مکمل راستہ
برج
میزان
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 24؍ ستمبر تا 22؍ اکتوبر نشان ۔۔۔۔۔۔ ترازو عنصر ۔۔۔۔۔۔ بادی حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ زہرہ موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ نیلم، اوپل موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ سفید، سبز، زرد، ہلکا نیلا موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 6 اور 9 موافق دن ۔۔۔۔۔۔ جمعہ
برج میزان کے موافق پتھروں کے خواص
یمنی اوپل دودھیا پتھر
یہ جواہر بڑا قیمتی اور پرانا ہے۔ زمانہ سلف کے حکماء اس کے بارے میں اپنے اپنے بیانات لکھ گئے ہیں۔ چنانچہ نکل لکھتا ہے کہ ’’ اس جواہر کی آب و تاب کاربنکل کی مانند ہے۔ اور اس کے عمدہ زعفرانی رنگ امتھسٹ کے مشابہ ہے اور زرد رنگ میں یہ زمرد سے ملتا ہے۔‘‘ بویش لکھتا ہے کہ یہ جواہر خوش رنگتی میں تمام جواہرات پر فوقیت رکھتا ہے۔ پلائینی کا بیان ہے کہ یہ جواہر تمام جواہرات پر شان و شوکت میں افضل ہے۔‘‘ علیٰ ہذا لقیاس۔ زمانہ قدیم میں یہ جواہرات باعث عزت و رفعت سمجھا جاتا تھا۔ زمانہ متوسط تک لوگوں کے دلوں میں اس کی نسبت ایسے ہی خیال تھے۔ سترہویں صدی کے آغاز سے پیشتر اس جواہر کی بڑی قدر ہوتی۔ اس کے خواص سحری کا خیال سر واٹلر سکاٹ نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا۔ اس جواہر کی کئی ایک قسمیں ہیں۔ ان میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔ (1) سیاہ اوپل۔ یہ قسم باقی قسم کے اوپلوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ اس کا رنگ بہت ہی عمدہ ہے۔ کان ہائے ہنگری کے مالک بیرن گولڈ شمڈٹ (Baron Gold Schmudt) نے اپنی کان سے اس قسم کے کئی نگ بھیجے جن کی صرف مبصرین قیمت ڈال سکتے ہیں۔ اسی قسم کا ایک نگ مرغٰی کے بیضہ کی مقدار کا تھا بہت مہنگا فروخت ہوا۔ اب یہ قسم بہت نایاب ہے بعض محققین کی رائے ہے کہ از روئے علم کیمیا اس قسم کی پیدائش عمدہ نہیں ہوتی۔ (2) اعلیٰ قسم کا اوپل (3) آتشی اوپل اس کے اندر سے چمکیلی سرخ رنگ کی دمکیں نکلتی ہیں۔ یہ ہنگری اور کارنوال میں پایا جاتا ہے۔ (4) عام اوپل یا سیمی اوپل اس میں عمدہ دودھی رنگ ہوتا ہے۔شیشہ سے یہ چھیلاجاسکتاہے۔ (5) ہائیڈ روفین (Hydrophane) تارمک خوش رنگ۔ (6) کیچو لانگ (Cacholong)چونکہ یہ دریائے کیچ (Cache) (افریقہ میں 12 شمالاً غرباً پر ہے) واقعہ بوچیریا (Bucharia) سے نکلتا ہے۔ اس لئے اس کو کیچولانگ کہتے ہیں۔ یہ کالسڈونی کے مشابہ ہے۔ (7) ہایا لائیٹ (Hyalite) یا ملرس گلاس (Millers Glass) (یعنی شیشہ حکاک)یا فیورئیٹ (Fiorite) بلورن چمک۔ شفاف۔ (8) مینی لائیٹ (Menilite) اس کا نام کوہ مینل (Menil) پر پڑا ہے۔ جہاں کہ یہ پایا جاتا ہے۔ رنگ بھورا (9) ورڈ اوپل (Wordopal) یعنی چوبی اوپل، رنگ خاکی، بھورا سیاہ، چوبی ساخت کا ہے۔ اصل میں ہیڈریٹ سیلیکا کے باعث چوبی شکل کا ہوا ہے۔ (10)اوپل جیسپر یہ سنگ یشم کے مشابہ ہے۔ (11) سبلیش سنٹر (Sibicious Sintr) کوہ ہائے آتش فشاں و چشمہ ہائے گرم کے قریب و جوار میں ملتا ہے۔ (12) بٹاشر، شکل معدنی اوپل معہ پتھر کے جس میں سے یہ نکلتا ہے۔
قیمت کا تعین
تفصیل
اس جواہر کی قیمت رنگت پر منحصر ہے۔ ہنگری کا اوپل سب اقسام سے زیادہ قیمت پاتا ہے۔ زمانہ قدیم میں اس کی قیمت الماس کے برابر ہوتی تھی۔ رومی اس کے بہت شائق ہیں۔ بہت بڑے نگ کمیاب ہونے کے باعث نہایت بیش بہا ہوتے ہیں۔ اس کی قیمت پر رواج کا بھی اثر ہوتا ہے۔
متعلقہ صفحات
2 صفحاتماہیت
اوپل کی کافی شکل امور فس ہے۔ ختی 5ء5 سے 6 - چمک بلورین مرداردیدی، روگن، رنگ سفید، زرد، بھورا، سبز خاکی۔ اس کے رنگ ہائے بو قلموں کی نمائش کا باعث ٹھیک ٹھیک تحقیق نہیں ہوا۔ صاحب کی رائے ہے کہ اس کا باعث اندرونی درزیں ہیں جن میں ہوا بھری ہوئی ہوتی ہے۔ وزن مخصوص 1 سے 1 ء 2 تک۔ اس جواہر میں کئی چھوٹے چھوٹے نشیب ہوتے ہیں۔ جس میں ایک قسم کی رطوبت بھری جاتی ہے۔ وزن مخصوص انہی کے باعث ہے۔ یہ نیم شفاف ہے۔ اس میں90 حصہ سیلیکا 10 حصہ پانی مرکب ہے۔ دھونکنی کی مدد سے بھی نہیں پگھلتا۔ اگرتیزگرمی پہنچائی جائے تو پانی دور ہو جانے کے باعث یہ تاریک ہو جاتا ہے۔ جن اقسام میں کچھ لوہا بھی ہوتا ہے وہ گرمی سے سرخ ہو جاتے ہیں۔ عموماً تھوڑی گرمی میں اس کا رنگ شوخ ہو جاتا ہے۔
مشہور و معروف
کئی ایک ایسے اوپل ہیں جو خوش رنگت اور مقدار کے باعث نامزد عالم ہیں۔ ان میں سے چند کا بیان ہدیہ ناظرین با تمکین کیا جاتا ہے۔ (1) نمائش گاہ 1851ء میں ایک ہنگری کا اوپل 526-1/2 قیراط وزنی 10 ہزار روپے قیمتی دیکھا گیا۔ (2)کان ہنگری سے 1866ء میں دو بہت عمدہ کر دی شکل اوپل نکلے۔ ایک 186قیراط ، دوم 160 قیراط وزنی تھا۔ (3) پلائینی ایک عدد کے بارے میں لکھتا ہے کہ ’’ یہ رنگ سپاری کے برابر مقدار میں 2 لاکھ روپے قیمتی سینٹر نوینس (Senator Nonws) کے پاس تھا۔ ایک شخص مارک انٹوی (Marc Antony) نامی نے یہ جواہر مانگا۔ یکن نوینس نے اسے دینا نہ چاہا او اسے لے کر بھاگ گیا۔ (4) شاہ دنیا کے جواہرات میں ایک عدد 17 اونس وزنی مشت کے برابر ہے۔ (5) آج کل سب سے عمدہ اوپل ہے جو ملکہ جوزفائن (Josephine) کے پاس ہے۔ اور اشعہ لمعان کے باعث برننگ ٹرائی (Burring Truy) کے نام سے مشہور ہے۔ (6) ایک اوپل پر لوس سیز وہم کی قیصر بنقش ہے۔ (7) ایک اوپل پرجوبا کی تصویر ہے۔ یہ مجمع الجواہرات ڈیوک آف آرلینز میں ہے۔ (8) ہوپ کے جواہرات میں کئی نگ ہیں ایک 11 انچ طول 12/4 عرض، بڑا شفاف و خوش رنگ ہے۔اس پر اپولوکے سر کانقش ہے۔جس کے ارد گرد آتشی کرنیں حلقہ کے طور پر محیط ہیں۔
یہ صفحات اسی زمرے میں ہیں
متعلقہ مضامین
6 مضامینمشہور و معروف نیلم
(1) سفیر انگریزی نے آوا (برہما کا ایک مشہور شہر) میں ایک نیلم 951 قیراط وزنی عمدہ خوش رنگ و بے عیب دیکھا۔ (2) پیرس کے شاہی خزانہ میں ایک بڑا خوشنما بے عیب بادامی شکل 122-1/16 قیراط وزنی نیلم ہے۔ جس کو ایک ڈولیاں بیچنے والی بنگالی نے حاصل کیا۔ اس لئے اس کا نام ڈون سپون سیلری پڑا۔ بعدہ یہ نیلم ریسپولی (House of Rospali) کے گھرانے (یہ گھر شہر روم میں ہے) میں آنے سے بنام ریسپولی مشہور ہوا۔ پھر یہ ایک جرمنی کے شہزادہ کے پاس فروخت ہوا۔ جس نے اسے ایک فرانسیسی جوہر پیرٹ نامی کے پاس 28 ہزار روپے میں بیچ ڈالا۔ (3) آج کل یورپ میں نہایت مشہور دو نیلم ہیں۔جو 1863ء کی نمائش گاہ لندن میں دکھلائے گئے۔ ایک سیاہ بادامی شکل بے عیب اور تقریباً 252 قیراط وزنی ہے۔ دوسرا اس سے کچھ کم وزن تھا جو 1856ء میں 225 قیراط وزنی ہندوستان سے وہاں کا کاٹا ہوا آیا تھا۔ اس میں ایک بڑا عیب زردی مائل تھا۔ دوبارہ کٹوائے جانے سے یہ 165 قیراط رہ گیا اور پیرس میں 7 یا 8 ہزار پونڈ پر فروخت ہوا۔ (4) ملکہ کے تاج میں ایک بہت بڑا نیلم مارویلک (Marveilex) نامی دیکھا گیا۔ جس کا رنگ دن میں نیلگوں اور رات کے وقت زمرد سا دکھلائی دیتا تھا۔ چونکہ نیلم بہت سخت ہے اس لئے اس پر کھدائی کا کام نہیں ہوتا ہے۔ صرف چند ہی نیلم ایسے ہیں جن پر کھدائی کا کام دیکھا گیا ہے۔ (1) چنانچہ روم میں ایک نیلم ہے جس پر ہر کولیس (Hercules) کی تصویر بنقش ہے۔ (2) فرمانروائے لیکسینسی کے پاس ایک نیلم 53قیراط وزنی ہے جس پر ایک شکار کا نظارہ کھدا ہوا ہے اور ساتھ الفاظ کانٹس آگ (Constentius Aug) کندہ ہیں۔ یہ نظارہ اس طرح ہے کہ ایک بادشاہ ایک جنگلی سور پر جو ایک حسین عورت کے روبر کھڑا ہے برچھی لگا رہا ہے۔ (3) ایک عمدہ 3/4 انچ مربع نیلم پر پوپ پال (Pop Paul) سوم کی تصویر کندہ ہے۔ (4) ایک زرد رنگ پانچ پہلو دار نیلم دیکھا گیا جس پر ہنری چہارم کی تصویر بنقش تھی اور ساتھ الفاظ سی ،ڈی ، ایف ( C.D.F) کندہ تھے۔ (5) ایک نیلم 3/4 انچ طول، 11/2 انچ عرض میں دیکھا گیا جس پر کیرا کلا کے چہرے کا نقش کندہ تھا۔ (6) ایک پرانے نیلم پر کارڈیہ نل ولسی (Caridinel Wolsey) کی کلغی اور باروؤں کا نقش کندہ ہے۔ علی ہذا القیاس
خواص وماہیت
نیلم کی معدنی شکل شش پہلو متوازی الاضلاع یا مسدس ہوتی ہے۔ اس لئے یہ زمرہ ڈچروک (Dichroic) میں گنا جاتا ہے۔ اس میں سختی 9 درجہ ہے۔ اس لئے یہ صرف الماس سے ہی کاٹا جا سکتا ہے۔ نیلم کا رنگ بہت عمدہ خوشنما ہوتا ہے یعنی روشن نیلگوں سے ارغوانی رنگ کے نیلم بھی ہوتے ہیں۔ کتب اہل ہنود میں ان کے علاوہ نیلم کئی اور انواع بیان کئے گئے ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے کہ ’’ اگرچہ اصلی نیلم کا رنگ نیلا ہے جس کے باعث یہ نیلم کہلاتا ہے پھر بھی ایک اور رنگوں جھلک ان میں ظاہر ہوتی ہے۔ چنانچہ بعض نیلم کنول کے پھول کی طرح، بعض تلوار، بھونرے، سمندر کے پانی، کوئل کے گلے وغیرہ کی مانند نیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ ان کے رنگوں کے لحاظ پر چار نوعیں ہیں۔ (1) برہمن نیلم (سفیدی مائل نیلا) (2) چھتری (سرخی مائل نیلا) (3) ویش (زردی مائل نیلا) (4) شودر (سیاہی مائل نیلا) نیلم کا وزن مخصوص 9ء3 سے 2ء3 تک ہے۔ نیلم کے مرکبات کیمیائی طاقت انعکاس وغیرہ و دیگر خواص یاقوت سے ملتے ہیں۔ نیلم اور یاقوت میں صرف رنگ کا ہی فرق ہے۔ یعنی نیلم کا رنگ آسمانی نیلگوں اور یاقوت کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ نیلم کا رنگ مادہ کروم (ایک مشہور عنصر) کی ترکیب کے باعث ہوتا ہے۔ گرمی کی تاب سے سفید اور زردی مائل نیلم سفید ہو جاتے ہیں لیکن مشرقی نیلم کا رنگ گیس کی روشنی کے آگے ایسا ہی رہتا ہے۔ ہاں کم درجہ عدوں کا رنگ امینہٹ کے رنگ کی طرح تاریک ہو جاتا ہے۔
حوت
حوت حساس، تخیل میں ڈوبا ہوا اور دوسروں کے لیے شفقت لاتا ہے۔
دلو
دلو مستقبل کو دیکھتا ہے، نئے آئیڈیاز اور انسانیت کی خدمت کے لیے سرگرم رہتا ہے۔
جدی
جدی ذمہ داری قبول کرتا ہے، عرصہ دراز کی منصوبہ بندی اور احتساب میں یقین رکھتا ہے۔
قوس
قوس سچائی کا متلاشی، سفر اور نئی دفتروں کے دروازے کھولتا ہے۔
یہ مضامین آپ کی دلچسپی کے ہو سکتے ہیں