مکمل راستہ

1

برج

2

اسد

تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 24؍ جولائی تا 23؍ اگست حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ شمس نشان ۔۔۔۔۔۔ شیر ببر موافق دن ۔۔۔۔۔۔ اتوار، پیر، جمعرات موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ سنہری، زرد، نارنجی موافق دھات ۔۔۔۔۔۔ سونا موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ پکھراج، ہیرا ، یاقوت عنصر ۔۔۔۔۔۔ آگ موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 4

3

برج اسد کے موافق پتھروں کے خواص

4

پکھراج

پکھراج جسے فارسی میں یاقوت ارزق اور ہندی میں پوشپ راگ کہتے ہیں۔ ایک عمدہ زرد رنگ قدیمی جواہر ہے۔ زبان عبرانی میں اسے پت دوہ کہتے ہیں۔ جس کا مصدر سنسکرت لفظ پیت (معنی زرد) معلوم ہوتا ہے۔ یونانی زبان میں اسے ٹوپاسٹیون (Topasitun) کہتے ہیں۔ جس کا مآخذلفظ ٹپ دوہ ہے۔ جو پت دوہ کا بگڑا ہوا ہے۔ اس کا انگریزی نام ٹوپاز ایک جزیرہ (واقعہ بحیرہ قلزم) کے نام پر پڑا ہے جہاں سے پہلے یہ نکلتا تھا۔ یہ جزیرہ بحیرہ قلزم میں ہے اور چونکہ اس کے گرد ہمیشہ دھند و غبار رہتا ہے۔ اس لئے اس کا نام ٹوپاز پڑا۔ معنی تلاش کرنا پڑا اور اسی سے لفظ ٹوباز نکلا ہے۔ کئی دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جواہر زمانہ قدیم میں مروج تھا۔ چنانچہ بوتش (Boetus) لکھتا ہے کہ یہ جواہر سبزی مائل زرد رنگ کا ہے۔ اور اس کے کئی ایک خواص سحری یمن و برکات مانے جاتے تھے۔ یونانی حکماء لکھتے ہیں کہ ’’ پکھراج غم غصہ کو دور کرتا ہے۔ بازو پر باندھنے سے جادو کا اثر نہیں ہوتا۔ عیاشی سے بچاؤ ہوتا ہے۔‘‘ ماہرین اس کی دو قسمیں بیان کرتے ہیں۔ ایک مشرقی دوم مغربی۔ جس پکھراج میں صرف الیومینا مرکب ہوتا ہے وہ مشرقی اور جن اقسام میں 57 حصہ الیومینا اور باقی سلیکا اور فلورائین مرکب ہوں انہیں مغربی کہتے ہیں۔ کتب سنسکرت میں اس کی چار ذاتیں بیان کی گئی ہیں۔ سفید پکھراج، برہمن، سرخی مائل کھتری، زرد رنگ، ویش اور سیاہی مائل شودر، متقدمین اسے چرائسولیٹ (Chrysolite) کہتے تھے۔ پکھراج کی ایک قسم پس نائیٹ (Pysnite) نامی ہے جو الٹن برگ سے ملتی ہے۔ ایک اور قسم ہے جسے فالیو لائیٹ (Physolite) یا پرائی فائسولائیٹ (Phrphyslite) کہتے ہیں۔ یہ تاریک ہوتی ہے۔ اور گرمی سے سوج جاتی ہے۔

آپ یہاں ہیں

خواص ماہیت

تفصیل

(1) پکھراج کی کافی شکل قائم الزاویہ متوازی اضلاع اور مستطیل ہوتی ہے۔ (2) اس کی سختی 8 سے 9 تک ہے۔ اس لئے یہ بلور کو کاٹ سکتا ہے اور الماس و نیلم سے کاٹا جاتا ہے۔ (3) چمک اس کی بلورین ہے۔ (4) اس کا رنگ زرد، سفید، نارنجی ۔ دارچینی، نیلگوں، گلابی، پیازی، زردی مائل سفید، سبزی مائل سفید، پہاڑی سبز، آسمانی نیلا، کرمزی، گوشت سا سرخ وغیرہ ہوتا ہے۔ زرد رنگ پکھراج نہایت عمدہ خوشنما ہوتا ہے۔ یہ رنگ جس قدر گہرا ہو اسی قدر قیمت زیادہ ہوتی ہے۔ گلابی رنگ کے لحاظ سے اس کے یہ نام ہیں۔ (1) گلابی رنگ پکھراج یہ زرد رنگ پکھراج سے اس طرح بناتے ہیں کہ گہرے زرد رنگ پکھراج کو حقہ کی چلم یا کسی چھوٹی کھٹائی میں رکھ کر اوپر راکھ یا ریت ڈالتے ہیں۔ بعدہ تھوڑی آنچ دینے سے اس کا رنگ زرد سے گلابی ہو جاتا ہے۔ اگر رنگ عمدہ نکلے تو قیمت بڑھ جاتی ہے۔ اس کو برازیل کا پکھراج بھی کہتے ہیں۔ (2) سرخ رنگ پکھراج اس رنگ کا پکھراج کامیاب ہوتا ہے۔ کرمزی رنگ اکثر دیکھے جاتے ہیں۔ (3) نیلگوں پکھراج یہ عمدہ خوش رنگ ہوتا ہے اور چنداں نایاب بھی نہیں ہوتا۔ ہلکے رنگ کے پاری بھدر اس کی بجائے خریدے جاتے ہیں۔ (4) سفید انکوائنس نوداس بھی کہتے ہیں۔ یہ بازو بند، مالا وغیرہ زیورات میں مزین ہوتا ہے۔ (5) وزن مخصوص 2ء3۔ (6) شفاف و براق۔ ( 7) طاقت انعکاس۔ (8) ملنے اور گرمی پہنچانے سے طاقت برقی پیدا ہوتی ہے۔ پہلے پہل پکھراج برازیل کی طاقت برقی 1760ء میں کنٹن (Canton) نامی ایک شخص نے دریافت کی۔ ایب ہائی (Abbe Huuy) نے سائبیریا کے پکھراج میں بھی یہ خواص دیکھا کہ یہ طاقت پکھراج میں 20 یا 24 گھنٹہ تک رہ سکتی ہے۔ سر ڈیویڈ بریوسٹر (Sir David Brewster) نے ایک ایسے پکھراج کو کاٹنے میں جس میں کئی ایک نشیب تھے اور نشیبوں میں بڑی پھیلنے والی رقیق شے تھی۔ ایک عجیب کیفیت دیکھی۔ اس کی غرض یہ تھی کہ ایک نشیب پر شگاف لگا کر اور اسے کھول کر اس کے رقیق مادہ کو دیکھے۔ نشیب کے کھلنے سے دو نہایت سرعت سے پھیلنے والے رقیق مادے جلائے ہوئے حصہ پر بہنے لگے اور بتدریج پھیلنا اور سکڑنا شروع کیا۔ کبھی تو وہ سکڑ کر قطرہ بن جاتے اور کبھی پھیل کر چوڑے ہو جاتے۔ یہ حرکت جاری رہی حتیٰ کہ وہ بخارات بن کر اُڑ گئے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ حرکت اس طاقت برقی کے باعث تھی جو کاٹنے سے پیدا ہوئی۔ (9) اس میں 38ء 58 حصہ الیومینا۔ 01ء 34 حصہ سلیکا 61ء 7 فلورائین مرکب ہیں۔ (10) اگر اسے کوئلہ پر رکھ کر پھونکنی کے ذریعہ آنچ دی جائے تو بھی نہیں پگھلتا۔ ہاں سوہاگہ کے ساتھ اسے گرمی پہنچائی جائے تو بے رنگ شیشہ کی طرح ہو جاتا ہے۔ اگر اسے تیز گرمی دی جائے تو اس پر بلبلے نمودار ہوتے ہیں۔ جو فوراً ٹوٹ جاتے ہیں۔ زرد رنگ پکھراج گرمی سے بے رنگ ہو جاتے ہیں۔ تاریک زرد گلابی یا گومیدک جیسے سرخ ہو جاتے ہیں۔ تیز آب کو بالٹ سے یہ نیلے رنگ کا ہو جاتا ہے۔

متعلقہ مضامین

6 مضامین

خواص و ماہیت

الماس کی ہیئت ذاتی حالت آغاز میں جب کہ یہ کان سے نکلتا ہے۔ عموماً ہشت پہلو اور مشتبہ معین دوازدہ اضلاع ہوتے ہیں۔ اس لئے اسے از قسم ٹیسیرل (Tesseral) بیان کرتے ہیں۔ اس کی ذاتی شکل میں خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ہر یاک ضلع کے اوپر کی سطح ذراع خم دار یا قبہ دار ہوتی ہے۔ درحالیکہ دیگر قلموں کی بناوٹ کے پتھروں کی سطح اکثر ہموار ہوتی ہے۔اس کے پہلو کے متوازی ایک قدرتی شگاف ہوتا ہے جس کے عیب دار حصہ کو نکالنے میں بڑی آسانی ہوتی ہے۔ الماس کی اکثر ذاتی شکل قائم نہیں رکھی جاتی بلکہ اے کاٹ کر حسب ضرورت کئی شکلوں کا بنا لیتے ہیں۔ اس بریلینٹ ورز یعنی گلابی اور ٹیبل کاٹ کا بناتے ہیں لیکن اسکے لئے بریلینٹ کاٹ زیادہ تر موزوں ہے۔ گلابی اور ٹیبل کاٹ کا بھی اکثر الماس کاٹا جاتا ہے۔ چونکہ الماس میں اعلیٰ درجہ کی سختی ہوتی ہے اس لئیاس پر عمدہ جلا آ سکتا ہے۔ اس خواص سختی کے باعث ہی بڑے بڑے قدیم زمانہ کے الماس ہمیں نصیب ہوئے اگر اس میں اتنی سختی نہ ہوتی وت وہ کوہ نور مغل اعظم وغیرہ ہزار ہا صدیوں کے ہیرا ہم نہ دیکھ سکتے۔

مزید پڑھیں

مخزن الادویہ

قادر مطلق نے الماس کو کیا عجیب شے بنایا ہے۔ اس کی چمک دمک آب و تاب دل کو بھاتی ہے۔ کہ ہر ایک شخص دل و جان سے اس کا شائق ہے۔ قدرت نے اسے ایسا نادر اور بے بہا شے بنادیا ہے کہ ہر بشر کے نصیب میں نہیں ہو سکتا۔ گویا اس کے زیادہ عزیز ہونے کاایک باعث ہے۔ متقدمین حکماء نے اگر اس کے بارے میں کچھ لکھا ہے تو بہت ہی مجمل اور ناتشقی وہ جس سے پوری واقفیت پیدا نہیں ہو سکتی۔ اگرچہ یونانیوں کی پرانی کتابوں میں اس کا کئی جگہ ذکر آیا ہے۔ لیکن زمانہ سلف میں اہل یورپ کو یہ جواہر معلوم نہ تھا۔ صرف تھوڑے ہی عرصہ سے انہیں اس کی پوری واقفت حاصل ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں

خواص و ماہیت

(1) یاقوت ایک عمدہ خوش شکل جواہر ہے۔ حالت آغاز میں اس کی معدنی شکل متوازی الاضلاع ہوتی ہے اور اس کا ہر ایک گوشہ عموماً نوکیلا ہوتا ہے۔ اسے بعدہ کاٹ کر حسب ضرورت اور شکل کا بنا دیتے ہیں۔ (2) الماس سے زیادہ یہ جواہر کسی اور جواہر سے سختی میں کم نہیں۔ اس واسطے یہ صرف الماس سے کاٹا جا سکتا ہے۔ اور نیلم، زمرد، پکھراج، بھیکہم کو یہ کاٹ سکتا ہے۔ اس کی سختی نو درجہ کی ہوتی ہے۔ (3) چمک اس جواہر کی بلورین ہے۔ معتقدمین کو اس کی چمک کا یہاں تک خیال تھا اور بیان کرتے ہیں کہ یہ جواہر اندھیری رات میں چراغ کا کام دیتا ہے۔ (4) یہ جواہر عمدہ خوش رنگ ہوتاہے۔ اس کا رنگ قرمزی، کبوتر کے خون سا سرخ اور ارغوانی رنگ مائل ہوتا ہے۔ اہل عرب اس کے اور کئی رنگ بیان کرتے ہیں۔ مثلاً زرد، کبود، سبز اور سفید اور ہر ایک رنگ کی مختلف قسمیں بیان کرتے ہیں ان سب سے ارمانی یعنی انار کارنگ عمدہ سمجھا گیا ہے۔ سرخ رنگ یاقوت کی یہ قسمیں بتلاتے ہیں: 1: سرخ حمری (یعنی بڑا سرخ) 2: سرخ اودی (گلابی) 3: سرخ نارنجی 4: سرخ زعفرانی 5: سرخ نیموی (یعنی پختہ لیموں رنگ)۔ کبود رنگ کی یہ اقسام بیان کرتے ہیں۔ 1۔ کبود آسمان گون (یعنی آسمانی رنگ) 2۔ کبود کوہلے (یعنی سرمہ رنگ) 3۔ کبود لاجوردی (لاجورد رنگ) 4۔ کبود پستائی (پستہ رنگ) 5۔ یاقوت شفاف ہوتا ہے 6۔ اس کا وزن مخصوص 6ء 4 سے 8ء 4 درجہ تک ہوتا ہے اور بعض 99ء 3 سے 2ء4 درجہ تک بیان کرتے ہیں۔ 7۔ اس میں طاقت انعکاس دو چند ہے لیکن تھوڑے درجہ کی 8۔ ملنے سے اس میں طاقت برقی پیدا ہوتی ہے اور چند گھنٹوں تک رہتی ہے 9۔ اس میں 5ء98 حصہ الیومینا 5 حصہ آکسڈ آف آئرن اور 5 حصہ چونا مرکب ہیں 10۔ بعض کہتے ہیں کہ سرخ رنگ یاقوت کو گرمی کے بغیر اور کوئی قسم یا قوت تاب گرمی نہیں سہار سکتا۔ بعض کی رائے ہے کہ سرخ رنگ یاقوت کو گرمی دی جائے تو اس کی چمک بڑھتی ہے۔ اور سرخی مائل سفید رنگ یاقوت کو گرمی پہنچانے سے سرخ ہو جاتا ہے۔ در حقیقت دھواں، پسینہ، روغن اور بدبو یاقوت کے رنگ پر اثر کرتے ہیں۔ یعنی اس کے رنگ کو ہلکا یا خراب کر دیتے ہیں۔ لیکن گرمی پہنچانے سے یاقوت کا رنگ تیز ہوجاتا ہے تجربہ سے ثابت نہیں ہوتا۔ بقول حکماء یونان یاقوت میں بیوست درجہ دوئم کی ہے اور زرد اقسام میں برودت اور بیوست درجہ دوئم ہے۔

مزید پڑھیں

حوت

حوت حساس، تخیل میں ڈوبا ہوا اور دوسروں کے لیے شفقت لاتا ہے۔

مزید پڑھیں

دلو

دلو مستقبل کو دیکھتا ہے، نئے آئیڈیاز اور انسانیت کی خدمت کے لیے سرگرم رہتا ہے۔

مزید پڑھیں

جدی

جدی ذمہ داری قبول کرتا ہے، عرصہ دراز کی منصوبہ بندی اور احتساب میں یقین رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں

یہ مضامین آپ کی دلچسپی کے ہو سکتے ہیں