مکمل راستہ
برج
عقرب
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 23؍ اکتوبر نشان ۔۔۔۔۔۔ بچھو عنصر ۔۔۔۔۔۔ آبی حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ پلوٹو۔ مریخ مبارک عدد ۔۔۔۔۔۔ 9 مبارک دن ۔۔۔۔۔۔ منگل مبارک پتھر ۔۔۔۔۔۔ پکھراج، سنگ سلیمانی، اوپل مبارک رنگ ۔۔۔۔۔۔ نیلا ، سبز، سرخ، بھورا
برج عقرب کے موافق پتھروں کے خواص
پکھراج
پکھراج جسے فاری میں یاقوت ارزق اور ہندی میں پوشپ راگ کہتے ہیں۔ ایک عمدہ زرد رنگ قدیمی جواہر ہے۔ زبان عبرانی میں اسے پت دوہ کہتے ہیں۔ جس کا مصدر سنسکرت لفظ پیت (معنی زرد) معلوم ہوتا ہے۔ یونانی زبان میں اسے ٹوپاسٹیون (Topasitum) کہتے ہیں۔ جس کا مآخذ لفظ ٹپ دوہ ہے۔ جو پت دوہ کا بگڑا ہوا ہے۔ اس کاانگریزی نام ٹوپاز ایک جزیرہ (واقعہ بحیرہ قلزم) کے نام پر پڑا ہے جہاں سے پہلے یہ نکلتا تھا۔ یہ جزیرہ بحیرہ قلزم میں ہے اور چونکہ اس کے گرد ہمیشہ دھند و غبار رہتا ہے اس لئے اس کا نام ٹوپاز پڑا۔ معنی تلاش کرنا پڑا اور اسی سے لفظ ٹوباز نکلا ہے۔ کئی دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جواہر زمانہ قدیم میں مروج تھا۔ چنانچہ بوتش (Boetus) لکھتا ہے کہ یہ جواہر سبزی مائل زرد رنگ کا ہے۔ اور اس کے لئے ایک خواص سحری یمن و برکات مانے جاتے تھے۔ یونانی حکماء لکھتے ہیں کہ ’’ پکھراج غم غصہ کو دور کرتا ہے۔ بازو پر باندھنے سے جادو کا اثر نہیں ہوتا۔ عیاشی سے بچاؤ ہوتا ہے۔‘‘ ماہرین اس کی دو قسمیں بیان کرتے ہیں۔ ایک مشرقی دوم مغربی۔ جس پکھراج میں صرف الیومینا مرکب ہوتا ہے وہ مشرقی اور جن اقسام میں 57 حصہ الیومینا اور باقی سلیکا اور فلورائین مرکب ہوں انہیں مغربی کہتے ہیں۔ کتب سنسکرت میں اس کی چار ذاتیں بیان کی گئی ہیں۔ سفید پکھراج، برہمن، سرخی مائل کھتری، زرد رنگ، ویش اور سیاہی مائل شودر، متقدمین اسے چرائسولیٹ (Chrysolite) کہتے تھے۔ پکھراج کی ایک قسم پس نائیٹ (Pysnite) نامی ہے جو الٹن برگ سے ملتی ہے۔ ایک اور قسم ہے جسے فالیو لائیٹ (Physolite) یا پرائی فائسولائیٹ (Phrphyslite) کہتے ہیں۔ یہ تاریک ہوتی ہے۔ اور گرمی سے سوج جاتی ہے
خواص ماہیت
تفصیل
(1) پکھراج کی کافی شکل قائم الزاویہ متوازی اضلاع اور مستطیل ہوتی ہے۔ (2) اس کی سختی 8 سے 9 تک ہے۔ اس لئے یہ بلور کو کاٹ سکتا ہے اور الماس و نیلم سے کاٹا جاتا ہے۔ (3) چمک اس کی بلورین ہے۔ (4) اس کا رنگ زرد، سفید، نارنجی ۔ دارچینی، نیلگوں، گلابی، پیازی، زردی مائل سفید، سبزی مائل سفید، پہاڑی سبز، آسمانی نیلا، کرمزی، گوشت سا سرخ وغیرہ ہوتا ہے۔ زرد رنگ پکھراج نہایت عمدہ خوشنما ہوتا ہے۔ یہ رنگ جس قدر گہرا ہو اسی قدر قیت زیادہ ہوتی ہے۔ گلابی رنگ کے لحاظ سے اس کے یہ نام ہیں۔ (1) گلابی رنگ پکھراج یہ زرد رنگ پکھراج سے اس طرح بناتے ہیں کہ گہرے زرد رنگ پکھراج کو حقہ کی چلم یا کسی چھوٹی کھٹائی میں رکھ کر اوپر راکھ یا ریت ڈالتے ہیں۔ بعدہ تھوڑی آنچ دینے سے اس کا رنگ زرد سے گلابی ہو جاتا ہے۔ اگر رنگ عمدہ نکلے تو قیمت بڑھ جاتی ہے۔ اس کو برازیل کا پکھراج بھی کہتے ہیں۔ (2) سرخ رنگ پکھراج اس رنگ کا پکھراج کامیاب ہوتا ہے۔ کرمزی رنگ اکثر دیکھے جاتے ہیں۔ (3) نیلگوں پکھراج یہ عمدہ خوش رنگ ہوتا ہے اور چنداں نایاب بھی نہیں ہوتا۔ ہلکے رنگ کے پاری بھدر اس کی بجائے خریدے جاتے ہیں۔ (4) سفید انکوائنس نوداس بھی کہتے ہیں۔ یہ بازو بند، مالا وغیرہ زیورات میں مزین ہوتا ہے۔ (5) وزن مخصوص 2ء3۔ (6) شفاف و براق۔ ( 7) طاقت انعکاس۔ (8) ملنے اور گرمی پہنچانے سے طاقت برقی پیدا ہوتی ہے۔ پہلے پہل پکھراج برازیل کی طاقت برقی 1760ء میں کنٹن (Canton) نامی ایک شخص نے دریافت کی۔ ایب ہائی (Abbe Huuy) نے سائبیریا کے پکھراج میں بھی یہ خواص دیکھا کہ یہ طاقت پکھراج میں 20 یا 24 گھنٹہ تک رہ سکتی ہے۔ سر ڈیویڈ بریوسٹر (Sir David Brewster) نے ایک ایسے پکھراج کو کاٹنے میں جس میں کئی ایک نشیب تھے اور نشیبوں میں بڑی پھیلنے والی رقیق شے تھی۔ ایک عجیب کیفیت دیکھی۔ اس کی غرض یہ تھی کہ ایک نشیب پر شگاف لگا کر اور اسے کھول کر اس کے رقیق مادہ کو دیکھے۔ نشیب کے کھلنے سے دو نہایت سرعت سے پھیلنے والے رقیق مادے جلائے ہوئے حصہ پر بہنے لگے اور بتدریج پھیلنا اور سکڑنا شروع کیا۔ کبھی تو وہ سکڑ کر قطرہ بن جاتے اور کبھی پھیل کر چوڑے ہو جاتے۔ یہ حرکت جاری رہی حتیٰ کہ وہ بخارات بن کر اُڑ گئے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ حرکت اس طاقت برقی کے باعث تھی جو کاٹنے سے پیدا ہوئی۔ (9) اس میں 38ء 58 حصہ الیومینا۔ 01ء 34 حصہ سلیکا 61ء 7 فلورائین مرکب ہیں۔ (10) اگر اسے کوئلہ پر رکھ کر پھونکنی کے ذریعہ آنچ دی جائے تو بھی نہیں پگھلتا۔ ہاں سوہاگہ کے ساتھ اسے گرمی پہنچائی جائے تو بے رنگ شیشہ کی طرح ہو جاتا ہے۔ اگر اسے تیز گرمی دی جائے تو اس پر بلبلے نمودار ہوتے ہیں۔ جو فوراً ٹوٹ جاتے ہیں۔ زرد رنگ پکھراج گرمی سے بے رنگ ہو جاتے ہیں۔ تاریک زرد گلابی یا گومیدک جیسے سرخ ہو جاتے ہیں۔ تیز آب کوبالٹ سے یہ نیلے رنگ کا ہو جاتا ہے۔
متعلقہ مضامین
6 مضامینمقامات پیدائش
یہ جواہر سنگ سیماق کے ساتھ کئی مقامات پر پایا جاتا ہے۔ مشرق رنگ سلیمانی ہندوستان، مصر، عرب اور آرمینا سے اور عام قسم کے عدد سکسنی کے جزیرہ سکائی (Sky Iste) اور روس، آئر لینڈ، بوسیمیا کے کئی مقامات پائے جاتے ہیں۔
مشہور و معروف
کئی ایک ایسے اوپل ہیں جو خوش رنگت اور مقدار کے باعث نامزد عالم ہیں۔ ان میں سے چند کا بیان ہدیہ ناظرین با تمکین کیا جاتا ہے۔ (1) نمائش گاہ 1851ء میں ایک ہنگری کا اوپل 526-1/2 قیراط وزنی 10 ہزار روپے قیمتی دیکھا گیا۔ (2)کان ہنگری سے 1866ء میں دو بہت عمدہ کر دی شکل اوپل نکلے۔ ایک 186قیراط ، دوم 160 قیراط وزنی تھا۔ (3) پلائینی ایک عدد کے بارے میں لکھتا ہے کہ ’’ یہ رنگ سپاری کے برابر مقدار میں 2 لاکھ روپے قیمتی سینٹر نوینس (Senator Nonws) کے پاس تھا۔ ایک شخص مارک انٹوی (Marc Antony) نامی نے یہ جواہر مانگا۔ یکن نوینس نے اسے دینا نہ چاہا او اسے لے کر بھاگ گیا۔ (4) شاہ دنیا کے جواہرات میں ایک عدد 17 اونس وزنی مشت کے برابر ہے۔ (5) آج کل سب سے عمدہ اوپل ہے جو ملکہ جوزفائن (Josephine) کے پاس ہے۔ اور اشعہ لمعان کے باعث برننگ ٹرائی (Burring Truy) کے نام سے مشہور ہے۔ (6) ایک اوپل پر لوس سیز وہم کی قیصر بنقش ہے۔ (7) ایک اوپل پرجوبا کی تصویر ہے۔ یہ مجمع الجواہرات ڈیوک آف آرلینز میں ہے۔ (8) ہوپ کے جواہرات میں کئی نگ ہیں ایک 11 انچ طول 12/4 عرض، بڑا شفاف و خوش رنگ ہے۔اس پر اپولوکے سر کانقش ہے۔جس کے ارد گرد آتشی کرنیں حلقہ کے طور پر محیط ہیں
حوت
حوت حساس، تخیل میں ڈوبا ہوا اور دوسروں کے لیے شفقت لاتا ہے۔
دلو
دلو مستقبل کو دیکھتا ہے، نئے آئیڈیاز اور انسانیت کی خدمت کے لیے سرگرم رہتا ہے۔
جدی
جدی ذمہ داری قبول کرتا ہے، عرصہ دراز کی منصوبہ بندی اور احتساب میں یقین رکھتا ہے۔
قوس
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 23؍ نومبر تا 21؍ دسمبر حکمران سیارہ ۔۔۔۔۔۔ مشتری عنصر ۔۔۔۔۔۔ آتش موافق دن ۔۔۔۔۔۔ جمعہ، جمعرات، منگل موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 3 موافق نگینہ ۔۔۔۔۔۔ پکھراج، فیروزہ موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ سرخ، نیلا اور ارغوانی موافق دھات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سونا، چاندی
یہ مضامین آپ کی دلچسپی کے ہو سکتے ہیں