مکمل راستہ
برج
سرطان
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 22؍ جون سے 23 ؍ جولائی حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ قمر نشان ۔۔۔۔۔۔ کیکڑا عنصر ۔۔۔۔۔۔ پانی موافق دن ۔۔۔۔۔۔ جمعرات اور سوموار موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 2 اور 7 موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ عقیق، زمرد موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ نارنجی، پیلا، سبز موافق دھات ۔۔۔۔۔۔ الماس، زمرد اور عقیق
برج سرطان کے موافق پتھروں کے خواص
الماس ہیرا
تفصیل
ماہیت: سب پتھروں میں سخت اور بہت نفیس ہے۔ طبیعت : چوتھے درجے میں سرد و خشک اور بعض کے نزدیک گرم ہے۔ رنگ و بو: سفیدو سرد و سیاہ و سرخ ذائقہ: پھیکا سخت ہوتا ہے۔ مضر: زہر قاتل اور مضر ہے۔ مصلح: قے کرانا تازہ دودھ پلانا بدل: اس کی دوسری قسمیں نسبت ستارہ: منسوب ہے زہرہ سے۔ ناقص: زہر قاتل ہے ماکول نہیں۔
ذیلی زمرے
متعلقہ صفحات
2 صفحاتزمرد
اسم معروف: پنا۔ فارسی: زمرد۔ عربی : زمرد ماہیت: عمدہ پتھروں میں سے ہے اور سونے کی کان میں ملتا ہے اس کی کئی قسمیں ہیں۔ طبیعت: دوسرے درجے میں سرد اور تیسرے میں خشک اور قوت اس کی مدت کثیر تک باقی رہتی ہے۔ رنگ و بو: سبز آبدار صاف شفاف خوشنما۔ ذائقہ: پھیکا بے مزہ، مثل بلور وغیرہ کے۔ مضر: مثانے کے لئے مضر ہے اور سرد مزاجوں کو مصلح: مشک و گلاب و عرق کیوڑہ وغیرہ۔ بدل: دماغ سموم میں زبر جد اور اسہال میں مرجان نسبت سیارہ: منسوب ہے مشتری۔ نفع خاص: روح و دل و دماغ اور حرارت غریزی کا مقوی ہے۔ کامل : رفع سم میں ایک دانگ او نزف الدم میں ایک قیراط۔ ناقص: رفع سموم میں نصف دانگ اور نزف الدم میں نصف قیراط۔ افعال و خواص: مفرح ہے اور حرارت غریزی اور دل و دماغ و کبد معدے کا مقوی اور غم و ہم خزن و ملال اور خفقان و صرع کا رافع اور ذات الجنب و ذات الریہ و نزف الدم و اسہال دموی کو نافع اور سموم قتال اور زہر ہوام اور ساتسقاء و یرقان اور حسب البول اور اخراج سنگ گردہ و مثانہ اور جذام کے لئے مفید اور اگر کسی نے زہر کھایا ہو اور قبل ظاہر ہونے اس کے اثر کے بوزن آٹھ جو کے باریک کر کے پی لے تو زہر کا ر گر نہ ہو گا اور سرمساس کا بینائی کا مقوی اور سبل کا دافع اور زیادہ دیکھنا زمرد کا آنکھ کی ماندگی کا دافع اور اس کی انگوٹھی پہننا صرع کو مفید سانپ اس کے دیکھنے سے اندھا ہوتا ہے مگر یہ امر صحیح نہیں ہے اور جو کچھ اس کی مبارکی مشہور ہے وہ بھی صحیح نہیں ہے۔ (مخزن) زمر دجیسا عمدہ سبز رنگ اور کوئی جواہر نہیں۔ یہ ان متذکرہ بالا اقسام جواہر سے جن کا اصل (الیومینا یا کاربن) تھا۔ ایک مختلف قسم کا جواہر ہے جس کا اصل سیلیکا (Silica )ہے۔ اس جواہر کا گہرا سبز رنگ آنکھوں کو بہت بھاتا ہے۔ شہر اولڈروم، مصر، پومپائی ( یہ ایک پرانے شہر کے کھنڈرات ہیں جو کوہ ویسویس واقعہ (اٹلی) کے دامن میں تھا اور 79 میں برباد ہوا) ہر کونسیم کے کھنڈرات سے زمرد کے زیورات پائے جانے سے معلوم ہوتا ہے کہ متقدمین زید کو استعمال کرتے تھے۔ چنانچہ پلائینی ایک کتاب میں لکھتا ہے کہ ’’ متقدمین زمرد کو اچھی طرح جانتے تھے اور اس کی قدر کرتے تھے۔ صاحب مذکور اس جوہر کو سمار گدس (Simargdus) کے نام سے لکھتے ہیں اور اس کی بابت کئی طرح کے عجیب و غریب بیان درج کرتے ہیں کئی اور شہادتوں سے بھی صاف ظاہر ہے کہ زمانہ سلف میں لوگ زمرد کو اچھی طرح جانتے تھے۔ چنانچہ 240ء میں سیویلی (Seuille) (ہسپانیہ کا ایک بڑا شہر جو دریائے گوایڈل کور پر واقعہ ہے) کاپادری اسے دودس نامی بیان کرتا ہے کہ ’’ تمام سبز رنگ پتھروں میں زمرد افضل ہے اس کا رنگ ان اشخاص کی آنکھوں کے لئے جو اس کے کاٹنے اور جلا کرنے میں مشغول ہوتے ہیں نہایت مفید ہے۔‘‘ گیارھویں صدر میں پسیلس (Pesellos) زمرد کے بابت لکھتا ہے کہ ’’ یہ جواہر عمدہ سبز رنگ ہے اور اس کے کئی ایک عدد سنہری نیلے رنگ کے بھی ہوتے ہیں۔ اگر اس میں پانی ملائیں تو یہ صرع اور کئی ایک اور بیماریوں کو شفا دے سکتا ہے۔ پلائینی زمرد کی چمک وغیرہ خواص کی بابت کئی ایک کا بیان لکھتا ہے۔ بعض محققین زمرد کی دو اقسام بیان کرتے ہیں۔ ایک زمر دوسرا زبرد لیکن فی الحقیقت زبر جد زمرد سے کئی لحاظ میں مختلف ہے۔ اس لئے ا س کا بیان جواہرات درجہ دوم میں کیا جاتا ہے۔ عرب و فارس کے حکماء زمرد کے مفصلہ ذیل انواع بیان کرتے ہیں۔ (1) زہابی جن کا سنہری رنگ ہو۔ بعض ماہرین کی رائے ہے کہ جس جگہ زمرد کی یہ قسم رکھی جائے وہاں مکھیاں نہیں آ سکتیں۔ (2) سعیدی یہ سعید مصر سے آتا ہے۔ اگر اس پر نگاہ ڈالیں تو انسان کا عکس دکھلائی دیتا ہے او ر آنکھیں بند معلوم ہوتی ہیں۔ (3) ریحانی گل ریحان کی طرح سبز رنگ (4) فستقی ( عربی لفظ بمعنی پستہ، زردی مائل، سبز رنگ جو مغز پستہ کی طرح ہوتا ہے) سیاہی مائل سبز رنگ اس کو پرانا زمر دبھی کہتے ہیں۔ (5) سلقی ( عربی لفظ معنی چقندریہ یہ ایک ترکاری ہوتی ہے جو شلغم کی مانند ہوتی ہے) جن کا رنگ فارس کے چقندر کی طرح ہو۔ (6) زنجاری یا رتگاری جن کا رنگ مرچ سا ہو۔ (7) کیراثی ( ایک قسم کا پودا جسے گنڈنا کہتے ہیں) جن کا رنگ کیراث کی طرح ہو۔ (8) صابونی جن کا رنگ سفید اور سبز کی ملاوٹ سے ہو۔ ان میں سے عمدہ دو قسم گنا جاتا ہے جو سخت،صاف، سبز رنگ، بے عیب ہو۔ آج کل کے ہندوستانی جو ہری زمرد کے مفصلہ ذیل اقسام بیان کرتے ہیں۔ 1۔ پرانا 2۔ مرگجا 3۔ توڑیکا 4۔ پیالیکا 5۔ نیا 6۔ جہاجی اور ہر ایک کی دو نوع بتلاتے ہیں۔ کاہی اور دہانی نوع۔ کاہی ان کو کہتے ہیں جن میں سیاہی مائل سبز رنگ ہو اور دہانی جن کا زردی مائل سبز رنگ ہو
عقیق
اسم معروف: عقیق۔ فارسی ، عقیق۔ عربی: عقیق ماہیت: مشہور پتھر ہے عمدہ یمنی ہوتا ہے۔ طبیعت: سردو خشک ہے دوسرے درجے میں۔ رنگ و بو: سرخ و زرد و سفید و سیاہ و شجری۔ ذائقہ: پھیکا کوئی مزہ نہیں۔ مضر: گردے کے لئے مضر ہے۔ مصلح: کتیرا اور اشیائے تر۔ بدل: بسد احمر یعنی مونگے کی جڑ اور کہربا۔ نسبت ستارہ: منسوب ہے پلوٹو سے۔ نفع خاص: مقوی دل و بصر و دندان رافع خفقان۔ کامل: پونے دو ماشے تک۔ ناقص: چار رتی یا چھ رتی تک۔ افعال و خواص: باریک حل کیا ہوا قریب چھ رتی کے پینا دل کو قوت دیتا ہے۔ خفقان کا دافع اور حابس خون ہے۔ خصوصاً خون حیض کا جو کسی طرح بن نہ ہوتا ہو اور ادویہ مفتحہ کے ساتھ جگر اور طحال کے سدوں کا دافع اور ادویہ مفتتہ کے ساتھ مفت حصاۃ ہے سرمہ اس کا مقوی بصر اور منجن دانتوں کا مقوی ہے اور خون بہنے کا مانع اور گلے میں لٹکانا غصے اور غضب کا دافع اور خفقان کو سود مند۔ عقیق ایک خوش شکل او ر مشہور جواہر ہے۔ بعض علماء کی رائے ہے کہ عقیق فی الحقیقت از قسم معدنیات نہیں کیونکہ لفظ معدنیات حرف انہیں کافی اشیاء پر عائد ہو سکتا ہے کہ جن کی اجزاء کو اگر از روئے علم کیمیا تحلیل کیا جائے تو ہر ایک حصہ کی ہوی ماہیت ہو جو اس دھات کی ہے۔ جس کا وہ جزو ہے۔ عقیق میں یہ بات نہیں۔ یہ جواہر سیلیکا اور کوارٹرز قسم کی چند معدنیات کا مجموعہ ہے۔ جو کہ رنگ ڈھنگ اور بناوٹ میں ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ جب ان معدنیات میں دو یا زیادہ مل کر ڈلی بن جاتی ہیں اور ان پر داغ اور طبقہ پڑ جاتے ہیں تو یہ عقیق کہلاتے ہیں۔ یہ معدنیا ت از خود از قسم جواہر ہیں اور ان کیانام یہ ہیں۔ کالسڈونی، رودراکھ، سنگ سلیمانی، سنگ یشم، اوپل، امیتھسٹ سنگ ستارہ، حجر الدم، سنگ موچا اور بھیکہم۔
یہ صفحات اسی زمرے میں ہیں
متعلقہ مضامین
6 مضامینحوت
حوت حساس، تخیل میں ڈوبا ہوا اور دوسروں کے لیے شفقت لاتا ہے۔
دلو
دلو مستقبل کو دیکھتا ہے، نئے آئیڈیاز اور انسانیت کی خدمت کے لیے سرگرم رہتا ہے۔
جدی
جدی ذمہ داری قبول کرتا ہے، عرصہ دراز کی منصوبہ بندی اور احتساب میں یقین رکھتا ہے۔
قوس
قوس سچائی کا متلاشی، سفر اور نئی دفتروں کے دروازے کھولتا ہے۔
عقرب
عقرب گہری سوچ رکھنے والا، راز اور دوبارہ پیدا ہونے کا کردار ادا کرتا ہے۔
میزان
میزان توازن کا ماہر، حسین منظر اور تعلقات میں ہم آہنگی پسند کرتا ہے۔
یہ مضامین آپ کی دلچسپی کے ہو سکتے ہیں