اسد افراد کا نفسیات جائزہ

لیڈر شپ

ان کے بارے میں ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ تحکمانہ ذہنیت رکھتے ہیں۔ اپنی اس فطرت کی وجہ سے یہ ہر کسی کواپنے رعب میں لینے کی کوشش کرتے ہیں، اس طرح کئی لوگ تو ان کے رعب میں آ جاتے ہیں لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ کئی لوگ ان کے مخالف ہو جاتے ہیں، اس طرح دشمنی ہو جانے کا امکان بھی ہوتا ہے۔ ان لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ اپنی فطرت کا جائزہ لیں اور اسے طریقے سے استعمال کریں۔ مثلاً جب انہیں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ یہ دوسروں پر حکم چلانے کے خواہش مند ہیں تو کیا ضروری ہے کہ آپ بھونڈے انداز میں یہ کام کریں؟
    زیادہ بہتر تو یہ ہو گا کہ آپ اگر کسی سے اپنا حکم منوانا چاہتے ہیں تو اس سے شیریں انداز میں بات کریں، اس کی نفسیات کا جائزہ لیں اور دوست بن کر اس سے اپنا حکم منوا لیں۔ اس طرح آپ بہتر سوچ سکتے ہیں کہ کیا حالات ہیں اور آپ کو کس طرح کام کرنا ہے۔
    یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ہر کسی کو دھونس اور دھمکی سے اپنے اشاروں پر نہیں چلایا جا سکتا ، اگر آپ کسی بادشاہ کا مزاج رکھتے ہیں تو بادشاہوں کی سوانح حیات پڑھیں، تب آپ کو اندازہ ہو گا کہ بادشاہوں نے صرف دھونس اور دھمکی سے حکومتیں نہیں کی ہیں بلکہ جہاں انہوں نے طاقت کا استعمال ضروری سمجھا وہاں طاقت استعمال کی اور جب انہوں نے یہ دیکھا کہ پسپائی اختیار کرنی ہے تو انہوں نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے پسپائی اختیار کی آپ بھی یہ سمجھ لیں کہ ہر وقت طاقت اور دھونس نہیں چل سکتا بلکہ مقاصد کے حصول کیلئے پسپا بھی ہونا پڑتا ہے۔