مکمل راستہ
برج
میزان
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 24؍ ستمبر تا 22؍ اکتوبر نشان ۔۔۔۔۔۔ ترازو عنصر ۔۔۔۔۔۔ بادی حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ زہرہ موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ نیلم، اوپل موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ سفید، سبز، زرد، ہلکا نیلا موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 6 اور 9 موافق دن ۔۔۔۔۔۔ جمعہ
برج میزان کے موافق پتھروں کے خواص
نیلم
اسم معروف :نیلم۔ فارسی نیلم۔ عربی، یاقوت کبود۔ ہندی: نیلمن ماہیت: مشہور پتھر ہے معدنی اعلیٰ قسم کا جس کے نگینے وغیرہ بنائے جاتے ہیں۔ طبیعت پہلے درجے میں گرم اور تیسرے میں خشک ہے۔ رنگ و بو نیلا صاف شفاف چمکدار۔ ذائقہ پھیکا کوئی مزہ غالب نہیں۔ مضر: گرم مزاجوں کو مضر ہے۔ مصلح: یاقوت سفید اور اشیائے سرد۔ بدل: یاقوت سرخ یا زرد۔ نسبت سیارہ: منسوب زحل ہے۔ نفع خاص: مفرح و مقوی دل و دماغ۔ کامل : ساڑھے تین رتی تک۔ ناقص: رتی سے دورتی تک۔ افعال و خواص: مفرح ہے اور دل و دماغ کو قوت اور ایک ورم حل کر کے پلانا صرع اور وسواس اس، خفقان، طاعون، نزف الدم، دفع زہر، تغیر ہوائے بائی میں مفید، خون کو صاف کرتا، حرارت غریزی اور قوائے حیوانی کا محافظ ہے اس کا منہ میں رکھنا منہ کی بدبو کا دافع تشنگی کا مسکن، مقوی دل و مفرح ہے، سرمہ اس کا مقوی بصر اور محافظ چشم ہے۔ (مخزن) نیلم جسے سنسکرت میں نیلا، انگریزی میں سیفائر (Sapphire) اور فارسی عربی میں یاقوت ارزق کہتے ہیں نہایت ہی عمدہ نیلگوں جواہر ہے۔ اس کی چمک دمک اور آسمانی نیلی رنگت دل کو بہت بھاتی ہے۔ یہ جواہر زمانہ قدیم سے مشہور چلا آ رہا ہے اور اہل ہنود اور اہل اسلام کی پرانی کتابوں میں اس کا ذکر آیا ہے۔ اس جواہر کے برابر کسی اور جواہر کے خواص سحری نہیں مانے جاتے تھے۔ یونانی لوگ اسے اپولو ( یونانیوں کے ایک معبود کا نام) کی نظر کرتے تھے۔ جواہر اپنی خوش رنگت اور چمک چمک کے باعث زیبائش بد نی کے لئے بہت مروج ہے۔ متقدمین چونکہ ایسے سخت جواہر کو کاٹنا بڑا مشکل سمجھتے تھے اس لئے یہ زیورات میں بہت کم مستعمل تھا۔ نیلم کے پانچ اقسام بیان کئے جاتے ہیں اور اس کے پہننے کے مختلف فوائد لکھتے ہیں۔ (1) گوڈتو، جو مقدار میں چھوٹا اور تول میں بھاری ہو اس کے پہننے سے دل کی مرادیں بھر آتی ہیں۔ (2) سنگرت جو ہمیشہ چمکتا رہے اس کے پہننے سے دولت اور محبت بڑھتی ہے۔ (3) درناڑی جسے سورج کے سامنے رکھنے سے نیلے رنگ کی کرنیں نکلیں اص کے پہننے سے مال اور اجناس حاصل ہوتے ہیں۔ (4) پارشوت، جس سے سنہری روپہری اور بلوری چمکیں نکلیں اس کے پہننے سے ناموری ہوتی ہے۔ (5) رنج کیتو، جس کو برتن میں رکھنے سے اس کی چمک کے باعث برتن نیلا دکھلا ئی دے۔ اس کے پہننے سے اولاد کو ترقی ہوتی ہے۔ ایک مہانیل نامی نیلم ہوتا ہے۔ جسے اگر اس سے سو حصہ زیادہ دودھ میں ڈال دیں تو اس کی چمک سے دودھ نیلے رنگ کا دکھلائی دیتا ہے۔ ایک اندر نیل نامی نیلم ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ کتب سنسکرت میں کئی عیب دار اور نحس نیلم لکھے گئے ہیں۔ جن کے پہننے سے کئی ضرر اور نقصان متصور ہوتے ہیں وہ چھ ہیں۔ (1) ابرق جس کے اوپر کے حصہ میں بادل کی سی چمک ہو اس سے عمر و دولت برباد ہوتی ہے۔ (2) تراش جس میں ٹوٹے پن کا نشان ہو۔ اس سے ریچھ وغیرہ جانوروں سے ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ (3) چترک جو مندرجہ بالا رنگوں سے کسی مختلف رنگ کی ہو اس کے پہننے سے قوم کی بربادی متصور ہے۔ (4) مرت گریہہ جس کا مٹیلا سا رنگ ہو اس سے کئی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ (5) اشم گریہہ جس میں پتھر کا سا ٹکڑا معلوم ہو۔ اس کے پہننے سے موت کا ڈر ہوتا ہے۔ (6) روکہی جس میں سفید چینی کی طرح داغ ہوں اس کے پہننے سے جال وطنی کا ڈر ہے۔ آج کل کے جواہری نیلم کی دو قسمیں بیان کرتے ہیں۔ اول پران، دوم نیا ہر ایک کی تین نوعیں بتلاتے ہیں۔ (1) سبزین نیلا یا نیلا مائل سبزی۔ (2) لال پن نیلا۔ (3) خوب نیلا یعنی گہرا نیلگوں، اہل فارس نیلم کو یاقوت کی ایک قسم بیان کرتے ہیں اور اس لئے یاقوت ازرق کہتے ہیں لیکن فی الحقیقت یہ یاقوت سے ایک علیحدہ جواہر ہے
خواص وماہیت
تفصیل
نیلم کی معدنی شکل شش پہلو متوازی الاضلاع یا مسدس ہوتی ہے۔ اس لئے یہ زمرہ ڈچروک (Dichroic) میں گنا جاتا ہے۔ اس میں سختی 9 درجہ ہے۔ اس لئے یہ صرف الماس سے ہی کاٹا جا سکتا ہے۔ نیلم کا رنگ بہت عمدہ خوشنما ہوتا ہے یعنی روشن نیلگوں سے ارغوانی رنگ کے نیلم بھی ہوتے ہیں۔ کتب اہل ہنود میں ان کے علاوہ نیلم کئی اور انواع بیان کئے گئے ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے کہ ’’ اگرچہ اصلی نیلم کا رنگ نیلا ہے جس کے باعث یہ نیلم کہلاتا ہے پھر بھی ایک اور رنگوں جھلک ان میں ظاہر ہوتی ہے۔ چنانچہ بعض نیلم کنول کے پھول کی طرح، بعض تلوار، بھونرے، سمندر کے پانی، کوئل کے گلے وغیرہ کی مانند نیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ ان کے رنگوں کے لحاظ پر چار نوعیں ہیں۔ (1) برہمن نیلم (سفیدی مائل نیلا) (2) چھتری (سرخی مائل نیلا) (3) ویش (زردی مائل نیلا) (4) شودر (سیاہی مائل نیلا) نیلم کا وزن مخصوص 9ء3 سے 2ء3 تک ہے۔ نیلم کے مرکبات کیمیائی طاقت انعکاس وغیرہ و دیگر خواص یاقوت سے ملتے ہیں۔ نیلم اور یاقوت میں صرف رنگ کا ہی فرق ہے۔ یعنی نیلم کا رنگ آسمانی نیلگوں اور یاقوت کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ نیلم کا رنگ مادہ کروم (ایک مشہور عنصر) کی ترکیب کے باعث ہوتا ہے۔ گرمی کی تاب سے سفید اور زردی مائل نیلم سفید ہو جاتے ہیں لیکن مشرقی نیلم کا رنگ گیس کی روشنی کے آگے ایسا ہی رہتا ہے۔ ہاں کم درجہ عدوں کا رنگ امینہٹ کے رنگ کی طرح تاریک ہو جاتا ہے۔
متعلقہ مضامین
6 مضامینمشہور و معروف
کئی ایک ایسے اوپل ہیں جو خوش رنگت اور مقدار کے باعث نامزد عالم ہیں۔ ان میں سے چند کا بیان ہدیہ ناظرین با تمکین کیا جاتا ہے۔ (1) نمائش گاہ 1851ء میں ایک ہنگری کا اوپل 526-1/2 قیراط وزنی 10 ہزار روپے قیمتی دیکھا گیا۔ (2)کان ہنگری سے 1866ء میں دو بہت عمدہ کر دی شکل اوپل نکلے۔ ایک 186قیراط ، دوم 160 قیراط وزنی تھا۔ (3) پلائینی ایک عدد کے بارے میں لکھتا ہے کہ ’’ یہ رنگ سپاری کے برابر مقدار میں 2 لاکھ روپے قیمتی سینٹر نوینس (Senator Nonws) کے پاس تھا۔ ایک شخص مارک انٹوی (Marc Antony) نامی نے یہ جواہر مانگا۔ یکن نوینس نے اسے دینا نہ چاہا او اسے لے کر بھاگ گیا۔ (4) شاہ دنیا کے جواہرات میں ایک عدد 17 اونس وزنی مشت کے برابر ہے۔ (5) آج کل سب سے عمدہ اوپل ہے جو ملکہ جوزفائن (Josephine) کے پاس ہے۔ اور اشعہ لمعان کے باعث برننگ ٹرائی (Burring Truy) کے نام سے مشہور ہے۔ (6) ایک اوپل پر لوس سیز وہم کی قیصر بنقش ہے۔ (7) ایک اوپل پرجوبا کی تصویر ہے۔ یہ مجمع الجواہرات ڈیوک آف آرلینز میں ہے۔ (8) ہوپ کے جواہرات میں کئی نگ ہیں ایک 11 انچ طول 12/4 عرض، بڑا شفاف و خوش رنگ ہے۔اس پر اپولوکے سر کانقش ہے۔جس کے ارد گرد آتشی کرنیں حلقہ کے طور پر محیط ہیں۔
قیمت کا تعین
اس جواہر کی قیمت رنگت پر منحصر ہے۔ ہنگری کا اوپل سب اقسام سے زیادہ قیمت پاتا ہے۔ زمانہ قدیم میں اس کی قیمت الماس کے برابر ہوتی تھی۔ رومی اس کے بہت شائق ہیں۔ بہت بڑے نگ کمیاب ہونے کے باعث نہایت بیش بہا ہوتے ہیں۔ اس کی قیمت پر رواج کا بھی اثر ہوتا ہے۔
حوت
حوت حساس، تخیل میں ڈوبا ہوا اور دوسروں کے لیے شفقت لاتا ہے۔
دلو
دلو مستقبل کو دیکھتا ہے، نئے آئیڈیاز اور انسانیت کی خدمت کے لیے سرگرم رہتا ہے۔
جدی
جدی ذمہ داری قبول کرتا ہے، عرصہ دراز کی منصوبہ بندی اور احتساب میں یقین رکھتا ہے۔
قوس
قوس سچائی کا متلاشی، سفر اور نئی دفتروں کے دروازے کھولتا ہے۔
یہ مضامین آپ کی دلچسپی کے ہو سکتے ہیں