتا ہے۔
یہ جواہر اپنی ندرت اور خوش رنگی کے باعث نہایت ہی بے بہا ہے۔ زمانہ قدیم سے یہ عجیب جواہر نامزد عالم چلا آ رہا ہے۔ کئی عالموں نے اس کی بابت طرح طرح کے بیان لکھے ہیں۔ شاعر لوگ اسے استعارتاً اپنے شعروں میں استعمال کرتے ہیں اور خاص کر لب معشوق کے اس سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ چنانچہ ایک شاعر لکھتا ہے:
لب لعل تو یاقوت است یاقوت است مرجان را
خم زلف تو بادام است یادام است انسان را
بعض لوگ اس کی نسبت خیال کرتے ہیں کہ رات کو بھی دن سا درخشاں ہے اور اس لئے اسے شب چراغ کہتے ہیں۔ زمانہ قدیم میں آج کل سے بھی اس کی زیادہ قدر ہے۔