افعال و خواص

تفصیل

اس کا لٹکانا دل کو قوت دینا اور خوف و ڈر کا مانع اور سرعت ولادت کا مفید اور شش پھل صرع کو مفید اور منجن اس کا دانتوں کا مجلی لیکن اس سے پرہیز بہتر ہے زہر ہے۔

متعلقہ صفحات

2 صفحات

مخزن الادویہ

قادر مطلق نے الماس کو کیا عجیب شے بنایا ہے۔ اس کی چمک دمک آب و تاب دل کو بھاتی ہے۔ کہ ہر ایک شخص دل و جان سے اس کا شائق ہے۔ قدرت نے اسے ایسا نادر اور بے بہا شے بنادیا ہے کہ ہر بشر کے نصیب میں نہیں ہو سکتا۔ گویا اس کے زیادہ عزیز ہونے کاایک باعث ہے۔ متقدمین حکماء نے اگر اس کے بارے میں کچھ لکھا ہے تو بہت ہی مجمل اور ناتشقی وہ جس سے پوری واقفیت پیدا نہیں ہو سکتی۔ اگرچہ یونانیوں کی پرانی کتابوں میں اس کا کئی جگہ ذکر آیا ہے۔ لیکن زمانہ سلف میں اہل یورپ کو یہ جواہر معلوم نہ تھا۔ صرف تھوڑے ہی عرصہ سے انہیں اس کی پوری واقفیت حاصل ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں

خواص و ماہیت

الماس کی ہیئت ذاتی حالت آغاز میں جب کہ یہ کان سے نکلتا ہے۔ عموماً ہشت پہلو اور مشتبہ معین دوازدہ اضلاع ہوتے ہیں۔ اس لئے اسے از قسم ٹیسیرل (Tesseral) بیان کرتے ہیں۔ اس کی ذاتی شکل میں خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ہر یاک ضلع کے اوپر کی سطح ذراع خم دار یا قبہ دار ہوتی ہے۔ درحالیکہ دیگر قلموں کی بناوٹ کے پتھروں کی سطح اکثر ہموار ہوتی ہے۔اس کے پہلو کے متوازی ایک قدرتی شگاف ہوتا ہے جس کے عیب دار حصہ کو نکالنے میں بڑی آسانی ہوتی ہے۔ الماس کی اکثر ذاتی شکل قائم نہیں رکھی جاتی بلکہ اے کاٹ کر حسب ضرورت کئی شکلوں کا بنا لیتے ہیں۔ اس بریلینٹ ورز یعنی گلابی اور ٹیبل کاٹ کا بناتے ہیں لیکن اسکے لئے بریلینٹ کاٹ زیادہ تر موزوں ہے۔ گلابی اور ٹیبل کاٹ کا بھی اکثر الماس کاٹا جاتا ہے۔ چونکہ الماس میں اعلیٰ درجہ کی سختی ہوتی ہے اس لئیاس پر عمدہ جلا آ سکتا ہے۔ اس خواص سختی کے باعث ہی بڑے بڑے قدیم زمانہ کے الماس ہمیں نصیب ہوئے اگر اس میں اتنی سختی نہ ہوتی وت وہ کوہ نور مغل اعظم وغیرہ ہزار ہا صدیوں کے ہیرا ہم نہ دیکھ سکتے۔

مزید پڑھیں

یہ صفحات اسی زمرے میں ہیں