اسد افراد کی اپنے اور دوسرے برجوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے شادیاں

اسد مرد اور اسد عورت

ان افراد کی خوبیوں اور خامیوں پر ہم گزشتہ صفحات میں تفصیلی بات چیت کر چکے ہیں۔ ان دونوں کے مزاج کافی حد تک ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں لیکن خواتین ہونے کے ناطے ان کی اپنی الگ خصوصیات پر بھی بات کی گئی ہے لیکن ان دونوں کا ایک ساتھ رہنا بہت زیادہ آسان بھی نہیں ہے کیونکہ ان کے مزاج میں نرمی اور خوش مزاج بہت کم ہے۔ یہ دونوں مشتعل مزاج اور تحکمانہ ذہن کے مالک ہیں۔ اس لئے ان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ گھر میں ان کا حکم چلے لیکن ایک معاملے پر دو رائے آ جائیں تو ان میں سے ایک پر ہی عمل کیا جانا ممکن ہوتا ہے لیکن یہاں ان میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ اسد عورت چونکہ آزاد طبع ہے اس لئے ان کی مصروفیات گھر سے باہر بھی ہوتی ہیں جو کہ اسد مرد کے لئے نا قابل برداشت ہے۔
    اسد عورت کارویہ اکثر بڑا عجیب و غریب ہوتا ہے۔ کبھی تو یہ محبت کے معاملے میں بہت گرم جوشی کا مظاہرہ کرتی ہے اور کبھی ایسی بن جاتی ہے کہ اسے کسی سے محبت نہیں ہے، اسد مر دکے لئے یہ رویہ بھی ناقابل برداشت ہوتا ہے کیونکہ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ جو وہ چاہتا ہے اس کی بیوی ویسا ہی کرے۔
    اسد عورت بہت پر کشش اور خوبصورت ہوتی ہے، ہر مرد کا جی چاہتا ہے کہ اس سے بات کرے اور اگر ممکن ہو تو اس کی قربت حاصل کرے اور یہ اسد شوہر کے لئے ناقابل برداشت ہوتا ہے، ایسے میں اس کی طرف سے بیوی کے لئے کئی پابندیوں کا اعلان ہو جاتا ہے اور پھر یہ پابندیاں قبول کرنا بیوی کے لئے ناقابل قبول ہوتا ہے، اس طرح اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ اسد بیوی کو اپنی طرف مائل رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ شوہر اسے وقتاً فوقتاً مختلف تحائف دیتا رہے اور ساتھ ہی مختلف معاملات میں اس کی تعریف بھی کرتا رہے۔ یہ عورتیں بہت ذہین ہوتی ہیں۔ اگر شوہر اپنے کاروبار میں یا دفتری معاملات میں ان سے مشورہ لیں تو انہیں بے حد مفید مشورے دیتی ہیں۔
    اسد جوڑے کی خوشحالی اور استحکام کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے مزاج کو اچھی طرح سمجھیں۔ انہیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ دونوں حاکمانہ ذہنیت کے حامل ہیں اور ایک ہی وقت میں دونوں کا حکم نہیں چل سکتا اس لئے انہیں کوئی مفاہمت پسندانہ فیصلہ کر لینا چاہئے۔ اس کے علاوہ انہیں ایک دوسرے کی بیشتر خامیوں کو نظر انداز کرنا ہو گا۔ انہیں یہ سوچنا ہو گا کہ انہوں نے ایک دوسرے کو نظر انداز کیا اور تحمل اور استحکام کو ترجیح نہ دی تو تلخیاں بڑ ھ کر جھگڑے کی صورت اختیار کر سکتی ہیں اور جھگڑے اگر سنگین صورت اختیار کر لیں تو یہ بات علیحدگی تک آ سکتی ہے اس طرح ان کے بچے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔