مکمل راستہ
برج
اسد
تاریخ پیدائش ۔۔۔۔۔۔ 24؍ جولائی تا 23؍ اگست حاکم سیارہ ۔۔۔۔۔۔ شمس نشان ۔۔۔۔۔۔ شیر ببر موافق دن ۔۔۔۔۔۔ اتوار، پیر، جمعرات موافق رنگ ۔۔۔۔۔۔ سنہری، زرد، نارنجی موافق دھات ۔۔۔۔۔۔ سونا موافق پتھر ۔۔۔۔۔۔ پکھراج، ہیرا ، یاقوت عنصر ۔۔۔۔۔۔ آگ موافق عدد ۔۔۔۔۔۔ 4
برج اسد کے موافق پتھروں کے خواص
یاقوت
اسم معروف: یاقوت، فارسی: یاقوت، عربی: یاقوت، ہندی، مانک ماہیت: معدنی چیز ہے کہ اپنے معدن میں گندھک اور خالص پارے سے بنتا ہے۔ طبیعت: حرارت اور برددت میں معتدل اور دوم میں خشک ہے۔ رنگ و بو: نہایت سرخ شفاف چمکدار ذائقہ: پھیکا کوئی ذائقہ غالب نہیں۔ مضر: بہت مضر نہیں ہے۔ مصلح: عنبر اور سونا وغیرہ۔ بدل: اس کی دوسری قسمیں مثل سفید کے نسبت سیارہ: منسوب ہے مریخ ہے۔ نفع خاص: مفرح مقوی دل و حرارت غریزی۔ کامل: تین رتی تک مستعمل ہے۔ ناقص: ایک یا دو رتی افعال و خواص:۔ مفرح ہے اور دماغ کو قوت دیتا ہے ایک درہم پلانا مرگی وسواس خفقان اور طاعون کو مفید اور خون منجمد کو محلل اور نزف الدم کا مانع اور زہروں کا دافع ہوائے وبائی کے تغیر کو سود مند خون کو صاف کرتا اور حرارت غریزی کا محافظ ہے اور اس کی انگوٹھی پہننا طاعون کو مفید اور منہ میں رکھنا پیاس کا مسکن دل کا مقوی و مفرح اور سرمہ اس کا مقوی بصر محافظ چشم ہے۔ یاقوت جسے انگریزی میں روبی (Ruby) اور ہندی میں مانک کہتے ہیں۔ بڑا بیش قیمت جواہر ہے۔ یہ ندرت رنگت اورخوش وضعی کے باعث سب جواہرات سے افضل گنا جاتا ہے اور نہایت ہی قبول نظر ہے۔ اصل میں جواہر کارٹڈم کی ایک قسم ہے۔ کہ ہیرے کا اصل کاربن ہے۔ اب یہ سوال ہو سکتا ہے کہ آیا صرف اکیلا کاربن ہی شکل بدل کر سب جواہرات بن جاتا ہے۔ یا کوئی اور شے بھی جو جواہرات کا مادہ کہی جا سکے۔ تو جواب ہو سکتا ہے کہ پیدائش قدرت میں ایک شے الیومینا ہے جو بڑے جواہرات کے مرکبات کیمیا میں ایک جزو بنتا ہے۔ ایسی قسم کے جواہرات کو جن میں یہ مادہ مرکب ہے کارنڈم کہتے ہیں اور یہ جواہرات خواص اور صاف کے لحاظ سے الماس پر بھی سبقت لے گئے ہیں۔ اول مشرقی یاقوت، دوئم سیائنل دبے جسے ہندوستانی لعل زمانی کہتے ہیں۔ سوئم پیلس روبی اور چہارم ربی سیل اگرچہ آخری تین قسمیں رنگ ڈھنگ کے باعث یا قوت کے ہم پلہ ہیں لیکن سختی وزن مخصوص اور ایک دو خواص کے لحاظ سے یاقوت سے کم درجہ ہونے کے باعث اس سے مختلف ہیں۔ اس لئے جواہرات درجہ دوئم میں شمار ہوئے ہیں۔ یاقوت مشرقی کے اہل عرب و فارس دونوں بتلاتے ہیں۔ ایک یاقوت دوئم لعل، اب یاقوت کا بیان کیا جاتا ہے۔ یہ جواہر اپنی ندرت اور خوش رنگی کے باعث نہایت ہی بے بہا ہے۔ زمانہ قدیم سے یہ عجیب جواہر نامزد عالم چلا آ رہا ہے۔ کئی عالموں نے اس کی بابت طرح طرح کے بیان لکھے ہیں۔ شاعر لوگ اسے استعارتاً اپنے شعروں میں استعمال کرتے ہیں اور خاص کر لب معشوق کے اس سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ چنانچہ ایک شاعر لکھتا ہے: لب لعل تو یاقوت است یاقوت است مرجان را خم زلف تو بادام است یادام است انسان را بعض لوگ اس کی نسبت خیال کرتے ہیں کہ رات کو بھی دن سا درخشاں ہے اور اس لئے اسے شب چراغ کہتے ہیں۔ زمانہ قدیم میں آج کل سے بھی اس کی زیادہ قدر ہے۔
خواص و ماہیت
تفصیل
(1) یاقوت ایک عمدہ خوش شکل جواہر ہے۔ حالت آغاز میں اس کی معدنی شکل متوازی الاضلاع ہوتی ہے اور اس کا ہر ایک گوشہ عموماً نوکیلا ہوتا ہے۔ اسے بعدہ کاٹ کر حسب ضرورت اور شکل کا بنا دیتے ہیں۔ (2) الماس سے زیادہ یہ جواہر کسی اور جواہر سے سختی میں کم نہیں۔ اس واسطے یہ صرف الماس سے کاٹا جا سکتا ہے۔ اور نیلم، زمرد، پکھراج، بھیکہم کو یہ کاٹ سکتا ہے۔ اس کی سختی نو درجہ کی ہوتی ہے۔ (3) چمک اس جواہر کی بلورین ہے۔ معتقدمین کو اس کی چمک کا یہاں تک خیال تھا اور بیان کرتے ہیں کہ یہ جواہر اندھیری رات میں چراغ کا کام دیتا ہے۔ (4) یہ جواہر عمدہ خوش رنگ ہوتاہے۔ اس کا رنگ قرمزی، کبوتر کے خون سا سرخ اور ارغوانی رنگ مائل ہوتا ہے۔ اہل عرب اس کے اور کئی رنگ بیان کرتے ہیں۔ مثلاً زرد، کبود، سبز اور سفید اور ہر ایک رنگ کی مختلف قسمیں بیان کرتے ہیں ان سب سے ارمانی یعنی انار کارنگ عمدہ سمجھا گیا ہے۔ سرخ رنگ یاقوت کی یہ قسمیں بتلاتے ہیں: 1: سرخ حمری (یعنی بڑا سرخ) 2: سرخ اودی (گلابی) 3: سرخ نارنجی 4: سرخ زعفرانی 5: سرخ نیموی (یعنی پختہ لیموں رنگ)۔ کبود رنگ کی یہ اقسام بیان کرتے ہیں۔ 1۔ کبود آسمان گون (یعنی آسمانی رنگ) 2۔ کبود کوہلے (یعنی سرمہ رنگ) 3۔ کبود لاجوردی (لاجورد رنگ) 4۔ کبود پستائی (پستہ رنگ) 5۔ یاقوت شفاف ہوتا ہے 6۔ اس کا وزن مخصوص 6ء 4 سے 8ء 4 درجہ تک ہوتا ہے اور بعض 99ء 3 سے 2ء4 درجہ تک بیان کرتے ہیں۔ 7۔ اس میں طاقت انعکاس دو چند ہے لیکن تھوڑے درجہ کی 8۔ ملنے سے اس میں طاقت برقی پیدا ہوتی ہے اور چند گھنٹوں تک رہتی ہے 9۔ اس میں 5ء98 حصہ الیومینا 5 حصہ آکسڈ آف آئرن اور 5 حصہ چونا مرکب ہیں 10۔ بعض کہتے ہیں کہ سرخ رنگ یاقوت کو گرمی کے بغیر اور کوئی قسم یا قوت تاب گرمی نہیں سہار سکتا۔ بعض کی رائے ہے کہ سرخ رنگ یاقوت کو گرمی دی جائے تو اس کی چمک بڑھتی ہے۔ اور سرخی مائل سفید رنگ یاقوت کو گرمی پہنچانے سے سرخ ہو جاتا ہے۔ در حقیقت دھواں، پسینہ، روغن اور بدبو یاقوت کے رنگ پر اثر کرتے ہیں۔ یعنی اس کے رنگ کو ہلکا یا خراب کر دیتے ہیں۔ لیکن گرمی پہنچانے سے یاقوت کا رنگ تیز ہوجاتا ہے تجربہ سے ثابت نہیں ہوتا۔ بقول حکماء یونان یاقوت میں بیوست درجہ دوئم کی ہے اور زرد اقسام میں برودت اور بیوست درجہ دوئم ہے۔
متعلقہ مضامین
6 مضامینخواص ماہیت
(1) پکھراج کی کافی شکل قائم الزاویہ متوازی اضلاع اور مستطیل ہوتی ہے۔ (2) اس کی سختی 8 سے 9 تک ہے۔ اس لئے یہ بلور کو کاٹ سکتا ہے اور الماس و نیلم سے کاٹا جاتا ہے۔ (3) چمک اس کی بلورین ہے۔ (4) اس کا رنگ زرد، سفید، نارنجی ۔ دارچینی، نیلگوں، گلابی، پیازی، زردی مائل سفید، سبزی مائل سفید، پہاڑی سبز، آسمانی نیلا، کرمزی، گوشت سا سرخ وغیرہ ہوتا ہے۔ زرد رنگ پکھراج نہایت عمدہ خوشنما ہوتا ہے۔ یہ رنگ جس قدر گہرا ہو اسی قدر قیمت زیادہ ہوتی ہے۔ گلابی رنگ کے لحاظ سے اس کے یہ نام ہیں۔ (1) گلابی رنگ پکھراج یہ زرد رنگ پکھراج سے اس طرح بناتے ہیں کہ گہرے زرد رنگ پکھراج کو حقہ کی چلم یا کسی چھوٹی کھٹائی میں رکھ کر اوپر راکھ یا ریت ڈالتے ہیں۔ بعدہ تھوڑی آنچ دینے سے اس کا رنگ زرد سے گلابی ہو جاتا ہے۔ اگر رنگ عمدہ نکلے تو قیمت بڑھ جاتی ہے۔ اس کو برازیل کا پکھراج بھی کہتے ہیں۔ (2) سرخ رنگ پکھراج اس رنگ کا پکھراج کامیاب ہوتا ہے۔ کرمزی رنگ اکثر دیکھے جاتے ہیں۔ (3) نیلگوں پکھراج یہ عمدہ خوش رنگ ہوتا ہے اور چنداں نایاب بھی نہیں ہوتا۔ ہلکے رنگ کے پاری بھدر اس کی بجائے خریدے جاتے ہیں۔ (4) سفید انکوائنس نوداس بھی کہتے ہیں۔ یہ بازو بند، مالا وغیرہ زیورات میں مزین ہوتا ہے۔ (5) وزن مخصوص 2ء3۔ (6) شفاف و براق۔ ( 7) طاقت انعکاس۔ (8) ملنے اور گرمی پہنچانے سے طاقت برقی پیدا ہوتی ہے۔ پہلے پہل پکھراج برازیل کی طاقت برقی 1760ء میں کنٹن (Canton) نامی ایک شخص نے دریافت کی۔ ایب ہائی (Abbe Huuy) نے سائبیریا کے پکھراج میں بھی یہ خواص دیکھا کہ یہ طاقت پکھراج میں 20 یا 24 گھنٹہ تک رہ سکتی ہے۔ سر ڈیویڈ بریوسٹر (Sir David Brewster) نے ایک ایسے پکھراج کو کاٹنے میں جس میں کئی ایک نشیب تھے اور نشیبوں میں بڑی پھیلنے والی رقیق شے تھی۔ ایک عجیب کیفیت دیکھی۔ اس کی غرض یہ تھی کہ ایک نشیب پر شگاف لگا کر اور اسے کھول کر اس کے رقیق مادہ کو دیکھے۔ نشیب کے کھلنے سے دو نہایت سرعت سے پھیلنے والے رقیق مادے جلائے ہوئے حصہ پر بہنے لگے اور بتدریج پھیلنا اور سکڑنا شروع کیا۔ کبھی تو وہ سکڑ کر قطرہ بن جاتے اور کبھی پھیل کر چوڑے ہو جاتے۔ یہ حرکت جاری رہی حتیٰ کہ وہ بخارات بن کر اُڑ گئے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ حرکت اس طاقت برقی کے باعث تھی جو کاٹنے سے پیدا ہوئی۔ (9) اس میں 38ء 58 حصہ الیومینا۔ 01ء 34 حصہ سلیکا 61ء 7 فلورائین مرکب ہیں۔ (10) اگر اسے کوئلہ پر رکھ کر پھونکنی کے ذریعہ آنچ دی جائے تو بھی نہیں پگھلتا۔ ہاں سوہاگہ کے ساتھ اسے گرمی پہنچائی جائے تو بے رنگ شیشہ کی طرح ہو جاتا ہے۔ اگر اسے تیز گرمی دی جائے تو اس پر بلبلے نمودار ہوتے ہیں۔ جو فوراً ٹوٹ جاتے ہیں۔ زرد رنگ پکھراج گرمی سے بے رنگ ہو جاتے ہیں۔ تاریک زرد گلابی یا گومیدک جیسے سرخ ہو جاتے ہیں۔ تیز آب کو بالٹ سے یہ نیلے رنگ کا ہو جاتا ہے۔
خواص و ماہیت
الماس کی ہیئت ذاتی حالت آغاز میں جب کہ یہ کان سے نکلتا ہے۔ عموماً ہشت پہلو اور مشتبہ معین دوازدہ اضلاع ہوتے ہیں۔ اس لئے اسے از قسم ٹیسیرل (Tesseral) بیان کرتے ہیں۔ اس کی ذاتی شکل میں خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ہر یاک ضلع کے اوپر کی سطح ذراع خم دار یا قبہ دار ہوتی ہے۔ درحالیکہ دیگر قلموں کی بناوٹ کے پتھروں کی سطح اکثر ہموار ہوتی ہے۔اس کے پہلو کے متوازی ایک قدرتی شگاف ہوتا ہے جس کے عیب دار حصہ کو نکالنے میں بڑی آسانی ہوتی ہے۔ الماس کی اکثر ذاتی شکل قائم نہیں رکھی جاتی بلکہ اے کاٹ کر حسب ضرورت کئی شکلوں کا بنا لیتے ہیں۔ اس بریلینٹ ورز یعنی گلابی اور ٹیبل کاٹ کا بناتے ہیں لیکن اسکے لئے بریلینٹ کاٹ زیادہ تر موزوں ہے۔ گلابی اور ٹیبل کاٹ کا بھی اکثر الماس کاٹا جاتا ہے۔ چونکہ الماس میں اعلیٰ درجہ کی سختی ہوتی ہے اس لئیاس پر عمدہ جلا آ سکتا ہے۔ اس خواص سختی کے باعث ہی بڑے بڑے قدیم زمانہ کے الماس ہمیں نصیب ہوئے اگر اس میں اتنی سختی نہ ہوتی وت وہ کوہ نور مغل اعظم وغیرہ ہزار ہا صدیوں کے ہیرا ہم نہ دیکھ سکتے۔
مخزن الادویہ
قادر مطلق نے الماس کو کیا عجیب شے بنایا ہے۔ اس کی چمک دمک آب و تاب دل کو بھاتی ہے۔ کہ ہر ایک شخص دل و جان سے اس کا شائق ہے۔ قدرت نے اسے ایسا نادر اور بے بہا شے بنادیا ہے کہ ہر بشر کے نصیب میں نہیں ہو سکتا۔ گویا اس کے زیادہ عزیز ہونے کاایک باعث ہے۔ متقدمین حکماء نے اگر اس کے بارے میں کچھ لکھا ہے تو بہت ہی مجمل اور ناتشقی وہ جس سے پوری واقفیت پیدا نہیں ہو سکتی۔ اگرچہ یونانیوں کی پرانی کتابوں میں اس کا کئی جگہ ذکر آیا ہے۔ لیکن زمانہ سلف میں اہل یورپ کو یہ جواہر معلوم نہ تھا۔ صرف تھوڑے ہی عرصہ سے انہیں اس کی پوری واقفت حاصل ہوئی ہے۔
حوت
حوت حساس، تخیل میں ڈوبا ہوا اور دوسروں کے لیے شفقت لاتا ہے۔
دلو
دلو مستقبل کو دیکھتا ہے، نئے آئیڈیاز اور انسانیت کی خدمت کے لیے سرگرم رہتا ہے۔
جدی
جدی ذمہ داری قبول کرتا ہے، عرصہ دراز کی منصوبہ بندی اور احتساب میں یقین رکھتا ہے۔
یہ مضامین آپ کی دلچسپی کے ہو سکتے ہیں